سلطان مراد چہارم: عثمانیہ سلطنت کا آہنی مردِ حر اور فاتحِ بغداد

 


تمہید: ایک بکھرتی ہوئی سلطنت کا وارث

​سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ میں سلطان مراد چہارم کا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب خلافت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ محض 11 سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے اس شہزادے نے دیکھا کہ کس طرح باغی سپاہی (ینگ چری) محل کے دروازوں پر دندناتے پھرتے تھے اور وزراء ریاست کو لوٹ رہے تھے۔ ایران کی صفوی سلطنت نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے دل "بغداد" پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مراد چہارم نے خاموشی سے اپنی طاقت جمع کی اور پھر وہ وقت آیا جب انہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

بغاوتوں کا قلع قمع اور باغیوں کا خاتمہ

​سلطان مراد چہارم کی حکومت کا پہلا بڑا چیلنج وہ باغی سپاہی تھے جنہوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی۔ سلطان نے ان کا قلع قمع کرنے کے لیے "آہنی ہاتھ" کی پالیسی اپنائی۔

  • خوف کا راج ختم کرنا: سلطان نے ان تمام باغی جرنیلوں کو چن چن کر قتل کروایا جو سلطان کی پیٹھ پیچھے سازشیں کرتے تھے۔
  • عبرتناک سزائیں: کہا جاتا ہے کہ سلطان نے کرپشن اور غداری کے جرم میں ہزاروں افراد کو سزائیں دیں تاکہ ریاست کا وقار بحال ہو۔
  • فوج کی تطہیر: انہوں نے انکچاری (Janissaries) فوج کو دوبارہ نظم و ضبط کا پابند بنایا۔ جو سپاہی کل تک سلطان کو دھمکیاں دیتے تھے، اب وہ سلطان کے سائے سے بھی تھر تھر کانپنے لگے تھے۔

بھیس بدل کر راتوں کا گشت: عوام کی خبر گیری

​سلطان مراد چہارم کی ایک مشہور صفت ان کا بھیس بدل کر شہر کا گشت کرنا تھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں ایک عام شہری کا لباس پہن کر دہلی (قسطنطنیہ) کی گلیوں میں نکل جاتے تھے۔

  • قانون کی بالادستی: انہوں نے تمباکو، شراب اور قہوہ خانوں پر پابندی لگا رکھی تھی کیونکہ یہ جگہ سازشوں کا گڑھ بن چکی تھیں۔ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا، تو سلطان موقع پر ہی اسے سزا دیتے۔
  • مظلوم کی داد رسی: گشت کے دوران اگر سلطان کو پتہ چلتا کہ کوئی افسر کسی غریب پر ظلم کر رہا ہے، تو اگلی صبح اس افسر کا سر دربار میں لٹکا ہوا ملتا۔ ان کے اس عمل سے عوام میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اب ایک بیدار مغز حکمران ان کی حفاظت کر رہا ہے۔

بغداد کی قلعہ بندی اور عظیم مہم کا آغاز

​بغداد پر صفویوں کا قبضہ سلطان کے دل میں ایک کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا۔ 1638ء میں انہوں نے خود اس عظیم مہم کی قیادت کا فیصلہ کیا۔

  • عظیم لشکر کی تیاری: سلطان نے ایک ایسا لشکر تیار کیا جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی تھی۔ جدید توپیں، منجنیقیں اور لاکھوں جان نثار سپاہی اس مہم کا حصہ تھے۔
  • کٹھن سفر: استنبول سے بغداد تک کا سفر مہینوں پر محیط تھا، مگر سلطان خود ایک عام سپاہی کی طرح گھوڑے پر سوار رہے اور خیموں میں زندگی گزاری۔

بغداد کا محاصرہ اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر

​جب عثمانی لشکر بغداد کی فصیلوں کے نیچے پہنچا، تو صفویوں نے شہر کو ہر طرف سے بند کر دیا تھا۔ بغداد کی قلعہ بندی اتنی مضبوط تھی کہ اسے توڑنا ناممکن معلوم ہوتا تھا۔

  • ارگن پہلوان کی للکار: ایرانی لشکر کا سب سے طاقتور پہلوان 'ارگن' فصیل سے نیچے اترا۔ وہ لمبا چوڑا اور دیو قامت انسان تھا جس کے ہاتھوں میں بھاری گرز تھا۔ اس نے عثمانیوں کو للکارا: "ہے کوئی جو موت کے جبڑے میں آنا چاہے؟"
  • سلطان کا تاریخی مقابلہ: سلطان مراد چہارم، جن کی اپنی جسمانی طاقت ضرب المثل تھی، خاموشی سے اپنے گھوڑے سے اترے۔ انہوں نے اپنی ڈھال سنبھالی اور میدان میں آ گئے۔ دشمن سمجھا کہ شاید کوئی عام سپاہی ہے، لیکن جب سلطان نے اپنی گرجدار آواز میں نعرہ لگایا، تو صفویوں کے کلیجے منہ کو آ گئے۔
  • فیصلہ کن وار: ارگن نے سلطان پر پوری طاقت سے وار کیا، مگر سلطان نے اسے خالی دیا اور بجلی کی تیزی سے اپنا گرز ارگن کے سر پر دے مارا۔ وہ پہلوان جس سے پورا لشکر ڈرتا تھا، ایک ہی وار میں مٹی کے ڈھیر کی طرح زمین پر گر گیا۔ یہ منظر دیکھ کر عثمانی فوج نے "اللہ اکبر" کا ایسا نعرہ بلند کیا کہ بغداد کی دیواروں سے پتھر گرنے لگے۔

فتحِ بغداد اور آخری ایام

​سلطان نے دیواروں میں شگاف ڈالا اور خونریز جنگ کے بعد بغداد کو آزاد کروا لیا۔ انہوں نے شہر میں داخل ہو کر سب سے پہلے امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کے مزار کی زیارت کی اور اس کی تعمیرِ نو کا حکم دیا۔ اس فتح نے سلطنتِ عثمانیہ کو دوبارہ دنیا کی سپر پاور بنا دیا۔

سبق

  1. قوت اور انصاف کا سنگم: صرف طاقت کافی نہیں ہوتی، جب تک اس کے ساتھ سخت انصاف اور نظم و ضبط نہ ہو۔
  2. قائد کی مثال: ایک حقیقی لیڈر وہ ہے جو میدانِ جنگ میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ خود فرنٹ لائن پر کھڑا ہو۔
  3. ایمان کی حرارت: جب مقصد حق کی سربلندی ہو، تو دنیا کی بڑی سے بڑی دیواریں اور پہلوان حق کے سپاہیوں کا راستہ نہیں روک سکتے۔
  4. امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ اپ کو بہت پسند آیا ہو گا 
  5. اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کریں اور اگے شئر بھی کرے 
  6. کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان