ظہیر الدین محمد بابر کی عظیم الشان فتوحات: وہ جنگیں اور قلعے جنہوں نے مغل سلطنت کی تاریخ بدل دی
ظہیر الدین محمد بابر: مغل سلطنت کا بانی، فرغانہ کی خاک سے ہندوستان کے تختِ شاہی تک کی داستانِ عزیمت
پارٹ 1: فرغانہ کی وادی، سمرقند کی حسرت اور بارہ سالہ بادشاہ کی لرزہ خیز داستانِ فرار
1. تمہید: تاریخِ عالم کا ایک انوکھا اور بے مثال جنگجو
جب بھی دنیا کے عظیم فاتحین، سلطنتیں قائم کرنے والے جری جرنیلوں اور نامور بادشاہوں کا ذکر آتا ہے، تو ظہیر الدین محمد بابر کا نام تاریخ کے افق پر ایک منفرد اور چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ابھرتا ہے。 بابر صرف ایک بادشاہ یا تلوار کا دھنی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بہترین ادیب، شاعر، فطرت کا شیدائی اور اپنی سوانح عمری "تزکِ بابری" (Baburnama) کے ذریعے تاریخِ انسانی کو اپنے دور کے سچے حالات سے روشناس کرانے والا ایک عظیم انسان تھا۔
بابر کی زندگی کوئی عام شاہی زندگی نہیں تھی جس میں اسے سب کچھ بنا بنایا ورثے میں مل گیا ہو۔ اس کی داستانِ حیات مصائب و آلام، اپنوں کی غداریوں، راتوں رات تخت سے محروم ہو کر پہاڑوں کی خاک چھاننے اور پھر اپنے فولادی عزم کی بدولت ایک نئی دنیا فتح کرنے کی ایسی سنسنی خیز کہانی ہے جو انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ ایک ایسا شہزادہ جس نے محض بارہ سال کی عمر میں تاج پہنا، جس سے اس کا وطن چھین لیا گیا، جو بھوک، پیاس اور سردی کے عالم میں کئی بار موت کے منہ سے گزرا، لیکن اس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ یہی وہ صفت تھی جس نے اسے فرغانہ کی چھوٹی اور گمنام وادی سے اٹھا کر ہندوستان جیسی عظیم اور وسیع سرزمیں کا شہنشاہِ اعظم بنا دیا۔
2. نسب اور پیدائش: تیموری جلال اور چنگیزی جلال کا سنگم
ظہیر الدین محمد بابر 14 فروری 1483ء کو وسطی ایشیا کی ایک نہایت خوبصورت اور زرخیز وادی فرغانہ (Fergana - موجودہ ازبکستان) کے شہر اندیجان میں پیدا ہوا۔ قدرت نے بابر کی رگوں میں دنیا کے دو سب سے بڑے اور خوفناک فاتحین کا خون دوڑا رکھا تھا:
- باپ کی طرف سے: بابر کا شجرۂ نسب پانچویں پشت میں امیر تیمور (تیمور لنگ) سے ملتا تھا، جو اپنے دور کا ایک عظیم اور ناقابلِ شکست مسلم فاتح تھا۔
- ماں کی طرف سے: بابر کی والدہ "قتلغ نگار خانم" کا نسب چودہویں پشت میں منگولیا کے خوفناک جنگجو چنگیزی خان سے ملتا تھا۔
جب بابر پیدا ہوا، تو اس کے منگول رشتہ داروں کو اس کا اصل نام "ظہیر الدین محمد" پکارنے میں مشکل پیش آتی تھی، کیونکہ یہ ایک خالص عربی اور بھاری نام تھا۔ چنانچہ انہوں نے پیار سے اسے "بابر" کہنا شروع کر دیا، جس کا منگول زبان میں مطلب ہوتا ہے "شیر" یا "چیتا"۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ بچہ واقعی اپنے نام کی طرح ایک ایسا شیر ثابت ہوا جس نے آگے چل کر بڑی بڑی سلطنتوں کا شکار کیا۔
بابر کے والد "عمر شیخ مرزا" فرغانہ کے حاکم تھے۔ وہ امیر تیمور کی سلطنت کے بکھرنے کے بعد قائم ہونے والی چھوٹی چھوٹی تیموری ریاستوں میں سے ایک کے مالک تھے۔ عمر شیخ مرزا ایک نہایت رحم دل، شجاع لیکن غصیلو انسان تھے، جنہیں کبوتر بازی کا بہت شوق تھا۔ فرغانہ کی وادی چاروں طرف سے اونچے پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی، جہاں پھل، باغات، میٹھے چشمے اور ہریالی بکثرت تھی، اور یہی وہ ماحول تھا جس نے بابر کے اندر بچپن سے ہی قدرت اور باغبانی کی محبت پیدا کر دی تھی۔
3. بارہ سال کی عمر میں تخت نشینی: ایک ہولناک حادثہ اور کٹھن امتحان
بابر ابھی محض بارہ سال کا ایک معصوم بچہ تھا اور اپنی زندگی کے ابتدائی اسباق سیکھ رہا تھا کہ 1494ء میں ایک ایسا ہولناک حادثہ پیش آیا جس نے اس کے بچپن کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دیا اور اسے مردوں کی بے رحم دنیا میں لا کھڑا کیا۔
بابر کے والد عمر شیخ مرزا اندیجان کے قلعے کی ایک اونچی چٹان پر بنے ہوئے کبوتر خانے میں موجود تھے اور اپنے کبوتروں کو اڑا رہے تھے۔ اچانک چٹان کا ایک بڑا حصہ نیچے گرا اور عمر شیخ مرزا اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ فرغانہ کے شاہی محل میں کہرام مچ گیا۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی بارہ سال کے سمارٹ اور ذہین شہزادے بابر کو فرغانہ کا نیا حاکم مقرر کر دیا گیا اور اس کے سر پر شاہی تاج رکھ دیا گیا۔
لیکن یہ تاج کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھا، بلکہ کانٹوں کا ایک ایسا بستر تھا جس پر بابر کو اپنی زندگی کے اگلے تیس سال گزارنے تھے۔ بارہ سال کے اس بچے کو ابھی باپ کا سوگ منانے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ اس کے اپنے سگے چچا (حاکمِ سمرقند) اور سگے ماموں (حاکمِ تاشقند) نے یہ سمجھ کر کہ "فرغانہ کا تخت اب ایک کمزور بچے کے ہاتھ میں ہے"، اپنی اپنی فوجیں لے کر فرغانہ پر حملہ کر دیا۔ وہ اس معصوم بچے سے اس کا ملک اور اس کی ریاست چھیننا چاہتے تھے۔
4. نانی "احسان دولت بیگم" کا تاریخی کردار اور پہلی کامیابی
اس انتہائی نازک اور مایوس کن لمحے میں، جب فرغانہ کے امراء اور سپاہی خوفزدہ ہو کر بابر کا ساتھ چھوڑنے کا سوچ رہے تھے، بابر کی نانی "احسان دولت بیگم" ایک لوہے کی چٹان بن کر کھڑی ہو گئیں۔ وہ چنگیز خان کے قبیلے کی ایک انتہائی ذہین، بہادر اور سیاست دان خاتون تھیں۔
انہوں نے بارہ سال کے بابر کا حوصلہ بندھایا اور شاہی دربار کے غداروں کو چن چن کر ختم کیا۔ انہوں نے بابر سے کہا: "بیٹا! تمہاری رگوں میں تیمور اور چنگیز کا خون ہے۔ تم نے دشمن کی عددی برتری سے نہیں ڈرنا۔ اپنے قلعے کے دروازے بند کرو اور دلیری سے لڑو!" نانی کی اس اسٹریٹجک گائیڈنس کی بدولت بابر نے اپنی وفادار پیادہ فوج کو منظم کیا اور اپنے چچا اور ماموں کے لشکروں کو ایسی اسمارٹ عسکری چالوں سے شکست دی کہ وہ حیران رہ گئے۔ بارہ سال کے اس بچے نے اپنے پہلے ہی امتحان میں دنیا کو یہ دکھا دیا کہ وہ کوئی عام بچہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی مغل شیر ہے۔ اس نے کامیابی سے فرغانہ کا دفاع کیا اور اپنی سلطنت کو بچا لیا۔
5. سمرقند کی حسرت: امیر تیمور کے دارالحکومت کو جیتنے کا جنون
فرغانہ پر اپنا کنٹرول پکا کرنے کے بعد، نو جوان بابر کی آنکھوں میں ایک بہت بڑا اور مقدس خواب سجنے لگا۔ یہ خواب تھا سمرقند (Samarkand) کو فتح کرنے کا۔ سمرقند اس کے پردادا امیر تیمور کا دارالحکومت تھا، جسے اس دور میں "دنیا کا دل" اور علم و ثقافت کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا تھا۔ تیموری شہزادوں کا یہ ماننا تھا کہ جو سمرقند کا بادشاہ ہے، وہی اصل میں امیر تیمور کا حقیقی جانشین ہے۔
اس وقت سمرقند کے اندر تیموری شہزادوں کی آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے کمزوری پیدا ہو چکی تھی۔ 1497ء میں، جب بابر کی عمر تقریباً چودہ سال تھی، اس نے اپنی چھوٹی سی فوج تیار کی اور سمرقند کی طرف مارچ کر دیا۔ بابر نے سمرقند کا سات ماہ تک انتہائی سخت گھیراؤ (Siege) کیے رکھا۔ سمرقند کے لوگ بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے تھے، اور بالآخر چودہ سال کے اس جری شہزادے کی عسکری مہارت کے سامنے سمرقند کے قلعے نے گھٹنے ٹیک دیے، اور بابر فاتح بن کر امیر تیمور کے نیلے گنبدوں والے شہر میں داخل ہو گیا۔ یہ بابر کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی؛ وہ اپنے پردادا کے تخت پر بیٹھ چکا تھا اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
6. قسمت کا ہولناک موڑ: جب ایک ساتھ سمرقند اور فرغانہ دونوں ہاتھ سے نکل گئے
بابر ابھی سمرقند کی فتح کا جشن منا ہی رہا تھا کہ قسمت نے ایک ایسا ہولناک اور بے رحم موڑ لیا جس نے بابر کو بلندیوں سے اٹھا کر سٹریٹ پر لا پھینکا۔ سمرقند پر قبضے کے فوراً بعد بابر شدید بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کے بچنے کی امید ختم ہو گئی اور وہ کئی دنوں تک بے ہوش رہا۔
اس دوران فرغانہ کے کچھ غدار امراء نے اندیجان میں یہ افواہ پھیلا دی کہ "بابر سمرقند میں مر چکا ہے"۔ انہوں نے بابر کے سوتیلے بھائی "جہانگیر مرزا" کو فرغانہ کا نیا بادشاہ بنا دیا اور بابر کے وفاداروں کو قلعے سے نکال دیا۔ جب بابر کو ہوش آیا اور اسے پتا چلا کہ اس کے اپنے وطن فرغانہ پر غداروں نے قبضہ کر لیا ہے، تو وہ سمرقند کی پوزیشن کو مضبوط کیے بغیر، اپنے چند سو سپاہیوں کو لے کر فرغانہ کو واپس بچانے کے لیے نکلا۔
لیکن جیسے ہی بابر سمرقند سے باہر نکلا، سمرقند کے باغیوں نے قلعے کے دروازے بند کر دیے اور وہاں ایک نئے تیموری شہزادے کی حکومت کا اعلان کر دیا۔ اب بابر کے پاس نہ سمرقند رہا اور نہ ہی اس کا اپنا وطن فرغانہ رہا! وہ دونوں بڑی ریاستوں سے ایک ہی لمحے میں محروم ہو چکا تھا۔ تاریخ لکھتی ہے کہ پندرہ سال کا یہ نو جوان شہزادہ فرغانہ اور سمرقند کے درمیان پہاڑوں میں کھڑا اپنے چند وفادار ساتھیوں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اس کے پاس نہ رہنے کو گھر تھا، نہ کھانے کو کھانا اور نہ ہی کوئی بڑی فوج۔
7. ازبکوں کا عروج: محمد شیبانی خان، بابر کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن
جب بابر سمرقند اور فرغانہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں میں بھٹک رہا تھا، اسی دوران وسطی ایشیا کے افق پر ایک ایسا ہولناک طوفان اٹھ رہا تھا جو نہ صرف بابر بلکہ تمام تیموری شہزادوں کو ہمیشہ کے لیے مٹانے والا تھا- یہ طوفان تھا ازبکوں کا کٹر اور خونخوار جرنیل محمد شیبانی خان (Muhammad Shaybani Khan)۔
شیبانی خان منگول نسل کا ایک نہایت ہی تجربہ کار، ظالم اور عسکری سائنس کا ماہر جرنیل تھا۔ اس نے اپنی ایک بہت بڑی ازبک فوج تیار کی تھی جس کا مقصد وسطی ایشیا سے تمام تیموریوں کا خاتمہ کر کے اپنی ازبک سلطنت قائم کرنا تھا- شیبانی خان نے سمرقند پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔
بابر نے ہمت نہیں ہاری۔ 1500ء میں، اس نے رات کے اندھیرے میں اپنے صرف 240 جانثاروں کے ساتھ سمرقند کے قلعے پر ایک ایسا ناگہانی اور حیران کن کمانڈو حملہ کیا کہ شیبانی خان کے ہزاروں سپاہی ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے، اور بابر نے دوسری بار سمرقند پر قبضہ کر لیا۔ لیکن یہ فتح بہت عارضی تھی- شیبانی خان اگلے ہی سال ایک بہت بڑا لشکر لے کر واپس آیا اور اس نے معرکہ سرِ پل (Battle of Sar-e-Pul - 1501ء) میں بابر کو ایک عبرت ناک شکست دی۔ اس جنگ میں شیبانی خان نے ازبکوں کی روایتی عسکری چال "تلغمی جنگی طریقہ" (Tulughma Tactical System) استعمال کیا، جس میں دشمن کو دونوں بازوؤں سے گھیر کر وسط میں لا کر کچل دیا جاتا ہے۔ بابر اس شکست سے بال بال بچا، لیکن اسے سمرقند کا دوبارہ گھیراؤ برداشت کرنا پڑا۔
8. سمرقند کا ہولناک گھیراؤ اور بہن "خانزادہ بیگم" کی عظیم قربانی
شیبانی خان نے سمرقند کے قلعے کو چاروں طرف سے اتنی سختی سے گھیر لیا کہ قلعے کے اندر اناج کا ایک دانہ بھی آنا بند ہو گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سمرقند کے اندر قحط کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ لوگ بھوک کی وجہ سے کتوں، بلیوں اور گھوڑوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ سپاہی بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے اور بابر بے بسی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، کیونکہ باہر سے کسی غیبی مدد کی کوئی امید نہیں تھی۔
بالآخر، شیبانی خان نے بابر کو ایک پیغام بھیجا: "اگر تم اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانا چاہتے ہو، تو سمرقند کا قلعہ میرے حوالے کر دو اور اپنی بڑی بہن خانزادہ بیگم کا نکاح میرے ساتھ کر دو، ورنہ میں قلعے کے اندر موجود ایک ایک انسان کو قتل کر دوں گا!"
یہ بابر کی زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور جگر سوز لمحہ تھا۔ اپنی غیرت اور اپنی پیاری بہن کو اپنے سب سے بڑے دشمن کے حوالے کرنا کسی بھی بھائی کے لیے موت سے بڑھ کر تھا۔ لیکن خانزادہ بیگم نے جب اپنے چھوٹے بھائی بابر اور سمرقند کے معصوم لوگوں کو بھوک سے مرتے دیکھا، تو انہوں نے اسلام اور اپنے بھائی کے تحفظ کے لیے ایک لازوال قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے روتے ہوئے بابر سے کہا: "بابر! میری جان کی پرواہ مت کرو، تم زندہ رہو گے تو ایک دن دوبارہ سلطنت کھڑی کر لو گے۔ میرا نکاح شیبانی خان سے کر دو اور یہاں سے نکل جاؤ۔"
بابر انتہائی دکھی دل کے ساتھ، رات کے اندھیرے میں اپنی والدہ، نانی اور صرف چند وفادار سپاہیوں کو لے کر سمرقند کے خفیہ دروازے سے باہر نکلا۔ اس کی بہن دشمن کے قبضے میں رہ گئی اور سمرقند پر ہمیشہ کے لیے ازبکوں کا قبضہ ہو گیا۔ پندرہ سولہ سال کا یہ شہزادہ اب ایک بار پھر بالکل بے وطن اور بے یار و مددگار ہو چکا تھا۔
9. پہاڑوں میں آوارہ وطنی: جب ایک بوڑھی عورت نے بابر کی تقدیر بدل دی
سمرقند سے نکلنے کے بعد بابر کی زندگی کا سب سے تاریک اور کٹھن دور شروع ہوا۔ وہ کئی سالوں تک وسطی ایشیا کے سنگلاخ اور سرد پہاڑوں (چترال اور پامیر کے دروں) میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بھٹکتا رہا۔ سردیوں کے موسم میں جب برف باری ہوتی، تو بابر کے پاس پہننے کے لیے اچھے کپڑے اور جوتے بھی نہیں ہوتے تھے۔ وہ اور اس کے سپاہی چٹانوں کے پیچھے چھپ کر راتیں گزارتے اور جنگلی پھل یا پتے کھا کر گزارا کرتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بابر کے پاس صرف ایک خیمہ بچا تھا، جس میں اس کی والدہ اور نانی رہتی تھیں، اور وہ خود باہر برف پر سوتا تھا۔
انہی دنوں، اپنی آوارہ وطنی کے دوران، بابر پہاڑوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پناہ لیے ہوئے تھا- وہاں اس کی ملاقات ایک 111 سال کی بوڑھی عورت سے ہوئی، جو اس قبیلے کے ایک غریب کسان کی ماں تھی۔ اس بوڑھی عورت نے جب سنا کہ یہ امیر تیمور کا پرپوتا بابر ہے، تو اس نے بابر کو اپنے پاس بٹھایا اور اسے پرانی کہانیاں سنانا شروع کیں۔
اس بوڑھی عورت کا ایک بھائی امیر تیمور کی فوج میں سپاہی تھا جب تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔ اس عورت نے بابر کو بتایا:
"بیٹا! تم ان سرد پہاڑوں میں کیوں اپنا وقت اور خون ضائع کر رہے ہو؟ سمرقند اور فرغانہ کو اب بھول جاؤ، وہاں ازبک بہت طاقتور ہو چکے ہیں۔ اپنے پردادا امیر تیمور کی تاریخ پڑھو! انہوں نے جنوبی ہند کے اس سونے کے دیس 'ہندوستان' پر حملہ کیا تھا، جہاں بے پناہ دولت، ہیرے، جواہرات اور وسیع زمینیں ہیں۔ وہ ایک ایسی سرزمیں ہے جسے فتح کرنا تمہارے جیسے شیر کا کام ہے۔ اپنے رخ کو جنوب کی طرف کرو، کابل کو جیتو اور پھر ہندوستان کا رخ کرو!"
اس 111 سال کی بوڑھی عورت کی باتوں نے بابر کے دل کے اندر بجھی ہوئی آگ کو دوبارہ بھڑکا دیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے کے بجائے ایک نئی روشنی چمکنے لگی۔ اس نے محسوس کر لیا کہ وسطی ایشیا کے یہ پہاڑ اس کا مقدر نہیں ہیں، بلکہ قدرت اسے کسی بہت بڑے معرکے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ اس نے اپنے انسو پونچھے، اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور کابل (افغانستان) کی طرف مارچ کرنے کا ایک تاریخی فیصلہ کیا—اور یہی وہ فیصلہ تھا جس نے آگے چل کر دنیا کی سب سے امیر اور عظیم مغل سلطنت کی بنیاد رکھنی تھی
پارٹ 2: کابل کی فتح، قندھار کا معرکہ، شاہِ ایران سے اتحاد اور ہندوستان پر حملے کا ماسٹر پلان
1. کابل کی طرف ہجرت: ایک نیا عزم اور نئی سرزمیں
سمرقند اور فرغانہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے اور وسطی ایشیا کے سرد پہاڑوں میں طویل آوارہ وطنی کے بعد، ظہیر الدین محمد بابر نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب پرانی یادوں میں رونے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ 111 سال کی اس بوڑھی عورت کی باتوں نے اس کے دل میں جو شعلہ جلایا تھا، وہ اب ایک دھکتا ہوا الائو بن چکا تھا۔ سنہ 1504ء میں، جب بابر کی عمر تقریباً 21 سال ہو چکی تھی، اس نے اپنے وفادار ساتھیوں (جن کی تعداد اب بڑھ کر تقریباً دو سے تین ہزار ہو چکی تھی) کو اکٹھا کیا اور ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں کو عبور کر کے جنوب کی طرف یعنی کابل (Kabul - افغانستان) کی طرف مارچ شروع کر دیا۔
اس وقت کابل کے حالات بابر کے حق میں بہت سازگار تھے۔ کابل پر بابر کے ایک چچا "الغ بیگ مرزا" کی حکومت تھی، لیکن ان کے انتقال کے بعد کابل میں شدید خانہ جنگی اور افری تفری مچ چکی تھی۔ وہاں کے امراء اور عوام ایک مضبوط اور عادل حکمران کے منتظر تھے۔ جب بابر اپنی فوج کے ساتھ کابل کے مضافات میں پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ کابل کا قلعہ ارگ (Arg) بہت مضبوط ہے، لیکن وہاں کے موجودہ حاکم "مقیم ارغون" کے پاس عوام کی تائید نہیں تھی۔
بابر نے کابل کا گھیراؤ کیا، لیکن وہ وہاں کوئی بڑا خون خرابہ نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ کابل کو اپنی نئی زندگی کا مرکز بنانا چاہتا تھا۔ اس نے مقیم ارغون کو ایک نہایت معقول اور سیاسی پیغام بھیجا: "میں یہاں تمہاری جان لینے نہیں، بلکہ اپنے بزرگوں کی سرزمیں کو سنبھالنے آیا ہوں۔ اگر تم امن کے ساتھ قلعہ میرے حوالے کر دو، تو میں تمہیں اور تمہارے خاندان کو پورے مال و اسباب کے ساتھ قندھار جانے کی اجازت دے دوں گا۔" مقیم ارغون نے بابر کی عسکری طاقت اور اس کے حسنِ اخلاق کو دیکھا، تو اس نے صلح کا راستہ اپنایا۔ 1504ء کے آخری مہینوں میں، بابر بغیر کسی بڑے جانی نقصان کے کابل کا نیا بادشاہ بن گیا۔
2. کابل کا تخت: بابر کی زندگی کا پہلا مضبوط ٹھکانہ
کابل کی تخت نشینی بابر کی زندگی کا ایک بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھی۔ فرغانہ کی اس چھوٹی اور پہاڑوں میں گھری وادی کے مقابلے میں کابل ایک بہت بڑا تجارتی اور اسٹریٹجک مرکز تھا، جو وسطی ایشیا اور ہندوستان کے درمیان ایک گیٹ وے (Gateway) کی حیثیت رکھتا تھا۔ بابر نے کابل کے تخت پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے وہاں کی معیشت اور فوج کو منظم کیا۔ اس نے دمشق اور ایران سے آئے ہوئے اچھے کاریگروں کے ذریعے اپنی فوج کے لیے نئے ہتھیار اور ڈھالیں تیار کروائیں۔
بابر کو کابل کی آب و ہوا، وہاں کے پھل، اور خاص طور پر وہاں کے انگور اور انار بہت پسند آئے۔ اس نے کابل میں کئی خوبصورت باغات لگوائے، جن میں سے "باغِ بابر" سب سے زیادہ مشہور ہے (جہاں آج بھی اس کی قبر موجود ہے)۔ کابل میں ہی بابر کے ہاں اس کا سب سے بڑا اور لاڈلا بیٹا "نصیر الدین محمد ہمایوں" پیدا ہوا، جس کی پیدائش پر بابر نے کابل کے غریبوں میں سونا اور چاندی تقسیم کیا۔
کابل کا بادشاہ بننے کے بعد، بابر نے ایک اور تاریخی قدم اٹھایا۔ اس نے اپنے پرانے روایتی لقب "مرزا" (جو تیموری شہزادے اپنے نام کے ساتھ لگاتے تھے) کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اس کی جگہ "پادشاہ" (Padshah - شہنشاہ) کا نیا اور عظیم الشان لقب اختیار کیا۔ اس کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ وہ اب کوئی چھوٹا شہزادہ نہیں رہا، بلکہ ایک خود مختار اور بڑی سلطنت کا مالک بن چکا ہے۔
3. قندھار کا ہولناک معرکہ: ارغونوں کے خلاف پہلی بڑی جنگ
کابل پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد، بابر کے سامنے سب سے بڑا خطرہ قندھار (Kandahar) کی طرف سے تھا، جہاں مقیم ارغون اور اس کا بڑا بھائی شاہ بیگ ارغون حکومت کر رہے تھے۔ ارغون بھائیوں نے بابر کو کابل سے نکالنے کے لیے اندر ہی اندر سازشیں شروع کر دیں اور وسطی ایشیا کے ازبکوں (بابر کے کٹر دشمن شیبانی خان) کے ساتھ خط و کتابت شروع کر دی تاکہ وہ کابل پر حملہ کر دیں۔
بابر اس خطرے کو بھانپ گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ اس سے پہلے کہ دشمن اس کے گھر پر آئے، وہ خود آگے بڑھ کر دشمن کا خاتمہ کرے گا۔ سنہ 1507ء میں، بابر نے کابل کی فوج تیار کی اور قندھار کی طرف پیش قدمی کی۔ قندھار کے میدان میں دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا تو ارغونوں کا لشکر مسلمانوں کے روایتی عربی اور افغانی جنگجوؤں پر مشتمل تھا اور ان کی تعداد بابر کی فوج سے دگنی تھی۔
اس جنگ میں بابر نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایک بالکل نئی عسکری صف بندی کی جسے "کوینس" (Contextual Regiment System) کہا جاتا ہے۔ اس نے اپنی فوج کو چھوٹے چھوٹے متحرک دستوں میں تقسیم کیا جو ایک دوسرے کی مدد کے لیے سائے کی طرح حرکت کرتے تھے۔ جب جنگ شروع ہوئی، تو ارغونوں نے بابر کے دائیں بازو (Right Wing) پر شدید حملہ کیا، لیکن بابر کے ریزرو دستوں نے پیچھے سے آ کر ارغونوں پر ایسا ناگہانی وار کیا کہ ان کی صفیں بکھر گئیں۔ شاہ بیگ ارغون اور مقیم ارغون میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، اور قندھار کے قلعے پر بابر کا پرچم لہرانے لگا۔ اس فتح سے بابر کو بے پناہ مالِ غنیمت، اونٹ، گھوڑے اور قیمتی خزانہ ملا جس نے اس کی مالی حالت کو بہت مضبوط کر دیا۔
4. شیبانی خان کا قہر اور سمرقند کی تیسری اور آخری حسرت
قندھار کی فتح کے بعد بابر ابھی ریلیکس بھی نہیں ہوا تھا کہ وسطی ایشیا سے ایک ہولناک خبر آئی۔ بابر کے سب سے بڑے دشمن محمد شیبانی خان ازبک نے امیر تیمور کی سلطنت کے آخری بڑے مرکز ہرات (Herat) پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کے تمام تیموری شہزادوں کو قتل کر دیا تھا۔ اب پورے وسطی ایشیا میں صرف اور صرف بابر ہی واحد ایسا تیموری شہزادہ بچا تھا جو ازبکوں کے سامنے کھڑا تھا۔
شیبانی خان ایک بہت بڑا لشکر لے کر قندھار کی طرف بڑھا۔ بابر نے محسوس کیا کہ اس کی چھوٹی سی فوج اتنے بڑے ازبک سیلاب کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے اس نے قندھار کا قلعہ اپنے ایک وفادار جرنیل کے حوالے کیا اور خود کابل کی حفاظت کے لیے پیچھے ہٹ گیا۔ خوش قسمتی سے، شیبانی خان کو اپنے شمالی بارڈرز پر کچھ نئے دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ قندھار کا گھیراؤ چھوڑ کر واپس چلا گیا۔
اسی دوران، سنہ 1510ء میں، تاریخِ وسطی ایشیا کا سب سے بڑا معرکہ پیش آیا۔ ایران کے صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل صفوی نے ازبکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور "معرکہ مرو" (Battle of Merv) میں محمد شیبانی خان کو ایک عبرت ناک شکست دی۔ اس جنگ میں شیبانی خان مارا گیا، اور شاہِ ایران نے اس کی کھوپڑی پر سونا چڑھوا کر اسے شراب پینے کے پیالے کے طور پر استعمال کیا۔ جب بابر کو اپنے سب سے بڑے دشمن شیبانی خان کی موت کی خبر ملی، تو اس کے دل میں سمرقند کو تیسری بار جیتنے کی حسرت دوبارہ جاگ اٹھی۔
5. شاہِ ایران سے خفیہ الائنس: ایک مشکل اور متنازع فیصلہ
بابر نے فوراً شاہ اسماعیل صفوی کو دوستی اور اتحاد کا پیغام بھیجا۔ شاہِ ایران نے بابر کی پیشکش کو قبول کر لیا، لیکن اس کے بدلے ایک بہت ہی کڑی اور مشکل شرط رکھی۔ شاہِ ایران ایک کٹر شیعہ حکمران تھا، جبکہ بابر اور سمرقند کے عوام کٹر سنی مسلمان تھے۔ شاہِ ایران نے شرط رکھی کہ: "میں تمہیں ازبکوں کے خلاف 60,000 کا ایک بہت بڑا لشکر دوں گا تاکہ تم سمرقند کو جیت سکو، لیکن اس کے بدلے تمہیں صفوی سلطنت کا سکہ جاری کرنا ہوگا، اپنے خطبے میں میرا نام شامل کرنا ہوگا، اور قزلباش (ایرانی سپاہیوں) کا لباس پہننا ہوگا!"
بابر کے لیے یہ زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سمرقند کے عوام اس فیصلے کو پسند نہیں کریں گے، لیکن سمرقند کے تخت کا جنون اس کے سر پر اتنا سوار تھا کہ اس نے عارضی طور پر اس شرط کو قبول کر لیا۔ ایرانی فوج کی مدد سے، سنہ 1511ء میں، بابر نے تیسری بار سمرقند پر چڑھائی کی اور ازبکوں کو بھگا کر شہر پر قبضہ کر لیا۔
جب بابر سمرقند میں داخل ہوا، تو شروع میں عوام نے اپنے محبوب تیموری شہزادے کا بہت شاندار استقبال کیا۔ لیکن جیسے ہی عوام نے دیکھا کہ بابر کے سپاہیوں نے ایرانی قزلباشوں کا لباس پہنا ہوا ہے اور خطبے میں شاہِ ایران کا نام لیا جا رہا ہے، تو سمرقند کے لوگ بابر سے شدید ناراض ہو گئے اور انہوں نے بابر کو "غدار" کہنا شروع کر دیا۔ ازبکوں نے اس عوامی ناراضگی کا فائدہ اٹھایا؛ انہوں نے ایک نیا اور تگڑا لشکر تیار کیا اور "معرکہ غجدوان" (Battle of Ghajdawan - 1512ء) میں بابر اور ایرانی فوج کو ایک اور عبرت ناک شکست دی۔ بابر تیسری اور آخری بار سمرقند سے ایسا نکلا کہ پھر زندگی میں کبھی اپنے پردادا کے شہر کا منہ نہ دیکھ سکا۔ وہ مایوس اور دکھی دل کے ساتھ واپس کابل آ گیا، اور اس نے ہمیشہ کے لیے وسطی ایشیا کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔
6. رخِ ہندوستان: ایک نئی دنیا اور نیا پلان
سمرقند کی آخری اور حتمی ناکامی کے بعد، بابر کابل کے محل میں بیٹھا گہرے خیالات میں ڈوب چکا تھا۔ اس کی عمر اب 30 سال سے اوپر ہو رہی تھی، اور اس نے اپنی زندگی کے بیس سال صرف جنگوں اور بھاگ دوڑ میں گزارے تھے۔ اس نے سوچا کہ "قدرت نے میرے لیے وسطی ایشیا کا تخت نہیں لکھا، وہاں ازبکوں کی طاقت لوہے کی دیوار بن چکی ہے۔ اب مجھے اپنی طاقت کسی ایسی جگہ لگانی چاہیے جہاں واقعی ایک عظیم سلطنت قائم کی جا سکے۔"
اس کی آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر اس 111 سال کی بوڑھی عورت کی باتیں گھومنے لگیں: "ہندوستان! سونے کی چڑیا، وسیع و عریض میدان، اور بے پناہ دولت کا دیس!" بابر نے اپنے دادا امیر تیمور کی ڈائریوں اور تاریخ کی کتابوں کا دوبارہ گہرا مطالعہ شروع کیا، جنہوں نے 1398ء میں ہندوستان پر حملہ کر کے دہلی کو فتح کیا تھا۔ بابر نے اپنے امراء اور جرنیلوں کو اکٹھا کیا اور فضا میں اپنی تلوار لہراتے ہوئے کہا: "ہندوستان پر حکومت کرنا ہمارا موروثی حق ہے، کیونکہ میرے پردادا امیر تیمور نے اس دھرتی کو جیتا تھا- اب کابل مغلوں کا ہیڈ کوارٹر ہوگا، اور ہمارا اگلا ہدف دہلی کا تخت ہوگا!"
7. عسکری سائنس میں انقلاب: بارود، بندوقیں اور استاد علی قلی کا عروج
بابر جانتا تھا کہ ہندوستان پر حملہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہاں دہلی کے تخت پر افغانوں کی لودھی سلطنت قائم تھی، جن کے پاس لاکھوں کی فوج اور ہزاروں جنگجی ہاتھی موجود تھے۔ بابر کے پاس صرف 12,000 سے 15,000 سپاہی تھے- اتنی چھوٹی فوج کے ساتھ لاکھوں کے لشکر کو شکست دینا مادی طور پر ناممکن تھا۔
بابر نے اس عددی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور عسکری سائنس کا سہارا لیا، اور یہی وہ چیز ہے جو اسے دنیا کا ایک منفرد فاتح بناتی ہے۔ اس دور میں سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) کے پاس دنیا کا سب سے بہترین اور جدید بارود اور توپ خانے (Artillery) کا نظام موجود تھا۔ بابر نے ترکی سے دو نہایت ماہر اور نامور عسکری سائنسدانوں اور توپچیوں کو کابل بلایا، جن کے نام "استاد علی قلی" اور "مصطفیٰ رومی" تھے۔
بابر نے کابل کے پہاڑوں میں گن پاؤڈر (بارود) تیار کرنے کے بڑے بڑے کارخانے قائم کیے۔ استاد علی قلی نے بابر کی نگرانی میں ایسی بھاری اور مضبوط توپیں تیار کیں جو میلوں دور تک لوہے کے بھاری گولے پھینک سکتی تھیں، اور ایسی چھوٹی دستی بندوقیں (Muskets / Matchlocks) بنائیں جنہیں سپاہی گھوڑے پر بیٹھ کر بھی چلا سکتے تھے۔ اس وقت تک ہندوستان کے لوگوں نے کبھی بارود یا توپ کی آواز بھی نہیں سنی تھی؛ ان کے لیے جنگ کا مطلب صرف تلوار، نیزہ اور ہاتھی تھا۔ بابر کا یہ خفیہ ہتھیار مغلوں کا وہ سب سے بڑا ماسٹر کارڈ تھا جس نے ہندوستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دینا تھا۔
8. ہندوستان پر ابتدائی حملے اور ٹیسٹنگ (1519ء سے 1524ء)
بابر ایک دم سے دہلی پر حملہ کر کے کوئی بڑا رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ ایک بہت ہی اسمارٹ جرنیل تھا، اس لیے اس نے ہندوستان کے بارڈرز اور ان کے دفاعی نظام کو چیک کرنے کے لیے پانچ چھوٹے چھوٹے ابتدائی حملے کیے۔
- پہلا حملہ (1519ء): بابر نے سب سے پہلے باجور اور بھیرہ (موجودہ پاکستان کے علاقے) پر حملہ کیا۔ اس نے بھیرہ کے قلعے پر پہلی بار اپنی نئی توپوں کا استعمال کیا۔ جب توپوں کے گولے قلعے کی دیواروں پر لگے اور لرزہ خیز دھماکے ہوئے، تو قلعے کے اندر موجود افغان سپاہی اور ان کے گھوڑے خوف کے مارے پاگل ہو گئے اور انہوں نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے۔ بابر نے یہاں کے عوام کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا، سپاہیوں کو لوٹ مار سے روکا، تاکہ ہندوستان کے لوگوں کو یہ پیغام ملے کہ مغل کوئی لٹیرے نہیں بلکہ عادل حکمران ہیں۔
- سیالکوٹ اور لاہور پر حملے (1520ء - 1524ء): بابر نے بتدریج آگے بڑھتے ہوئے سیالکوٹ اور سید پور پر قبضہ کیا۔ سنہ 1524ء میں وہ پنجاب کے سب سے بڑے مرکز لاہور میں داخل ہوا۔ لاہور کے مضافات میں لودھی فوج کے ساتھ ایک بڑی جھڑپ ہوئی، لیکن بابر کے گھڑ سواروں اور تیر اندازوں نے انہیں بری طرح شکست دی، اور لاہور کی گلیوں میں مغلوں کا پرچم لہرا گیا۔ ان ابتدائی حملوں سے بابر کو ہندوستان کے جغرافیے، وہاں کے موسم، اور افغانوں کی جنگی کمزوریوں کا پورا ڈیٹا مل گیا، اور اب وہ اپنے فائنل اور حتمی مشن کے لیے بالکل تیار تھا۔
9. دولت خان لودھی کی غداری اور رانا سانگا کا خط: دہلی سے بلاوا
جب بابر پنجاب کو فتح کر کے اپنے کیمپ میں بیٹھا تھا، تو دہلی کی لودھی سلطنت کے اندر ایک بہت بڑی بغاوت جنم لے چکی تھی۔ دہلی کا سلطان ابراہیم لودھی ایک نہایت ہی بدتمیز، مغرور اور جابر حکمران تھا، جس نے اپنے ہی سگے چچا امین خان لودھی اور پنجاب کے گورنر دولت خان لودھی کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ افغان امراء ابراہیم لودھی کے ظلم سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ وہ اسے تخت سے ہٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔
پنجاب کے گورنر دولت خان لودھی نے اپنے بیٹے "دلاور خان" کو ایک انتہائی خفیہ مشن پر کابل بھیجا۔ دلاور خان نے بابر کے دربار میں حاضر ہو کر دہلی کے شاہی خنجر اور قیمتی تحائف پیش کیے اور کہا: "اے پادشاہِ کابل! دہلی کا سلطان پاگل ہو چکا ہے، وہ اپنے ہی امراء کو قتل کر رہا ہے۔ پورا ہندوستان آپ کا منتظر ہے- آپ اپنی فوج لے کر دہلی پر حملہ کریں، ہم پنجاب کے افغان آپ کا پورا ساتھ دیں گے اور ابراہیم لودھی کے خلاف آپ کی صفوں میں کھڑے ہوں گے!"
اسی دوران، راجپوتانہ (راجستھان) کے سب سے طاقتور اور نامور راجپوت راجہ رانا سانگا (Maharana Sangha) کا بھی ایک خفیہ قاصد بابر کے پاس پہنچا۔ رانا سانگا نے خط میں لکھا: "اگر آپ شمال کی طرف سے دہلی پر حملہ کریں، تو میں جنوب کی طرف سے آگرہ پر حملہ کروں گا- ہم دونوں مل کر ابراہیم لودھی کا خاتمہ کر دیں گے، اس کے بعد دہلی آپ کی ہوگی اور آگرہ ہمارا ہوگا!"
بابر نے جب اپنے دشمنوں کے گھر کے اندر کی یہ کمزوری اور غداری دیکھی، تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "یا اللہ! تیرا شکر ہے، اب دہلی کے تخت کا وقت آ چکا ہے!" اس نے کابل کی پوری فوج کو حتمی مارچ کا حکم دے دیا—اور یہی وہ سفر تھا جس کا انجام تاریخِ پاک و ہند کے سب سے بڑے اور خونریز معرکے "پانی پت کی پہلی لڑائی" پر ہونا تھا،
پارٹ 3: پانی پت کا تاریخی میدان، ابراہیم لودھی کا ایک لاکھ کا لشکر اور مغلوں کا ناقابلِ یقین عثمانی جنگی پلان
1. دہلی کی طرف حتمی مارچ اور مغل لشکر کی حالتِ زار
سنہ 1525ء کے آخری مہینوں میں، جب کابل کے پہاڑوں پر شدید برف باری ہو رہی تھی، ظہیر الدین محمد بابر اپنے زندگی کے سب سے بڑے اور خطرناک مشن پر روانہ ہو چکا تھا۔ اس نے کابل اور قندھار کا کنٹرول اپنے وفاداروں کے حوالے کیا اور اپنی پوری عسکری طاقت کو لے کر ہندوکش کے دروں کو عبور کرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہو گیا۔
پنجاب پہنچ کر بابر کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا۔ وہ دولت خان لودھی (پنجاب کا گورنر)، جو پہلے بابر کو ابراہیم لودھی کے خلاف مدد کے لیے بلا رہا تھا، اب اپنی پوزیشن بدل چکا تھا۔ دولت خان لودھی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ بابر صرف ابراہیم لودھی کو ہٹانے نہیں آ رہا، بلکہ وہ خود ہندوستان کا شہنشاہ بننے آ رہا ہے۔ دولت خان نے غداری کی اور بابر کے خلاف ایک فوج کھڑی کر دی۔ لیکن بابر کے فولادی عزم کے سامنے وہ چند دن بھی نہ ٹک سکا؛ بابر نے ملوٹ کے قلعے میں دولت خان لودھی کو گھیر کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور پنجاب پر اپنا کنٹرول مکمل طور پر پکا کر لیا۔
اب پنجاب کا راستہ صاف تھا اور مغلوں کا اگلا ہدف براہِ راست دہلی تھا۔ لیکن جیسے ہی مغل فوج دریائے سندھ اور ستلج کو عبور کر کے ہریانہ کے میدانوں کی طرف بڑھ رہی تھی، سپاہیوں کے اندر ایک شدید خوف اور بے چینی پھیلنے لگی۔ مغلوں کی انٹیلیجنس نے رپورٹ دی کہ دہلی کا سلطان ابراہیم لودھی ایک ایسا لشکر لے کر آ رہا ہے جس کی تعداد مغلوں کے تصور سے بھی باہر تھی۔ مغل سپاہی اپنے گھروں، بیوی بچوں اور کابل کے ٹھنڈے باغات سے سینکڑوں میل دور، ہندوستان کی تپتی ہوئی گرمی اور ایک نامعلوم گمنام مستقبل کی طرف بڑھ رہے تھے، جہاں ان کا سامنا موت کے ایک بہت بڑے سیلاب سے ہونے والا تھا۔
2. پانی پت کا میدانِ جنگ: دونوں فوجوں کا تقابل (The Great Asymmetry)
20 اپریل 1526ء کو، دہلی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور، ہریانہ کے تاریخی اور وسیع میدان پانی پت (Panipat) میں دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آ کر رک گئے۔ یہ وہ میدان تھا جو آنے والی صدیوں میں ہندوستان کی تقدیر کا حتمی فیصلہ کرنے والا تھا۔ جب دونوں فوجوں نے اپنی اپنی صفیں کھڑی کیں، تو ان کا موازنہ کچھ اس طرح تھا:
الف۔ سلطان ابراہیم لودھی کا افغان لشکر
- تعداد: ابراہیم لودھی کے پاس تقریباً 100,000 (ایک لاکھ) سے زائد بکتر بند پیادہ اور گھڑ سوار سپاہی موجود تھے، جن میں افغانوں کے سب سے جری اور کٹر قبیلے شامل تھے۔
- جنگی ہاتھی: لودھی لشکر کے سب سے آگے 1,000 (ایک ہزار) جنگی ہاتھیوں کی ایک ایسی خوفناک قطار کھڑی تھی جو اس دور میں کسی بھی فوج کی صفوں کو کچلنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار مانے جاتے تھے۔ ان ہاتھیوں کے دانتوں پر زہریلے خنجر باندھے گئے تھے اور ان کی پشت پر تیر انداز بیٹھے تھے۔
- کمزوری: اتنے بڑے لشکر کے باوجود، لودھی فوج کا کوئی ایک مرکزی کمانڈ سسٹم نہیں تھا۔ وہ روایتی اور پرانے طریقے سے لڑتے تھے، جہاں سپاہی صرف اپنے قبیلے کے سردار کا حکم مانتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ابراہیم لودھی ایک نااہل اور ضدی جرنیل تھا، جسے جنگی اسٹریٹجی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
ب۔ ظہیر الدین محمد بابر کا مغل لشکر
- تعداد: بابر کے پاس صرف اور صرف 12,000 سے 15,000 سپاہی تھے (بعض مورخین کے مطابق یہ تعداد 12,000 سے زیادہ نہیں تھی)۔ یعنی دشمن مغلوں سے تقریباً سات سے آٹھ گنا زیادہ بڑا تھا۔
- طاقت: مغلوں کے پاس دو ایسے خفیہ ہتھیار تھے جو لودھی کی سوچ میں بھی نہیں تھے: پہلا ان کے کٹر اور بجلی کی طرح تیز رفتار گھڑ سوار تیر انداز (Cavalry Archers)، اور دوسرا استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کا جدید عثمانی توپ خانہ (Ottoman Artillery)۔
- نفسیات: مغل سپاہی جانتے تھے کہ ان کے پیچھے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر وہ یہاں ہارے، تو کابل واپس پہنچنا ناممکن ہوگا اور وہ ہندوستان کی مٹی میں کتے کی موت مارے جائیں گے۔ اس لیے ان کے پاس "لڑو یا مرو" (Do or Die) کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔
3. بابر کا خطبہ اور سپاہیوں میں ایمانی جذبے کی بیداری
جنگ سے ایک رات پہلے، پانی پت کے میدان پر ایک عجیب سا سکوت چھایا ہوا تھا۔ مغلوں کے کیمپ کے اندر سپاہی اور امراء سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ ان کے سب سے نامور جرنیل "خواجہ کلاں" نے بابر سے یہاں تک کہہ دیا: "پادشاہ! اتنے بڑے لشکر کے سامنے ہماری یہ مٹھی بھر فوج کیسے کھڑی ہوگی؟ ہمیں واپس پنجاب یا کابل کی طرف پیچھے ہٹ جانا چاہیے، یہ سراسر خودکشی ہے!"
بابر نے دیکھا کہ اگر اس کے سپاہیوں کے دلوں سے یہ خوف نہ نکالا گیا، تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی مغل ہار جائیں گے۔ اس نے تمام امراء، جرنیلوں اور سپاہیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا حکم دیا۔ بابر اپنی چمکتی ہوئی جرح (بکٹر) پہنے، ایک اونچی چٹان پر کھڑا ہوا- اس نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور بلند آواز میں ایک ایسا تاریخی خطبہ دیا جس نے مایوس دلوں کے اندر بجلی دوڑا دی، اس نے فرمایا:
"اے میرے غازیوں اور شیروں! میری طرف دیکھو۔ کیا تم نے کبھی چنگیز خان اور امیر تیمور کے بیٹوں کو دشمن کے خوف سے پیٹھ دکھاتے دیکھا ہے؟ یاد رکھو، جو انسان اس دنیا میں پیدا ہوا ہے، اسے ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ اگر ہم اس میدان میں لڑتے ہوئے مارے گئے، تو ہم 'شہید' کہلائیں گے اور جنت ہمارا مقدر ہوگی- اور اگر ہم جیت گئے، تو یہ عظیم ہندوستان ہماری جولان گاہ ہوگا اور ہم 'فاتح اور غازی' بن کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں گے!
خدا کی قسم! میں اس میدان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اگر تم میں سے کوئی کابل جانا چاہتا ہے، تو وہ شوق سے چلا جائے، لیکن بابر یہاں صرف فتح یا شہادت کے لیے کھڑا ہے!"
بابر کے اس جوشیلے اور مخلصانہ خطبے نے مغلوں کے اندر ایک نیا خون پیدا کر دیا۔ سپاہیوں نے اپنی اپنی تلواروں پر ہاتھ رکھ کر قرآنِ پاک کی قسم کھائی کہ وہ آخری سانس تک اپنے پادشاہ کے ساتھ لڑیں گے اور میدانِ جنگ سے کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اب خوف کی جگہ موت سے ٹکرانے کا جذبہ آ چکا تھا۔
4. عثمانی جنگی اسٹریٹجی: "عرابہ اور رومی طریقہ" (The Rumi Tactical Breakthrough)
بابر جانتا تھا کہ صرف جذباتی تقریروں سے ایک لاکھ کی فوج اور ایک ہزار ہاتھیوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لیے اسے تاریخ کی سب سے اسمارٹ عسکری سائنس کا استعمال کرنا تھا۔ بابر نے پانی پت کے میدان پر ایک ایسا دفاعی اور جارحانہ نیٹ ورک تیار کیا جسے عسکری تاریخ میں "عرابہ یا رومی طریقہ" (Araba / Rumi System) کہا جاتا ہے، جو اس نے سلطنتِ عثمانیہ کے ترکوں سے سیکھا تھا۔
بابر نے پانی پت کے میدان پر اپنی فوج کی صف بندی درج ذیل پانچ بڑے مراحل میں کی، جس نے ابراہیم لودھی کے لیے موت کا جال بن جانا تھا:
- بیل گاڑیوں کی دیوار (The Cart Wall): بابر نے پنجاب کے مضافات سے تقریباً 700 لکڑی کی بیل گاڑیاں (Arabas) اکٹھی کیں۔ اس نے ان تمام گاڑیوں کو ایک لائن میں کھڑا کر دیا اور انہیں چمڑے کے موٹے اور مضبوط رسوں (Rawhide Ropes) کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا۔ یہ بیل گاڑیاں ابراہیم لودھی کے گھڑ سواروں اور ہاتھیوں کے حملے کو روکنے کے لیے ایک مصنوعی لوہے کی دیوار بن چکی تھیں۔
- چھپے ہوئے توپچی اور بندوق بردار: ہر دو بیل گاڑیوں کے درمیان اس نے تقریباً 5 سے 6 فٹ کا خالی فاصلہ چھوڑا، اور اس فاصلے کے پیچھے مٹی کے اونچے ڈھیر (Breastworks) بنا دیے۔ ان ڈھیروں کے پیچھے اس نے اپنی سب سے بڑی اور بھاری توپیں اور مغل بندوق برداروں (Matchlockmen) کو کھڑا کر دیا، جن کی قیادت استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کر رہے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کی فوج جب سامنے سے حملہ کرے، تو یہ گاڑیوں کی اوٹ سے ان پر فائرنگ کر سکیں۔
- جغرافیائی تحفظ (The Flank Protection): بابر نے اپنی اس بیل گاڑیوں کی لائن کو میدان میں اس طرح سیٹ کیا کہ اس کا دائیں بازو (Right Wing) پانی پت کے شہر اور اس کی گنجان آبادی اور دیواروں کے ساتھ جڑا ہوا تھا، تاکہ لودھی فوج دائیں طرف سے گھوم کر حملہ نہ کر سکے۔ اور اس کا بائیں بازو (Left Wing) ایک گہری چٹان، کھائی اور درختوں کے جھنڈ سے گھرا ہوا تھا، جسے مغل سپاہیوں نے کاٹ کر مزید ناقابلِ عبور بنا دیا تھا۔ یعنی لودھی فوج مغلوں کو کسی بھی طرف سے گھیر نہیں سکتی تھی، انہیں صرف سامنے سے ہی حملہ کرنا تھا جہاں موت کی توپیں لگی ہوئی تھیں۔
- تلغمی دستے (The Deadly Tulughma Flanking Parties): بابر نے اپنی فوج کے سب سے چست اور نڈر گھڑ سواروں کے دو خاص دستے تیار کیے، جنہیں مغل زبان میں "تلغمہ" کہا جاتا ہے۔ ان دستوں کو مغل صفوں کے بالکل پیچھے دائیں اور بائیں کونوں پر چھپا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ان کا کام جنگ کے دوران دشمن کے لشکر کے بالکل پیچھے سے گھوم کر ان کی پشت پر حملہ کرنا تھا۔
بابر نے اپنے تمام جرنیلوں کو سخت ترین تاکید کی: "جب تک لودھی فوج خود آگے بڑھ کر ہم پر سامنے سے حملہ نہ کرے، کوئی ایک سپاہی بھی اپنی پوزیشن سے باہر نہیں نکلے گا! ہمیں دشمن کو اپنے جال کے اندر آنے دینا ہے۔"
5. 21 اپریل کی وہ لرزہ خیز صبح: لودھی فوج کا اندھا دھند حملہ
بالآخر، وہ تاریخی اور لرزہ خیز صبح آ گئی- 21 اپریل 1526ء کا سورج جیسے ہی طلوع ہوا، پانی پت کے میدان پر دھول کا ایک بہت بڑا غبار اٹھا۔ سلطان ابراہیم لودھی نے اپنے روایتی گھمنڈ کے ساتھ اپنی ایک لاکھ کی فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ لودھی لشکر کے ایک ہزار ہاتھی جب ہاتھی بانوں کے اشارے پر آگے بڑھے، تو ان کے پیروں کی دھمک سے پانی پت کی دھرتی زلزلے کی طرح کانپنے لگی۔ افغان سپاہی اپنے نیزے اور تلواریں لہراتے ہوئے مغلوں کی طرف دوڑے۔
ابراہیم لودھی نے دور سے دیکھا کہ مغل سپاہی اپنی بیل گاڑیوں کے پیچھے بالکل خاموش اور جمے ہوئے کھڑے ہیں۔ اس نے سمجھا کہ مغل شاید ان کی تعداد دیکھ کر خوفزدہ ہو چکے ہیں اور اب لڑنے کے قابل نہیں رہے۔ لودھی نے اپنی فوج کو رفتار مزید تیز کرنے کا حکم دیا- لودھی کا یہ لشکرِ جرار جیسے ہی مغلوں کے دفاعی جال کے بالکل قریب پہنچا، تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
لودھی فوج کے دائیں اور بائیں بازو کے جرنیلوں نے جب دیکھا کہ مغلوں کا دایاں حصہ پانی پت شہر کی دیواروں سے جڑا ہوا ہے، تو وہ اچانک الجھ گئے اور ان کی رفتار کم ہو گئی۔ اس کی وجہ سے لودھی فوج کا جو اگلا حصہ تھا، وہ پیچھے سے آنے والے سپاہیوں کے دباؤ کی وجہ سے ایک ہی جگہ پر گنجان (Crowded) ہو گیا اور ان کی صف بندی بالکل ٹوٹ گئی۔ وہ ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے لگے اور مغلوں کی بیل گاڑیوں کے سامنے بالکل جام ہو کر کھڑے ہو گئے۔
6. بارود کا جلال اور ہاتھیوں کا ہولناک پاگل پن
ظہیر الدین محمد بابر اپنی گھوڑی پر سوار، ایک اونچی جگہ سے لودھی فوج کی اس اسٹریٹجک غلطی کو لائیو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی لودھی فوج مغلوں کی توپوں کی رینج (فائرنگ زون) کے بالکل اندر داخل ہوئی، بابر نے فضا میں اپنا سرخ جھنڈا لہرایا اور گرج کر حکم دیا: "استاد علی قلی! خدا کے نام کے ساتھ آگ لگا دو!"
اس حکم کے ساتھ ہی، تاریخِ ہند کا سب سے بڑا دھماکہ ہوا۔ مغلوں کی بھاری توپوں نے ایک ساتھ لوہے اور پتھر کے بھاری گولے اگلنا شروع کر دیے۔ "دھڑام! دھڑام! دھڑام!" کی ان لرزہ خیز آوازوں سے پانی پت کا پورا میدان گونج اٹھا اور فضا سیاہ دھویں سے بھر گئی۔ استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کی توپوں اور بندوق برداروں نے لودھی فوج کے وسط پر آتشی برسات شروع کر دی۔
ہندوستان کے ان افغان سپاہیوں اور ان کے ایک ہزار ہاتھیوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بارود کا یہ جلال اور یہ لرزہ خیز آوازیں نہیں سنی تھیں۔ توپوں کے گولے جیسے ہی افغانوں کی صفوں میں گرے، تو ایک ایک گولے نے بیس بیس سپاہیوں کے چیتھڑے اڑا دیے۔ سب سے ہولناک منظر تب شروع ہوا جب یہ گولے لودھی کے جنگی ہاتھیوں کے درمیان گرے۔ ہاتھی بارود کے دھماکوں اور آگ کے شعلوں کو دیکھ کر شدید پینک (خوفزدہ) ہو گئے اور وہ مغلوں پر حملہ کرنے کے بجائے الٹے پاؤں پیچھے کی طرف بھاگے۔
پاگل اور زخمی ہاتھیوں کا یہ سیلاب جب پیچھے کی طرف لوٹا، تو انہوں نے اپنی ہی لودھی فوج کے ہزاروں سپاہیوں کو اپنے بھاری پیروں تلے کچلنا شروع کر دیا! افغان سپاہی مغلوں کی تلواروں سے پہلے اپنے ہی ہاتھیوں کے نیچے آ کر مرنے لگے۔ لودھی فوج کے اندر ایک ایسی ہولناک افری تفری مچی کہ کوئی جرنیل اپنے سپاہیوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہا۔
7. تلغمی چال اور لودھی فوج کا حتمی گھیراؤ (The Slaughter Zone)
جب بابر نے دیکھا کہ لودھی فوج ہاتھیوں کے پاگل پن اور توپوں کے قہر کی وجہ سے ایک ہی جگہ پر مٹ رہی ہے، تو اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا ماسٹر کارڈ کھیلا۔ اس نے اپنے چھپے ہوئے "تلغمہ دستوں" کو اشارہ کیا۔
مغلوں کے یہ کٹر گھڑ سوار تیر انداز بجلی کی تیزی سے دائیں اور بائیں طرف سے گھوم کر، لودھی فوج کے بالکل پیچھے پہنچ گئے اور انہوں نے افغانوں کے فرار ہونے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔ اب ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ کی فوج چاروں طرف سے موت کے مغل جال میں پھنس چکی تھی:
- ان کے سامنے: مغلوں کی بیل گاڑیاں اور استاد علی قلی کا آتشی توپ خانہ تھا جو مسلسل موت اگل رہا تھا。
- ان کے دائیں اور بائیں: پانی پت شہر کی دیواریں اور کھائیاں تھیں۔
- ان کے پیچھے: مغلوں کے تلغمی گھڑ سوار تھے جو افغانوں پر تیروں کی بارش کر رہے تھے۔
مغل تیر انداز اپنے مضبوط کمانوں سے ایک منٹ میں دس دس تیر چلاتے تھے، جو افغانوں کے بکتر کو چیرتے ہوئے ان کے جسموں کے پار ہو جاتے۔ لودھی فوج اب ایک "سلاٹر ہاؤس" (ذبح خانہ) بن چکی تھی، جہاں افغان سپاہی بغیر کسی اسٹریٹجی کے صرف اپنی جانیں بچانے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے۔
8. ابراہیم لودھی کا خاتمہ اور مغلوں کی فتحِ مبین
دوپہر کا وقت ہو چکا تھا اور پانی پت کا میدان افغانوں کے خون سے لال ہو چکا تھا۔ لودھی فوج کے نامور امراء اور سردار میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ اسی نازک وقت میں، کچھ وفادار افغان سردار سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچے، جن کا گھوڑا خون میں لت پت تھا، انہوں نے کہا: "سلطان! جنگ ہاتھ سے نکل چکی ہے، آپ کا ایک لاکھ کا لشکر مٹ چکا ہے۔ آپ فوراً اپنا شاہی عمامہ اتاریں اور یہاں سے بھاگ کر آگرہ پہنچیں، تاکہ ہم دوبارہ فوج اکٹھی کر سکیں!"
لیکن ابراہیم لودھی، اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود، ایک غیرت مند افغان تھا- اس نے اپنے سرداروں کی طرف دیکھا اور تاریخی جملہ کہا:
"افغانوں کا سلطان میدانِ جنگ سے پیٹھ دکھا کر نہیں بھاگتا! اگر میری تقدیر میں آج دہلی کا تخت نہیں لکھا، تو میں اسی مٹی پر اپنے غازیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے مرنا پسند کروں گا!"
ابراہیم لودھی نے اپنی تلوار تانی اور اپنے چند سو جانثاروں کے ساتھ مغلوں کے وسط پر ایک آخری خودکش حملہ کر دیا۔ وہ شیر کی طرح لڑا، لیکن مغل گھڑ سواروں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ مغلوں کے ایک نامور جنگجو نے نیزے کا ایسا وار کیا جو ابراہیم لودھی کے سینے کے پار ہو گیا، اور دہلی کا آخری لودھی سلطان پانی پت کی مٹی پر تڑپتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔
سلطان کے مرتے ہی افغانوں کے بچے کچے حوصلے بھی ختم ہو گئے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ محض نصف دن کی لڑائی میں (صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک)، بابر کی 12,000 کی فوج نے ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ کے لشکر کو مٹی میں ملا دیا تھا۔ میدانِ جنگ میں تقریباً 20,000 سے 30,000 افغان سپاہیوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں، جن کے بالکل وسط میں سلطان ابراہیم لودھی کا سر کٹا جسم موجود تھا۔ بابر نے جب اپنے دشمن کی لاش دیکھی، تو اس نے اس کی شجاعت کا احترام کرتے ہوئے اس کا سر اپنے ہاتھ میں اٹھایا اور فرمایا: "تم ایک جری جنگجو تھے، کاش تمہارے پاس تھوڑی عقل بھی ہوتی!" بابر نے ابراہیم لودھی کو پورے شاہی اعزاز کے ساتھ اسی جگہ دفن کروایا (جہاں آج بھی پانی پت میں اس کا مزار موجود ہے)۔
9. دہلی اور آگرہ پر قبضہ: مغل سلطنت کا باقاعدہ قیام
پانی پت کی اس فتحِ مبین کے فوراً بعد، بابر نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے اپنے لاڈلے بیٹے شہزادہ ہمایوں کو ایک تیز رفتار مغل دستے کے ساتھ آگرہ (جو لودھیوں کا دارالحکومت اور شاہی خزانوں کا مرکز تھا) پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیا، اور اپنے دوسرے وفادار جرنیل خواجہ کلاں کو دہلی کی طرف بھیجا۔
بابر خود چند دنوں بعد فاتح بن کر دہلی میں داخل ہوا۔ جمعہ کے دن، دہلی کی جامع مسجد میں ظہیر الدین محمد بابر کے نام کا باقاعدہ شاہی خطبہ پڑھا گیا، اور مغل سلطنت (Mughal Empire) کا باقاعدہ اور تاریخی قیام عمل میں آیا۔
جب بابر آگرہ پہنچا، تو شہزادہ ہمایوں نے اس کا استقبال کیا اور اس کے سامنے آگرہ کے شاہی محل سے ملا ہوا دنیا کا سب سے بڑا اور قیمتی ہیرا پیش کیا، جسے آج دنیا "کوہِ نور" (Koh-i-Noor) کے نام سے جانتی ہے (یہ ہیرا گوالیار کے راجہ کے خاندان نے اپنی جان بچانے کے بدلے ہمایوں کو تحفے میں دیا تھا)۔ بابر نے اس ہیرے کو دیکھا، مسکرایا، اور اپنے بیٹے کی محبت میں وہ ہیرا واپس ہمایوں کو ہی تحفے میں دے دیا! اس کے بعد بابر نے لودھیوں کا صدقہ اور شاہی خزانہ کابل کے ایک ایک غریب انسان، مکہ اور مدینہ کے مسلمانوں اور اپنے ایک ایک سپاہی میں اس طرح دل کھول کر تقسیم کیا کہ تاریخ نے اسے "قلندر" (سخی بادشاہ) کا لقب دے دیا۔
بابر اب ہندوستان کا شہنشاہ بن چکا تھا، لیکن داستان ابھی ختم نہیں ہوئی تھی- افغانوں کا خاتمہ تو ہو چکا تھا، لیکن اب مغلوں کے سامنے ہندوستان کا وہ سب سے خوفناک اور طاقتور راجپوت راجہ کھڑا تھا جس نے مغلوں کو دھرتی سے مٹانے کی قسم کھا رکھی تھی—یعنی رانا سانگا۔ پانی پت سے بھی بڑی اور لرزہ خیز جنگ ابھی باقی تھی،
پارٹ 4 (آخری حصہ): معرکۂ کنواہ، رانا سانگا کا خاتمہ، اور مغل شہنشاہ کی رقت آمیز وفات کا معجزہ
1. پانی پت کے بعد کا نیا طوفان: رانا سانگا کی جنگی تیاریاں
پانی پت کی پہلی لڑائی میں سلطان ابراہیم لودھی کے خاتمے اور دہلی و آگرہ پر مغلوں کے قبضے کے بعد، ظہیر الدین محمد بابر نے سوچا تھا کہ اب اس کی زندگی میں سکون آ جائے گا۔ لیکن ہندوستان کی سرزمیں اتنی اسانی سے کسی نئے فاتح کو قبول نہیں کرتی تھی۔ جیسا کہ آپ نے پارٹ 2 میں پڑھا تھا کہ راجپوتانہ کے سب سے طاقتور راجہ رانا سانگا (Maharana Sanga) نے پہلے بابر کو خط لکھ کر دہلی پر حملے کی دعوت دی تھی، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ بابر بھی اپنے پردادا امیر تیمور کی طرح صرف لوٹ مار کرے گا اور خزانہ لے کر واپس کابل چلا جائے گا، جس کے بعد دہلی کے تخت پر راجپوتوں کا راج ہوگا۔
لیکن جب رانا سانگا نے دیکھا کہ بابر نے تو دہلی میں اپنے نام کا خطبہ پڑھوا دیا ہے اور وہ آگرہ کے شاہی محل میں مستقل ڈیرے ڈال چکا ہے، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ رانا سانگا نے مغلوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے لیے پورے راجپوتانہ کے راجوں، مہاراجوں اور کٹر ہندو جنگجوؤں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ لودھی سلطنت کے بچے کچھے افغان امراء (جیسے ابراہیم لودھی کا بھائی محمود لودھی) بھی بابر کی دشمنی میں رانا سانگا کے ساتھ جا ملے۔
رانا سانگا کوئی عام راجہ نہیں تھا؛ وہ میواڑ کا ایک ایسا کٹر اور تجربہ کار جنگجو تھا جس نے اپنی زندگی میں کئی بڑی جنگیں لڑی تھیں۔ اس کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے 80 سے زائد زخموں کے نشانات موجود تھے، اس کی ایک آنکھ، ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ جنگوں میں ضائع ہو چکی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ایک لوہے کے پہاڑ کی طرح اکیلا ہی ہزاروں سپاہیوں پر بھاری تھا۔ اس نے مغلوں کے خلاف تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار (120,000) سے زائد کٹر راجپوت جنگجوؤں اور 500 جنگی ہاتھیوں کا ایک ایسا خوفناک لشکر تیار کیا جس کی مثال اس دور کے ہندوستان میں نہیں ملتی تھی۔
2. مغل لشکر میں خوف کا سایہ اور نجومی کی ہولناک پیشگوئی
فروری 1527ء میں جب رانا سانگا کا یہ دیو قامت لشکر آگرہ کی طرف بڑھا، تو مغلوں کے مٹھی بھر سپاہی ایک بار پھر شدید خوف اور دہشت کا شکار ہو گئے۔ مغلوں نے پانی پت میں افغانوں کو تو ہرا دیا تھا، لیکن راجپوتوں کے بارے میں پورے ہندوستان میں یہ مشہور تھا کہ وہ میدانِ جنگ سے کبھی زندہ واپس نہیں لوٹتے، بلکہ سر کٹوا دیتے ہیں لیکن پیٹھ نہیں دکھاتے۔ مغلوں کے ابتدائی جاسوس دستے جب راجپوتوں کی طاقت کا اندازہ لگا کر واپس لوٹے، تو انہوں نے کیمپ میں آ کر ایسی خوفناک داستانیں سنائیں کہ مغل سپاہیوں کے چہرے پیلے پڑ گئے۔
اسی نازک وقت میں کابل سے ایک نامور اور بوڑھا نجومی (Astrologer) جس کا نام "محمد شریف" تھا، مغلوں کے کیمپ میں پہنچا۔ اس نجومی نے ستاروں کی چال دیکھ کر مغل سپاہیوں کے سامنے کھلم کھلا یہ ہولناک پیشگوئی کر دی کہ: "اس وقت مریخ (Mars) کا ستارہ مغرب میں ہے، اور جو کوئی بھی اس سمت سے (یعنی مغل) مشرق کی طرف جا کر لڑے گا، اسے ایک ایسی عبرت ناک شکست ہوگی کہ اس کی نسل کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا! مغلوں کی ہار یقینی ہے!"
اس پیشگوئی نے جلتی پر ٹیل کا کام کیا۔ مغل سپاہی، جو پہلے ہی راجپوتوں کے نام سے سہمے ہوئے تھے، اب وہ اپنے ہتھیار چھوڑ کر کابل بھاگنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ مغل جرنیلوں نے بابر سے صاف کہہ دیا: "پادشاہ! ستارے ہمارے خلاف ہیں اور دشمن کی تعداد ہم سے دس گنا زیادہ ہے، ہمیں آگرہ کا خزانہ لے کر فوراً کابل واپس چلے جانا چاہیے!" بابر ایک بار پھر اپنی زندگی کے سب سے بڑے تنہا موڑ پر کھڑا تھا جہاں اس کی بیس سال کی محنت ایک ہی سیکنڈ میں مٹی میں ملنے والی تھی۔
3. بابر کی تاریخی توبہ: شراب کے پیالے توڑنا اور اللہ سے عہد
ظہیر الدین محمد بابر نے جب اپنے سپاہیوں کا یہ ٹوٹا ہوا حوصلہ دیکھا، تو وہ سمجھ گیا کہ اب مادی تدبیریں کام نہیں آئیں گی، اب اسے اپنے رب کے حضور جھکنا ہوگا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی۔ بابر کو اپنی زندگی میں ایک بہت بڑی کمزوری تھی—وہ شراب نوشی (Drinking) کا بہت عادی تھا اور کابل و آگرہ کے شاہی درباروں میں روز شراب کی محفلیں سجتی تھیں۔
25 فروری 1527ء کی رات، معرکۂ کنواہ سے چند دن پہلے، بابر اپنے خیمے میں اکیلا بیٹھا رو رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید اس کے گناہوں اور شراب نوشی کی وجہ سے اللہ کی غیبی مدد اس کے ساتھ نہیں آ رہی۔ اس نے فوراً اپنے تمام شاہی سونے اور چاندی کے شراب پینے کے قیمتی پیالے (Goblets) منگوائے- اس نے اپنے امراء کے سامنے ان تمام قیمتی پیالوں کو پتھروں پر مار مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور رو کر اللہ کے حضور سچی توبہ کی:
"یا الٰہی! میں آج اپنے تمام گناہوں سے، اور خاص طور پر اس ام الخبائث (شراب) سے ہمیشہ کے لیے سچی توبہ کرتا ہوں! اگر تو نے مجھے اس میدان میں سرخرو کیا، تو میں اپنی باقی زندگی صرف اور صرف تیرے دین کی خدمت میں گزاروں گا!"
بابر نے اسی وقت آگرہ کے شاہی خزانے سے تمام شراب کو زمین پر بہا دینے کا حکم دیا اور اس جگہ پر ایک بہت بڑا کنواں کھدوا کر غریبوں کے لیے سرائے بنانے کا اعلان کیا۔ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ رکھا اور عہد کیا کہ وہ اب کبھی زندگی میں شراب کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ بادشاہ کی اس سچی توبہ نے مغل کیمپ کے اندر ایک عجیب و غریب روحانی لہر دوڑا دی، اور سینکڑوں امراء اور سپاہیوں نے بھی بادشاہ کے ساتھ رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی۔
4. میدانِ کنواہ میں جہاد کا نعرہ: موت کا بیعت نامہ
شراب سے توبہ کرنے کے اگلے ہی دن، بابر نے اپنی پوری فوج کو کنواہ (Khanwa - آگرہ سے 60 کلومیٹر دور) کے میدان میں اکٹھا کیا۔ بابر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، اس کے ہاتھ میں قرآنِ پاک تھا- اس نے اپنے سپاہیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ایسا لرزہ خیز اور ایمان افروز خطبہ دیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا، اس نے گرج دار آواز میں فرمایا:
"اے میرے غازیوں! دنیا میں جو بھی آیا ہے، اسے ایک دن مرنا ہے۔ لیکن کتنی خوش نصیب ہے وہ موت جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے آئے۔ دیکھو! ہمارے سامنے یہ کافروں کا لشکر کھڑا ہے جو ہمارے دین کو مٹانا چاہتا ہے۔ اگر ہم اس میدان میں مارے گئے، تو کائنات ہمیں 'شہید' کہے گی، اور اگر ہم جیت گئے، تو ہم 'غازی' بن کر اس دھرتی پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے!
آؤ! ہم سب مل کر اس پاک کتاب (قرآن) پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ جب تک ہمارے جسم کے اندر خون کا آخری قطرہ باقی ہے، ہم اس میدان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور کافروں کو یہ دکھا دیں گے کہ مغل شیر کیسے لڑتے ہیں!"
بابر کے اس خطبے نے مغلوں کو سپاہیوں سے "مجاہدین" بنا دیا۔ ایک ایک سپاہی کی آنکھوں سے انسو جاری تھے اور انہوں نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر موت کی بیعت کی- اب نجومی کی پیشگوئی اور راجپوتوں کا خوف ان کے دلوں سے بالکل نکل چکا تھا، ان کے سروں پر صرف اورسرف شہادت کا جنون سوار تھا۔
5. 16 مارچ 1527ء: معرکۂ کنواہ کا لرزہ خیز آغاز
بالآخر، 16 مارچ 1527ء کی صبح، تاریخِ ہند کا وہ سب سے بڑا عسکری ٹکرائو شروع ہوا جسے "معرکۂ کنواہ" (Battle of Khanwa) کہا جاتا ہے۔ بابر نے اس جنگ میں بھی پانی پت والا وہی عثمانی "عرابہ طریقہ" استعمال کیا تھا؛ اس نے سینکڑوں بیل گاڑیوں کو چمڑے کے رسوں سے باندھ کر ایک مضبوط دفاعی لائن بنائی تھی اور ان کے پیچھے استاد علی قلی کی توپیں کھڑی تھیں۔
رانا سانگا نے اپنے روایتی راجپوت جوش کے ساتھ مغلوں کے بائیں بازو (Left Wing) پر ایک ایسا زوردار حملہ کیا کہ مغلوں کی صفیں پیچھے ہٹنے لگیں۔ راجپوت اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر مغلوں کی بیل گاڑیوں کے اوپر چڑھ گئے اور تلواروں سے مغل سپاہیوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ جنگ کے ابتدائی چند گھنٹے مغلوں کے لیے انتہائی عبرت ناک اور کٹھن تھے؛ ایسا لگتا تھا کہ راجپوتوں کا یہ سیلاب مغلوں کو مٹا دے گا۔
بابر نے جب دیکھا کہ پوزیشن نازک ہے، تو وہ خود اپنے ریزرو دستوں کو لے کر میدان کے وسط میں کود پڑا۔ اس نے استاد علی قلی کو حکم دیا کہ توپوں کے مغل گولے اب رکنے نہیں چاہئیں۔ مغلوں کی توپوں نے جب راجپوتوں کے ہاتھیوں اور گھوڑوں پر گولہ باری شروع کی، تو پورے میدان میں آگ اور دھویں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ توپوں کے دھماکوں سے راجپوتوں کے ہاتھی پاگل ہو گئے اور انہوں نے اپنے ہی راجپوت سپاہیوں کو کچل دیا۔
6. رانا سانگا کا زخمی ہونا اور راجپوتوں کی عبرت ناک شکست
دوپہر کے وقت، بابر نے اپنے مشہور "تلغمہ دستوں" کو راجپوتوں کے بالکل پیچھے سے گھوم کر حملہ کرنے کا اشارہ کیا۔ مغل گھڑ سوار تیر اندازوں نے راجپوتوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان پر زہر آلود تیروں کی ایسی برسات کی کہ راجپوتوں کی صفوں میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔
اسی دوران مغلوں کا ایک تیر براہِ راست راجپوت راجہ رانا سانگا کی آنکھ اور سر پر لگا، اور وہ اپنے ہاتھی کے ہودے کے اندر بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ رانا سانگا کے بے ہوش ہوتے ہی راجپوتوں کے کیمپ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ "مہارانا مارا جا چکا ہے!"۔ راجہ کے گرتے ہی راجپوتوں کے حوصلے بالکل ٹوٹ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ رانا سانگا کے وفادار سردار اسے بے ہوشی کی حالت میں میدان سے نکال کر راجستان کے پہاڑوں کی طرف لے گئے (جہاں بعد میں اس کے اپنے ہی سرداروں نے اسے زہر دے کر مار دیا، کیونکہ وہ مغلوں سے دوبارہ لڑنے پر ضد کر رہا تھا)۔
معرکۂ کنواہ میں مغلوں کو ایک ایسی شاندار اور ناقابلِ یقین فتح حاصل ہوئی جس نے ہندوستان پر ان کی حکومت پر ہمیشہ کے لیے مہر لگا دی۔ اس جنگ کے بعد بابر نے مغل تاریخ میں پہلی بار "غازی" (کافروں کو شکست دینے والا مسلم جنگجو) کا مقدس لقب اختیار کیا، اور راجپوتوں کا وہ غرور جو صدیوں سے قائم تھا، ہمیشہ کے لیے خاک میں مل گیا۔
7. معرکۂ چندیری اور غاگرا: مغل سلطنت کی حتمی مضبوطی
کنواہ کی فتح کے بعد بھی بابر آرام سے نہیں بیٹھا۔ وہ جانتا تھا کہ راجپوتوں کا ایک اور بڑا گڑھ چندیری (Chanderi) کا قلعہ ہے، جہاں رانا سانگا کا سب سے وفادار جرنیل "میدنی رائے" حکومت کر رہا تھا۔ سنہ 1528ء میں، بابر نے چندیری کے اس قلعے پر حملہ کیا جو ایک اونچی پہاڑی پر بنا ہوا تھا اور جسے فتح کرنا مادی طور پر ناممکن مانا جاتا تھا۔ مغلوں نے راتوں رات پہاڑی کو کاٹ کر ایک ایسا راستہ بنایا کہ راجپوت دنگ رہ گئے، اور جب قلعہ فتح ہونے لگا، تو راجپوت خواتین نے اپنی روایتی رسم "جوہر" (آگ میں کود کر جان دینا) اختیار کی اور میدنی رائے لڑتے ہوئے مارا گیا۔
اس کے اگلے ہی سال، سنہ 1529ء میں، بابر نے اپنی زندگی کا آخری بڑا معرکہ "معرکۂ غاگرا" (Battle of Ghaghra) لڑا۔ یہ جنگ مغلوں اور افغانوں کے اس الائنس کے درمیان لڑی گئی جو بنگال اور بہار کے علاقوں میں دوبارہ اکٹھا ہو رہا تھا۔ یہ جنگ تاریخِ ہند کی ایک انوکھی جنگ تھی کیونکہ یہ دریائے غاگرا کے پانی کے اندر اور کشتیوں پر لڑی گئی تھی۔ بابر نے اپنی عسکری مہارت کے ذریعے افغانوں کو پانی کے اندر بھی ایسی عبرت ناک شکست دی کہ مغل سلطنت کی سرحدیں اب کابل سے لے کر بنگال اور بہار تک پھیل چکیں، اور پورے ہندوستان میں اب مغلوں کا کوئی مقابلہ کرنے والا باقی نہیں رہا تھا۔
8. وفات کا رقت آمیز معجزہ: بیٹے کی زندگی کے بدلے اپنی جان کا نذرانہ
سنہ 1530ء کے آخری مہینوں میں، جب بابر آگرہ کے شاہی محل میں موجود تھا، اس کا سب سے پیارا اور لاڈلا بیٹا اور ولی عہد شہزادہ ہمایوں ایک ایسی پراسرار اور شدید بیماری کا شکار ہو گیا کہ پورے ہندوستان کے بڑے بڑے حکیم اور ڈاکٹر اس کا علاج کرنے میں ناکام ہو گئے۔ ہمایوں کئی دنوں تک تیز بخار کی وجہ سے بے ہوش رہا اور اس کے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔
بابر اپنے بیٹے کے بستر کے پاس بیٹھا دن رات روتا رہتا تھا۔ ایک دن، اس کے دربار کے ایک جلیل القدر بزرگ "میر ابو بقا" نے بابر سے کہا: "پادشاہِ اعظم! اب دنیا کی کوئی دوا ہمایوں کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ اسلامی تاریخ کا یہ اصول ہے کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کی زندگی بچانا چاہتا ہے، تو اسے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز اللہ کی راہ میں صدقہ کرنی ہوگی، شاید اللہ اس قربانی کے بدلے شہزادے کو شفا دے دے۔"
بابر نے یہ سن کر ایک تاریخی اور لازوال جملہ کہا، اس نے فرمایا:
"میری زندگی میں میری سب سے قیمتی چیز کوئی ہیرا، کوئی سونا یا یہ ہندوستان کا تخت نہیں ہے—میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز تو خود میری اپنی جان ہے! میں آج اپنے بیٹے کی زندگی کے بدلے اپنی جان اللہ کے حضور صدقہ کرنے کے لیے تیار ہوں!"
درباریوں نے رو کر منع کیا کہ "پادشاہ! آپ ہیرے یا جائداد صدقہ کر دیں"، لیکن بابر نے کسی کی ایک نہ سنی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ظہیر الدین محمد بابر نے وضو کیا، اللہ کے حضور دو رکعت نمازِ شکرانہ اور دعا پڑھی، اور پھر بیمار ہمایوں کے بستر کے چاروں طرف تین چکر (Circumambulation) لگائے۔ چکر لگانے کے بعد، بابر ہمایوں کے سرہانے کھڑا ہوا اور بلند آواز میں کہا: "میں نے اس کی بیماری اپنے اوپر لے لی! میں نے اس کی بیماری اپنے اوپر لے لی!"
تاریخِ عالم گواہ ہے کہ اسی لمحے ایک ایسا معجزہ پیش آیا جس پر آج بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جیسے ہی بابر نے یہ الفاظ کہے، ہمایوں کے جسم میں حرکت پیدا ہونے لگی اور اس کا بخار آہستہ آہستہ کم ہونے لگا—اور دوسری طرف، خود مغل شہنشاہ بابر کے جسم میں شدید کمزوری اور بخار شروع ہو گیا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، ہمایوں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہو کر بستر سے اٹھ کھڑا ہوا، اور اسلام کا وہ عظیم شیر، ظہیر الدین محمد بابر، اسی پراسرار بیماری کی وجہ سے کمزور ہو کر بستر پر لیٹ گیا۔
26 دسمبر 1530ء کو، محض 47 سال کی عمر میں، اپنے بیٹے کو ایک نئی زندگی دینے کے بعد، مغل سلطنت کا یہ عظیم بانی کلمہ پڑھتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ اس کی آخری وصیت کے مطابق، اس کی لاش کو آگرہ سے لے جا کر اس کے پسندیدہ شہر کابل (افغانستان) کے اس خوبصورت باغ میں دفن کیا گیا جسے آج دنیا "باغِ بابر" کہتی ہے، جہاں وہ آج بھی فطرت کے حسین مناظر کے درمیان ابدی نیند سو رہا ہے۔
9. بابر کی لازوال میراث اور سوانح عمری "تزکِ بابری"
ظہیر الدین محمد بابر صرف ایک فاتح نہیں تھا، بلکہ وہ تاریخ کا ایک منفرد ادیب بھی تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی کے حالات، اپنی غلطیاں، اپنی توبہ، اور اپنی جنگوں کی تفصیلات خود اپنے ہاتھ سے چغتائی ترک زبان میں ایک کتاب کی شکل میں لکھیں، جسے "تزکِ بابری" یا "بابر نامہ" (Baburnama) کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی شاہی سوانح عمری ہے جس میں کسی بادشاہ نے اپنی تعریفوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں اور شراب نوشی کا بھی کھلم کھلا اعتراف کیا ہے۔
بابر نے ہندوستان میں جس مغل سلطنت کی بنیاد رکھی، اس نے آنے والی تین صدیوں (300 سال) تک دنیا پر راج کیا۔ اس کی نسل سے اکبر، شاہجہان اور اورنگزیب جیسے نامور سلاطین پیدا ہوئے جنہوں نے تاج محل، شاہی قلعہ، اور بادشاہی مسجد جیسی لازوال نشانیاں دنیا کو دیں۔ بابر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ: "اگر انسان کے پاس سچا عزم، محنت اور اللہ پر بھروسا ہو، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت، کوئی بھی غداری، اور کوئی بھی ستارہ اسے کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتا۔ فرغانہ کی خاک سے اٹھنے والا یہ بارہ سال کا بچہ آج بھی تاریخِ عالم کے سب سے بڑے فاتحین کے افق پر ایک ناقابلِ فراموش شیر کی طرح چمک رہا ہے!"
امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا
Comments
Post a Comment