Posts

Showing posts from April, 2026

سلطان قطب الدین ایبک: غلامی کی زنجیروں سے دہلی کے تخت تک اور تراین کا معرکہ

Image
  تعارف: ایک عظیم عہد کا آغاز ​تاریخِ ہند میں ایسے بہت کم حکمران گزرے ہیں جنہوں نے صفر سے سفر شروع کیا اور ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ سلطان قطب الدین ایبک انہی میں سے ایک تھے۔ وہ نہ صرف دہلی سلطنت کے بانی تھے بلکہ وہ "خاندانِ غلاماں" کے پہلے تاجدار بھی تھے۔ ان کی زندگی محنت، وفاداری، اور بے مثال جرات کی وہ داستان ہے جو آج بھی مورخین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ​ ابتدائی زندگی اور غلامی کا دور ​قطب الدین ایبک کی پیدائش ترکستان میں ہوئی۔ بچپن میں ہی انہیں اغوا کر کے نیشاپور کے بازار میں ایک غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ انہیں نیشاپور کے مشہور قاضی فخر الدین عبدالعزیز کوفی نے خریدا۔ قاضی صاحب ایک نہایت رحمدل اور دور اندیش انسان تھے۔ انہوں نے قطب الدین کو اپنے بیٹوں کے ساتھ تعلیم دی، گھڑ سواری سکھائی اور تیر اندازی میں مہارت دلائی۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے ایک معمولی غلام کے اندر چھپے ہوئے "سلطان" کو بیدار کیا۔ ​قاضی صاحب کی وفات کے بعد انہیں دوبارہ فروخت کیا گیا اور آخر کار وہ غزنی کے حکمران سلطان شہاب الدین محمد غوری کے دربار تک پہنچ گئے۔ سلط...

سلطان شہاب الدین غوری: وہ فاتح جس نے شکست کی راکھ سے عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی

Image
  تمہید: عزم و استقلال کا کوہِ گراں ​اسلامی تاریخ ایسے عظیم سپہ سالاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، لیکن سلطان شہاب الدین غوری کا مقام سب سے جدا ہے۔ وہ محض ایک بادشاہ نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسی تحریک کا نام تھے جس نے برصغیر پاک و ہند میں مستقل اسلامی حکومت کی شمع روشن کی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایک سچا مجاہد کبھی ہار نہیں مانتا، بلکہ ہر ناکامی اسے ایک نئی اور بڑی کامیابی کے لیے تیار کرتی ہے۔ ​ تراین کا پہلا میدان: جب قسمت نے پیٹھ پھیر لی (1191ء) ​1191ء میں تراین کے ریگزاروں میں ایک ایسا معرکہ برپا ہوا جس نے غوری سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔ سلطان شہاب الدین غوری اپنے لشکر کے ساتھ راجہ پرتھوی راج چوہان کے مدمقابل تھے۔ راجہ کے پاس لاکھوں کا لشکر، بپھرے ہوئے ہاتھی اور راجپوتوں کی جرات تھی۔ جنگ شروع ہوئی تو راجپوتوں کے زبردست حملے نے غوری فوج کے قدم اکھاڑ دیے۔ ​اسی افراتفری میں سلطان کا سامنا راجہ کے بھائی کھانڈے راؤ سے ہوا۔ سلطان نے نیزہ مار کر اس کے دانت توڑ دیے، لیکن جواب میں اس نے ایک بھاری برچھا سلطان کے کندھے پر مارا جس سے سلطان شدید زخمی ہو ...

​سلطان حیدر علی: وہ مردِ غازی جس نے انگریزوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا

Image
  تعارف: میسور کے شیر کا ظہور ​تاریخِ ہند میں سلطان حیدر علی (1721ء - 1782ء) کا نام ایک ایسے عبقری سپہ سالار اور حکمران کے طور پر ابھرا جس نے اپنی ہمت اور ذہانت کے بل بوتے پر ایک عام سپاہی سے میسور کے تخت تک کا سفر طے کیا۔ وہ ایک ایسے دور میں نمودار ہوئے جب ہندوستان کی بڑی بڑی ریاستیں انگریزوں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی تھیں۔ حیدر علی نے نہ صرف اپنی ریاست کا دفاع کیا بلکہ انگریزوں کو وہ تاریخی شکستیں دیں کہ آج بھی برطانوی تاریخ دان ان کا نام احترام اور خوف سے لیتے ہیں۔ ​ رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر: مدراس کا گھیراؤ اور انگریزوں کی ذلت ​یہ 1769ء کا واقعہ ہے، جب پہلی اینگلو میسور جنگ اپنے عروج پر تھی۔ انگریزوں نے مکر و فریب سے حیدر علی کو دبانے کی کوشش کی، لیکن سلطان نے ایسی جوابی کارروائی کی کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے۔ حیدر علی نے اپنی فوج کے ساتھ بجلی کی سی تیزی سے سفر کیا اور صرف تین دنوں میں 130 میل کا فاصلہ طے کر کے مدراس (موجودہ چنائی) کے قلعے کے سامنے جا کھڑے ہوئے، جہاں انگریز افسران چین کی بانسری بجا رہے تھے۔ ​جب انگریزوں نے قلعے کی فصیل سے دیکھا کہ میسور کا ش...

​سلطان رکن الدین بیبرس: وہ مردِ آہن جس نے منگولوں کا ناقابلِ شکست ہونے کا طلسم توڑ دیا

Image
  تعارف: ایک غلام جو تقدیر کا سلطان بنا ​تاریخِ عالم میں ایسے واقعات کم ہی ملتے ہیں جہاں ایک بازار میں بکنے والا غلام وقت کی سب سے بڑی طاقت کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے۔ رکن الدین بیبرس (پیدائش: 1223ء) ایک قپچاق ترک تھے، جنہیں بچپن میں منگولوں نے قید کر کے غلام بنایا اور پھر حماۃ کے بازار میں فروخت کر دیا۔ ان کی ایک آنکھ میں سفید دھبہ تھا، جس کی وجہ سے پہلے تو انہیں کسی نے نہ خریدا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آخر کار وہ مصر کے مملوک سلطان کے لشکر میں شامل ہوئے اور اپنی غیر معمولی ذہانت، شجاعت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر سپہ سالار اور پھر مصر و شام کے عظیم سلطان بنے۔ ​ منگولوں کا فتنہ اور بغداد کی تباہی ​تیرہویں صدی عیسوی مسلمانوں کے لیے قیامتِ صغریٰ سے کم نہ تھی۔ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 1258ء میں بغداد کو اس بے دردی سے تباہ کیا کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ خلافتِ عباسیہ کے آخری خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں تلے کچل دیا گیا اور بیت الحکمت کی عظیم لائبریری کو جلا دیا گیا۔ اس تباہی کے بعد منگولوں کا اگلا ہدف مصر اور حجازِ مقدس تھے۔ ہلاکو خان نے مصر کے حکمرانو...

سلطان عبدالحمید ثانی: وہ مردِ درویش جس نے فلسطین کے بدلے دنیا کی تمام دولت ٹھکرا دی

Image
  سلطنتِ عثمانیہ کی ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ میں جہاں تلواروں کی دھار اور میدانِ جنگ کی فتوحات کا ذکر ملتا ہے، وہیں ایک ایسا دور بھی آیا جب جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں دماغ اور ایمان کے زور پر لڑی گئیں۔ یہ دور تھا سلطان عبدالحمید ثانی کا، جنہیں تاریخ "سلطنتِ عثمانیہ کا آخری محافظ" اور "سیاست کا بادشاہ" کہتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی جب سلطنت چاروں طرف سے بھیڑیوں کے نرغے میں تھی، لیکن ان کی ایمانی غیرت نے ثابت کر دیا کہ ایک سچا مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے، مگر مقدس زمین کا سودا نہیں کر سکتا۔ ​سازشوں کا جال اور سلطنت کی حالت ​19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ معاشی طور پر بہت کمزور ہو چکی تھی۔ یورپی طاقتیں اور عالمی ساہوکار سلطنت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا چکے تھے۔ اس نازک وقت میں عالمی صہیونی تحریک (Zionist Movement) کے بانی، تھیوڈور ہرزل نے ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد فلسطین کی زمین پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست قائم کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ قائم ہے اور تخت پر سلطان عبدالحم...

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان

Image
  تمہید ​تاریخِ اسلام عظیم مجاہدوں، عادل حکمرانوں اور حیرت انگیز فتوحات سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سلطنتِ عثمانیہ کا باب خاص طور پر سنہری حروف سے لکھا جانے کے قابل ہے۔ عثمانی سلاطین نے نہ صرف عدل و انصاف کے علم بلند کیے بلکہ جب دینِ اسلام اور مسلمانوں کی جان و مال پر آنچ آئی، تو وہ فولادی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ آج ہم سلطنتِ عثمانیہ کے انیسویں سلطان، سلطان محمد رابع، جنہیں تاریخ "محمد شکاری" کے نام سے بھی یاد کرتی ہے، کے دور کے ایک ایسے ہی درخشاں واقعے کا ذکر کریں گے۔ یہ واقعہ "قلعہ کامانیٹ" (Kamaniçe) کی فتح کا ہے، جس نے سترہویں صدی میں یورپی طاقتوں کے دلوں پر عثمانیوں کی ہیبت طاری کر دی۔ یہ فتح نہ صرف عثمانیوں کی عسکری مہارت کا ثبوت ہے بلکہ یہ اس جذبہِ جہاد کی بھی عکاس ہے جو مسلمانوں کے رگ و پے میں دوڑ رہا تھا۔ ​ سلطان محمد رابع اور جنگ کا پس منظر ​سلطان محمد رابع کا دورِ حکومت (1648ء سے 1687ء) عثمانی تاریخ کا دوسرا طویل ترین دور تھا۔ اگرچہ وہ اپنی نرم دلی اور شکار سے محبت کے لیے مشہور تھے، لیکن جب بھی سلطنت کی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا، انہوں نے تلوار اٹھانے میں دی...

​سلطان جلال الدین خوارزم شاہ: وہ شیر جس سے چنگیز خان بھی ڈر گیا

Image
  پسِ منظر: منگولوں کا طوفان اور خوارزم شاہی سلطنت کا زوال ​تیرہویں صدی عیسوی کا آغاز عالمِ اسلام کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ وسطی ایشیا سے اٹھنے والے منگولوں نے چنگیز خان کی قیادت میں وہ تباہی مچائی کہ تاریخ انسانی لرز اٹھی۔ سمرقند، بخارا اور نیشاپور جیسے علم و ادب کے مراکز راکھ کے ڈھیر بن چکے تھے۔ اس وقت عالمِ اسلام کی سب سے بڑی طاقت "خوارزم شاہی سلطنت" تھی، لیکن خانہ جنگی اور منگولوں کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت بکھر رہی تھی۔ جب سلطان علاؤ الدین محمد (جلال الدین کے والد) وفات پا گئے، تو تاج و تخت کی ذمہ داری شہزادہ جلال الدین کے کندھوں پر آن پڑی۔ ​جلال الدین عام بادشاہوں جیسا نہیں تھا۔ وہ ایک نڈر سپاہی اور بے مثال جنگجو تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھاگنے کے بجائے لڑے گا، اور اس نے منگولوں کے خلاف وہ مزاحمت دکھائی جس کی مثال چنگیز خان نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ​ دریائے سندھ کا معرکہ: ایک ناممکن صورتحال ​کئی محاذوں پر منگولوں کا مقابلہ کرنے کے بعد، 1221ء میں سلطان جلال الدین پسپا ہوتے ہوئے برصغیر (موجودہ پاکستان) کی حدود میں داخل ہوئے۔ وہ اپنے خاندان او...

باربروسہ خیر الدین پاشا: سمندروں کا بے تاج بادشاہ وہ جری مجاہد جس نے سمندروں کو مسخر کر لیا

Image
  تاریخِ عالم میں بہت سے فاتحین گزرے ہیں، لیکن سمندر کی بپھری ہوئی لہروں پر جس طرح کی حکمرانی خیر الدین پاشا نے کی، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انہیں یورپ والے "باربروسہ" (سرخ داڑھی والا) کہتے تھے، لیکن ان کا اصل نام خضر تھا اور انہیں "خیر الدین" (دین کی بھلائی کرنے والا) کا لقب خود سلطان سلیمان عالیشان نے عطا کیا تھا۔ وہ ایک معمولی ملاح کے بیٹے تھے، لیکن اپنی خداداد صلاحیتوں اور ایمانی جذبے کی بدولت وہ سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے "قپودان پاشا" (ایڈمرل ان چیف) بنے۔ ​ ابتدائی دور اور جہاد کا آغاز ​خیر الدین اور ان کے بھائی عروج پاشا نے اپنی زندگی کا آغاز بحیرہ روم میں عیسائی قزاقوں اور ظالم بحری بیڑوں کے خلاف جہاد سے کیا۔ اس دور میں جب سپین میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، یہ باربروسہ بھائی ہی تھے جنہوں نے اپنی کشتیوں کے ذریعے ہزاروں مظلوم اندلسی مسلمانوں کو بچا کر شمالی افریقہ منتقل کیا۔ ان کی اسی انسانی ہمدردی اور بہادری نے انہیں عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا۔ ​جب ان کی شہرت سلطان سلیمان تک پہنچی، تو سلطان نے انہیں استنبول بلایا اور عثمانی بحریہ کی ...

سلطان سلیم یاوز: وہ فاتح جس کی تلوار سے براعظم لرزتے تھے

Image
  تعارف: "یاوز" کا لقب اور سلطان کی شخصیت ​سلطان سلیم اول تاریخِ اسلام کے ان چند حکمرانوں میں سے ہیں جن کی ہیبت سے دوست اور دشمن دونوں ہی متاثر تھے۔ انہیں ترک زبان میں "یاوز" کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے "نہایت سخت گیر"، "دلیر" اور "پر رعب"۔ سلطان سلیم ایک ایسے جنگجو تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، شاعر تھے، لیکن جب میدانِ جنگ میں اترتے تو ان کی تلوار بجلی کی طرح کڑکتی تھی۔ ​ سلطنت کی وسعت اور عظیم عزم ​جب سلطان سلیم تخت پر بیٹھے، تو عثمانیہ سلطنت صرف اناطولیہ اور یورپ کے کچھ حصوں تک محدود تھی۔ سلطان کا خواب تھا کہ وہ تمام اسلامی دنیا کو ایک پرچم تلے جمع کریں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے مشرق کی طرف توجہ کی، جہاں اس وقت کی دو بڑی طاقتیں، صفوی سلطنت اور مملوک سلطنت، موجود تھیں۔ سلطان سلیم کی بہادری کا امتحان ان عظیم طاقتوں سے ٹکرانے میں تھا۔ ​ معرکہِ چلدران: بہادری کی انتہا ​1514ء میں سلطان سلیم یاوز کا سامنا صفوی سلطنت کے شاہ اسماعیل سے ہوا...

​سلطان بایزید یلدرم: وہ فاتح جو بجلی کی طرح دشمن پر گرتا تھا

Image
  تاریخی پس منظر اور عثمانی سلطنت کا عروج ​تاریخِ اسلام کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں ایسے عظیم سپوتوں کے نام ملتے ہیں جنہوں نے اپنی شجاعت سے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ انہی میں سے ایک نام سلطان بایزید اول کا ہے، جنہیں تاریخ ان کی بجلی جیسی تیزی کی وجہ سے "یلدرم" کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ وہ عثمانی سلطنت کے چوتھے حکمران تھے اور ان کا دور (1389ء سے 1402ء) فتوحات اور اسلام کی سربلندی کا ایک روشن باب ہے۔ جب سلطان بایزید تخت پر بیٹھے تو سلطنتِ عثمانیہ اناطولیہ اور بلقان کے علاقوں میں پھیل رہی تھی، جس نے پورے یورپ کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ ​ یلدرم: لقب کی حقیقت ​سلطان بایزید کو "یلدرم" (ترکی زبان میں 'آسمانی بجلی') کا خطاب محض اتفاقاً نہیں ملا تھا۔ وہ ایک ایسے سپہ سالار تھے جو جنگی حکمتِ عملی میں "رفتار" کو سب سے بڑا ہتھیار مانتے تھے۔ ان کی فوج کی نقل و حرکت اتنی تیز ہوتی تھی کہ دشمن کو جب تک حملے کی اطلاع ملتی، سلطان ان کے قلعوں کے دروازوں پر دستک دے رہے ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گھوڑے کی پیٹھ پر گزارا، ایک محاذ سے دوسرے محاذ تک کا فاصلہ...

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

Image
  سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ ایسے عظیم سپوتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے خون اور پسینے سے اسلام کے پرچم کو سربلند کیا۔ ان سپوتوں میں ایک نمایاں نام سلطان اورخان غازی کا ہے، جو سلطنت کے بانی عثمان غازی کے فرزند ارجمند تھے۔ ان کا دورِ حکومت محض فتوحات کا دور نہ تھا، بلکہ یہ ایک چھوٹی سی قبائلی ریاست کو ایک باقاعدہ منظم سلطنت میں تبدیل کرنے کا عہد تھا۔ ​ ابتدائی حالات اور جانشینی ​سلطان اورخان غازی 1281ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تربیت پائی اور لڑپن سے ہی تلوار بازی اور سپہ گری میں مہارت حاصل کر لی۔ جب 1326ء میں عثمان غازی علیل ہوئے، تو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اورخان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ اورخان غازی نے تخت سنبھالتے ہی اپنے بھائی علاؤ الدین پاشا کو بلاوا بھیجا۔ اورخان چاہتے تھے کہ ریاست کی تقسیم ہو، لیکن ان کے بھائی نے ایثار کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کہا: "میرے بھائی! ہمارے والد نے آپ کو حکمران منتخب کیا ہے، میں صرف آپ کا وزیر بن کر آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔" یہ وہ اتفاق تھا جس نے عثمانیوں کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ ​ رونگٹے کھڑے کر دینے والا وا...

سلطان سنجر کا جاہ و جلال اور بوڑھی عورت کا عدلِ بے مثال

Image
  تاریخی پس منظر: سلطان سنجر سلجوقی خاندان کے آخری عظیم حکمران تھے جن کی ہیبت سے مشرق و مغرب لرزتے تھے۔ ان کے دور میں سلجوقی سلطنت اپنی وسعت اور علمی و فوجی طاقت کے عروج پر تھی۔ سلطان سنجر کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے چالیس سال سے زائد عرصہ حکومت کی اور ان کے دسترخوان پر ہزاروں افراد کھانا کھاتے تھے۔ ان کے پاس بے پناہ لشکر اور خزانے تھے، لیکن تاریخ نے ان کی جنگی فتوحات سے زیادہ ان کے اس واقعے کو یاد رکھا ہے جو ایک نہتی اور کمزور بڑھیا کے ساتھ پیش آیا۔ ​ واقعہ کی تفصیل: ایک مرتبہ سلطان سنجر اپنی پوری فوجی طاقت اور شاہانہ کروفر کے ساتھ ایک عظیم جنگی مہم سے فاتح بن کر لوٹ رہے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ گھوڑوں کے سموں سے اٹھنے والی دھول آسمان کو چھو رہی تھی اور نقاروں کی آواز سے فضا گونج رہی تھی۔ سلطان اپنے مخصوص سفید عربی گھوڑے پر سوار، زرہ بکتر پہنے، اپنے جرنیلوں کے حصار میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ​اسی دوران ایک بوڑھی عورت، جس کا لباس بوسیدہ تھا اور چہرہ غم و غصے کی تصویر بنا ہوا تھا، اچانک ہجوم کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور سلطان کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔ شا...

سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ: مغل سلطنت کا وہ درویش سپاہی جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

Image
  ابتدائی زندگی اور جوانی کا وہ جرات مندانہ واقعہ سلطان اورنگزیب عالمگیر 1618ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی جوانی عام شہزادوں جیسی عیش و عشرت والی نہیں تھی، بلکہ وہ بچپن ہی سے بہت سنجیدہ اور نڈر تھے۔ ان کی شجاعت کا پہلا بڑا امتحان صرف 15 سال کی عمر میں ہوا۔ ​ایک بار شاہ جہاں (ان کے والد) ہاتھیوں کی لڑائی دیکھ رہے تھے۔ اچانک ایک بپھرا ہوا ہاتھی، جس کا نام "سدھاکر" تھا، تماشائیوں کی طرف لپکا اور سیدھا شہزادہ اورنگزیب کے گھوڑے پر حملہ کر دیا۔ جہاں بڑے بڑے سورما پیچھے ہٹ گئے، وہاں اس 15 سالہ نوجوان نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی نیزہ اٹھایا اور اکیلے اس مہیب ہاتھی کا مقابلہ کیا۔ جب ہاتھی نے ان کے گھوڑے کو گرا دیا، تو اورنگزیب زمین پر کھڑے ہو گئے اور اپنی تلوار سے اس دیو ہیکل جانور پر وار کرنے لگے۔ یہ ان کی جوانی کا وہ پہلا منظر تھا جس نے دنیا کو بتا دیا کہ یہ شہزادہ آگے چل کر ایک عظیم فاتح بنے گا۔ ​ تخت نشینی اور سلطنت کی وسعت اورنگزیب عالمگیر جب تخت پر بیٹھے، تو مغل سلطنت اندرونی اور بیرونی فتنوں میں گھری ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ (تقریباً 25 سال) میدانِ جنگ میں گزارا...

سلطان مراد چہارم: عثمانیہ سلطنت کا آہنی مردِ حر اور فاتحِ بغداد

Image
  تمہید: ایک بکھرتی ہوئی سلطنت کا وارث ​سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ میں سلطان مراد چہارم کا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب خلافت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ محض 11 سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے اس شہزادے نے دیکھا کہ کس طرح باغی سپاہی (ینگ چری) محل کے دروازوں پر دندناتے پھرتے تھے اور وزراء ریاست کو لوٹ رہے تھے۔ ایران کی صفوی سلطنت نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے دل "بغداد" پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مراد چہارم نے خاموشی سے اپنی طاقت جمع کی اور پھر وہ وقت آیا جب انہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ​ بغاوتوں کا قلع قمع اور باغیوں کا خاتمہ ​سلطان مراد چہارم کی حکومت کا پہلا بڑا چیلنج وہ باغی سپاہی تھے جنہوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی۔ سلطان نے ان کا قلع قمع کرنے کے لیے "آہنی ہاتھ" کی پالیسی اپنائی۔ ​ خوف کا راج ختم کرنا: سلطان نے ان تمام باغی جرنیلوں کو چن چن کر قتل کروایا جو سلطان کی پیٹھ پیچھے سازشیں کرتے تھے۔ ​ عبرتناک سزائیں: کہا جاتا ہے کہ سلطان نے کرپشن اور غداری کے جرم میں ہزاروں افراد کو سزائیں ...

میسور کا شیر: سلطان ٹیپو کی غیرت، شجاعت اور شہادت کا آخری منظر

Image
  ​سلطان فتح علی خان ٹیپو تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس نے انگریز استعمار کے سامنے سر جھکانے کے بجائے کٹ جانے کو ترجیح دی۔ 4 مئی 1799ء کی وہ منحوس دوپہر سرنگاپٹم کے قلعے پر موت کا سایہ لے کر آئی تھی۔ انگریز فوج، نظامِ دکن اور مرہٹوں کے متحدہ لشکر نے قلعے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ قلعے کے اندر موجود میر صادق جیسے غداروں نے انگریزوں سے سازش کر کے قلعے کی فصیل میں شگاف کی خفیہ معلومات فراہم کر دی تھیں اور عین جنگ کے دوران اپنی ہی فوج کی تنخواہ بانٹنے کے بہانے سپاہیوں کو مورچوں سے ہٹا دیا تھا۔ ​سلطان ٹیپو اس وقت اپنے محل کے ایک برآمدے میں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ اچانک قلعے میں شور بلند ہوا۔ ایک وفادار سپاہی ہانپتا ہوا پہنچا اور خبر دی کہ غداروں نے قلعے کا ایک اہم دروازہ دشمن کے لیے کھول دیا ہے اور انگریز فوج سیلاب کی طرح اندر داخل ہو رہی ہے۔ سلطان نے لقمہ ہاتھ میں لیا تھا، اسے وہیں چھوڑ دیا، ہاتھ دھوئے اور میان سے اپنی مشہورِ زمانہ تلوار نکال کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ "عالی جاہ! ابھی وقت ہے،...