ابوجعفر المنصور: تاریخ کا وہ جری سلطان جس نے آپنے ہاتھوں سے بہت سارے قلعے فتح کیے
ابوجعفر المنصور: خلافتِ عباسیہ کا حقیقی معمار (سیریز) قسط اول: حمائمہ کے خفیہ مرکز سے تختِ خلافت تک باب اول: حمائمہ – سازشوں کا گہوارہ اور عباسی تحریک کا آغاز خلافتِ عباسیہ کا عروج تاریخِ عالم کا ایک ایسا باب ہے جس نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانی تہذیب کی سمت بدل دی۔ اس سلطنت کے دو بانی تھے: ایک ابوالعباس السفاح، جو ظاہری چہرہ تھے، اور دوسرے ابوجعفر المنصور، جو اس سلطنت کا دماغ تھے۔ اردن کا ایک چھوٹا سا قصبہ 'حمائمہ' عباسی تحریک کا مرکز تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں المنصور کے والد محمد بن علی نے ایک ایسی خفیہ تحریک کا جال بونا شروع کیا جس نے چند دہائیوں کے اندر بنو امیہ کے چار سو سالہ اقتدار کو زمین بوس کر دیا۔ المنصور کا بچپن عیش و آرام میں نہیں گزرا۔ حمائمہ کے گھر میں ہر لمحہ ایک اضطراری کیفیت رہتی تھی۔ دیواروں کے پیچھے سے آنے والی سرگوشیاں، رات کے اندھیروں میں خراسان سے آنے والے وفود کا تانتا، اور خفیہ خطوط کی ترسیل نے المنصور کو ایک ایسے ماحول میں ڈھالا جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان کے والد محمد بن علی ایک دور اندیش رہنما تھے۔ انہوں نے المنصور کو سکھایا ...