نور الدین محمد جہانگیر: عدل و انصاف کا بادشاہ اور مغل سلطنت کا سنہری دور
نور الدین محمد جہانگیر: عدل و انصاف کا بادشاہ اور مغل سلطنت کا سنہری دور (سیریز) قسط اول: ابتدائی زندگی، جانشینی کی کشمکش اور تختِ سلطنت کا قیام (تفصیلی تجزیہ) 1. شہزادہ سلیم کی ولادت: ایک تاریخی بشارت اور روحانی پس منظر مغل سلطنت کی تاریخ میں شہنشاہ اکبر کا دورِ حکومت ایک ایسے عروج کی علامت تھا جہاں عسکری طاقت اور علمی فتوحات ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ تاہم، اس عظیم الشان سلطنت کے وارث کے معاملے میں اکبر برسوں تک ایک شدید ذہنی اور روحانی کرب میں مبتلا رہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اکبر نے ہندوستان کے طول و عرض میں موجود اولیائے کرام کی بارگاہوں میں حاضری دی تاکہ انہیں کوئی ایسا روحانی تسکین ملے جس سے سلطنت کو ایک وارث نصیب ہو۔ بالآخر، 30 اگست 1569ء کا وہ دن آیا جب فتح پور سیکری میں اکبر کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی۔ یہ ولادت محض ایک شاہی واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک روحانی بشارت کا نتیجہ تھی۔ اکبر نے اپنے پیر و مرشد شیخ سلیم چشتیؒ کی نسبت سے اس بچے کا نام 'سلیم' رکھا۔ سلیم کی پیدائش پر اکبر نے پورے ہندوستان میں عام معافی کا اعلان کیا، جیلوں کے دروازے کھول دیے گئے، اور ...