سلطان سنجر کا جاہ و جلال اور بوڑھی عورت کا عدلِ بے مثال

 


تاریخی پس منظر:

سلطان سنجر سلجوقی خاندان کے آخری عظیم حکمران تھے جن کی ہیبت سے مشرق و مغرب لرزتے تھے۔ ان کے دور میں سلجوقی سلطنت اپنی وسعت اور علمی و فوجی طاقت کے عروج پر تھی۔ سلطان سنجر کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے چالیس سال سے زائد عرصہ حکومت کی اور ان کے دسترخوان پر ہزاروں افراد کھانا کھاتے تھے۔ ان کے پاس بے پناہ لشکر اور خزانے تھے، لیکن تاریخ نے ان کی جنگی فتوحات سے زیادہ ان کے اس واقعے کو یاد رکھا ہے جو ایک نہتی اور کمزور بڑھیا کے ساتھ پیش آیا۔

واقعہ کی تفصیل:

ایک مرتبہ سلطان سنجر اپنی پوری فوجی طاقت اور شاہانہ کروفر کے ساتھ ایک عظیم جنگی مہم سے فاتح بن کر لوٹ رہے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ گھوڑوں کے سموں سے اٹھنے والی دھول آسمان کو چھو رہی تھی اور نقاروں کی آواز سے فضا گونج رہی تھی۔ سلطان اپنے مخصوص سفید عربی گھوڑے پر سوار، زرہ بکتر پہنے، اپنے جرنیلوں کے حصار میں آگے بڑھ رہے تھے۔

​اسی دوران ایک بوڑھی عورت، جس کا لباس بوسیدہ تھا اور چہرہ غم و غصے کی تصویر بنا ہوا تھا، اچانک ہجوم کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور سلطان کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔ شاہی محافظوں نے اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن سلطان نے اپنی سواری روک لی۔ بڑھیا نے تڑپ کر کہا:

"اے سنجر! تو نے دوسروں کی زمینیں تو فتح کر لیں، لیکن کیا تو اپنی رعایا کے دل بھی فتح کر سکا؟ تیری اس عظیم فوج کے ایک سپاہی نے مجھ پر ظلم کیا ہے، میرا مال چھین لیا ہے اور میرے بچوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ میں انصاف کے لیے در در بھٹکی، مگر تیرے کارندوں نے میری ایک نہ سنی۔"

​سلطان نے پہلے تو اسے ایک معمولی شکایت سمجھا اور کہا کہ "مائی! میں اس وقت تھکا ہوا ہوں، تو کسی اور وقت آنا یا میرے وزیر سے بات کرنا۔" یہ سننا تھا کہ بڑھیا کے لہجے میں جلال آگیا اور اس نے وہ الفاظ کہے جنہیں سن کر سلطان کا جسم کانپنے لگا۔ اس نے کہا:

"اے سنجر! اگر تو آج زمین پر میرا انصاف نہیں کر سکتا تو یاد رکھ، کل قیامت کے دن جب اللہ کی عدالت لگے گی، تو وہاں نہ یہ فوج ہوگی، نہ یہ ہاتھی گھوڑے اور نہ یہ تاج و تخت۔ وہاں میں تیرا گریبان پکڑ کر اپنے رب سے انصاف مانگوں گی۔ اگر تو اپنی رعایا کو اپنوں کے ظلم سے نہیں بچا سکتا، تو تجھے حکمران کہلانے کا کوئی حق نہیں۔"


​بڑھیا کے یہ الفاظ کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھے۔ سلطان سنجر، جو اس وقت دنیا کے طاقتور ترین انسانوں میں سے ایک تھے، فوراً گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور دل اللہ کے خوف سے لرز رہا تھا۔ انہوں نے اپنی تلوار زمین پر رکھ دی اور عاجزی سے کہا: "اے ماں! مجھے معاف کر دے، میں اپنی غفلت پر شرمندہ ہوں۔"

​سلطان نے واپسی کا جشن منسوخ کر دیا اور اسی وقت شاہی عدالت لگائی۔ اس سپاہی کو طلب کیا گیا جس نے بڑھیا پر ظلم کیا تھا۔ تمام شواہد اور گواہیوں کے بعد جرم ثابت ہو گیا، تو سلطان نے حکم دیا کہ بڑھیا کا تمام نقصان دگنا پورا کیا جائے اور اس ظالم سپاہی کو کڑی سزا دی جائے۔ سلطان نے اس موقع پر اپنی فوج کو مخاطب کر کے کہا: "لوگو! یاد رکھنا، کسی بھی حکومت کا کفر کے ساتھ باقی رہنا تو ممکن ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ میری اصل فتح وہ نہیں جو میں نے میدانِ جنگ میں پائی، بلکہ میری اصل فتح وہ ہے جو میں نے آج اس بڑھیا کو انصاف فراہم کر کے حاصل کی۔"

نتیجہ:

سلطان سنجر کا یہ واقعہ رہتی دنیا تک ان تمام لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جنہیں اللہ نے کسی بھی قسم کی طاقت یا اختیار دیا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، وہ قانون اور اللہ کے انصاف سے اوپر نہیں ہو سکتا۔

سبق:

  1. خوفِ خدا: ہر صاحبِ اختیار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اپنے رب کو حساب دینا ہے، جہاں طاقت نہیں بلکہ عمل دیکھا جائے گا۔
  2. انصاف کی اہمیت: کسی بھی معاشرے کی بقا کا دارومدار صرف اور صرف انصاف پر ہے؛ اگر عدل نہیں تو سلطنتیں مٹ جایا کرتی ہیں۔
امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 
کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان