سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا
سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ ایسے عظیم سپوتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے خون اور پسینے سے اسلام کے پرچم کو سربلند کیا۔ ان سپوتوں میں ایک نمایاں نام سلطان اورخان غازی کا ہے، جو سلطنت کے بانی عثمان غازی کے فرزند ارجمند تھے۔ ان کا دورِ حکومت محض فتوحات کا دور نہ تھا، بلکہ یہ ایک چھوٹی سی قبائلی ریاست کو ایک باقاعدہ منظم سلطنت میں تبدیل کرنے کا عہد تھا۔
ابتدائی حالات اور جانشینی
سلطان اورخان غازی 1281ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تربیت پائی اور لڑپن سے ہی تلوار بازی اور سپہ گری میں مہارت حاصل کر لی۔ جب 1326ء میں عثمان غازی علیل ہوئے، تو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اورخان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ اورخان غازی نے تخت سنبھالتے ہی اپنے بھائی علاؤ الدین پاشا کو بلاوا بھیجا۔ اورخان چاہتے تھے کہ ریاست کی تقسیم ہو، لیکن ان کے بھائی نے ایثار کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کہا: "میرے بھائی! ہمارے والد نے آپ کو حکمران منتخب کیا ہے، میں صرف آپ کا وزیر بن کر آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔" یہ وہ اتفاق تھا جس نے عثمانیوں کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔
رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ: بروصہ کی فتح اور حیرت انگیز عدل
سلطان اورخان غازی کا سب سے بڑا کارنامہ بروصہ (Bursa) کی فتح ہے۔ یہ شہر بازنطینی سلطنت کا ایک مضبوط ترین قلعہ تھا، جس کی دیواریں اتنی بلند تھیں کہ انہیں پار کرنا ناممکن لگتا تھا۔ عثمانی مجاہدین نے تقریباً دس سال تک اس شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ اس طویل محاصرے نے بازنطینی فوج کے حوصلے پست کر دیے تھے۔
سلطان اورخان غازی نے طاقت کے ساتھ ساتھ حکمتِ عملی سے کام لیا۔ انہوں نے قلعے کے گرد دو چھوٹے قلعے تعمیر کیے تاکہ شہر کو بیرونی امداد نہ مل سکے۔ آخر کار، 1326ء میں وہ تاریخی دن آیا جب بازنطینی گورنر "ایورینوس" نے بغیر خون خرابے کے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
رونگٹے کھڑے کر دینے والا لمحہ تب آیا جب اورخان غازی فاتحانہ انداز میں شہر میں داخل ہوئے۔ عام طور پر اس دور میں فاتح لشکر شہروں کو تاخت و تاراج کر دیتے تھے، لیکن اورخان غازی نے اعلان کیا: "آج کسی کی جان یا مال کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔ جو عیسائی یہاں رہنا چاہتے ہیں وہ جزیہ دے کر امن سے رہیں، اور جو جانا چاہتے ہیں انہیں بحفاظت سرحد پار کروا دی جائے گی۔"
بازنطینی گورنر ایورینوس سلطان کے اس عدل اور حسنِ سلوک سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے وہیں کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔ وہ بعد میں عثمانی فوج کا ایک نامور سپہ سالار بنا۔ اس فتح کی خبر جب بسترِ مرگ پر موجود عثمان غازی کو ملی، تو انہوں نے وصیت کی کہ انہیں بروصہ کی "نیلی گنبد" والی عمارت میں دفن کیا جائے۔ اورخان غازی نے اپنے والد کی آخری خواہش کو عقیدت کے ساتھ پورا کیا اور بروصہ کو سلطنت کا پہلا باقاعدہ دارالخلافہ بنایا۔
فوجی اور انتظامی اصلاحات
سلطان اورخان غازی صرف ایک فاتح ہی نہ تھے، بلکہ ایک عظیم مصلح بھی تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ فتوحات کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مستقل فوج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دنیا کی پہلی باقاعدہ اور پیشہ ورانہ فوج "ینی چری" (Janissaries) کی بنیاد رکھی۔ یہ سپاہی شادی نہیں کرتے تھے اور ان کا اوڑھنا بچھونا صرف جہاد تھا۔ اسی فوج نے آگے چل کر تین براعظموں پر اسلام کا بول بالا کیا۔ انہوں نے پہلی بار عثمانی سکہ رائج کیا اور جابجا مدرسے، مسافر خانے اور مساجد تعمیر کروائیں تاکہ عوام کو تعلیم اور سہولیات میسر ہوں۔
یورپ میں قدم رنجہ
اورخان غازی وہ پہلے عثمانی سلطان تھے جنہوں نے ایشیا سے نکل کر یورپ کی زمین پر قدم رکھا۔ انہوں نے درہ دانیال کو عبور کر کے "گیلی پولی" کے قلعے کو فتح کیا۔ یہ وہ دروازہ تھا جس نے آنے والے وقتوں میں سلطان محمد فاتح کے لیے قسطنطنیہ کی فتح کی راہ ہموار کی۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔
اس واقعے سے حاصل ہونے والے 3 بڑے اسباق:
- اتحاد میں برکت ہے: سلطان اورخان اور ان کے بھائی علاؤ الدین کے درمیان جو محبت اور ایثار تھا، وہی عثمانی سلطنت کی مضبوطی کی اصل بنیاد بنا۔
- اخلاق سے فتوحات: شہر قلعوں سے نہیں، بلکہ لوگوں کے دل جیت کر فتح کیے جاتے ہیں۔ اورخان غازی کے عدل نے دشمنوں کو بھی ان کا وفادار بنا دیا۔
- مستقبل کی منصوبہ بندی: ایک عظیم لیڈر وہ ہے جو جذباتی فتوحات کے بجائے مستقل ادارے (جیسے ینی چری فوج اور مدرسے) بنائے جو صدیوں تک قوم کا نام روشن رکھیں۔💕

Comments
Post a Comment