​سلطان رکن الدین بیبرس: وہ مردِ آہن جس نے منگولوں کا ناقابلِ شکست ہونے کا طلسم توڑ دیا

 


تعارف: ایک غلام جو تقدیر کا سلطان بنا

​تاریخِ عالم میں ایسے واقعات کم ہی ملتے ہیں جہاں ایک بازار میں بکنے والا غلام وقت کی سب سے بڑی طاقت کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے۔ رکن الدین بیبرس (پیدائش: 1223ء) ایک قپچاق ترک تھے، جنہیں بچپن میں منگولوں نے قید کر کے غلام بنایا اور پھر حماۃ کے بازار میں فروخت کر دیا۔ ان کی ایک آنکھ میں سفید دھبہ تھا، جس کی وجہ سے پہلے تو انہیں کسی نے نہ خریدا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آخر کار وہ مصر کے مملوک سلطان کے لشکر میں شامل ہوئے اور اپنی غیر معمولی ذہانت، شجاعت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر سپہ سالار اور پھر مصر و شام کے عظیم سلطان بنے۔

منگولوں کا فتنہ اور بغداد کی تباہی

​تیرہویں صدی عیسوی مسلمانوں کے لیے قیامتِ صغریٰ سے کم نہ تھی۔ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 1258ء میں بغداد کو اس بے دردی سے تباہ کیا کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ خلافتِ عباسیہ کے آخری خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں تلے کچل دیا گیا اور بیت الحکمت کی عظیم لائبریری کو جلا دیا گیا۔ اس تباہی کے بعد منگولوں کا اگلا ہدف مصر اور حجازِ مقدس تھے۔ ہلاکو خان نے مصر کے حکمرانوں کو ایک ایسا دھمکی آمیز خط بھیجا جس نے پورے عالمِ اسلام میں خوف طاری کر دیا، خط میں لکھا تھا:

"تمہارے لیے ہماری تلواروں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں، ہم جہاں جاتے ہیں وہاں ماتم بچھ جاتا ہے، ہمارے گھوڑے ہوا سے تیز اور ہماری تلواریں بجلی کی طرح کڑکتی ہیں۔"

ایمان کو جھنجھوڑنے والا فیصلہ

​جب منگولوں کا یہ خط مصر پہنچا، تو بڑے بڑے امراء کے دل لرز گئے، لیکن رکن الدین بیبرس وہ شخص تھے جن کے ماتھے پر پسینہ تک نہ آیا۔ انہوں نے نہ صرف منگول ایلچیوں کو قتل کروا کر ان کی لاشیں شہر کے دروازے پر لٹکا دیں، بلکہ یہ اعلان کر دیا کہ اب فیصلہ میدانِ جنگ میں ہوگا۔ یہ ایک خودکش فیصلہ لگ رہا تھا کیونکہ منگول اس وقت تک ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے، لیکن بیبرس کا بھروسہ اپنی فوج سے زیادہ اللہ کی ذات پر تھا۔

جنگِ عین جالوت: حق و باطل کا عظیم معرکہ

​1260ء میں فلسطین کے مقام عین جالوت پر تاریخ کا وہ فیصلہ کن معرکہ ہوا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ بیبرس نے اس جنگ میں کمالِ ہوشیاری دکھائی۔ انہوں نے اپنے لشکر کا ایک بڑا حصہ پہاڑیوں کے پیچھے چھپا دیا اور خود ایک چھوٹے دستے کے ساتھ منگولوں کے ہراول دستے پر حملہ کیا۔

​جنگ جب عروج پر پہنچی، تو منگولوں کے خوفناک حملوں نے اسلامی لشکر کے قدم اکھاڑنا شروع کیے۔ منگول سپاہی درندوں کی طرح مسلمانوں کی صفوں کو چیر رہے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ رک گئی، سانسیں تھم گئیں اور ایسا لگا کہ اسلام کا آخری قلعہ بھی گر جائے گا۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر: بیبرس کا جاہ و جلال

​عین اس نازک گھڑی میں، جب شکست سامنے نظر آ رہی تھی، سلطان بیبرس نے وہ تاریخی حرکت کی جو آج بھی پڑھنے والوں کا خون گرما دیتی ہے۔ سلطان نے اپنا شاہی خود (Helmet) سر سے اتار کر زمین پر دے مارا تاکہ ہر سپاہی ان کا چہرہ دیکھ سکے اور جان لے کہ ان کا لیڈر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے اپنی ڈھال پھینک دی اور ننگی تلوار فضا میں لہراتے ہوئے ایسی گرجدار آواز میں نعرہ لگایا کہ میدانِ جنگ کی زمین لرز اٹھی:

"وا اسلاماہ! وا اسلاماہ! اے میرے رب! بیبرس کو اپنے دین کی حفاظت کے لیے قبول فرما لے!"

​سلطان کی یہ چیخ اللہ کے حضور ایک ایسی پکار تھی جس نے سپاہیوں کے مردہ جسموں میں بجلیاں بھر دیں۔ سلطان خود بجلی کی کڑک بن کر منگولوں کے سیلاب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ان کی تلوار جس پر پڑتی اسے گھوڑے سمیت دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتی۔ منگول سپاہی، جو کل تک موت بانٹتے تھے، آج ایک انسان کے روپ میں "قہرِ خداوندی" کو دیکھ کر پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ تاریخ نے وہ منظر دیکھا کہ ناقابلِ شکست کہلانے والی منگول فوج کے سپہ سالار کتبغا کو سرِ عام قتل کر دیا گیا اور منگولوں کا غرور خاک میں مل گیا۔

سلطان بیبرس کی شخصیت اور نظامِ حکومت

​جنگ کے بعد سلطان بیبرس نے مصر اور شام کو متحد کر کے ایک ایسی سلطنت بنائی جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھے بلکہ ایک نہایت منتظم حکمران تھے۔ ان کا رعب ایسا تھا کہ دشمن ان کے نام سے کانپتا تھا۔ انہوں نے قلعے، پل اور مساجد تعمیر کروائیں۔ انہوں نے ایک ایسا انوکھا ڈاک کا نظام (Post System) بنایا جس کے ذریعے قاہرہ سے دمشق تک خبریں برق رفتاری سے پہنچتی تھیں۔ وہ اکثر راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھومتے تاکہ غریبوں کا حال جان سکیں۔

صلیبیوں کا صفایا اور مذہبی خدمات

​منگولوں کو لگام ڈالنے کے بعد بیبرس نے اپنی تلوار کا رخ صلیبیوں کی طرف موڑا۔ انہوں نے انطاکیہ، یافا اور قیصریہ جیسے مضبوط قلعوں کو عیسائیوں سے آزاد کروایا۔ ان کی فتوحات نے صلیبی جنگوں کا نقشہ بدل دیا۔ دینِ اسلام کی خدمت میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ انہوں نے مسجدِ نبوی ﷺ کے روضہ مبارک کے گرد جالیوں کی مرمت کروائی اور بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کے سخت انتظامات کیے۔

سلطان کی سادہ زندگی اور آخری سفر

​اتنی بڑی سلطنت اور جاہ و جلال کے باوجود سلطان بیبرس کی زندگی ایک سچے مجاہد کی تھی۔ وہ شاہی محلوں کے بجائے میدانِ جنگ کے خیموں میں رہنا پسند کرتے تھے۔ 17 سال تک اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے بعد، یہ عظیم مردِ آہن 1277ء میں دمشق میں اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ ان کے پاس کوئی ذاتی دولت یا محل نہیں تھا، صرف ان کی تلوار اور وہ سادگی تھی جو ان کی پہچان تھی۔

حاصلِ کلام

​سلطان رکن الدین بیبرس کی داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ایمان میں پختگی ہو اور نیت میں اللہ کی رضا شامل ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ بیبرس نے ثابت کیا کہ اگر مسلمان متحد ہو جائیں اور ان میں مر مٹنے کا جذبہ پیدا ہو جائے، تو وقت کے "ہلاکو خان" بھی بھیگی بلی بن کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آج بھی عالمِ اسلام کے نوجوانوں کو بیبرس کی جرات اور ان کے اس نعرے "وا اسلاماہ" کو یاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔

امید کرتا  ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے 

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔


Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان