خلافتِ عباسیہ کا بانی: ابوالعباس السفاح اور بنو امیہ کے زوال کی سچی داستان

 



​خلافتِ عباسیہ کا بانی: ابوالعباس السفاح اور بنو امیہ کے زوال کی سچی داستان (قسط اول)

​تمہید: تاریخِ اسلام کا ایک عظیم اور خوں خوار موڑ

​تاریخِ عالم گواہ ہے کہ سلطنتیں اور حکومتیں کبھی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ اقتدار کا سورج جہاں پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، وہیں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب زوال کی تاریکی اسے اپنے اندھیروں میں چھپا لیتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کے بعد جس سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت نے جنم لیا، وہ "خلافتِ امویہ" یا بنو امیہ کا دور تھا۔ دمشق کے تخت پر بیٹھ کر بنو امیہ کے خلفاء نے تین براعظموں—ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں پر حکومت کی۔ ان کی فوجیں ایک طرف اسپین کے ساحلوں کو چھو رہی تھیں تو دوسری طرف محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ کے ریگزاروں تک اسلام کا پرچم لہرا چکی تھیں۔ رقبے، دولت اور فوجی طاقت کے لحاظ سے دمشق کی یہ سلطنت اپنے وقت کی سب سے بڑی سپر پاور بن چکی تھی۔

​لیکن، اسی عظیم الشان سلطنت کے اندرونی حصوں میں ایک ایسی چنگاری سلگ رہی تھی جس نے آگے چل کر ایک ایسا ہولناک طوفان کھڑا کرنا تھا جس کی مثال تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ چنگاری تھی "بنو عباس" یعنی عباسی خاندان کی خفیہ تحریک۔ اور اس تحریک کا جو پہلا چہرہ دنیا کے سامنے ایک طوفان بن کر ابھرا، اس کا نام تھا ابوالعباس، جسے دنیا آج "السفاح" یعنی بہت زیادہ خون بہانے والا کے نام سے جانتی ہے۔

​یہ کوئی عام کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ داستان ہے سلطنتوں کے ٹکرانے کی، برسوں کے خفیہ منصوبوں کی، صحراؤں میں لڑی جانے والی خوں خوار جنگوں کی، اور ایک ایسے انتقام کی جس نے تاریخِ اسلام کے پورے دھارے کو دمشق سے موڑ کر بغداد کی طرف منتقل کر دیا۔ اس پہلی قسط میں ہم اس پسِ منظر، بنو امیہ کے آخری دنوں کے حالات، عباسیوں کی خفیہ دعوت اور ابوالعباس السفاح کے خروج کی وہ تفصیلی داستان بیان کریں گے جس نے دمشق کے جاہ و جلال کو خاک میں ملا دیا۔

​باب اول: بنو امیہ کا آخری دور اور زوال کے اسباب

​ابوالعباس السفاح کے عروج کو سمجھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پہلے ان حالات کا جائزہ لیا جائے جنہوں نے بنو امیہ جیسی عظیم سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ بنو امیہ کے ابتدائی خلفاء جیسے حضرت امیر معاویہ، عبدالملک بن مروان اور ولید بن عبدالملک کے دور میں سلطنت اتنی مضبوط تھی کہ کوئی اس کے خلاف سر اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، دمشق کے محلات میں عیاشی، اندرونی خلفشار اور خاندانی عداوتوں نے جنم لے لیا۔

​1۔ عصبیت اور بنو ہاشم سے دوری

​بنو امیہ کی حکومت میں عرب عصبیت بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ غیر عرب مسلمان (جنہیں موالی کہا جاتا تھا، خصوصاً ایرانی اور خراسانی) خود کو سلطنت میں دوسرے درجے کا شہری سمجھنے لگے تھے۔ ان پر بھاری ٹیکس لگائے جاتے تھے اور انہیں فوج یا حکومت میں بڑے عہدے نہیں دیے جاتے تھے۔ اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اموی خلفاء کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو رہی تھی۔

​دوسری طرف، بنو ہاشم (جس میں سادات یعنی آلِ نبی ﷺ اور بنو عباس شامل تھے) کا ماننا تھا کہ خلافت پر پہلا حق ان کا ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ سانحہ کربلا کے بعد سے ہی اہل بیت کے چاہنے والوں اور عام مسلمانوں کے ایک بڑے حصے میں بنو امیہ کے خلاف غصہ پایا جاتا تھا، جسے اموی خلفاء اپنی فوجی طاقت کے زور پر دباتے رہے تھے۔

​2۔ خاندانی جنگیں اور کمزور خلفاء

​عمر بن عبدالعزیز جیسے عادل خلیفہ کے بعد، بنو امیہ میں دوبارہ ایسے خلفاء آنا شروع ہوئے جو حکومت کے معاملات سے زیادہ محلاتی زندگی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ایک خلیفہ مرتا، تو اس کے بیٹوں اور بھائیوں میں تخت کے لیے جنگ چھڑ جاتی۔ ولید ثانی، یزید ثالث اور ابراہیم بن ولید کے ادوار میں سلطنت اتنی کمزور ہو گئی کہ شام کی وہ فوج، جو پوری دنیا کو فتح کرتی تھی، اب خود اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دمشق کی گلیوں میں لڑ رہی تھی۔

​3۔ مروان ثانی: ایک بہادر لیکن بدقسمت حکمران

​بنو امیہ کا آخری خلیفہ مروان ثانی (جسے تاریخ میں مروان الحمار یعنی جنگوں میں صبر کرنے والا بھی کہا جاتا ہے) ایک انتہائی تجربہ کار جرنیل اور بہادر انسان تھا۔ جب وہ تخت پر بیٹھا، تو اس نے سلطنت کو بچانے کی آخری کوشش کی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ سلطنت کے چاروں کونوں میں بغاوتیں پھوٹ چکی تھیں۔ ادھر ارمینیہ کی سرحد پر جنگیں تھیں، ادھر حمص اور دمشق کے لوگ اپنے ہی خلیفہ کے خلاف کھڑے تھے۔ مروان ثانی اپنی پوری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار کر ان بغاوتوں کو کچلتا رہا، لیکن اسے یہ علم نہیں تھا کہ اصل طوفان شام سے نہیں، بلکہ دور دراز کے علاقے "خراسان" سے اٹھ رہا ہے، جہاں ایک خفیہ نیٹ ورک بنو امیہ کی جڑیں کاٹ رہا تھا۔

​باب دوم: بنو عباس کی خفیہ تحریک اور ہاشمی دعوت

​جہاں ایک طرف بنو امیہ کمزور ہو رہے تھے، وہیں دوسری طرف بنو عباس (حضرت عباس بن عبدالمطلب کی اولاد) ایک انتہائی منظم اور خفیہ طریقے سے پورے اسلامی دنیا میں اپنا جال پھیلا رہے تھے۔ اس تحریک کے روحِ رواں ابوالعباس السفاح کے دادا علی بن عبداللہ اور پھر ان کے والد محمد بن علی تھے۔

​الحمائمہ: سازشوں کا خفیہ مرکز

​اردن کے صحرا میں ایک چھوٹا سا گمنام گاؤں تھا جس کا نام تھا الحمائمہ۔ یہ گاؤں بظاہر ایک پرسکون جگہ تھی جہاں بنو عباس کے لوگ کھیتی باڑی اور عبادت گزاری کی زندگی گزار رہے تھے، لیکن درحقیقت یہ گاؤں اس وقت کی سب سے بڑی خفیہ تحریک کا ہیڈکوارٹر تھا۔ یہاں بیٹھ کر محمد بن علی نے ایک ایسی حکمتِ عملی تیار کی جس نے پوری اموی سلطنت کی جاسوسی کے نظام کو فیل کر دیا۔

​محمد بن علی نے اپنے داعی (مبلغین) تیار کیے۔ ان داعیوں کو سختی سے حکم تھا کہ وہ کسی کے سامنے بنو عباس کا نام نہیں لیں گے۔ وہ جب بھی لوگوں کے پاس جاتے، تو صرف ایک ہی نعرہ لگاتے:

"الرضا من آلِ محمد" (یعنی ہم اہل بیت اور آلِ نبی میں سے اس شخص کی طرف بلاتے ہیں جس پر سب کا اتفاق ہو جائے)۔


​یہ نعرہ اتنا زبردست تھا کہ اس نے شیعہ، سنی، ایرانی، اور ہر اس شخص کو اپنے ساتھ ملا لیا جو بنو امیہ کے ظلم سے تنگ آ چکا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ لوگ حضرت علیؓ کی اولاد (سادات) کے لیے کام کر رہے ہیں، اس لیے لاکھوں لوگ اس تحریک کے دیوانے ہو گئے۔

​خراسان کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

​عباسیوں نے اپنی تحریک کے لیے عراق اور خراسان (موجودہ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کا علاقہ) کو چنا۔ اس کی تین بڑی وجوہات تھیں:

  1. شام سے دوری: دمشق کے جاسوسوں کی پہنچ خراسان تک بہت کم تھی۔
  2. شجاعت اور جنگجو لوگ: خراسان کے لوگ پیدائشی جنگجو تھے اور ان میں بنو امیہ کے خلاف شدید غصہ تھا۔
  3. موالیوں کی اکثریت: وہاں غیر عرب مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی جو برابری کے حقوق چاہتے تھے۔

​یہ داعی تاجروں، مسافروں اور درویشوں کے بھیس میں خراسان کے ایک ایک گاؤں اور شہر میں پھیل گئے۔ انہوں نے اندر ہی اندر لوگوں سے وفاداری کے حلف لیے۔ جب محمد بن علی کا انتقال ہوا، تو ان کے بڑے بیٹے ابراہیم الامام اس تحریک کے سربراہ بنے۔ اور انہی ابراہیم الامام کے چھوٹے بھائی تھے ابوالعباس (جو آگے چل کر السفاح بنے)۔

​باب سوم: ابومسلم خراسانی کا خروج اور کالی کلہاڑیوں کا طوفان

​اب عباسی تحریک کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اس خفیہ پروپیگنڈے کو ایک خوں خوار فوجی طاقت میں بدل سکے۔ اور وہ شخص انہیں ملا ابومسلم خراسانی کی صورت میں۔

​ابومسلم خراسانی کون تھا؟ اس کا اصل نام اور نسب آج تک تاریخ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔ وہ ایک انتہائی پراسرار، نڈر اور بے رحم انسان تھا جسے ابراہیم الامام نے خراسان کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا۔ ابومسلم کے اندر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کا جادوئی فن موجود تھا اور وہ جنگی حکمتِ عملی کا ماہر تھا۔

​سنہ 129 ہجری: سیاہ پرچموں کا بلند ہونا

​رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور سنہ 129 ہجری (747ء) کی ایک رات، ابومسلم خراسانی نے خراسان کے شہر مرو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنی تحریک کا علانیہ آغاز کر دیا۔ اس رات اس نے عباسیوں کا مخصوص سیاہ پرچم (کالا جھنڈا) بلند کیا۔ عباسیوں نے کالے رنگ کو اس لیے چنا کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے عمامے اور پرچم (الرایہ) کا رنگ تھا، اور یہ بنو امیہ کے سفید پرچم کے بالکل برعکس تھا۔

​اس رات ابومسلم کے حکم پر بڑے بڑے الاؤ (آگ) روشن کیے گئے، جو اس بات کا سگنل تھے کہ اب جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اگلی صبح تک، خراسان کے کونے کونے سے ہزاروں تاتاری، ایرانی اور عرب جنگجو، کالی پوشاکیں پہنے، ہاتھوں میں کلہاڑیاں اور تلواریں لیے ابومسلم کے پاس پہنچ گئے۔ تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ ان جنگجوؤں کے دلوں میں بنو امیہ کے خلاف ایسا جنون تھا کہ وہ مرنے مارنے پر تل چکے تھے۔

​مروان ثانی کی غفلت اور نصر بن سیار کی پکار

​اس وقت خراسان کا اموی گورنر ایک بوڑھا اور تجربہ کار جرنیل نصر بن سیار تھا۔ وہ کئی سالوں سے دمشق کے خلیفہ مروان ثانی کو خطوط لکھ رہا تھا کہ: "خراسان کی راکھ کے نیچے ایک بہت بڑی آگ سلگ رہی ہے، مجھے فوراً فوج بھیجو، ورنہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔" اس نے مروان ثانی کو ایک مشہور تاریخی شعر بھی لکھ کر بھیجا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

​"میں راکھ کے نیچے چنگاریوں کی چمک دیکھ رہا ہوں، اور قریب ہے کہ یہ ایک بہت بڑا شعلہ بن جائے۔ کیونکہ لکڑیوں کو آگ لگانے کے لیے چنگاری ہی کافی ہوتی ہے، اور جنگ کا آغاز ہمیشہ باتوں سے ہوتا ہے۔"


​لیکن مروان ثانی اس وقت شام کے اندرونی باغیوں اور خارجيوں سے لڑنے میں اتنا مصروف تھا کہ وہ نصر بن سیار کی مدد نہ کر سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابومسلم خراسانی نے ایک کے بعد ایک خراسان کے تمام شہر فتح کرنا شروع کر دیے۔ نصر بن سیار کو اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا، اور پورا خراسان بنو امیہ کے ہاتھ سے نکل کر سیاہ پرچم والوں کے قبضے میں آ گیا۔

​باب چہارم: الحمائمہ پر قیامت اور ابوالعباس کا فرار

​جب خراسان کی فتوحات کی خبریں دمشق پہنچیں، تو مروان ثانی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو الرٹ کیا کہ پتا لگایا جائے کہ اس تحریک کا اصل مالک کون ہے جو ابومسلم خراسانی کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔

​ابراہیم الامام کی گرفتاری

​بدقسمتی سے، عباسیوں کا ایک خط اموی جاسوسوں کے ہاتھ لگ گیا، جس سے مروان ثانی کو پتا چل گیا کہ اس پورے طوفان کا ہیڈکوارٹر الحمائمہ کا وہ چھوٹا سا گاؤں ہے اور اس کے ماسٹر مائنڈ ابراہیم الامام ہیں۔ مروان ثانی نے فوراً ایک فوجی دستہ بھیجا، جس نے الحمائمہ کا گھیراؤ کر کے ابراہیم الامام کو گرفتار کر لیا۔ انہیں قید کر کے حران (شام) کے ایک اندھیرے قید خانے میں ڈال دیا گیا، جہاں بعد میں مروان ثانی کے حکم پر انہیں گلا گھونٹ کر یا زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

​ابوالعباس کو آخری وصیت

​گرفتاری سے ٹھیک پہلے، جب ابراہیم الامام کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی ابوالعباس کو اپنے پاس بلایا۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جہاں ابوالعباس السفاح کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونا تھا۔ ابراہیم الامام نے ابوالعباس کا ہاتھ تھام کر کہا:

​"میرے بھائی! میرا وقت اب ختم ہونے والا ہے۔ میرے بعد اس تحریک کی قیادت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ تم اپنے پورے خاندان کو لے کر فوراً یہاں سے نکل جاؤ اور عراق کے شہر کوفہ کا رخ کرو۔ وہاں ہمارے مخلص لوگ موجود ہیں جو تمہاری حفاظت کریں گے۔ یاد رکھنا، بنو امیہ ہمارے خون کے پیاسے ہیں، تمہیں اب ایک چٹان کی طرح مضبوط ہونا ہوگا اور اپنے خون کا بدلہ لینا ہوگا۔"


​کوفہ کا ہولناک سفر

​ابراہیم الامام کی گرفتاری کے بعد، ابوالعباس اپنے بھائی ابوجعفر (جو بعد میں خلیفہ المنصور بنے)، اپنے چچوں اور پورے عباسی خاندان کی خواتین اور بچوں کو لے کر رات کے اندھیرے میں الحمائمہ سے نکل پڑے۔ یہ سفر انتہائی کٹھن اور خطرناک تھا۔ راستے میں ہر جگہ اموی فوج کے ناکے لگے ہوئے تھے اور مروان ثانی نے عباسی خاندان کے ہر مرد کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔

​کئی دنوں تک صحرا کی خاک چھاننے، بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد، یہ قافلہ بالآخر سنہ 132 ہجری (749ء) میں کوفہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن کوفہ پہنچ کر بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، بلکہ یہاں ایک نیا ڈراما ان کا منتظر تھا۔

​باب پنجم: کوفہ میں روپوشی اور ابو سلمہ کی چال

​جب ابوالعباس کوفہ پہنچے، تو وہاں عباسی تحریک کے مقامی انچارج ابوسلمہ خلال نے انہیں ایک خفیہ مکان میں چھپا دیا۔ ابوسلمہ کو تاریخ میں "وزیرِ آلِ محمد" کہا جاتا ہے۔ وہ ایک چالاک سیاست دان تھا۔

​عباسی خاندان کے ساتھ دھوکا

​ابوسلمہ نے ابوالعباس اور ان کے خاندان کو تقریباً چالیس دنوں تک ایک بند مکان میں رکھا اور دنیا سے چھپا کر رکھا۔ یہاں تک کہ ابومسلم خراسانی کی عباسی فوج نے بھی جب کوفہ پر قبضہ کر لیا، تو انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا اصل خلیفہ کوفہ کے اندر ہی موجود ہے۔

​درحقیقت، ابوسلمہ کے ذہن میں ایک دوسرا پلان چل رہا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ بنو امیہ کا خاتمہ اب بالکل قریب ہے، تو اس کے دل میں لالچ آ گیا یا اس کی ہمدردیاں بدل گئیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ خلافت بنو عباس کے ہاتھ میں جائے۔ اس نے خفیہ طور پر مدینہ منورہ میں حضرت علیؓ کی اولاد (سادات) کے تین بڑے بزرگوں (بشمول امام جعفر صادقؒ) کو خطوط لکھے کہ: "ہمارے پاس اب ایک لاکھ کی فوج تیار ہے، آپ کوفہ آ جائیں اور خلافت سنبھال لیں۔" لیکن ساداتِ اہل بیت نے، جو دنیا کی سلطنت اور ان خون خرابوں سے دور رہتے تھے، ابوسلمہ کی اس پیشکش کو صاف ٹھکرا دیا۔ امام جعفر صادقؒ نے تو ابوسلمہ کا خط آگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا اور فرمایا کہ: "یہ خط میرا نہیں ہے اور نہ ہی یہ دور ہمارے لیے ہے۔"

​ابوالعباس کا پتا کیسے چلا؟

​جب عباسی فوج کے کچھ خراسانی جرنیلوں کو شک ہوا کہ ابوسلمہ کچھ چھپا رہا ہے، تو انہوں نے کوفہ کے گلی کوچوں میں اپنے جاسوس دوڑائے۔ بالآخر، عباسی خاندان کے ایک مخلص دوست ابوحمید نے اس خفیہ مکان کا پتا لگا لیا جہاں ابوالعباس السفاح اپنے بھائیوں کے ساتھ نظر بند تھے۔ وہ فوراً خراسانی جرنیلوں کے پاس پہنچا اور کہا: "تم لوگ یہاں وزیروں کے چکر میں بیٹھے ہو، جبکہ تمہارا اصل امام اور خلیفہ ابوالعباس کوفہ کے ایک مکان میں قید ہے!"

​یہ سنتے ہی خراسانی جرنیل تپ اٹھے۔ وہ فوراً اس مکان پر پہنچے، ابوالعباس کے ہاتھ پر بیعت کی اور ابوسلمہ کی چالوں کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا۔

​باب ششم: کوفہ کی مسجد میں تاریخی خطبہ اور "السفاح" کا جنم

​12 ربیع الاول سنہ 132 ہجری (30 اکتوبر 749ء)، یہ وہ تاریخی دن تھا جب دنیا نے پہلی بار خلافتِ عباسیہ کا جاہ و جلال علانیہ طور پر دیکھا۔ کوفہ کی جامع مسجد، جو کبھی حضرت علیؓ کا مرکزِ خلافت تھی، آج سیاہ پوش سپاہیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسجد کے چاروں طرف کالی پوشاکیں پہنے، ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے عباسی سپاہی کھڑے تھے، اور مسجد کے منبر پر کالی چادر اوڑھے ایک ۲8 سالہ پروقار جوان بیٹھا تھا—یہ ابوالعباس تھا۔

​السفاح کا پہلا تاریخی خطبہ

​ابوالعباس منبر پر کھڑا ہوا، اس کا چہرہ غصے اور جرات کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس نے اللہ کی حمد و ثناء اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد ایک ایسا خطبہ دیا جس نے پورے مجمعے پر لرزہ طاری کر دیا۔ اس نے بنو امیہ کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

​"اے لوگو! بنو امیہ نے اس زمین پر ظلم اور سرکشی کی حد کر دی تھی۔ انہوں نے اہل بیت کے حقوق کو پامال کیا، اللہ کے مال کو اپنی جاگیر سمجھا اور زمین کو خون سے رنگ دیا۔ آج اللہ نے ہمارے ذریعے ان کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے حقیقی وارث ہیں اور اللہ نے ہمیں اس امت کی ہدایت کے لیے چنا ہے۔"


​پھر اس نے وہ تاریخی الفاظ کہے جن کی وجہ سے تاریخ نے اس کا نام بدل دیا:

"انا السفاح المبیح، والاثر المتیح" > (ترجمہ: "میں خون بہانے والا خلیفہ ہوں جس کا ہاتھ دشمنوں کے لیے حلال ہے، اور میں ہی ہوں جو تباہی لانے والا ہوں!")


​اس نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک بنو امیہ کے ایک ایک مرد، بچے اور ان کے مددگار کا نام و نشان اس زمین سے مٹا نہیں دیتا۔ یہ صرف ایک تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ بنو امیہ کے لیے موت کا پروانہ تھا۔ اس خطبے کے بعد مسجدِ کوفہ "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھی اور ہزاروں لوگوں نے موت کی بیعت کر لی۔

​ابوالعباس کی شخصیت کا جائزہ

​ابوالعباس السفاح ظاہری طور پر ایک انتہائی خوبصورت، دراز قد اور پرکشش نوجوان تھا، لیکن اس کے اندر ایک بے رحم جرنیل چھپا ہوا تھا۔ وہ اپنے خاندان سے شدید محبت کرتا تھا اور اپنے بھائی ابوجعفر المنصور کی رائے کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا ارادہ تھا؛ وہ جو فیصلہ کر لیتا، پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے پیچھے نہیں ہٹا سکتی تھی۔ خلافت کا تاج پہنتے ہی اس نے اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیا: مروان ثانی کا خاتمہ اور دمشق پر قبضہ۔

​باب ہفتم: قسط اول کا اختتام اور آنے والے طوفان کا پیش خیمہ

​ابوالعباس السفاح اب کوفہ کے تخت پر بیٹھ کر آفیشل خلیفہ بن چکا تھا، لیکن ابھی کہانی کا اصل موڑ باقی تھا۔ دمشق میں بیٹھا اموی خلیفہ مروان ثانی اگرچہ کمزور ہو چکا تھا، لیکن وہ ابھی ہارا نہیں تھا۔ اس کے پاس ابھی بھی ایک لاکھ سے زائد کا شام اور عرب کا وہ خوں خوار لشکر موجود تھا جس نے رومیوں اور ایرانیوں کی سلطنتوں کو تباہ کیا تھا۔ مروان نے کوفہ کی اس نئی خلافت کو کچلنے کے لیے اپنے آخری اور سب سے بڑے لشکر کو تیار کرنا شروع کر دیا۔

​دوسری طرف، السفاح نے اپنے چچا عبداللہ بن علی اور ابومسلم خراسانی کو حکم دیا کہ اب رکنے کا وقت نہیں ہے۔ سیاہ اور سفید پرچموں کا فائنل مقابلہ اب ناگزیر ہو چکا تھا، جس کا فیصلہ عراق کے دریائے زاب کے کنارے ہونا تھا—ایک ایسی جنگ جس میں یا تو بنو عباس کا نام و نشان مٹ جاتا، یا پھر بنو امیہ کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جاتا۔

خلافتِ عباسیہ کا بانی: ابوالعباس السفاح اور بنو امیہ کے زوال کی سچی داستان (قسط دوم)

​تمہید: زاب کے کنارے دو سمندروں کا ٹکراؤ

​پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح بنو عباس نے اردن کے ایک گمنام گاؤں "الحمائمہ" سے بیٹھ کر دنیا کی سب سے بڑی خفیہ تحریک چلائی اور ابومسلم خراسانی کے سیاہ پرچموں نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے خراسان پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے یہ بھی پڑھا کہ کوفہ کی جامع مسجد میں ۲8 سالہ نوجوان ابوالعباس نے منبر پر کھڑے ہو کر خود کو "السفاح" یعنی خون بہانے والا خلیفہ قرار دے کر بنو امیہ کے مکمل خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔

​لیکن دمشق کے تخت پر بیٹھا بنو امیہ کا آخری خلیفہ مروان ثانی ابھی ہارا نہیں تھا۔ وہ تاریخ کا ایک انتہائی سخت جان اور تجربہ کار جرنیل تھا جس نے اپنی پوری زندگی جنگوں میں گزاری تھی۔ کوفہ میں عباسی خلافت کے اعلان نے مروان ثانی کے اندر ایک آگ لگا دی تھی۔ اس نے شام، فلسطین، موصل اور جزیرہ کے علاقوں سے بنو امیہ کا وہ خوں خوار روایتی لشکر اکٹھا کرنا شروع کیا جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے کبھی روم اور ایران کی سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

​اب تاریخِ اسلام کا وہ فیصلہ کن موڑ آ چکا تھا جہاں دو عظیم خاندانوں کی قسمت کا فیصلہ تلوار کی دھار پر ہونا تھا۔ ایک طرف بنو امیہ کا سفید پرچم تھا جو نوے سالہ جاہ و جلال کی علامت تھا، اور دوسری طرف بنو عباس کا سیاہ پرچم تھا جو ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے بے چین تھا۔ یہ کہانی ہے دریائے زاب کے اس ہولناک معرکے کی جس نے دمشق کی عظمت کو ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملا دیا اور ابوالعباس السفاح کو زمین کا بلا شرکتِ غیرے بادشاہ بنا دیا۔

​باب اول: زاب کے میدان میں لشکروں کی صف بندی

​جمادی الثانی سنہ 132 ہجری (جنوری 750ء) کا مہینہ تھا جب دونوں لشکر عراق کے علاقے میں دریائے زابِ اکبر (Great Zab River) کے کنارے آمنے سامنے آئے۔ یہ دریا دجلہ کا ایک بڑا معاون دریا ہے جس کا پانی سردیوں میں انتہائی تیز اور بپھرا ہوا ہوتا ہے۔

​1۔ مروان ثانی کا ٹڈی دل لشکر

​خلیفہ مروان ثانی خود اپنے عظیم لشکر کی قیادت کر رہا تھا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق، اموی فوج کی تعداد ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان تھی۔ یہ فوج بہترین زرہ بکتر، نیزوں، تلواروں اور بھاری گھڑ سوار دستوں سے لیس تھی۔ مروان ثانی نے دریا کے ایک طرف اپنے خیمے گاڑے اور ایک بہت بڑا لکڑی کا پل بنوایا تاکہ بوقتِ ضرورت فوج دریا پار کر سکے۔ اموی سپاہیوں کا حوصلہ بلند تھا، کیونکہ وہ اپنے خلیفہ کی جرأت سے واقف تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ خراسان کے ان "کالی پوشاک" والوں کو آسانی سے کچل دیں گے۔

​2۔ عباسی لشکر اور عبداللہ بن علی کی قیادت

​دوسری طرف، کوفہ سے ابوالعباس السفاح نے اس جنگ کے لیے اپنے سب سے بھروسے مند چچا عبداللہ بن علی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا۔ عباسی لشکر کی تعداد اموی فوج کے مقابلے میں آدھی یا اس سے بھی کم تھی (تقریباً 30,000 سے 40,000 کے قریب)۔ لیکن اس فوج کی سب سے بڑی طاقت ان کا جنون تھا۔ اس لشکر میں خراسان کے وہ جنگجو شامل تھے جو کلہاڑیاں چلاتے تھے اور جن کے دلوں میں بنو امیہ کے خلاف برسوں کا غصہ ابل رہا تھا۔ السفاح نے اپنے چچا کو سخت تاکید کی تھی: "اگر اس جنگ میں پیچھے ہٹے، تو عباسی خاندان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ یا تو فتح لے کر آنا، یا پھر میدانِ جنگ میں ہی شہید ہو جانا۔"

​عبداللہ بن علی نے دریا کے دوسری طرف صف بندی کی۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے لمبے نیزوں کو زمین میں گاڑ دیں اور ان کی نوکیں اموی گھڑ سواروں کی طرف کر دیں، تاکہ دشمن کا پہلا گھڑ سوار حملہ ناکام بنایا جا سکے۔

​باب دوم: نو دنوں کا خونی معرکہ اور مروان ثانی کی تاریخی غلطی

​دریائے زاب کے کنارے یہ جنگ کوئی ایک دن میں ختم نہیں ہوئی، بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان نو دنوں تک چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ سردی کی تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور دونوں طرف کے سپاہی ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگا رہے تھے۔

​جنگ کا آغاز اور مروان کا اضطراب

​نویں دن، مروان ثانی نے محسوس کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے شامی سپاہیوں میں وہ جوش نہیں رہا۔ وہ جنگ کو فوراً ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دریا پر بنے لکڑی کے پل کے ذریعے اپنی فوج کو دوسری طرف منتقل کرنا شروع کر دیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک جنگی چال تھی، کیونکہ اگر فوج کو پیچھے ہٹنا پڑتا تو ان کے پیچھے گہرا دریا موجود تھا۔

​مروان ثانی نے اپنے جرنیلوں کو جمع کیا اور کہا: "اگر آج ہم نے ان عباسیوں کو نہ روکا، تو اسلام کی خلافت ہمیشہ کے لیے ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔" اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو ایک بڑے دستے کے ساتھ عباسیوں پر حملے کے لیے بھیجا۔

​عباسیوں کا چٹان جیسا دفاع

​عبداللہ بن علی (عباسی سپہ سالار) نے جب اموی فوج کو پل پار کر کے آتے دیکھا، تو انہوں نے بلند آواز میں نعرہ لگایا: "یا محمد! یا منصور!" یہ عباسیوں کا جنگی نعرہ تھا۔

​اموی گھڑ سواروں نے جب اپنی تلواریں لہرا کر عباسیوں پر حملہ کیا، تو عباسی پیادہ (پیدل) فوج اپنی جگہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ انہوں نے اپنے نیزوں کی دیوار کھڑی کر دی۔ اموی گھوڑے ان تیز دھار نیزوں سے ٹکرا ٹکرا کر گرنے لگے۔ خراسانی جنگجو اپنی بھاری کلہاڑیوں کے ساتھ اموی سپاہیوں پر ٹوٹ پڑے۔ میدانِ جنگ میں لوہے سے لوہا ٹکرانے کی آوازیں اور نیزوں کے ٹوٹنے کی چیخیں گونجنے لگیں۔

​وہ افواہ جس نے تاریخ بدل دی

​جنگ کئی گھنٹوں تک انتہائی شدت سے جاری رہی۔ اموی فوج اپنی تعداد کی وجہ سے عباسیوں پر دباؤ بڑھا رہی تھی۔ اسی دوران مروان ثانی نے دیکھا کہ اس کا ایک قبیلہ (بنو قضاعہ) جنگ میں سستی دکھا رہا ہے۔ مروان نے اپنے ایک جرنیل کو حکم دیا کہ وہ جا کر اس قبیلے کو پیچھے ہٹنے اور دوسری پوزیشن سنبھالنے کا کہے۔

​یہیں پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میدانِ جنگ کے شور و غل میں جب یہ حکم آگے پہنچا، تو سپاہیوں نے سمجھا کہ خلیفہ مروان ثانی خود پیچھے ہٹنے کا حکم دے رہے ہیں اور اموی فوج ہار گئی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اموی لشکر کے پچھلے دستوں میں یہ افواہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی: "مروان بھاگ گیا! ہم ہار گئے!"

​باب سوم: دریائے زاب کا سیلاب اور اموی فوج کی قیامت

​جیسے ہی یہ افواہ پھیلی، اموی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے۔ جو سپاہی اب تک بہادری سے لڑ رہے تھے، وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے پیچھے کی طرف بھاگے۔ مروان ثانی نے چگھاڑتے ہوئے آوازیں دیں: "واپس آؤ! میں یہاں ہوں! جنگ ابھی جاری ہے!" لیکن اس طوفان کو روکنا اب کسی کے بس میں نہیں تھا۔

​جان بچانے والوں کے لیے دریا کا جال

​اموی سپاہی اندھا دھند اس لکڑی کے پل کی طرف بھاگے جو انہوں نے دریا پار کرنے کے لیے بنایا تھا۔ ہزاروں سپاہی ایک ساتھ اس تنگ پل پر چڑھ گئے۔ پل توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ایک ہولناک آواز کے ساتھ بیچ سے ٹوٹ کر بپھرے ہوئے دریا میں جا گرا۔

​اب اموی فوج کے لیے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کے سامنے غصیلی عباسی فوج تھی اور ان کے پیچھے دریائے زاب کا سرد اور گہرا پانی۔ عبداللہ بن علی نے عباسی گھڑ سواروں کو حکم دیا: "ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑو!"

​خراسانی جنگجوؤں نے بھاگتے ہوئے اموی سپاہیوں کو پیچھے سے کاٹنا شروع کر دیا۔ ہزاروں سپاہیوں نے زرہ بکتر پہنے ہوئے ہی دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔ تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ دریائے زاب کا پانی اس دن اموی سپاہیوں کی لاشوں سے بھر گیا تھا۔ جنگ میں اتنے سپاہی عباسیوں کی تلواروں سے نہیں مرے، جتنے اس بپھرے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ بنو امیہ کا وہ لشکر جو صبح تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا، شام ہونے تک ایک عبرت ناک داستان بن چکا تھا۔

​مروان ثانی کا فرار

​خلیفہ مروان ثانی نے جب اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی سلطنت کو ڈوبتے دیکھا، تو اس کے پاس بھی بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا۔ وہ اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ میدان سے بھاگا۔ وہ دمشق پہنچا، لیکن دمشق کے لوگوں نے اس کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے۔ وہ فلسطین گیا، وہاں سے اردن اور پھر مصر کے ریگزاروں کی طرف بھاگتا رہا۔ لیکن السفاح کے جلاد اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ بالآخر مصر کے ایک چھوٹے سے گرجا گھر (بوصیر) میں عباسی دستوں نے اسے گھیر کر قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر کوفہ میں ابوالعباس السفاح کے پاس بھیج دیا گیا۔

​باب چہارم: دمشق کا محاصرہ اور بنو امیہ کے دارالحکومت کا زوال

​زاب کی فتح کی خبر جب کوفہ پہنچی، تو ابوالعباس السفاح نے سجدہ شکر ادا کیا اور اپنے چچا عبداللہ بن علی کو فوراً حکم بھیجا: "اب رکنا نہیں ہے، سیدھے دمشق کا رخ کرو اور بنو امیہ کے مرکز پر اپنا پرچم لہرا دو۔"

​دمشق کی مضبوط دیواریں

​دمشق اس وقت دنیا کے خوبصورت ترین اور مضبوط ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ شہر کے چاروں طرف اونچی اور موٹی پتھروں کی دیواریں تھیں اور کئی مضبوط لوہے کے دروازے تھے (جیسے بابِ توما، بابِ جابیہ اور بابِ صغیر)۔ مروان ثانی کے بھاگنے کے بعد شہر کی کمان اموی گورنر ولید بن معاویہ کے ہاتھ میں تھی، جس نے شہر کے دروازے بند کر کے عباسیوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

​اپریل 750ء میں عباسی فوج دمشق کے باہر پہنچ گئی۔ عبداللہ بن علی نے شہر کا سخت محاصرہ (Siege) کر لیا۔ شہر کے اندر اموی حامیوں اور عام شہریوں کے درمیان اختلافات شروع ہو چکے تھے۔ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ عباسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں تاکہ شہر تباہی سے بچ جائے، جبکہ کچھ اموی شہزادے آخری دم تک لڑنے پر تلے ہوئے تھے۔

​غداری اور دمشق کا زوال

​محاصرہ کئی دنوں تک جاری رہا۔ عباسیوں نے اپنی منجنیقوں سے شہر پر پتھروں کی بارش کر دی۔ بالآخر، شہر کے ایک دروازے (بابِ شرقی) کے محافظوں کو عباسیوں نے رشوت دے کر یا امان کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ رات کے اندھیرے میں غداروں نے دروازہ کھول دیا اور عباسی فوج دمشق کے اندر داخل ہو گئی۔

​جو کچھ اس کے بعد دمشق میں ہوا، وہ تاریخ کا ایک انتہائی دردناک باب ہے۔ ابوالعباس السفاح کے سپاہیوں نے دمشق کی گلیوں میں وہ خون خرابہ کیا جس کی اجازت اسلام کبھی نہیں دیتا۔ اموی خاندان کے ہر مرد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا گیا۔ دمشق کا وہ تاریخی محل (الخضراء) جہاں کبھی امیر معاویہ اور ولید بن عبدالملک بیٹھ کر دنیا کے فیصلے کرتے تھے، اسے لوٹ کر آگ لگا دی گئی۔ دمشق، جو نوے سال تک دنیا کا مرکز رہا تھا، آج عباسیوں کے پیروں تلے کچلا جا رہا تھا۔

​باب پنجم: ابوالعباس السفاح کا ہولناک انتقام اور مردوں کی بے حرمتی

​دمشق فتح کرنے کے بعد عبداللہ بن علی نے اپنے بھتیجے خلیفہ ابوالعباس السفاح کو خط لکھا کہ بنو امیہ کے تمام زندہ افراد کو ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن السفاح کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس کے دل میں اپنے بڑے بھائی ابراہیم الامام کی اموی قید میں شہادت کا زخم تازہ تھا۔ اس نے ایک ایسا حکم جاری کیا جس نے زندوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی نہیں بخشا۔

​قبروں کا کھودا جانا

​السفاح کے حکم پر عباسی فوج نے دمشق اور اس کے آس پاس موجود بنو امیہ کے پرانے خلفاء کی قبروں کو کھودنا شروع کر دیا۔

  • ​انہوں نے فاتحِ سندھ کے سرپرست خلیفہ ولید بن عبدالملک کی قبر کھودی، تو اندر صرف ہڈیوں کا ڈھیر ملا۔
  • ​انہوں نے سلطنتِ امویہ کے بانی حضرت امیر معاویہؓ کی قبر کھودی، تو وہاں کچھ نہ ملا۔
  • ​جب انہوں نے ہشام بن عبدالملک (جس کے دور میں عباسی تحریک کے کچھ لوگ مارے گئے تھے) کی قبر کھودی، تو تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کی لاش بالکل محفوظ تھی۔ السفاح کے چچا نے اس لاش کو قبر سے نکال کر دمشق کے چوک پر لٹکایا، اسے کوڑے مارے اور پھر اسے آگ لگا کر اس کی راکھ ہوا میں اڑا دی۔

​پورے اموی خلفاء میں سے صرف ایک خلیفہ، عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر کو عباسیوں نے ہاتھ نہیں لگایا، کیونکہ وہ ان کے عدل و انصاف اور اہل بیت کے ساتھ اچھے سلوک کا احترام کرتے تھے۔ تاریخ میں کسی مسلم حکمران کی طرف سے اپنے دشمنوں کے مردوں کے ساتھ ایسا سلوک پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا، اور اسی بے رحمی کی وجہ سے ابوالعباس کا نام ہمیشہ کے لیے "السفاح" (خون کا پیاسا) پکا ہو گیا۔

​باب ششم: ابو فطروس کی وہ ضیافت جس نے انسانیت کو کانپا دیا

​السفاح کے انتقام کی سب سے ہولناک اور سنسنی خیز داستان ابھی باقی تھی، جسے تاریخ "ضیافتِ ابو فطروس" (The Massacre of Abu Futrus) کے نام سے یاد کرتی ہے۔

​بنو امیہ کے زوال کے بعد، ان کے خاندان کے کئی شہزادے، بچے اور بوڑھے جان بچا کر فلسطین کے ایک چھوٹے سے شہر "ابو فطروس" کے قریب چھپ گئے تھے۔ وہ عام زندگی گزارنے پر تیار تھے اور انہوں نے عباسیوں سے اپنی جان کی امان مانگی تھی۔

​امن کا جھوٹا وعدہ

​ابوالعباس السفاح کے چچا عبداللہ بن علی نے ایک شیطانی چال چلی۔ اس نے پورے علاقے میں اعلان کروایا کہ: "خلیفہ ابوالعباس السفاح نے بنو امیہ کے تمام زندہ افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ ہم اب مزید خون خرابہ نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اموی خاندان کے تمام شہزادے اور امراء ہمارے ساتھ ایک صلح کے کھانے پر جمع ہوں تاکہ پرانی دشمنی ختم کی جا سکے۔"

​اموی شہزادے جو کئی دنوں سے بھوکے پیاسے صحراؤں میں چھپتے پھر رہے تھے، انہوں نے عباسیوں کے اس وعدے پر یقین کر لیا۔ وہ سمجھے کہ شاید اب انہیں امن سے جینے کا موقع مل جائے گا۔ تاریخ کے مطابق، بنو امیہ کے 80 سے زائد چوٹی کے شہزادے اور امراء قیمتی لباس پہن کر اس شاہی خیمے میں پہنچ گئے جو عبداللہ بن علی نے ان کے لیے لگوایا تھا۔

​دسترخوان کے نیچے تڑپتی لاشیں

​تمام مہمان خیمے میں بچھے بڑے بڑے ریشمی گدوں پر بیٹھ گئے۔ کھانا پیش کیا گیا اور فضا میں خوشی کا ماحول تھا۔ ابھی مہمانوں نے پہلا نوالہ ہی لیا تھا کہ اچانک عبداللہ بن علی نے اپنے جلادوں کو اشارہ کیا۔

​سیکنڈوں کے اندر، خیمے کے پردوں کے پیچھے سے سینکڑوں عباسی جلاد ننگی تلواریں اور بھاری لوہے کے گرز (Maces) لیے نمودار ہوئے۔ اموی شہزادوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ جلادوں نے ان کے سروں اور گردنوں پر گرز مارنا شروع کر دیے۔ خیمہ چیخ و پکار اور خون سے بھر گیا۔ وہ شہزادے جو کچھ دیر پہلے تک شاہی مہمان تھے، اب زمین پر اپنے ہی خون میں تڑپ رہے تھے۔

​اس واقعے کا سب سے خوفناک اور ہولناک منظر اب شروع ہونے والا تھا۔ عبداللہ بن علی نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ان تڑپتے ہوئے اور نیم مردہ انسانوں کے اوپر چمڑے کا ایک بہت بڑا اور بھاری دسترخوان (Leather Carpet) بچھایا جائے! سپاہیوں نے ایسا ہی کیا۔ اموی شہزادے اس بھاری چمڑے کے نیچے دب گئے، لیکن وہ ابھی مرے نہیں تھے، بلکہ ان کے جسموں میں جان باقی تھی اور وہ درد سے تڑپ رہے تھے اور حرکت کر رہے تھے۔

​عبداللہ بن علی نے اپنے درباریوں اور خراسانی جرنیلوں کو حکم دیا: "کھانا دوبارہ لگایا جائے!" وہ خود اور اس کے تمام افسران اس چمڑے کے دسترخوان کے اوپر بیٹھ گئے جس کے نیچے بنو امیہ کے شہزادے آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انہوں نے اسی حالت میں ہنستے اور باتیں کرتے ہوئے اپنا کھانا کھایا، جبکہ دسترخوان کے نیچے سے ہڈیوں کے ٹوٹنے اور کراہنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کھانا ختم ہونے تک، دسترخوان کے نیچے موجود تمام 80 شہزادے تڑپ تڑپ کر دم توڑ چکے تھے۔ عبداللہ بن علی نے مسکرا کر کہا: "آج میرا کھانا ہضم ہوا ہے، کیونکہ میں نے اپنے بھتیجے اور اپنے خاندان کا بدلہ لے لیا ہے۔"

​باب ہفتم: عبدالرحمن الداخل — وہ عقاب جو السفاح کے چنگل سے بھاگ نکلا

​ابوالعباس السفاح کا ماننا تھا کہ اس نے بنو امیہ کے پورے شجرے کو جڑ سے کاٹ دیا ہے اور اب اس زمین پر کوئی اموی زندہ نہیں بچا جو اس کے تخت کے لیے خطرہ بن سکے۔ لیکن قدرت کا اپنا ایک نظام ہے۔ اس پورے قتلِ عام میں بنو امیہ کا ایک بیس سالہ نوجوان شہزادہ اپنی ذہانت اور جرات کی وجہ سے السفاح کے جلادوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا—اور اس نوجوان کا نام تھا عبدالرحمن بن معاویہ، جسے دنیا آج "عبدالرحمن الداخل" یا "صقرِ قریش" (قریش کا عقاب) کے نام سے جانتی ہے۔

​فرات کے کنارے کا خطرناک پیچھا

​عبدالرحمن اپنے چھوٹے بھائی اور اپنے وفادار غلام بدر کے ساتھ شام کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں چھپا ہوا تھا کہ اچانک عباسی جلادوں نے ان کا مکان گھیر لیا۔ عبدالرحمن اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کے راستے سے بھاگا۔ ان کے پیچھے گھڑ سوار جلاد لگے ہوئے تھے۔ بھاگتے بھاگتے ان کے سامنے دریائے فرات آ گیا۔

​عباسی سپاہیوں نے ساحل پر کھڑے ہو کر آواز دی: "واپس آ جاؤ! ہم تمہیں امان دیں گے، تمہیں قتل نہیں کریں گے!" عبدالرحمن اور اس کے چھوٹے بھائی نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ عبدالرحمن تیز تیرنے والا تھا، وہ دریا کے بیچ تک پہنچ گیا، لیکن اس کا چھوٹا بھائی تھک گیا اور عباسیوں کے جھوٹے وعدے پر یقین کر کے واپس ساحل کی طرف مڑ گیا۔ عبدالرحمن نے دریا کے بیچ سے چکھاڑ کر کہا: "میرے بھائی! واپس مت جانا، یہ تمہیں مار دیں گے!" لیکن اس نے نہ سنا۔ جیسے ہی وہ معصوم بچہ ساحل پر پہنچا، عباسی جلادوں نے عبدالرحمن کی آنکھوں کے سامنے اس کا سر کاٹ دیا۔

​اسپین میں ایک نئی سلطنت کا قیام

​اس ہولناک منظر نے عبدالرحمن کے دل میں عباسیوں کے خلاف ایک نئی آگ لگا دی۔ وہ دریا پار کر کے افریقہ کے ریگزاروں کی طرف بھاگ گیا۔ پانچ سال تک وہ در بدر کی خاک چھانتا رہا، بھوکا پیاسا رہا، لیکن ہمت نہیں ہاری۔ بالآخر، وہ افریقہ سے سمندر پار کر کے اندلس (اسپین) پہنچ گیا۔ وہاں اس نے اپنی جرات کے زور پر عباسی گورنر کو شکست دی اور اندلس میں دوبارہ سلطنتِ امویہ (خلافتِ قرطبہ) کی بنیاد رکھی، جو اگلے ۳00 سال تک علم و حکمت کا مرکز بنی رہی۔ یہ السفاح کی زندگی کی وہ واحد ناکامی تھی جسے وہ کبھی ختم نہیں کر سکا۔

​باب ہشتم: قسط دوم کا اختتام اور آنے والے حالات

​ابوالعباس السفاح نے بنو امیہ کا خاتمہ کر کے اپنی خلافت کو پوری دنیا پر قائم کر لیا تھا۔ دمشق اب تباہ ہو چکا تھا اور السفاح نے عراق کے شہر انبار کو اپنا نیا دارالحکومت بنایا۔ لیکن تختِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد بھی السفاح کو سکون کی نیند نصیب نہیں ہوئی۔ اب اسے ان لوگوں سے خطرہ تھا جنہوں نے اسے تخت پر بٹھایا تھا، یعنی خود اس کا اپنا سپہ سالار ابومسلم خراسانی، اور چین کی وہ عظیم سلطنت جو مسلم سرحدوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھی تھی

خلافتِ عباسیہ کا بانی: ابوالعباس السفاح اور بنو امیہ کے زوال کی سچی داستان (قسط سوم و آخری)

​تمہید: اقتدار کی مضبوطی اور نئے طوفان

​پچھلی دو قسطوں میں ہم نے پڑھا کہ کس طرح ابوالعباس السفاح نے بنو عباس کی خفیہ تحریک کو ایک خوں خوار طاقت میں بدلا، دریائے زاب کے تاریخی معرکے میں بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان ثانی کی فوج کو عبرت ناک شکست دی، اور دمشق پر قبضہ کر کے نوے سالہ اموی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح اس نے "ضیافتِ ابو فطروس" میں اموی شہزادوں کو دھوکے سے بلا کر دسترخوان کے نیچے تڑپا تڑپا کر مارا، جس کی وجہ سے تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ کے لیے "السفاح" یعنی بہت زیادہ خون بہانے والا پکا ہو گیا۔

​اب بنو امیہ کا نام و نشان مٹ چکا تھا (سوائے بیس سالہ شہزادے عبدالرحمن الداخل کے، جو افریقہ کے ریگزاروں سے ہوتا ہوا اندلس یعنی اسپین بھاگ گیا تھا)۔ ابوالعباس السفاح اب پوری مسلم دنیا کا بلا شرکتِ غیرے خلیفہ بن چکا تھا۔ اس نے دمشق کو چھوڑ کر عراق کے شہر "انبار" کو اپنا نیا دارالحکومت اور مرکزِ خلافت بنایا۔

​لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ جب بیرونی دشمن ختم ہو جاتے ہیں، تو سلطنت کے اندر نئے خطرات جنم لیتے ہیں۔ السفاح کو اب نہ صرف اپنے ان جرنیلوں سے خطرہ تھا جنہوں نے اسے تخت پر بٹھایا تھا، بلکہ مسلم سلطنت کی مشرقی سرحدوں پر اس وقت کی ایک اور عظیم سپر پاور "چینی سلطنت" (تانگ خاندان) اپنے لاکھوں کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کو کچلنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی۔ یہ آخری قسط داستان ہے تاریخ کی اس سب سے انوکھی جنگ کی جس نے دنیا کو لکھنے کے لیے "کاغذ" کا تحفہ دیا، اور السفاح کی زندگی کے ان آخری دنوں کی جہاں موت کے فرشتے نے اس کے پورے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

​باب اول: سلطنتوں کا ٹکراؤ — چین کا عروج اور مسلم سرحدیں

​سنہ 751ء (یعنی زاب کی فتح کے ٹھیک ایک سال بعد) کا واقعہ ہے کہ جب مسلم سلطنت کی مشرقی سرحدیں وسطی ایشیا (سینٹرل ایشیا، موجودہ ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان) کے علاقوں تک پہنچ چکی تھیں۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے دنیا کا مشہور تجارتی راستہ "شاہراہِ ریشم" (Silk Road) گزرتا تھا۔ اس راستے پر قبضے کا مطلب تھا پوری دنیا کی تجارت اور دولت پر قبضہ۔

​1۔ چین کی عظیم تانگ سلطنت (Tang Dynasty)

​اس دور میں چین پر "تانگ خاندان" کی حکومت تھی، جو چین کی تاریخ کا سب سے طاقتور اور سنہری دور مانا جاتا ہے۔ چینی شہنشاہ کے دل میں یہ خواہش تھی کہ وہ وسطی ایشیا کے تمام علاقوں کو فتح کر کے مسلم سلطنت کے دروازوں پر دستک دے۔ چینی فوج کا سپہ سالار ایک انتہائی کٹر اور ماہر جرنیل تھا جس کا نام کاو فک شیان (Gao Xianzhi) تھا۔ وہ کوریا کی جنگوں کا ہیرو تھا اور اس نے لاکھوں کی چینی پیادہ اور گھڑ سوار فوج کو جدید ترین کمانوں اور بارودی تیروں سے لیس کر کے مسلمانوں کے خلاف مارچ کا حکم دے دیا تھا۔

​2۔ فرغانہ اور شاش (تاشقند) کا تنازع

​جنگ کا فوری سبب یہ بنا کہ وسطی ایشیا کے دو چھوٹے شہروں "فرغانہ" اور "شاش" (موجودہ تاشقند) کے بادشاہوں کے درمیان آپس میں جنگ چھڑ گئی۔ فرغانہ کے بادشاہ نے چین کے جرنیل کاو فک شیان سے مدد مانگی۔ چینی جرنیل ایک بڑا لشکر لے کر آیا، اس نے شاش کے بادشاہ کو دھوکے سے گرفتار کر کے اس کا سر کاٹ دیا اور پورے شہر کو لوٹ لیا۔ شاش کے مقتول بادشاہ کے بیٹے نے بھاگ کر عباسی سلطنت کے گورنر ابومسلم خراسانی سے مدد کی فریاد کی: "خلیفہ کے سپاہیو! چین کا لشکر ہمارے بچوں کو غلام بنا رہا ہے، خدا کے لیے ہماری مدد کرو۔"

​باب دوم: جنگِ تالاس (Battle of Talas) — جولائی 751ء

​ابومسلم خراسانی نے جب دیکھا کہ چین کا لشکر مسلم سرحدوں کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے، تو اس نے خلیفہ ابوالعباس السفاح کو پیغام بھیجا۔ السفاح نے فوراً حکم دیا: "چینیوں کو وہیں روک دو، اس سے پہلے کہ وہ ہمارے شہروں میں داخل ہوں، ان کا غرور خاک میں ملا دو۔"

​1۔ لشکروں کا آمنے سامنے آنا

​ابومسلم خراسانی نے اپنے سب سے بہترین اور نڈر عباسی جرنیل زیاد بن صالح کو ایک بھاری عباسی لشکر دے کر روانہ کیا۔ جولائی 751ء کی شدید گرمی میں، موجودہ کرغزستان اور قازقستان کی سرحد پر بہنے والے دریائے تالاس کے کنارے دونوں عظیم الشان لشکروں کا سامنا ہوا۔

  • چینی لشکر: تاریخ نویسوں کے مطابق چینی فوج کی تعداد 70,000 سے ایک لاکھ کے درمیان تھی، جس میں ان کے روایتی کج کلاہ تیر انداز اور بھاری زرہ پوش شامل تھے۔
  • مسلم لشکر: عباسی فوج کی تعداد تقریباً 30,000 سے 40,000 کے قریب تھی، جس میں خراسان کے سخت جان جنگجو اور عرب کے تیز رفتار گھڑ سوار شامل تھے۔

​2۔ پانچ دنوں کی ہولناک کٹائی

​دریائے تالاس کے میدان میں پانچ دنوں تک وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جس نے ایشیا کا مستقبل طے کرنا تھا۔ پہلے تین دن چینی تیر اندازوں نے عباسی فوج پر تیروں کی وہ بارش کی کہ سورج کی روشنی چھپ گئی۔ چینیوں کے پاس ایسی بڑی کمانیں تھیں جو ایک وقت میں کئی نیزے نما تیر پھینکتی تھیں۔ عباسی فوج کے سینکڑوں سپاہی شہید ہوئے، لیکن جرنیل زیاد بن صالح نے اپنی فوج کو چٹان کی طرح جمائے رکھا۔

​چوتھے دن، عباسی گھڑ سواروں نے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے چینی فوج کی صفوں پر ایسا ہولناک حملہ کیا کہ جنگ کا پسا پلٹنے لگا۔ عربوں کی تلواریں اور خراسانیوں کے گرز جب چینیوں کے لوہے کے ہیلمٹ پر پڑتے، تو ان کے سروں کے پرخچے اڑ جاتے۔ میدانِ جنگ چینی سپاہیوں کی لاشوں سے اٹا پڑا تھا، لیکن چینی جرنیل اپنی تعداد کے بل بوتے پر اب بھی ڈٹا ہوا تھا۔

​3۔ قرلوق ترکوں کی غداری اور چین کا خاتمہ

​جنگ کے پانچویں دن، قدرت نے مسلمانوں کی مدد کے لیے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی امید چینی جرنیل کو خواب میں بھی نہیں تھی۔ چینی فوج کے ساتھ ایک بہت بڑا دستہ قرلوق ترکوں (Karluk Turks) کا تھا، جو کرائے کے جنگجو کے طور پر چین کا ساتھ دے رہے تھے۔ وہ کئی دنوں سے مسلمانوں کی بہادری دیکھ کر اندر سے متاثر ہو چکے تھے اور چینیوں کے رویے سے تنگ تھے۔

​جنگ کے آخری مرحلے میں، قرلوق ترکوں نے اچانک اپنی وفاداری بدل لی۔ انہوں نے پیچھے سے خود چینی فوج پر حملہ کر دیا، جبکہ سامنے سے عباسی جرنیل زیاد بن صالح نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہولناک حملہ کیا۔ چینی فوج دو چکی کے پاٹوں کے درمیان پس کر رہ گئی۔

​چینی لشکر میں ایسی ہولناک بھگدڑ مچی کہ تاریخِ چین میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ عباسیوں نے بھاگتے ہوئے چینیوں کا پیچھا کیا اور انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ چینی جرنیل کاو فک شیان اپنے چند باڈی گارڈز کے ساتھ بمشکل جان بچا کر بھاگا۔ اس جنگ میں 50,000 سے زائد چینی سپاہی مارے گئے اور تقریباً 20,000 چینیوں کو عباسی فوج نے قیدی بنا لیا۔ یہ تاریخِ اسلام میں چین کے خلاف مسلمانوں کی پہلی اور آخری سب سے بڑی فتح تھی۔

​باب سوم: کاغذ کی ایجاد کا راز اور بغداد کا سنہری دور

​جنگِ تالاس صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی، بلکہ اس جنگ نے دنیا کی تاریخ کو ایک ایسا تحفہ دیا جس نے انسانی علم اور تہذیب کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ اور وہ تحفہ تھا "کاغذ" (Paper)۔

​1۔ چینی قیدیوں کا انوکھا راز

​اس جنگ سے پہلے، پوری دنیا میں لکھنے کے لیے جانوروں کی کھالیں (چمڑا)، درختوں کے پتے، مٹی کی تختیاں یا مصر کا مہنگا "پاپائرس" (Papyrus) استعمال ہوتا تھا، جو کہ بہت بھاری اور مہنگا ہوتا تھا اور اس پر لمبی کتابیں لکھنا ناممکن تھا۔ چین کے لوگ کپاس اور شہتوت کے درخت کی چھال سے کاغذ بنانا جانتے تھے، لیکن انہوں نے اس راز کو دنیا سے چھپا کر رکھا ہوا تھا اور اس کی سزا موت تھی۔

​جنگِ تالاس کے بعد، جب عباسی جرنیل زیاد بن صالح ہزاروں چینی قیدیوں کو لے کر سمرقند پہنچا، تو خلیفہ ابوالعباس السفاح کا حکم آیا کہ ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور جن کے پاس کوئی ہنر ہے، انہیں رہا کر دیا جائے۔

​ان قیدیوں میں کچھ ایسے کاریگر شامل تھے جو کاغذ بنانے کے ماہر تھے۔ انہوں نے اپنی جان بچانے اور آزادی حاصل کرنے کے بدلے مسلمانوں کو کاغذ بنانے کا وہ خفیہ طریقہ سکھانے کی پیشکش کی جو صدیوں سے دنیا سے چھپا ہوا تھا۔

​2۔ سمرقند اور بغداد میں دنیا کی پہلی پیپر ملز

​مسلمانوں نے فوراً سمرقند میں دنیا کا پہلا سرکاری کاغذ بنانے کا کارخانہ (Paper Mill) قائم کیا۔ چینی کاریگروں کی نگرانی میں شہتوت کے ریشوں سے ایسا ہلکا، خوبصورت اور سستا کاغذ تیار ہوا کہ مسلمانوں کی عقل دنگ رہ گئی۔

​اس کے بعد یہ ہنر سمرقند سے ہوتا ہوا دارالحکومت انبار اور بعد میں بغداد پہنچا۔ کاغذ کی اس دستیابی نے مسلمانوں کے اندر علم کا ایک ایسا سیلاب کھڑا کر دیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ قرانِ پاک کے نسخے، احادیث کی کتابیں، سائنس، ریاضی اور تاریخ کی لاکھوں کتابیں اس کاغذ پر لکھی جانے لگیں۔ اسی کاغذ کی بدولت آگے چل کر خلافتِ عباسیہ کا وہ "سنہری دور" (Golden Age) شروع ہوا جس نے بغداد کو پوری دنیا کے علم کا مرکز بنا دیا۔ اگر جنگِ تالاس نہ ہوتی، تو شاید دنیا آج بھی سستے اور اچھے کاغذ سے محروم رہتی۔

​باب چہارم: اندرونی خوف اور ابومسلم خراسانی سے بڑھتی ہوئی دوری

​ایک طرف سلطنت کی سرحدیں چین تک پھیل رہی تھیں، تو دوسری طرف خلیفہ ابوالعباس السفاح کے دل میں ایک نیا خوف گھر کر رہا تھا—اور وہ خوف تھا خود اس کے اپنے سپہ سالار ابومسلم خراسانی کا۔

​1۔ ابومسلم کی بڑھتی ہوئی طاقت

​ابومسلم خراسانی اس وقت خراسان کا اکیلا بادشاہ بن چکا تھا۔ وہاں کی فوج خلیفہ سے زیادہ ابومسلم کے ایک اشارے پر مرنے کٹنے کو تیار رہتی تھی۔ ابومسلم کی شخصیت اتنی بااثر ہو چکی تھی کہ وہ خود کو خلیفہ کے برابر سمجھنے لگا تھا۔ وہ جب بھی کوئی فیصلہ کرتا، تو خلیفہ سے اجازت لینا ضروری نہیں سمجھتا تھا۔

​خلیفہ ابوالعباس السفاح کا بڑا بھائی ابوجعفر المنصور (جو کہ انتہائی دوراندیش اور سخت مزاج انسان تھا) اکثر السفاح سے کہتا تھا: "میرے بھائی! ابومسلم کی طاقت ہماری خلافت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ خراسان کے لوگ اسے اپنا خدا سمجھنے لگے ہیں۔ اگر اج ہم نے اسے ختم نہ کیا، تو کل یہ ہماری گردنیں کاٹ کر خلافت پر قبضہ کر لے گا۔"

​2۔ السفاح کی خاموشی اور حکمتِ عملی

​السفاح اگرچہ بے رحم تھا، لیکن وہ ایک عاقل سیاست دان بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ابھی خلافت نئی ہے اور بنو امیہ کے حامی ابھی بھی کہیں کہیں سر اٹھا رہے ہیں۔ اگر اس وقت ابومسلم خراسانی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا، تو پوری عباسی فوج آپس میں لڑ پڑے گی اور سلطنت ختم ہو جائے گی۔

​اس لیے السفاح نے اپنے بھائی المنصور کو روکا اور کہا: "ابھی صبر کرو۔ ابومسلم نے ہمارے خاندان کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، ہمیں اس کی وفاداری پر شک نہیں کرنا چاہیے۔" لیکن اندر ہی اندر السفاح نے ابومسلم کی طاقت کو کم کرنے کے لیے اپنے چچوں اور بھائیوں کو سلطنت کے دوسرے بڑے صوبوں (جیسے شام، مصر اور عراق) کا گورنر بنا دیا تاکہ ابومسلم خراسانی کو عراق کی طرف بڑھنے سے روکا جا سکے۔ یہ وہ اندرونی سرد جنگ تھی جو السفاح کے پورے دور میں پردے کے پیچھے چلتی رہی۔

​باب پنجم: موت کا فرشتہ اور ابوالعباس السفاح کے آخری ایام

​ابوالعباس السفاح نے اپنے دشمنوں کا خون بہا کر، سلطنتوں کو کچل کر اور لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اپنا خوف بٹھا کر جس خلافت کی بنیاد رکھی تھی، اسے بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ اپنے نئے محل میں بیٹھ کر اپنی کامیابیوں پر فخر کر رہا تھا، لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے جابروں اور سلاطین کو جس چیز نے مٹی میں ملایا، وہ موت ہے، جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

​1۔ چیچک (Smallpox) کی ہولناک بیماری

​ذوالحجہ سنہ 136 ہجری (جون 754ء) کا مہینہ تھا جب ابوالعباس السفاح کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ اسے شدید بخار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پورے جسم پر چیچک (Smallpox) کے ہولناک دانے نکل آئے۔ یہ اس دور کی ایک انتہائی موذی اور لاعلاج بیماری تھی جس میں انسان کا جسم اندر اور باہر سے گلنا شروع ہو جاتا تھا۔

​وہ خلیفہ جس کے نام سے بڑے بڑے سلاطین کے دل کانپتے تھے، آج اپنے شاہی بستر پر بے بس پڑا ہوا درد سے تڑپ رہا تھا۔ اس کے پاس دنیا کے بہترین حکیم موجود تھے، لیکن کوئی بھی خلیفہ کے جسم کو گلنے سے نہیں بچا پا رہا تھا۔ اس کے ریشمی گدے اور محل کی دولت اس کے کسی کام نہیں آ رہی تھی۔

​2۔ آخری وصیت اور ولی عہدی کا فیصلہ

​جب السفاح کو یقین ہو گیا کہ اس کا آخری وقت آ چکا ہے اور وہ اس بیماری سے جانبر نہیں ہو سکے گا، تو اس نے اپنے خاندان کے بزرگوں کو جمع کیا۔ اس نے کاغذ اور قلم منگوایا اور اپنی آخری وصیت لکھی۔

​السفاح کے ہاں دو چھوٹے بچے تھے (ایک بیٹا محمد اور ایک بیٹی ریطہ)، لیکن وہ جانتا تھا کہ سلطنت کو سنبھالنے کے لیے اس وقت ایک لوہے جیسے مضبوط انسان کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنے دونوں بچوں کو چھوڑ کر اپنے بڑے بھائی ابوجعفر المنصور کو اپنا پہلا ولی عہد (اگلا خلیفہ) مقرر کیا، اور المنصور کے بعد اپنے چچا زاد بھائی عیسیٰ بن موسیٰ کو ولی عہد بنایا۔ اس نے وصیت پر مہر لگائی اور اسے اپنے خاندان کے حوالے کر دیا۔

​باب ششم: عبرت ناک انجام اور داستان کا خاتمہ

​13 ذوالحجہ سنہ 136 ہجری (9 جون 754ء) کو، صرف ساڑھے چار سال کی مختصر حکومت کے بعد، ابوالعباس السفاح نے صرف 32 سال کی عمر میں تڑپ تڑپ کر اپنی آخری سانس لی۔

​1۔ تاریخ کا عبرت ناک سبق

​تختِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد اسے صرف ۴ سال اور ۹ مہینے کا وقت ملا۔ اس نے نوے سالہ اموی سلطنت کو خاک میں ملانے، دمشق کی گلیوں کو خون سے رنگنے، اور لاشوں پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے لیے جتنا ظلم کیا تھا، اس کا پھل بھوگنے کے لیے وہ خود اس دنیا میں زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا۔ اسے عراق کے شہر انبار کی اسی جامع مسجد کے صحن میں دفن کیا گیا جہاں وہ کبھی عیش و عشرت کے فیصلے کرتا تھا۔

​السفاح کی موت تاریخ کے قارئین کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ اقتدار، دولت اور طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسان کی زندگی اور اس کا غرور ایک پانی کے بلبلے کی طرح ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

​2۔ خلافتِ عباسیہ کا مستقبل

​السفاح کی موت کے بعد اس کا بھائی ابوجعفر المنصور خلافتِ عباسیہ کا دوسرا خلیفہ بنا۔ المنصور نے ہی آگے چل کر سمرقند سے آنے والے اسی "کاغذ" کی مدد سے بغداد شہر کی بنیاد رکھی اور خلافتِ عباسیہ کو دنیا کی سب سے بڑی علمی اور ثقافتی سپر پاور بنایا، جس کی حکومت اگلے 500 سال تک قائم رہی۔

​ابوالعباس السفاح تاریخ کے پینل پر ایک ایسا کردار بن کر ابھرا جسے نہ تو تاریخ کبھی فراموش کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے بہائے ہوئے خون کے دریاؤں کو کبھی معاف کر سکتی ہے۔ وہ خلافتِ عباسیہ کا وہ بانی تھا جس نے اپنے خاندان کے لیے تخت کی بنیادیں اپنے دشمنوں کی ہڈیوں پر رکھی تھیں۔

——————————————————————

امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کردیں اور آگے بھی شیئر کریں 
اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان