​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

 


سلطان الپ ارسلان اور معرکہ ملازگرد: جب ایک غازی نے جیتے جی کفن پہن کر رومی سلطنت کا غرور خاک میں ملایا

​پارٹ 1: گیارہویں صدی کا عالمی منظرنامہ، سلجوقی خاندان کا ظہور اور الپ ارسلان کی ابتدائی زندگی

​1. پس منظر: گیارہویں صدی عیسوی کا جغرافیائی اور سیاسی نقشہ

​انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرق اور مغرب کی دو بڑی طاقتیں آپس میں ٹکراتی ہیں، تو دنیا کا جغرافیہ بدل جاتا ہے۔ گیارہویں صدی عیسوی کا دور (جو کہ پانچویں صدی ہجری کا وقت بنتا ہے) تاریخِ انسانی کا ایک ایسا ہی ہنگامہ خیز اور فیصلہ کن دور تھا۔ اس دور میں ایک طرف یورپ اور اناطولیہ (موجودہ ترکی) پر صدیوں پرانی، طاقتور اور زرق برق بازنطینی رومی سلطنت (Byzantine Empire) قائم تھی، جس کا دارالحکومت قسطنطنیہ (Constantinople) تھا اور جس کا رعب اور دبدبہ پوری عیسائی دنیا پر قائم تھا۔ رومی سلطنت کے پاس دنیا کی سب سے منظم بیوروکریسی، مضبوط قلعے اور لاکھوں کی تعداد میں بکتر بند فوج موجود تھی، جو مسلمانوں کو مشرقِ وسطیٰ سے ہمیشہ کے لیے نکالنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔

​دوسری طرف، عالمِ اسلام اس وقت ایک شدید سیاسی بحران اور تقسیم کا شکار تھا۔ بغداد میں خلافتِ عباسیہ تو موجود تھی، لیکن وہ اپنی عسکری اور سیاسی طاقت کھو چکی تھی۔ عباسی خلفاء صرف مذہبی مہر بن کر رہ گئے تھے اور سلطنت کے اندرونی و بیرونی دفاع کے لیے دوسروں کے محتاج تھے۔ مصر اور شام کے کچھ حصوں پر فاطمی سلطنت کا کنٹرول تھا، جو عباسی خلافت کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف تھی۔ مسلم دنیا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں، امارتوں اور مقامی قبیلوں میں بکھری ہوئی تھی، جن کے درمیان کوئی مرکزیت یا ایک قیادت موجود نہیں تھی۔ مسلمان آپس کے جھگڑوں، فرقہ وارانہ اختلافات اور اقتدار کی جنگوں میں اتنے الجھے ہوئے تھے کہ وہ اپنی سرحدوں پر منڈلاتے ہوئے رومی خطرے سے بالکل بے خبر ہو چکے تھے۔

​ایسے مایوس کن حالات میں، جب مسلمانوں کو ایک ایسی طاقتور اور مخلص قیادت کی ضرورت تھی جو ان کے بکھرے ہوئے شیرازے کو دوبارہ اکٹھا کر سکے اور رومیوں کے سیلاب کے سامنے لوہے کی دیوار بن سکے، قدرت نے وسطی ایشیا کے صحراؤں سے ایک ایسی قوم کو اٹھایا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک اسلام کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ قوم سلاجقہ یا سلجوقی ترک (Seljuk Turks) تھی۔ انہوں نے نہ صرف بغداد کی خلافت کو نئی زندگی بخشی، بلکہ تاریخِ اسلام کو الپ ارسلان جیسا ایک ایسا نڈر اور متقی جرنیل دیا جس نے عیسائی دنیا کے غرور کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔

​2. سلجوقی خاندان کا تاریخی ظہور اور بغداد کا تحفظ

​سلجوقی ترکوں کی تاریخ وسطی ایشیا کے اوغوز (Oghuz) قبیلے سے شروع ہوتی ہے۔ اس قبیلے کے ایک عظیم سردار کا نام سلجوق بن دوقاق تھا، جن کے نام پر اس خاندان کا نام "سلجوقی" پڑا۔ دسویں صدی عیسوی کے آخری حصے میں سلجوق بن دوقاق نے اپنے پورے قبیلے کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ ترکوں کا یہ قبیلہ اپنی شجاعت، گھڑ سواری اور تیر اندازی میں پوری دنیا میں مشہور تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی مادی طاقت کو ایمان کی ایسی جلا ملی کہ انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے وسطی ایشیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

​سلجوق بن دوقاق کے پوتوں، جن کے نام طغرل بیگ (Tughril Beg) اور چغری بیگ (Chaghri Beg) تھے، نے اس قبیلے کو ایک عظیم عسکری سلطنت میں تبدیل کر دیا۔ ان دونوں بھائیوں نے مل کر ۱0۳۷ء میں خراسان اور مرو (موجودہ ترکمانستان اور ایران) کے علاقوں پر قبضہ کیا اور سلجوقی سلطنت کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ طغرل بیگ ایک غیر معمولی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کے مالک انسان تھے۔ انہوں نے اپنی فتوحات کا دائرہ مغرب کی طرف بڑھایا اور ایران کے بڑے حصے کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا۔

​۱0۵۵ء میں تاریخِ اسلام میں ایک بہت بڑا موڑ آیا جب بغداد کے عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ نے سلجوقی سردار طغرل بیگ کو دمشق اور عراق کے اندرونی فتنوں اور باغیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے بغداد آنے کی دعوت دی۔ طغرل بیگ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بغداد میں داخل ہوئے، انہوں نے خلیفہ کے تمام دشمنوں کا صفایا کیا اور خلافتِ عباسیہ کو دوبارہ امن و امان کی زندگی دی۔ اس عظیم خدمت کے صلے میں عباسی خلیفہ نے طغرل بیگ کو "سلطان" کا تاریخی لقب دیا اور انہیں "مشرق اور مغرب کا حاکم" تسلیم کیا۔ یہیں سے سلجوقی سلطنت عالمِ اسلام کی سب سے بڑی عسکری اور سیاسی محافظ بن کر ابھری، اور بغداد کے خلفاء اب سلجوقی سلاطین کی تلوار پر بھروسا کرنے لگے۔

​3. سلطان الپ ارسلان: ولادت، نام، نسب اور خاندانی ماحول

​سلطان الپ ارسلان کا اصل نام محمد بن چغری بیگ تھا، اور ان کی کنیت "ابو شجاع" تھی، جبکہ تاریخ میں انہیں ان کے صفاتی لقب "الپ ارسلان" کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا ترکی زبان میں مطلب ہوتا ہے "بہادر شیر" (The Heroic Lion)۔ وہ ۲۰ جنوری ۱0۲۹ء (یا بعض مورخین کے مطابق ۴۲۰ ہجری) کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد چغری بیگ سلجوقی سلطنت کے شریک بانی اور ایک نہایت دلیر جرنیل تھے، جنہوں نے سلطنت کے مشرقی حصوں (خراسان) کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔

​الپ ارسلان ایک ایسے دور اور ماحول میں پیدا ہوئے تھے جہاں زندگی کا دوسرا نام جہاد اور تلوار تھا۔ ان کے بچپن کی لوریاں بھی گھوڑوں کی ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکار کے سائے میں گزریں۔ سلجوقی خاندان کے شہزادوں کے لیے محلوں کی عیش و عشرت کا کوئی تصور نہیں تھا؛ ان کا اصل گھر میدانِ جنگ اور ان کا اصل بستر گھوڑے کی زین ہوا کرتا تھا۔ الپ ارسلان بچپن ہی سے اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت، لمبی قامت اور رعب دار شخصیت کی وجہ سے اپنے تمام بھائیوں اور کزنوں میں ممتاز نظر آتے تھے۔

​ان کے والد چغری بیگ نے ان کی عسکری اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ انہیں بچپن ہی سے وسطی ایشیا کے روایتی جنگی علوم سکھائے گئے، جن میں دوڑتے ہوئے گھوڑے سے الٹا ہو کر تیر چلانا، سنگلاخ پہاڑوں پر فوج کی صف بندی کرنا اور دشمن کو گھیرے میں لینے کی حکمتِ عملی (Turanian Tactic) شامل تھی۔ لیکن اس عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں اسلام کے بنیادی علوم، قرآنِ پاک کی تعلیم اور احادیثِ رسول ﷺ سے گہرا لگاؤ پیدا کیا گیا۔ ان کے اساتذہ میں اس دور کے جید علماء شامل تھے جنہوں نے الپ ارسلان کے دل میں خوفِ خدا، عدل و انصاف کا جذبہ اور اعلاءِ کلمتہ اللہ کے لیے جان دینے کا شوق کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔

​4. جوانی کی عسکری مہمات اور خراسان کی گورنری

​الپ ارسلان نے اپنی جوانی کے ابتدائی سالوں میں ہی اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ جب ان کی عمر بیس سال کے قریب تھی، ان کے والد چغری بیگ نے انہیں خراسان (جو کہ سلطنت کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ تھا) کا نگران اور فوج کا کمانڈر مقرر کیا۔ اس وقت خراسان کی سرحدوں پر وسطی ایشیا کے دیگر غزنوی اور قراخانی قبائل کی طرف سے مسلسل حملوں کا خطرہ رہتا تھا، اور اندرونی طور پر بھی کئی گورنر بغاوت پر آمادہ تھے۔

​نوجوان شہزادے محمد (الپ ارسلان) نے اپنی پہلی ہی مہم میں غزنوی فوج کے ایک بڑے حملے کو پسپا کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے نام کی طرح واقعی ایک "بہادر شیر" ہیں۔ انہوں نے خراسان کے پہاڑی علاقوں میں باغیوں کا تعاقب کیا، ان کے قلعوں کو فتح کیا اور پورے صوبے میں امن و امان کا وہ مثالی نظام قائم کیا جس کی مثال پہلے موجود نہیں تھی۔ وہ خود اپنی فوج کے ہراول دستے (Frontline) میں شامل ہو کر لڑتے تھے، جس کی وجہ سے سلجوقی سپاہی ان پر اپنی جان چھڑکنے کے لیے تیار رہتے تھے۔

​۱0۵۹ء میں جب ان کے والد چغری بیگ کا انتقال ہوا، تو الپ ارسلان کو بلا مقابلہ خراسان کا مستقل گورنر تسلیم کر لیا گیا۔ اس منصب پر بیٹھتے ہی انہوں نے اپنی رعایا کے لیے انصاف کے دروازے کھول دیے، غریبوں پر سے بھاری ٹیکس ختم کر دیے، اور علماء و صوفیاء کی سرپرستی شروع کی۔ خراسان کی اس کامیاب گورنری نے الپ ارسلان کو ایک بہترین جرنیل کے ساتھ ساتھ ایک بیدار مغز منتظم اور سیاست دان کے روپ میں بھی دنیا کے سامنے پیش کیا، اور یہیں سے ان کے پورے سلجوقی سلطنت کا سلطان بننے کا راستہ ہموار ہوا۔

​5. چچا طغرل بیگ کی وفات اور تختِ سلطنت کا خطرناک چیلنج

​۴۵۵ ہجری (مطابق ۱0۶۳ء) میں سلجوقی سلطنت کے پہلے عظیم سلطان اور الپ ارسلان کے چچا طغرل بیگ کا انتقال ہو گیا۔ چونکہ سلطان طغرل بیگ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لیے ان کی وفات کے بعد سلطنت کے دارالحکومت (رے، ایران) میں تختِ شاہی پر قبضے کے لیے ایک ہولناک خانہ جنگی اور بحران کھڑا ہو گیا۔ طغرل بیگ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ الپ ارسلان کے چھوٹے سوتیلے بھائی سلیمان کو نیا سلطان بنایا جائے، کیونکہ وہ دربار کے کچھ وزراء کے زیرِ اثر تھا۔

​جیسے ہی سلیمان کے نام کا اعلان ہوا، سلجوقی خاندان کے دیگر طاقتور شہزادوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی اپنی فوجیں لے کر دارالحکومت کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ان میں سب سے بڑا اور خطرناک چیلنج الپ ارسلان کے چچا زاد بھائی قتلمش (Kutal Mish) کی طرف سے آیا۔ قتلمش ایک نہایت تجربہ کار، بوڑھا اور بہادر جرنیل تھا، اور اس کے ساتھ سلجوقی ترکوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی جو اسے تخت کا اصل حقدار سمجھتی تھی۔ قتلمش نے ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ دارالحکومت رے کا محاصرہ کر لیا اور سلیمان کو تخت چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

​اس نازک اور خطرناک وقت میں، جب سلجوقی سلطنت اندرونی خانہ جنگی کی وجہ سے مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی اور سرحدوں پر رومی عیسائی اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے، خراسان کے گورنر الپ ارسلان نے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ اگر اس وقت خاموشی اختیار کی گئی، تو ان کے آباؤ اجداد کی بنائی ہوئی یہ عظیم اسلامی سلطنت بکھر جائے گی۔ انہوں نے خراسان سے اپنے مخلص اور وفادار مجاہدین کا ایک لشکرِ جرار تیار کیا اور دارالحکومت رے کی طرف طوفانی پیش قدمی شروع کر دی۔

​6. معرکہ دمغان اور الپ ارسلان کی باقاعدہ تاجپوشی

​الپ ارسلان اور قتلمش کی فوجوں کا آمنا سامنا ۱0۶۳ء کے آخری مہینوں میں دمغان کے میدان میں ہوا۔ یہ جنگ سلجوقی تاریخ کی سب سے کٹھن جنگوں میں سے ایک تھی، کیونکہ دونوں طرف ترک مجاہدین تھے جو ایک دوسرے کی جنگی چالوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ قتلمش کو اپنی عددی برتری اور تجربے پر پورا گھمنڈ تھا، اس نے الپ ارسلان کی فوج کو گھیرنے کے لیے پانی کے راستے بند کر دیے اور میدانِ جنگ کو دلدل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ الپ ارسلان کے گھڑ سوار آگے نہ بڑھ سکیں۔

​لیکن الپ ارسلان نے یہاں اپنی غیر معمولی جنگی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے رات کے اندھیرے میں اپنی فوج کی صف بندی بدلی اور صبح ہوتے ہی دشمن پر ایک ایسا ناگہانی اور زوردار حملہ کیا جس نے قتلمش کے لشکر کے پاؤں اکھڑ دیے۔ الپ ارسلان خود اپنی تلوار لہراتے ہوئے دشمن کی صفوں کو چیرتے چلے گئے۔ اس ہولناک معرکے میں قتلمش کی فوج کو شکستِ فاش ہوئی، اور قتلمش میدانِ جنگ سے فرار ہوتے ہوئے پہاڑی راستے میں گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گیا۔

​اس شاندار اور فیصلہ کن فتح کے بعد، الپ ارسلان فاتحانہ انداز میں دارالحکومت رے میں داخل ہوئے۔ سلطنت کے تمام امراء، وزراء اور جرنیلوں نے ان کی اطاعت کا اعلان کیا اور انہیں بلا شرکتِ غیرے پوری سلجوقی سلطنت کا نیا "سلطانِ اعظم" تسلیم کر لیا۔ بغداد کے عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ نے فوراً دمشق سے اپنا سفیر بھیجا، الپ ارسلان کو شاہی خلعت، القابات اور خلافت کی تلوار پیش کی اور ان کے نام کا خطبہ پورے عالمِ اسلام کی مساجد میں پڑھنے کا حکم جاری کیا۔ اس طرح ۲۷ اپریل ۱0۶۴ء کو الپ ارسلان کی باقاعدہ تاجپوشی ہوئی اور سلطنت کو ایک ایسا مضبوط مرکز مل گیا جس کا خوف اب پوری دنیا کے دلوں پر طاری ہونے والا تھا۔

​7. نظام الملک طوسی کی وزارت اور داخلی استحکام

​سلطان الپ ارسلان کی کامیابیوں کے پیچھے جہاں ان کی اپنی شجاعت تھی، وہاں قدرت نے انہیں ایک ایسا وزیرِ خاص عطا کیا تھا جسے تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا اور دور اندیش سیاست دان مانا جاتا ہے—اور ان کا نام تھا خواجہ نظام الملک طوسی۔ نظام الملک طوسی الپ ارسلان کے والد کے دور سے ہی ان کے ساتھ تھے، اور سلطان الپ ارسلان نے تخت سنبھالتے ہی انہیں پوری سلطنت کا "وزیراعظم" (Grand Vizier) مقرر کر دیا۔

​سلطان الپ ارسلان اور نظام الملک طوسی کی جوڑی تاریخ کی سب سے بہترین اور آئیڈیل جوڑی ثابت ہوئی۔ سلطان نے سلطنت کے تمام انتظامی، تعلیمی اور معاشی معاملات نظام الملک کے سپرد کر دیے اور خود کو خالصتاً سرحدوں کے دفاع اور جہاد کے لیے وقف کر دیا۔ نظام الملک نے سب سے پہلے سلطنت کے اندرونی امن و امان کو قائم کیا، بیوروکریسی کو درست کیا اور ایک ایسا نظامِ عدل قائم کیا جہاں ایک عام غریب شہری بھی سلطنت کے بڑے سے بڑے امیر کے خلاف قاضی کی عدالت میں جا سکتا تھا۔

​نظام الملک طوسی کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ "جامعہ نظامیہ" (Nizamiyya Universities) کا قیام تھا۔ انہوں نے بغداد، نیشاپور، اصفہان اور مرو جیسے بڑے شہروں میں دنیا کی سب سے پہلی اور منظم یونیورسٹیاں قائم کیں، جہاں طلباء کو مفت تعلیم، رہائش اور وظائف دیے جاتے تھے۔ ان مدارس کا مقصد صرف علم پھیلانا نہیں تھا، بلکہ اس دور کے گمراہ کن اور باطل نظریات کے خلاف ایک فکری اور علمی جہاد کرنا تھا- ان مدارس سے امام غزالی جیسے عظیم اساتذہ اور علماء پیدا ہوئے جنہوں نے مسلم امہ کی اخلاقی اور ایمانی تربیت کی۔ اس داخلی استحکام، علمی بیداری اور معاشی خوشحالی نے الپ ارسلان کی پشت پر ایک ایسی مضبوط اور متحد قوم کھڑی کر دی جو اب رومی سلطنت جیسی عالمی طاقت سے ٹکرانے کے لیے بالکل تیار تھی۔

پارٹ 2: اناطولیہ پر پیش قدمی، قلعہ "آنی" کی تاریخی فتح اور رومی سلطنت کی جنگی تیاریاں

​1. اناطولیہ کی اہمیت اور سلجوقی غازیوں کی پیش قدمی

​سلطان الپ ارسلان نے جب سلجوقی سلطنت کے تخت پر بیٹھ کر اندرونی فتنوں کا خاتمہ کر دیا اور سلطنت کو سیاسی و معاشی طور پر مستحکم کر لیا، تو ان کے سامنے جو سب سے بڑا اور مقدس ہدف تھا، وہ تھا اسلام کی سرحدوں کو مغرب کی طرف وسعت دینا اور اناطولیہ (موجودہ ترکی) کے راستے یورپ کے دل تک پہنچنا۔ اناطولیہ اس دور میں بازنطینی رومی سلطنت کا سب سے اہم، زرخیز اور تزویراتی (Strategic) خطہ تھا- یہ خطہ عیسائی دنیا کے لیے ایک مضبوط ڈھال تھا جو انہیں مشرق سے آنے والے مسلم لشکروں سے بچاتا تھا۔

​سلطان الپ ارسلان کی اناطولیہ کی طرف پیش قدمی صرف ایک بادشاہ کی علاقائی فتوحات کی خواہش نہیں تھی، بلکہ یہ اعلاءِ کلمتہ اللہ اور جہاد کا وہ جذبہ تھا جو ترکوں کے خون میں دوڑ رہا تھا۔ اس وقت تک اناطولیہ کی سرحدوں پر رہنے والے مسلمان بازنطینی رومیوں کے ظلم و ستم سے سخت تنگ تھے، اور رومی فوجیں اکثر مسلم علاقوں پر چھاپے مار کر بستیوں کو تباہ کر دیتی تھیں۔ سلطان الپ ارسلان نے عزم کیا کہ وہ رومیوں کے اس تکبر کو خاک میں ملائیں گے اور اناطولیہ کو ہمیشہ کے لیے اسلام کا گڑھ بنا دیں گے۔

​۱0۶۴ء کے وسط میں، سلطان الپ ارسلان نے ایک بہت بڑا مجاہدین کا لشکر تیار کیا اور اناطولیہ اور آرمینیا کی سرحدوں کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ ان کی اس مہم کا مقصد رومیوں کے سرحدی قلعوں کو فتح کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ایک بڑی عسکری مہم کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔ سلجوقی گھڑ سوار، جو اپنی تیز رفتاری اور تیر اندازی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھے، اناطولیہ کے پہاڑی راستوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ رومی گورنروں نے جب سلجوقی فوج کے عزم اور سلطان کے جلال کو دیکھا، تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ ایک کے بعد ایک قلعہ چھوڑ کر بھاگنے لگے یا جزیہ دے کر سلطان کی اطاعت قبول کرنے لگے۔

​2. قلعہ "آنی" (Ani) کا تاریخی پس منظر اور ناقابلِ تسخیر حیثیت

​سلجوقی لشکر جب آرمینیا کے علاقوں کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھا، تو ان کے سامنے ایک ایسا قلعہ آیا جو اس دور کی عیسائی دنیا کا سب سے بڑا فخر اور رومی سلطنت کی طاقت کی آخری حد مانا جاتا تھا—اور اس کا نام تھا "قلعہ آنی" (Ani Fortress)۔ یہ شہر آرمینیا کا قدیم دارالحکومت تھا اور اس دور میں اسے "ایک ہزار ایک گرجا گھروں کا شہر" کہا جاتا تھا۔ یہ تجارتی اور عسکری لحاظ سے اس قدر اہم تھا کہ جو بھی اس شہر پر قابض ہوتا، پورے قوقاز (Caucasus) اور اناطولیہ پر اس کا حکم چلتا تھا۔

​قلعہ آنی کی جغرافیائی اور عماراتی بناوٹ ایسی تھی کہ اسے انسانی تاریخ کا "ناقابلِ تسخیر" (Impregnable) قلعہ مانا جاتا تھا۔ یہ شہر تین طرف سے گہری اور خوفناک پہاڑی کھائیوں اور دریا کے تیز بہاؤ سے گھرا ہوا تھا، جہاں سے کسی بھی فوج کا داخلہ بالکل ناممکن تھا۔ چوتھی طرف، جہاں سے زمینی راستہ تھا، رومیوں نے وہاں لوہے اور پتھر کی ایسی عظیم الشان اور موٹی دوہری دیواریں بنا رکھی تھیں جن کے پیچھے ہزاروں بکتر بند رومی تیر انداز ہر وقت پہرہ دیتے تھے۔ قلعے کے اندر کئی سالوں کا غلہ اور پانی ذخیرہ کرنے کا بہترین انتظام تھا، جس کی وجہ سے اگر کوئی فوج سالوں تک بھی اس کا محاصرہ کیے رکھتی، تو اندر موجود لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

​عیسائیوں کا یہ پختہ یقین تھا کہ "دنیا کی کوئی بھی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، آنی کے قلعے کو کبھی فتح نہیں کر سکتی۔" اس وقت تک تاریخ میں جتنے بھی بڑے بڑے بادشاہ اور فاتحین وہاں آئے تھے، وہ اس قلعے کی دیواروں سے ٹکرا کر ناکام لوٹ چکے تھے۔ جب سلطان الپ ارسلان نے اس قلعے کے سامنے پہنچ کر اس کا معائنہ کیا، تو ان کے جرنیلوں نے بھی کہا: "سلطان! اس قلعے پر حملہ کرنا اپنی فوج کو خود موت کے منہ میں دھکیلنا ہے، ہمیں کسی دوسرے راستے سے آگے بڑھنا چاہیے۔" لیکن الپ ارسلان کا ایمان اور عزم پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط تھا، انہوں نے فرمایا: "جس قلعے کو دنیا ناقابلِ تسخیر سمجھتی ہے، اللہ کی مدد سے اسی قلعے کی فتح مسلمانوں کے لیے اناطولیہ کے دروازے کھولے گی!"

​3. معرکہ آنی: ایک خونریز محاصرہ اور غیبی مدد کی داستان

​سلطان الپ ارسلان نے ۱0۶۴ء کے آخری مہینوں میں قلعہ آنی کا ایک سخت اور بے لچک محاصرہ (Siege) شروع کر دیا۔ انہوں نے قلعے کے چاروں طرف اپنے مجاہدین کی صف بندی کر دی اور رومیوں کے لیے باہر سے آنے والی تمام سپلائی لائنیں کاٹ دیں۔ سلجوقی فوج نے قلعے کی اونچی دیواروں پر منجنیقوں (Catapults) کے ذریعے بڑے بڑے پتھر اور آگ کے گولے برسانا شروع کر دیے، لیکن رومیوں کی دیواریں اتنی موٹی تھیں کہ ان پر پتھروں کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا، اور وہ قلعے کے اندر سے مسلمانوں پر تیروں اور گرم تیل کی بارش کر رہے تھے۔

​محاصرہ کئی ہفتوں تک جاری رہا، اور سردی کی شدت بڑھنے لگی۔ سلجوقی مجاہدین کے لیے اس سنگلاخ اور برفیلی مٹی پر زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل ہو رہا تھا، اور قلعے کے عیسائی اندر بیٹھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہ سلطان الپ ارسلان کی زندگی کے کٹھن ترین دنوں میں سے ایک تھا- انہوں نے دیکھا کہ اگر یہاں سے بغیر فتح کے واپس لوٹے، تو رومیوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور سلجوقی سلطنت کا رعب ختم ہو جائے گا۔ سلطان نے رات کے وقت اپنے خیمے میں اللہ کے حضور سجدے میں گر کر رو رو کر دعا مانگی: "اے اللہ! یہ تیرے نام لیوا مجاہدین ہیں جو تیرے دین کی سربلندی کے لیے لڑ رہے ہیں، ہمیں مایوس نہ فرما اور اس قلعے کو فتح کرنے کی کوئی غیبی راہ نکال۔"

​مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان کی دعا ختم ہونے کے بعد، اگلی ہی صبح قدرت کا ایک عجیب معجزہ رونما ہوا۔ سلجوقی انجینئروں نے راتوں رات رومیوں کی نظروں سے بچ کر قلعے کی مرکزی دیوار کے نیچے ایک بہت بڑی بارود اور لکڑیوں کی سرنگ کھودی تھی، اور صبح ہوتے ہی اس میں آگ لگا دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، اچانک ایک زوردار زلزلہ آیا جس نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس ناگہانی دھماکے اور زلزلے کی لہر سے قلعے کی وہ عظیم الشان اور 'ناقابلِ تسخیر' مانی جانے والی مرکزی دیوار کا ایک بہت بڑا حصہ تاش کے پتے کی طرح زمین بوس ہو گیا اور پورے شہر میں دھول کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

​جیسے ہی دیوار ٹوٹی، سلطان الپ ارسلان نے اپنی تلوار لہرائی اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے اپنے ہراول دستے کے ساتھ اس ٹوٹے ہوئے راستے سے قلعے کے اندر داخل ہو گئے۔ سلجوقی مجاہدین بھوکے شیروں کی طرح رومی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ قلعے کے اندر ایک ہولناک اور خونریز جنگ شروع ہو گئی، رومیوں کو اس ناگہانی حملے کی توقع نہیں تھی، ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ بدحواسی میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر، پورے شہر پر سلجوقی سلطنت کا سبز پرچم لہرانے لگا۔ سلطان الپ ارسلان نے شہر کے سب سے بڑے اور مرکزی گرجا گھر (Cathedral) میں داخل ہو کر اسے مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا، اور وہاں پہلی بار باجماعت نمازِ جمعہ ادا کی گئی اور سلطان کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ قلعہ آنی کی اس تاریخی اور معجزاتی فتح نے پوری عیسائی دنیا کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا، اور عیسائیوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اب ان کی بقا خطرے میں ہے۔

​4. رومی شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز کا غصہ اور اعلانِ جنگ

​جب قلعہ آنی کی فتح اور اناطولیہ میں سلجوقی ترکوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی فتوحات کی خبر بازنطینی رومی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ (Constantinople) پہنچی، تو وہاں کے شاہی محل میں کہرام مچ گیا۔ رومیوں کے لیے یہ صرف ایک قلعے کا جانا نہیں تھا، بلکہ ان کی صدیوں پرانی عزت اور تکبر پر ایک ایسا کاری وار تھا جس نے ان کے پورے دفاعی نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت رومی سلطنت کے تخت پر ایک نیا، انتہائی مغرور، جنونی اور تجربہ کار جرنیل بیٹھا تھا، جس کا نام تھا رومانوس ڈائیوجینز (Romanus IV Diogenes)۔

​رومانوس ایک کٹر اور متعصب عیسائی حکمران تھا، اور اس کا ماننا تھا کہ "مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کا علاج صرف تلوار ہے، اگر ہم نے اب ان کا راستہ نہ روکا، تو یہ ہمارے دارالحکومت قسطنطنیہ کو بھی فتح کر لیں گے۔" اس نے بازنطینی دربار کے تمام وزراء اور پادریوں کو اکٹھا کیا اور غصے سے گرجتے ہوئے کہا: "میں اس دنیا سے سلجوقیوں اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دوں گا! میں دمشق، حلب، بغداد اور خراسان پر رومی سلطنت کا جھنڈا لہراؤں گا اور مسلمانوں کی خلافت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔"

​شہنشاہ رومانوس نے ۱0۷0ء میں پورے یورپ اور عیسائی دنیا میں ایک ہنگامی "مقدس جنگ" (Crusade) کا اعلان کروا دیا۔ اس نے یورپ کے تمام عیسائی بادشاہوں، پوپ اور پادریوں کو خطوط لکھے کہ "آؤ اور عیسائیت کے تحفظ کے لیے میری فوج کا حصہ بنو۔" رومانوس کا مقصد صرف سلجوقی سلطنت سے اپنے علاقے واپس لینا نہیں تھا، بلکہ وہ تاریخ کا سب سے بڑا لشکر لے کر عالمِ اسلام کے دل (بغداد اور مکہ و مدینہ) پر حملہ کرنے کا ایک ہولناک اور حتمی پلان بنا رہا تھا تاکہ دنیا سے اسلام کا وجود ہی ختم کر دیا جائے۔

​5. تاریخ کی سب سے بڑی عیسائی فوج کی تیاری اور بناوٹ

​شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز کے اس اعلان پر پوری عیسائی دنیا دیوانی ہو گئی اور یورپ کے کونے کونے سے لاکھوں کی تعداد میں جنگجو قسطنطنیہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ یہ رومی سلطنت کی تاریخ کی سب سے بڑی، سب سے مہنگی اور سب سے منظم فوج تھی جو کبھی مسلمانوں کے خلاف تیار کی گئی تھی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس عظیم الشان لشکر کی تعداد دوبارہ (2 لاکھ) سے تین لاکھ کے درمیان تھی، اور اس فوج کو دنیا کے جدید ترین عسکری ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تھا۔

​اس فوج کی بناوٹ (Composition) انتہائی خطرناک تھی، کیونکہ اس میں صرف رومی سپاہی نہیں تھے، بلکہ اس میں یورپ کی تمام لڑاکا اور وحشی اقوام کے جنگجو شامل تھے۔ اس لشکرِ جرار میں فرانس کے نائٹس (Frankish Knights)، جرمنی کے بکتر بند گھڑ سوار، نارمنڈے کے تلوار باز، روس کے جنگجو، اور وسطی ایشیا کے غاز (Ghazz) اور پیچنگ (Pecheneg) قبیلوں کے کرائے کے فوجی شامل تھے جو پیسوں کے لیے لڑتے تھے۔ اس فوج کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں منجنیقیں، لوہے کے بڑے بڑے رتھ، اور مٹی کھودنے اور قلعوں کو گرانے والے جدید ترین اوزاروں سے لدی ہوئی ہزاروں اونٹوں اور خچروں کی گاڑیاں موجود تھیں۔

​اس فوج کی طاقت اور ساز و سامان کا یہ عالم تھا کہ جب یہ لشکر قسطنطنیہ کی گلیوں سے گزرتا تھا، تو زمین ان کے پاؤں کی ٹاپوں سے کانپتی تھی- عیسائی پادری اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے سونے اور چاندی کے کراس (Cross) اٹھا کر فوج کے آگے آگے چل رہے تھے اور انہیں برکتیں دے رہے تھے۔ شہنشاہ رومانوس نے اتنی بڑی فوج دیکھ کر تکبر کے عالم میں شاہی محل میں ایک بہت بڑا جشن منایا اور اپنے جرنیلوں کے درمیان پہلے ہی سے مسلمانوں کے شہروں (بغداد، اصفہان اور نیشاپور) کی گورنری اور زمینیں تقسیم کر دیں! وہ اس قدر اندھے ہو چکے تھے کہ وہ یہ بھول گئے کہ جنگیں صرف تعداد اور ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ایمان اور جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔

​6. رومی لشکر کی مشرق کی طرف طوفانی پیش قدمی

​۱0۷۱ء کے ابتدائی مہینوں میں، شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز اس لاکھوں کے لشکرِ جرار کی قیادت کرتے ہوئے قسطنطنیہ سے مشرق (اناطولیہ) کی طرف روانہ ہوا۔ یہ قافلہ ریت کے طوفان کی طرح آگے بڑھ رہا تھا، راستے میں جو بھی مسلم بستیاں یا چھوٹے قلعے آتے، یہ وحشی رومی فوج انہیں تباہ و برباد کر دیتی اور مسلمانوں کا بے دریغ خون بہاتی تھی۔ رومانوس کا ہدف سیدھا آرمینیا کا وہ خطہ تھا جہاں ملازگرد (Manzikert) کا میدان واقع تھا، کیونکہ وہیں سے سلجوقی سلطنت کی سرحدیں شروع ہوتی تھیں۔

​رومیوں کی اس طوفانی پیش قدمی کی خبر جب مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں تک پہنچی، تو پورے عالمِ اسلام میں ایک خوف اور پینک (Panic) کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی امارتوں کے پاس اتنی بڑی فوج کا سامنا کرنے کی کوئی طاقت نہیں تھی، اور بغداد کے عباسی خلیفہ بھی شدید پریشانی کے عالم میں مساجد میں رات بھر اللہ سے رحم اور فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ سب کو یہ نظر آ رہا تھا کہ اگر اس رومی سیلاب کو نہ روکا گیا، تو عالمِ اسلام کی تباہی اب یقینی ہے۔

​رومانوس ڈائیوجینز نے راستے میں اپنے جرنیلوں کو حکم دیا کہ "ہمیں کسی بھی سلجوقی سفیر یا امن کی پیشکش کو قبول نہیں کرنا ہے، ہمارا مقصد صرف جنگ ہے اور ہم سلجوقی سلطان الپ ارسلان کو زندہ پکڑ کر قسطنطنیہ کے بازاروں میں گھمائیں گے۔" وہ پورے غرور کے ساتھ ملازگرد کے میدان کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں تاریخ کا وہ لرزہ خیز اور فیصلہ کن معرکہ ہونا تھا جس نے مشرق اور مغرب کی تقدیر کا فیصلہ کرنا تھا—

پارٹ 3: ملازگرد کا میدان، امتیِ مسلمہ کی بے چینی، اور سلطان کا تاریخی خطبہ و کفن پوشی

​1. سلطان کو ناگہانی اطلاع اور عسکری بحران

​سنہ ۱0۷۱ء (۴۶۳ ہجری) کا وسط تھا، جب سلطان الپ ارسلان عالمِ اسلام کے دوسرے محاذوں، خصوصاً مصر کی فاطمی سلطنت اور شام کے باغیوں کو زیر کرنے کے لیے حلب (Syria) کے قریب خیمہ زن تھے۔ سلطان کا اصل پلان اس وقت رومیوں سے کسی بڑی جنگ کا نہیں تھا، بلکہ وہ اسلامی سلطنت کے داخلی دفاع کو مضبوط کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے سلجوقی فوج کا ایک بہت بڑا حصہ اور ان کے نامور جرنیل سلطنت کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں بکھرے ہوئے تھے، اور سلطان کے ساتھ صرف ان کا ذاتی باڈی گارڈ دستہ اور چند ہزار کٹر مجاہدین موجود تھے۔

​ایسے میں، اچانک سلطنت کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کے گھڑ سوار قاصد ہانپتے کانپتے، مٹی سے اٹے ہوئے سلطان کے خیمے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے جو خبر دی، اس نے پورے سلجوقی کیمپ میں سنسنی پھیلا دی۔ قاصد نے کانپتی آواز میں کہا: "سلطانِ معظم! رومی شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز قسطنطنیہ سے دو لاکھ سے زائد کا ایک ایسا ہولناک لشکر لے کر نکل چکا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ اناطولیہ کی مسلم بستیوں کو جلاتا ہوا، بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام کرتا ہوا، سیدھا ہماری سرحد پر واقع ملازگرد (Manzikert) کے قلعے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا ارادہ بغداد پر قبضہ کر کے خلافت کا خاتمہ کرنا ہے!"

​یہ اطلاع سلطان الپ ارسلان کے لیے ایک بہت بڑا عسکری اور نفسیاتی بحران تھی۔ رومیوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی، جبکہ اس وقت سلطان کے پاس صرف اور صرف ۱۵ ہزار مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ موجود تھا۔ وقت اتنا کم تھا کہ دارالحکومت رے یا خراسان سے باقی سلجوقی فوج کو بلاوا بھیجنا اور ان کا وقت پر پہنچنا بالکل ناممکن تھا۔ عسکری سائنس اور دنیاوی حساب کتاب کے مطابق، ۱۵ ہزار کا دو لاکھ کے ایسے لشکر سے ٹکرانا—جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، لوہے کے رتھ اور نائٹس موجود ہوں—سیدھی خودکشی تھا۔ سلطان کے چند وزراء اور درباریوں کے چہرے خوف سے زرد ہو گئے اور انہوں نے مشورہ دیا: "سلطان! تعداد کا فرق بہت زیادہ ہے، ہمیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور اپنی جان بچا کر رے کی طرف چلے جانا چاہیے، جب پوری فوج اکٹھی ہوگی تو ہم رومیوں کا مقابلہ کریں گے۔"

​لیکن الپ ارسلان کا نام ایسے ہی "بہادر شیر" نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے وزراء کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھوں میں ایمان کا وہ جلال تھا جس کے سامنے پہاڑ بھی ریت بن جاتے۔ سلطان نے گرج کر فرمایا: "اگر میں آج اپنی جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹ گیا، تو یہ رومی سیلاب پورے عالمِ اسلام کو بہا لے جائے گا، بغداد کی خلافت تباہ ہو جائے گی اور مساجد میں اذانیں بند ہو جائیں گی۔ میں اسلام کی عزت کا سودا نہیں کر سکتا۔ اگر میرے پاس صرف ۱۵ ہزار مجاہدین ہیں، تو کیا ہوا؟ ہمارے ساتھ اللہ کی طاقت موجود ہے، اور ہم اسی حالت میں ملازگرد کی طرف بڑھیں گے اور رومیوں کا راستہ روکیں گے!"

​2. ملازگرد کے میدان میں آمد اور پوزیشن کی سنبھال

​سلطان الپ ارسلان نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی پندرہ ہزار کی چھوٹی سی لیکن کٹر اور جانثار فوج کو ہنگامی کوچ کا حکم دیا۔ یہ مسلم مہم جو دن رات کا سفر طے کرتے ہوئے، آرمینیا کے پہاڑی راستوں کو عبور کرتے ہوئے، بالآخر رومیوں سے پہلے ملازگرد (Manzikert) کے وسیع اور کھلے میدان میں پہنچ گئے۔ ملازگرد کا یہ میدان جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تھا؛ یہ ایک ہموار دھرتی تھی جہاں گھڑ سواروں کے لیے جنگ لڑنا آسان تھا، لیکن یہاں چھپنے کے لیے کوئی پہاڑ یا جنگل موجود نہیں تھا۔

​سلطان نے میدان میں پہنچتے ہی سب سے پہلے پانی کے ذخائر اور ندی کے کناروں پر اپنا کنٹرول قائم کیا، جو کہ ان کی زبردست جنگی اسٹریٹجی کا حصہ تھا، تاکہ تپتی دھوپ میں رومی فوج کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے۔ الپ ارسلان نے اپنی پندرہ ہزار کی فوج کو چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کیا اور انہیں اس طرح پھیلا دیا کہ دشمن کو دور سے ان کی اصل تعداد کا اندازہ نہ ہو سکے۔

​کچھ ہی دنوں کے بعد، افق سے ایک کالی آندھی اٹھتی ہوئی نظر آئی۔ یہ شہنشاہ رومانوس کا وہ دو لاکھ کا لشکرِ جرار تھا جو ملازگرد کے میدان میں داخل ہو رہا تھا۔ عیسائیوں کے خیمے جہاں تک نظر جاتی تھی، پھیلتے چلے گئے۔ ان کے لوہے کے ہتھیاروں، ڈھالوں اور سونے کے بڑے بڑے کراس (Cross) پر جب سورج کی روشنی پڑتی تھی، تو پورا میدان چمک اٹھتا تھا۔ رومیوں کے کیمپ سے اٹھنے والا شور اور ان کے باجوں کی آوازیں میلوں دور تک سنی جا سکتی تھیں۔ رومی سپاہیوں نے جب مسلمانوں کے چھوٹے سے کیمپ کو دیکھا، تو وہ ہنسنے لگے اور کہنے لگے: "یہ چند ہزار بدو ترک ہماری اس عظیم سلطنت کا مقابلہ کریں گے؟ ہم انہیں چند منٹوں میں ہاتھیوں اور گھوڑوں تلے کچل دیں گے۔"

​3. امن کی آخری کوشش اور رومی شہنشاہ کا فرعونی تکبر

​سلطان الپ ارسلان اگرچہ جنگ سے نہیں ڈرتے تھے، لیکن وہ ایک عادل اور مخلص مسلمان حکمران ہونے کے ناطے انسانوں کا خون بہانے سے بچنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اگر جنگ کے بغیر ہی رومی اپنے علاقوں میں واپس لوٹ جائیں اور مسلم سرحدوں کو تسلیم کر لیں، تو یہ اسلام کے لیے بہتر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے، جنگ شروع ہونے سے ایک دن پہلے، سلطان نے اپنے سب سے معتمد اور فصیح اللسان سفیر اور علماء کا ایک وفد شہنشاہ رومانوس کے خیمے میں بھیجا۔

​سلجوقی سفیر جب رومانوس کے زرق برق اور سونے سے بنے شاہی خیمے میں داخل ہوئے، تو رومی شہنشاہ ایک اونچے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد اس کے جرنیل اور پادری تکبر کے ساتھ کھڑے تھے۔ سفیر نے سلطان الپ ارسلان کا پیغام پہنچایا:

"اے رومی شہنشاہ! ہمارا سلطان تمہیں امن اور صلح کی پیشکش کرتا ہے۔ اگر تم اپنی فوج کو واپس لے جاؤ اور مسلمانوں کی سرحدوں کا احترام کرنے کا معاہدہ کر لو، تو ہم جنگ نہیں کریں گے اور دونوں سلطنتیں اپنے اپنے دائرے میں امن سے رہ سکتی ہیں۔"

​رومانوس نے جب یہ پیغام سنا، تو وہ فرعونی ہنسی ہنسا اور تکبر کے عالم میں اپنے تخت سے کھڑا ہو گیا۔ اس نے سلجوقی سفیروں کا مذاق اڑاتے ہوئے انتہائی توہین آمیز لہجے میں کہا:

​"اپنے اس چرواہے سلطان سے جا کر کہہ دو کہ امن اور صلح کا وقت اب ختم ہو چکا ہے! میں نے یہ دو لاکھ کا لشکرِ جرار صلح کے خطوط پڑھنے کے لیے تیار نہیں کیا ہے۔ صلح اب تبھی ہوگی جب میں بغداد کے دارالحکومت پر قبضہ کر لوں گا، عباسی خلیفہ کو اپنے محل کا خادم بناؤں گا، اور مسلمانوں کے تمام بڑے شہروں—اصفہان، رے اور نیشاپور—کو مٹی میں ملا دوں گا۔ میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، میری گھوڑوں کی ٹاپیں مکہ اور مدینہ تک جائیں گی! میری صلح کی ایک ہی شرط ہے کہ تمہارا سلطان اپنی تلوار میرے پاؤں میں رکھ دے اور خود کو میرا غلام تسلیم کر لے!"


​رومانوس کا یہ فرعونی تکبر اور اسلام کے خلاف اس کی ہولناک نفرت سن کر سلجوقی سفیروں کے چہرے غصے سے لال ہو گئے، لیکن انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ وفد کے سربراہ نے رومانوس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی دلیری سے کہا: "رومانوس! یاد رکھو، تکبر کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں تعداد سے نہیں، اللہ کی مدد سے جیتی جاتی ہیں۔ کل کا سورج تمہیں بتا دے گا کہ ترک مجاہدین کی تلواروں میں کتنا پانی ہے۔" یہ کہہ کر سفیر وہاں سے نکل آئے اور سلطان کو رومانوس کے اس ہولناک ارادے اور جواب سے آگاہ کر دیا۔ سلطان سمجھ گئے کہ اب صلح کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا، اور اب صرف تلوار ہی اس فرعون کا علاج کرے گی۔

​4. عالمِ اسلام کی بے چینی اور بغداد میں خلیفہ کی رو رو کر دعائیں

​جنگ کی رات، یعنی جمعرات کی رات، پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک انتہائی لرزہ خیز اور بے چینی کی رات تھی۔ رومی شہنشاہ کے ان عزائم کی خبر بغداد اور مکہ و مدینہ تک پہنچ چکی تھی کہ وہ مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے آ رہا ہے۔ مسلمانوں کو یہ معلوم تھا کہ سلطان الپ ارسلان کے پاس صرف ۱۵ ہزار مجاہدین ہیں، اور اگر خدانخواستہ سلجوقی فوج کو شکست ہو گئی، تو اسلام کا پورا دفاعی نظام ڈھیر ہو جائے گا اور رومیوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔

​بغداد میں عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ اس رات سو نہیں سکے۔ وہ مسجدِ خلافت کے محراب میں ننگے سر، سجدے میں گر کر زار و قطار رو رہے تھے۔ ان کے خادم بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ کے رونے کی آوازیں مسجد سے باہر تک آرہی تھیں، وہ رو رو کر دعا مانگ رہے تھے: "اے اللہ! محمد ﷺ کے دین کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! الپ ارسلان اور اس کے مخلص مجاہدین کی پشت پناہی فرما، اگر آج یہ مٹ گئے تو زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہیں بچے گا۔"

​خلیفہ نے اسی وقت پورے عالمِ اسلام، مکہ، مدینہ، شام اور عراق کی تمام مساجد کے آئمہ اور خطباء کو ایک ہنگامی شاہی فرمان بھیجا کہ:

"جمعہ کے دن، جب خطباء منبر پر کھڑے ہوں، تو وہ عام خطبے کے بجائے رو رو کر سلطان الپ ارسلان کی فتح کے لیے خصوصی دعا کریں۔ اور تمام مسلمان جمعہ کی نماز کے بعد سجدے میں گر کر اللہ سے رومیوں کے خلاف غیبی مدد کی بھیک مانگیں۔"

​پوری امتِ مسلمہ اس وقت ایک ہی مصلے پر اکٹھی ہو چکی تھی۔ کروڑوں مسلمانوں کے ہاتھ رات کے اندھیرے میں اپنے غازیوں کی فتح کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ ملازگرد کا میدان اگرچہ دمشق اور بغداد سے سینکڑوں میل دور تھا، لیکن مسلمانوں کے دل اپنے سلطان کے ساتھ دھڑک رہے تھے، اور یہی وہ دعائیں تھیں جنہوں نے اگلی صبح ملازگرد کے میدان میں ایمان کا وہ طوفان برپا کرنا تھا جس کے سامنے دو لاکھ کی فوج بھی تنکے کی طرح بہہ جانی تھی۔

​5. وہ تاریخی جمعہ کی صبح: جیتے جی کفن پوشی کا منظر

​بالآخر، ۲۶ اگست ۱۰۷۱ء (۴۶۳ ہجری) کے اس تاریخی اور فیصلہ کن جمعہ کی صبح کا سورج طلوع ہو گیا۔ میدانِ ملازگرد میں دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو چکی تھیں۔ رومیوں کا لشکر ایک بہت بڑے سمندر کی طرح پھیل چکا تھا، ان کے نائٹس اپنے چمکتے ہوئے لوہے کے بکتر پہن کر گھوڑوں پر سوار تھے، اور شہنشاہ رومانوس ایک سونے کے رتھ پر، سر پر شاہی تاج سجائے، مغرور انداز میں اپنی فوج کا معائنہ کر رہا تھا۔

​دوسری طرف، پندرہ ہزار سلجوقی مجاہدین اپنے چھوٹے چھوٹے گھوڑوں پر سوار، ہاتھوں میں تلواریں اور کمانیں تھامے، خاموشی سے کھڑے تھے۔ ان کی تعداد رومیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی، لیکن ان کے چہروں پر موت کا کوئی خوف نہیں تھا—وہاں صرف شہادت کی تمنا تھی۔ سلطان الپ ارسلان نے اپنی فوج کو صبح ہی جنگ شروع کرنے سے روک دیا، کیونکہ وہ اپنے مذہبی رہنما اور استاد امام ابو نصر محمد کی اس نصیحت پر عمل کرنا چاہتے تھے جنہوں نے فرمایا تھا: "سلطان! جنگ جمعہ کے دن اس وقت شروع کی جائے جب پورے عالمِ اسلام کے خطباء منبروں پر کھڑے ہو کر مجاہدین کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوں، تاکہ کروڑوں مسلمانوں کی دعائیں تمہاری تلواروں کی طاقت بن جائیں۔"

​جب زوال کا وقت قریب آیا اور جمعہ کی اذان کی آواز گونجی، تو سلطان الپ ارسلان اپنے گھوڑے سے نیچے اترے۔ انہوں نے میدانِ جنگ کی مٹی پر اپنا سر سجدے میں رکھ دیا۔ وہ کافی دیر تک سجدے میں پڑے روتے رہے، یہاں تک کہ جہاں ان کا چہرہ مبارک تھا، وہاں کی مٹی ان کے آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ سلطان نے اللہ کے حضور انتہائی عاجزی سے التجا کی: "اے اللہ! میں تیرے سامنے ایک عاجز بندہ ہوں، اگر تو ہمیں فتح دے گا تو یہ تیرا کرم ہے، اور اگر تو ہمیں شہادت دے گا تو یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔"

​سجدے سے اٹھنے کے بعد، سلطان الپ ارسلان نے تاریخِ انسانی کا وہ لرزہ خیز اقدام کیا جس نے دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ انہوں نے اپنا شاہی زرق برق لباس اور جکڑا ہوا لوہے کا بکتر اتار کر ایک طرف پھینک دیا۔ انہوں نے اپنے خادم کو بلایا اور دمشق کے سفید سوتی کپڑے کا ایک لمبا چغہ منگوایا، جو کہ بالکل ایک مردے کے کفن (Shroud) کی طرح تھا۔ سلطان نے وہ سفید چغہ اپنے جسم پر پہن لیا، اپنے سر پر سفید پٹی باندھی، اور اپنی داڑھی اور گھوڑے کی دُم کو اپنے ہاتھوں سے گرہ (Knot) لگائی—جو کہ ترکوں کی روایات میں اس بات کی علامت تھی کہ "اب یہ بندہ مرنے کے لیے تیار ہے اور میدان سے زندہ واپس نہیں لوٹے گا!"

​سلطان الپ ارسلان جیتے جی کفن پہن کر اپنے سفید گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ ان کا یہ حلیہ دیکھ کر پندرہ ہزار سپاہیوں کے جسموں میں ایک بجلی سی دوڑ گئی اور ان کی آنکھوں سے انسو جاری ہو گئے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کے اشارے پر لاکھوں لوگ جان دیتے تھے، وہ خود کفن پہن کر اپنی رعایا کے آگے مرنے کے لیے کھڑا ہو گیا تھا۔ سلطان نے اپنے گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے اپنی فوج کی صفوں کے سامنے چکر لگایا اور اپنی کڑک دار، شیر جیسی آواز میں وہ تاریخی اور رقت آمیز خطبہ دیا جو تاریخِ اسلام کے سنہری حروف میں لکھا جا چکا ہے۔

​6. سلطان کا لرزہ خیز خطبہ: "یہاں کوئی سلطان نہیں ہے!"

​سلطان الپ ارسلان نے پندرہ ہزار مجاہدین کے سامنے کھڑے ہو کر، اپنی تلوار کو فضا میں لہراتے ہوئے فرمایا:

​"اے میرے پیارے بھائیو! میرے غازیوں! میری سلطنت کے جالی مجاہدین! دیکھو، آج تمہارے سامنے تعداد کا کوئی حساب نہیں ہے۔ رومیوں کا یہ سمندر ہمارے ایمان کا امتحان لینے آیا ہے۔ میں نے اپنے جسم پر یہ سفید کفن پہن لیا ہے، اور میں نے اللہ سے یہ عہد کیا ہے کہ میں اس میدان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ یا تو میں اس رومی فرعون کا تکبر توڑ کر اسلام کا پرچم یہاں لہراؤں گا، یا پھر اسی سفید کفن میں شہید ہو کر اپنے رب کے حضور سرخرو ہو جاؤں گا!"


​سلطان نے مزید گرج دار اور رقت آمیز آواز میں فرمایا:

"لوگو! یاد رکھو، آج کے دن یہاں کوئی 'سلطانِ اعظم' نہیں ہے، اور نہ ہی میں تم پر کوئی بادشاہ بن کر حکم چلا رہا ہوں- آج میں بھی تمہاری طرح صرف اللہ کی راہ کا ایک ادنیٰ اور گنہگار مجاہد ہوں جو اپنے آقا ﷺ کے دین کی حفاظت کے لیے کفن پہن کر نکلا ہے۔ تم میں سے جو بھی شخص اپنی جان بچانا چاہتا ہے، یا جسے اپنے بال بچوں کی یاد ستا رہی ہے، اسے میری طرف سے پوری اجازت ہے کہ وہ اسی وقت، اسی سیکنڈ میرا ساتھ چھوڑ کر اپنے گھر واپس لوٹ جائے، اس پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ لیکن جو میرے ساتھ اللہ کی راہ میں مرنا چاہتا ہے، وہ اپنی تلواریں سونت لے اور میرے پیچھے آگے بڑھے!"

​سلطان کا یہ جملہ سننا تھا کہ پندرہ ہزار مجاہدین ایک ساتھ دیوانوں کی طرح رو پڑے۔ پورے میدانِ ملازگرد میں "اللہ اکبر! اللہ اکبر!" کے نعروں سے زلزلہ برپا ہو گیا۔ سپاہیوں نے اپنی تلواریں اور ڈھالیں زمین پر مار کر ایک زبان ہو کر چیخ کر کہا:

"اے ہمارے سلطان! خدا کی قسم، ہم جیتے جی آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ ہماری جانیں آپ پر اور اسلام پر قربان ہیں! جہاں آپ کا گھوڑا قدم رکھے گا، وہاں ہماری گردنیں ہوں گی۔ ہم بھی آج جیتے جی کفن پہن کر اس میدان میں اتریں گے، اور رومیوں کو بتا دیں گے کہ موت سے وہ ڈرتے ہیں جن کے پاس ایمان نہیں ہوتا، ہم تو موت کو زندگی سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں!"

​پندرہ ہزار مجاہدین نے بھی اپنے سروں پر سفید پٹیاں باندھ لیں اور جنگِ ستمبر کے اس ہولناک معرکے کے لیے بالکل تیار ہو گئے۔ سلطان الپ ارسلان نے دیکھا کہ ان کی فوج کے دلوں کے اندر سے دنیا کی محبت نکل چکی ہے اور اب یہ پندرہ ہزار انسان نہیں، بلکہ پندرہ ہزار اڑتے ہوئے فولادی تیر بن چکے ہیں۔ اب وقت آ چکا تھا کہ مشرق اور مغرب کی تاریخ کا وہ سب سے ہولناک، خونریز اور سنسنی خیز معرکہ شروع کیا جائے جس نے آنے والی صدیوں کے لیے اناطولیہ اور یورپ کا نقشہ بدلنا تھا—

پارٹ 4 (آخری حصہ): معرکہ ملازگرد کا ہولناک آغاز، رومیوں کی شکستِ فاش اور شہنشاہ کا عبرت ناک انجام

​1. معرکہ ملازگرد کا لرزہ خیز آغاز اور پہلی مہم

​جمعہ کی نماز اور سلطان الپ ارسلان کے اس رقت آمیز اور کفن پوش خطبے کے بعد، جب پندرہ ہزار مجاہدین کے دلوں سے موت کا خوف نکل گیا اور وہ سچے جذبۂ جہاد سے لیس ہو گئے، تو سلطان نے اپنے سفید گھوڑے کی لگام تھامی اور اپنی چمکتی ہوئی تلوار فضا میں لہراتے ہوئے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ اس کے ساتھ ہی پورے سلجوقی لشکر نے ایک ساتھ "اللہ اکبر!" کا ایسا ہولناک نعرہ لگایا کہ ملازگرد کے پہاڑ اور میدان گونج اٹھے۔ سلجوقی بوق اور طبل (جنگی باجے اور ڈھول) بجنے لگے، اور تاریخ کے اس سب سے بڑے اور فیصلہ کن معرکے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔

​سلطان الپ ارسلان نے سب سے پہلے اپنے سب سے تیز رفتار اور ماہر تیر اندازوں کے ہراول دستے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ یہ سلجوقی گھڑ سوار اپنے چھوٹے لیکن انتہائی چست گھوڑوں پر سوار ہو کر طوفان کی رفتار سے رومیوں کے فرنٹ لائن کی طرف بڑھے۔ رومی شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز نے جب مسلمانوں کو آگے بڑھتے دیکھا، تو اس نے اپنے بھاری بکتر بند نائٹس اور پیادہ فوج کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ رومی فوج اپنی عددی برتری کے گھمنڈ میں ایک بہت بڑی لوہے کی دیوار کی طرح آگے بڑھ رہی تھی۔

​جیسے ہی دونوں فوجیں ایک دوسرے کے قریب پہنچیں، سلجوقی تیر اندازوں نے رومیوں پر تیروں کی ایسی ہولناک اور گھنی بارش کی کہ سورج کی روشنی بھی چھپ گئی۔ یہ ترک مجاہدین دوڑتے ہوئے گھوڑے کی زین پر الٹے ہو کر بھی اتنی صفائی اور طاقت سے تیر چلاتے تھے کہ وہ رومیوں کے لوہے کے ہیلمٹ اور ڈھالوں کو چیرتے ہوئے ان کی آنکھوں اور گردنوں میں جا لگتے تھے۔ رومیوں کی فرنٹ لائن میں افری تفری مچ گئی اور سینکڑوں رومی سپاہی چند ہی منٹوں میں ریت پر تڑپنے لگے۔ لیکن رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ایک صف گرتی، تو اس کی جگہ لینے کے لیے پیچھے سے دس نئی صفیں آگے آ جاتی تھیں۔ رومانوس نے مسلمانوں کو پوری طرح کچلنے کے لیے اپنی پوری فوج کو یکدم آگے بڑھنے کا حکم دے دیا۔

​2. ترکوں کی روایتی اور تاریخی جنگی چال: "تورانین ٹیسٹک" (Turanian Tactic)

​یہاں تاریخِ اسلام اور عسکری سائنس کا وہ سب سے بڑا معجزہ اور اسٹریٹجک شاہکار شروع ہوا جس نے رومیوں کی لاکھوں کی فوج کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ سلطان الپ ارسلان اچھی طرح جانتے تھے کہ پندرہ ہزار کی فوج کے ساتھ دو لاکھ کی فوج سے آمنے سامنے کی روایتی جنگ (Frontal Assault) کبھی نہیں جیتی جا سکتی۔ اس لیے انہوں نے وسطی ایشیا کے ترکوں کی صدیوں پرانی اور خفیہ جنگی چال کا استعمال کیا، جسے تاریخ میں "تورانین ٹیسٹک" (Turanian Tactic) یا "ہلال چال" (Crescent Strategy / Fake Retreat) کہا جاتا ہے۔

​سلطان کے حکم پر، سلجوقی فوج نے رومیوں کے شدید دباؤ کے سامنے اچانک پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ یہ کوئی حقیقی شکست نہیں تھی، بلکہ ایک انتہائی منظم اور ڈرامائی پسپائی (Controlled Retreat) تھی۔ سلجوقی مجاہدین اس طرح پیچھے بھاگ رہے تھے جیسے وہ رومیوں کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اپنی جان بچا رہے ہوں۔ رومی شہنشاہ رومانوس نے جب مسلمانوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا، تو اس کا تکبر اور گھمنڈ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ اس نے سمجھا کہ الپ ارسلان کا لشکر ڈر کر بھاگ رہا ہے اور جنگ اب ختم ہونے والی ہے۔

​رومانوس نے اپنی فوج کو ہوشیاری سے آگے بڑھنے کے بجائے، پاگل پن اور جذبات کے عالم میں اندھا دھند تعاقب کا حکم دے دیا۔ رومی فوج اپنی منظم صفوں کو توڑ کر، مسلمانوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی ملازگرد کے اس وسیع میدان کے بالکل بیچ میں چلی گئی۔ رومی جرنیل یہ بھول گئے کہ وہ اپنے محفوظ سرحدی قلعوں اور پوزیشنوں سے بہت دور نکل چکے ہیں اور سلجوقی سلطان انہیں اسی جگہ لانا چاہتے تھے جہاں چھپنے یا بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

​3. لوہے کا وہ ہولناک جال اور رومیوں کا گھیراؤ

​جب رومیوں کا پورا لشکرِ جرار تعاقب کرتے کرتے میدان کے مرکز میں پہنچ گیا اور تپتی ہوئی دھوپ اور بھاری لوہے کے بکتروں کی وجہ سے رومی سپاہی اور گھوڑے بری طرح تھک چکے تھے، تو اچانک سلطان الپ ارسلان نے اپنے ہاتھ میں موجود سرخ جھنڈا فضا میں لہرایا۔ یہ ان کی پوری فوج کے لیے ایک خفیہ کوڈ ورڈ اور سگنل تھا۔

​اس سگنل کے ملتے ہی، پیچھے بھاگتی ہوئی سلجوقی فوج اچانک رک گئی اور انہوں نے بجلی کی تیزی سے مڑ کر رومیوں پر ایک زوردار اور ہولناک جوابی حملہ کر دیا۔ اسی سیکنڈ، ملازگرد کے میدان کے دائیں اور بائیں جانب واقع چھوٹی پہاڑیوں اور خندقوں کے پیچھے چھپے ہوئے سلجوقی فوج کے دو بڑے اور خفیہ دستے—جن کی قیادت خود سلطان الپ ارسلان کر رہے تھے—اچانک باہر نکل آئے۔ انہوں نے رومیوں کے دائیں اور بائیں بازو (Flanks) پر اتنی تیز رفتاری سے حملہ کیا کہ رومیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

​چند ہی منٹوں کے اندر، مسلمانوں کی پندرہ ہزار کی فوج نے ایک ہلال (Crescent) یا انگریزی کے حرف "U" کی شکل اختیار کر لی اور رومیوں کے پورے دو لاکھ کے لشکر کو چاروں طرف سے گھیراؤ (Encirclement) میں لے لیا۔ رومیوں کے لیے یہ ایک ایسا لوہے کا ہولناک جال تھا جس سے نکلنا اب ناممکن تھا۔ رومی فوج اتنی گنجان اور ایک دوسرے کے ساتھ پھنس چکی تھی کہ سپاہیوں کے لیے اپنی لمبی تلواریں چلانا یا ڈھالیں اٹھانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ سلجوقی مجاہدین نے گھیرے کے باہر سے ان پر تیروں، نیزوں اور برچھیوں کی وہ ہولناک بوچھاڑ کی جس نے رومیوں کے لشکر کو ایک ذبح خانے میں تبدیل کر دیا۔

​4. کرائے کے فوجیوں کا فرار اور رومی سلطنت کا اندرونی دھوکہ

​اس نازک اور ہولناک وقت میں، جب رومی فوج مسلمانوں کے گھیرے میں تڑپ رہی تھی، شہنشاہ رومانوس پر قدرت کا ایک اور قہر نازل ہوا جس نے اس کے بچے کچے حوصلے بھی پست کر دیے۔ جیسا کہ ہم نے پارٹ 2 میں بتایا تھا، رومی فوج کے اندر ایک بہت بڑا حصہ وسطی ایشیا کے غاز (Ghazz) اور پیچنگ (Pecheneg) قبیلوں کے کرائے کے ترک فوجیوں کا تھا، جو صرف پیسوں کے لیے عیسائیوں کی طرف سے لڑ رہے تھے۔

​جب ان کرائے کے ترک جنگجوؤں نے دیکھا کہ سامنے لڑنے والی سلجوقی فوج ان کے اپنے ہی خون، ان کی اپنی ہی زبان بولنے والے اور ان کے اپنے ہی ترک بھائی ہیں، اور وہ جیتے جی کفن پہن کر اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں، تو ان کے دلوں کے اندر کا سویا ہوا ضمیر جاگ اٹھا۔ جنگ کے عین عروج میں، ان ہزاروں کرائے کے جنگجوؤں نے رومی شہنشاہ کے جھنڈے کو اکھاڑ پھینکا اور عیسائیوں پر ہی حملہ کرتے ہوئے سیدھے سلطان الپ ارسلان کی فوج کے ساتھ جا ملے۔ اس ناگہانی دھوکے نے رومی فوج کے اندر ایک ہولناک پینک اور بدامنی پھیلا دی۔

​بات یہیں ختم نہیں ہوئی؛ رومی سلطنت کے اندرونی سیاسی جھگڑے اور حسد بھی اس میدان میں باہر آ گئے۔ رومی فوج کے پچھلے دستے (Rear Guard) کا کمانڈر شہنشاہ رومانوس کا سب سے بڑا سیاسی دشمن اور حریف انڈرونیکس ڈوکاس (Andronikos Doukas) تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ شہنشاہ رومانوس مسلمانوں کے گھیرے میں بری طرح پھنس چکا ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے، تو اس نے رومانوس کو بچانے کے لیے اپنی فوج آگے بڑھانے کے بجائے، اپنے دستوں کو حکم دیا: "شہنشاہ کا خاتمہ اب یقینی ہے، چلو اور اپنی جانیں بچا کر واپس قسطنطنیہ چلو تاکہ ہم وہاں نئے شہنشاہ کی تاجپوشی کر سکیں!" انڈرونیکس اپنے ہزاروں سپاہیوں کو لے کر میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا، جس کی وجہ سے رومانوس کا پورا دفاعی نظام تاش کے پتے کی طرح بکھر گیا۔

​5. رومیوں کی شکستِ فاش اور شہنشاہ رومانوس کی گرفتاری

​اب ملازگرد کا میدان رومی سلطنت کے لیے ایک ایسا عبرت ناک قبرستان بن چکا تھا جہاں ان کی صدیوں پرانی تاریخ کا غرور مٹی میں مل رہا تھا۔ سلطان الپ ارسلان اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار تھامے، اپنے مخلص غازیوں کے ساتھ رومیوں کے مرکز (Center) پر ٹوٹ پڑے۔ سلطان کی تلوار جس پر بھی پڑتی، اس کے دو ٹکڑے کر دیتی۔ سلجوقی مجاہدین نے رومیوں کے بڑے بڑے پادریوں اور جرنیلوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ رومیوں کے سونے کے کراس زمین پر گر کر مجاہدین کے گھوڑوں کے ٹاپوں تلے کچلے جا رہے تھے۔

​شام کا وقت ہو رہا تھا اور رومی فوج مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔ لاکھوں عیسائی سپاہی میدانِ جنگ میں ہلاک ہو چکے تھے اور باقی اپنی جانیں بچا کر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز، جو چند گھنٹے پہلے پوری دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، اب اس کا سونے کا رتھ ٹوٹ چکا تھا، اس کا شاہی تاج مٹی میں گر چکا تھا، اور وہ خود زخموں سے چور، اپنے چند وفادار باڈی گارڈز کے ساتھ ایک چٹان کے پیچھے گھیرے میں آ چکا تھا۔

​سلجوقی فوج کے ایک ادنیٰ اور عام سپاہی، جس کا نام شادی (Shadi) تھا، نے رومانوس کو گھوڑے سے نیچے گرایا اور اسے زنجیروں میں جکڑ لیا۔ اس سپاہی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ رومی سلطنت کا شہنشاہ ہے، کیونکہ رومانوس کا شاہی لباس خون اور مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ جب اسے سلجوقی کیمپ لایا گیا اور رومی قیدیوں نے اسے دیکھ کر "شہنشاہ! شہنشاہ!" کی آوازیں نکالیں، تو مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فرعون اب ان کی قید میں آ چکا ہے۔ پندرہ ہزار مجاہدین نے اللہ کی غیبی مدد سے دو لاکھ کے اس سمندر کو شکستِ فاش دے کر تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا عسکری معجزہ سرانجام دے دیا تھا۔

​6. سلطان کا دربار اور رومانوس کے ساتھ بے مثال تاریخی مکالمہ

​اگلی صبح، سلطان الپ ارسلان کا فاتحانہ دربار ملازگرد کے میدان میں سجایا گیا۔ سلطان اپنے اونچے تخت پر بیٹھے تھے، ان کے چہرے پر فتح کا کوئی تکبر نہیں تھا—وہاں صرف اللہ کا شکر اور عاجزی تھی۔ شاہی محافظین رومی شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے، سر جھکائے سلطان کے سامنے لے کر آئے۔ یہ منظر دیکھنے میں تاریخ کا ایک عظیم ترین تضاد تھا: ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی عیسائی سلطنت کا حاکم قیدی بن کر کھڑا تھا، اور دوسری طرف جیتے جی کفن پہننے والا مسلم سلطان فاتح بن کر بیٹھا تھا۔

​سلطان الپ ارسلان نے رومانوس کی طرف دیکھا اور نہایت دھیمی لیکن رعب دار آواز میں پوچھا: "رومانوس! یاد کرو کل کی صبح، جب میں نے تمہارے پاس امن کا سفیر بھیجا تھا، تو تم نے تکبر کے عالم میں بغداد اور مکہ و مدینہ کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ آج قدرت نے تمہیں میرے سامنے اس حالت میں کھڑا کر دیا ہے۔ مجھے سچ سچ بتاؤ، اگر آج میں تمہارا قیدی ہوتا اور تم فاتح ہوتے، تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟"

​رومانوس نے اپنا سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں موت کا خوف صاف نظر آ رہا تھا، اس نے انتہائی مایوسی کے لہجے میں جواب دیا:

​"سلطان! اگر آج تم میرے قیدی ہوتے، تو میں خدا کی قسم، تمہیں ایک سیکنڈ کے لیے بھی زندہ نہیں چھوڑتا۔ میں تمہارا سر قلم کر کے قسطنطنیہ کے دروازے پر لٹکا دیتا، تمہاری لاش کو کتوں کے سامنے پھینک دیتا، اور تمہارے سپاہیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر غلاموں کے بازار میں بیچ دیتا۔ یہی ایک رومی شہنشاہ کا طریقہ ہے۔"


​سلطان الپ ارسلان نے یہ ہولناک جواب سن کر استغفار پڑھا، ان کے چہرے پر ایک عادلانہ مسکراہٹ آئی اور انہوں نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جو قیامت تک کے لیے اسلام کے اخلاق اور شجاعت کا سب سے بڑا تمغہ بن گیا:

"رومانوس! تم نے جو سلوک میرے لیے سوچا تھا، وہ ایک کافر اور مغرور بادشاہ کا طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن میرا تعلق اس نبی ﷺ کے دین سے ہے جنہوں نے فتحِ مکہ کے دن اپنے بدترین دشمنوں کو 'جاؤ تم سب آزاد ہو' کہہ کر معاف فرما دیا تھا- اس لیے میرا دین اور میرا اخلاق مجھے یہ اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک بے بس اور زخمی قیدی پر ظلم کروں۔ میں تمہیں قتل نہیں کروں گا، میں تمہیں غلاموں کے بازار میں بھی نہیں بیچوں گا، بلکہ میں تمہیں عزت کے ساتھ رہا کر دوں گا!"

​7. تاریخی صلح نامہ اور رومانوس کی رہائی

​شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز کو جب سلطان کی زبان سے یہ جملہ سننے کو ملا، تو اسے اپنی کانوں پر یقین نہیں آیا۔ اسے لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ اس نے سلطان کے پاؤں چومنے کی کوشش کی، لیکن سلطان نے اسے روک دیا۔ الپ ارسلان نے رومانوس کی رہائی کے بدلے ایک تاریخی اور اسٹریٹجک صلح نامہ (Treaty of Manzikert) تیار کروایا، جس کی شرائط درج ذیل تھیں:

  • علاقوں کی واپسی: رومی سلطنت اناطولیہ کے تمام سرحدی قلعے، خصوصاً آنی، ملازگرد، اور شام کے سرحدی علاقے ہمیشہ کے لیے سلجوقی سلطنت کے حوالے کر دے گی۔
  • جنگی تاوان: رومی شہنشاہ جنگ کے تاوان کے طور پر سلجوقی بیت المال کو ۱۵ لاکھ سونے کے دینار فوراً ادا کرے گا۔
  • سالانہ جزیہ: رومی سلطنت ہر سال باقاعدگی سے سلجوقی سلطنت کو ۳ لاکھ ۶۰ ہزار سونے کے دینار جزیہ (Tax) کے طور پر ادا کرے گی۔
  • فوجی امداد: اگر سلجوقی سلطنت پر مشرق یا شمال سے کوئی دشمن حملہ کرے گا، تو رومی سلطنت اپنے سپاہیوں کا ایک دستہ سلجوقی سلطان کی مدد کے لیے بھیجنے کی پابند ہوگی۔
  • تمام مسلم قیدیوں کی رہائی: رومی سلطنت کے قید خانوں میں موجود تمام مسلم مردوں، عورتوں اور بچوں کو فوری طور پر عزت کے ساتھ رہا کیا جائے گا۔

​رومانوس نے بغیر کسی اعتراض کے ان تمام شرائط پر دستخط کر دیے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی جان اور اس کی سلطنت اب الپ ارسلان کے رحم و کرم پر ہے۔ معاہدے کے بعد، سلطان نے رومانوس کی زنجیریں کھولنے کا حکم دیا، اسے شاہی خیمے میں بہترین کھانا کھلایا، اس کے زخموں کا علاج کروایا، اور اسے سفر کے اخراجات کے لیے دمشق کے سونے کے سکوں سے بھری ہوئی ایک تھیلی بھی تحفے میں دی۔ یہی نہیں، بلکہ سلطان نے رومانوس کے تحفظ کے لیے اپنے دو نامور جرنیلوں اور سو گھڑ سواروں کا ایک دستہ اس کے ساتھ قسطنطنیہ تک بھیجا تاکہ راستے میں کوئی اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ تاریخِ اسلام کا وہ بے مثال اخلاق تھا جس نے عیسائی دنیا کے دلوں میں اسلام کا وہ رعب اور عزت پیدا کر دی جو صدیوں تک قائم رہی۔

​8. رومانوس کا عبرت ناک انجام اور قسطنطنیہ کا غدارانہ استقبال

​جب شہنشاہ رومانوس ڈائیوجینز سلجوقی محافظوں کے سائے میں واپس اپنے دارالحکومت قسطنطنیہ کے قریب پہنچا، تو اس کا استقبال کسی فاتح کی طرح نہیں ہوا، بلکہ وہاں ایک بہت بڑا غدارانہ فتنہ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسا کہ ہم نے بتایا، اس کا سیاسی دشمن انڈرونیکس ڈوکاس پہلے ہی میدان سے بھاگ کر قسطنطنیہ پہنچ چکا تھا اور اس نے وہاں کے پادریوں اور امراء کے ساتھ مل کر رومانوس کو تخت سے معزول کر دیا تھا اور مائیکل ہفتم (Michael VII) کو نیا رومی شہنشاہ بنا دیا تھا۔

​جب رومانوس شہر کی حدود میں داخل ہوا، تو نئے شہنشاہ کی فوج نے اسے گرفتار کر لیا۔ عیسائی پادریوں، جن کے تحفظ کے لیے رومانوس نے یہ جنگ لڑی تھی، انہوں نے فتویٰ دیا کہ "رومانوس ایک منحوس بادشاہ ہے جس نے عیسائیت کو مسلمانوں کے سامنے شرمسار کیا ہے، اس لیے یہ اب زندہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔" انہوں نے رومانوس کو ایک گندے تہ خانے میں ڈال دیا، اور تپتے ہوئے لوہے کے راڈز کے ذریعے اس کی دونوں آنکھیں نکال کر اسے اندھا کر دیا گیا!

​رومانوس اپنی آنکھوں کے زخموں اور صدمے کی وجہ سے چند ہی دنوں کے بعد تڑپ تڑپ کر اس اندھیرے قید خانے میں مر گیا۔ اس کا یہ عبرت ناک انجام یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ جو شخص اللہ کے دین اور اس کے نبی ﷺ کے مراکز کو مٹا دینے کا فرعونی تکبر لے کر نکلتا ہے، قدرت اسے اس کے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں اندھا اور ذلیل کر کے دنیا کے لیے ایک نشانِ عبرت بنا دیتی ہے۔

​9. معرکہ ملازگرد کے عالمی اور تاریخی اثرات

​معرکہ ملازگرد (Battle of Manzikert) کو عالمی تاریخ کے سب سے اہم اور فیصلہ کن ترین معرکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ایک جنگ نے دنیا کا جغرافیہ اور تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ اس جنگ کے درج ذیل بڑے اثرات مرتب ہوئے:

  • اناطولیہ کا مستقل اسلامی الحاق: اس فتح کے بعد رومی سلطنت کا اناطولیہ (ترکی) پر سے ہمیشہ کے لیے کنٹرول ختم ہو گیا۔ سلجوقی ترکوں کے قبیلے جوق در جوق وسطی ایشیا سے نکل کر اناطولیہ میں آباد ہونا شروع ہو گئے، اور انہوں نے وہاں چھوٹی چھوٹے خوبصورت اسلامی شہر اور امارتیں قائم کیں، جن میں سے آگے چل کر سلطنتِ عثمانیہ (Ottoman Empire) کا جنم ہوا- اگر ملازگرد کی فتح نہ ہوتی، تو آج کا ترکی کبھی مسلم ملک نہ ہوتا۔
  • رومی سلطنت کا زوال: بازنطینی رومی سلطنت اس شکست کے بعد کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ ان کی بہترین فوج اور معیشت اس میدان میں دفن ہو چکی تھی، اور یہیں سے ان کے اس زوال کا آغاز ہوا جو بالآخر ۱۴۵۳ء میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح پر ختم ہوا۔
  • عالمِ اسلام کا نیا تحفظ: بغداد کی خلافتِ عباسیہ اور مکہ و مدینہ کے مراکز رومیوں کے اس ہولناک سیلاب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔ مسلمانوں کے اندر ایک نیا اخلاقی اور ایمانی اعتماد پیدا ہوا کہ اگر ایمان مضبوط ہو، تو پندرہ ہزار بھی دو لاکھ پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔

​10. سلطان الپ ارسلان کی شہادت اور لازوال میراث

​سلطان الپ ارسلان اس عظیم الشان فتح کے بعد زیادہ عرصے تک دنیا میں نہیں رہے، اور قدرت نے انہیں ایک ایسی شہادت کا منصب عطا کیا جس کی تڑپ ان کے دل میں ملازگرد کے میدان میں سوتی کفن پہنتے وقت موجود تھی۔ ملازگرد کی فتح کے ٹھیک ایک سال بعد، ۱۰۷۲ء میں، سلطان سلطنت کے مشرقی حصوں (ماوراء النہر / وسطی ایشیا) میں ایک باغی قلعے کے سردار یوسف الخوارزمی کی بغاوت کو کچلنے کے لیے مہم پر تھے۔

​جب اس باغی سردار کو زنجیروں میں جکڑ کر سلطان کے سامنے لایا گیا، تو اس نے سلطان پر توہین آمیز جملے کسے۔ سلطان نے غصے کے عالم میں اپنے محافظوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور خود اپنی کمان سے اس پر تیر چلایا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ سلطان کا پیر اچانک چٹائی پر پھسل گیا اور تیر نشانہ چوک گیا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اس باغی نے خنجر کے ساتھ سلطان پر حملہ کر دیا اور ان کے پیٹ میں گہرا زخم لگا دیا۔

​زخم اتنا گہرا تھا کہ سلطان الپ ارسلان چند دنوں تک بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔ اپنی وفات سے چند منٹ پہلے، انہوں نے اپنے بیٹے ملک شاہ اور وزیر نظام الملک طوسی کو اپنے پاس بلایا اور تاریخ کا وہ رقت آمیز جملہ فرمایا جو ہر انسان کے لیے ایک کھلا سبق ہے، انہوں نے فرمایا:

​"لوگو! یاد رکھو، ملازگرد کی فتح کے بعد میرے دل کے اندر ایک سیکنڈ کے لیے یہ تکبر آگیا تھا کہ میری شجاعت اور میری جنگی چال نے اتنی بڑی فوج کو ہرا دیا، اور میں نے خود کو دنیا کا سب سے بڑا فاتح سمجھ لیا تھا- اللہ کو میرا یہ تکبر پسند نہیں آیا، اور اس نے مجھے ایک ادنیٰ اور کمزور قیدی کے ہاتھوں یہ زخم لگوا کر یہ بتا دیا کہ طاقت اور عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ میں اپنی رعایا سے معافی مانگتا ہوں اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا توبہ کرتا ہوں۔"


​۲۹ نومبر ۱۰۷۲ء کو عدل، شجاعت اور ایمان کا یہ چمکتا ہوا ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور انہیں مرو (Merv، موجودہ ترکمانستان) میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ ان کے مزار کے کتبے پر آج بھی یہ تاریخی الفاظ لکھے ہوئے ہیں: "اوہ لوگو! جنہوں نے الپ ارسلان کا دبدبہ اور جلال آسمان کی بلندیوں پر دیکھا تھا، آؤ اور مرو کی مٹی کے نیچے دیکھو کہ وقت کا وہ بہادر شیر آج کس طرح خاموش سو رہا ہے!"

​سلطان الپ ارسلان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی سلطنت اپنے بیٹے سلطان ملک شاہ (Malik Shah I) اور اپنے مخلص وزیر نظام الملک طوسی کے سپرد کی، جنہوں نے سلجوقی سلطنت کو تاریخ کے اس سنہری دور (Golden Age) تک پہنچایا جہاں مسلمانوں کی حکومت چین کی سرحدوں سے لے کر یورپ کے دروازوں تک پھیل گئی۔ سلطان الپ ارسلان کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب کوئی حکمران جیتے جی کفن پہن کر، اپنی ذات کو مٹا کر، خالصتاً اللہ کے دین کے تحفظ کے لیے میدان میں اترتا ہے، تو کائنات کا مالک پندرہ ہزار کی مٹھی بھر جماعت کو بھی دو لاکھ کے سمندر پر فتحِ مبین عطا فرما دیتا ہے۔


امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کردیں اور آگے بھی شیئر کریں 

اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان