سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ: مغل سلطنت کا وہ درویش سپاہی جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

 


ابتدائی زندگی اور جوانی کا وہ جرات مندانہ واقعہ

سلطان اورنگزیب عالمگیر 1618ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی جوانی عام شہزادوں جیسی عیش و عشرت والی نہیں تھی، بلکہ وہ بچپن ہی سے بہت سنجیدہ اور نڈر تھے۔ ان کی شجاعت کا پہلا بڑا امتحان صرف 15 سال کی عمر میں ہوا۔

​ایک بار شاہ جہاں (ان کے والد) ہاتھیوں کی لڑائی دیکھ رہے تھے۔ اچانک ایک بپھرا ہوا ہاتھی، جس کا نام "سدھاکر" تھا، تماشائیوں کی طرف لپکا اور سیدھا شہزادہ اورنگزیب کے گھوڑے پر حملہ کر دیا۔ جہاں بڑے بڑے سورما پیچھے ہٹ گئے، وہاں اس 15 سالہ نوجوان نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی نیزہ اٹھایا اور اکیلے اس مہیب ہاتھی کا مقابلہ کیا۔ جب ہاتھی نے ان کے گھوڑے کو گرا دیا، تو اورنگزیب زمین پر کھڑے ہو گئے اور اپنی تلوار سے اس دیو ہیکل جانور پر وار کرنے لگے۔ یہ ان کی جوانی کا وہ پہلا منظر تھا جس نے دنیا کو بتا دیا کہ یہ شہزادہ آگے چل کر ایک عظیم فاتح بنے گا۔

تخت نشینی اور سلطنت کی وسعت

اورنگزیب عالمگیر جب تخت پر بیٹھے، تو مغل سلطنت اندرونی اور بیرونی فتنوں میں گھری ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ (تقریباً 25 سال) میدانِ جنگ میں گزارا۔ انہوں نے دکن (جنوبی ہند) کی مہمات میں وہ کارنامے انجام دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد صرف زمین جیتنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی سلطنت قائم کرنا تھا جہاں اللہ کا قانون چلے۔ ان کے دور میں مغل سلطنت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی حدود تک پہنچ گئی تھی، یعنی کابل سے لے کر بنگال تک اور کشمیر سے لے کر راس کماری تک صرف ایک ہی جھنڈا لہراتا تھا۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر: پسمانده لشکر اور موت کے سائے میں نماز

سلطان اورنگزیب کی زندگی کا سب سے لرزہ خیز اور ایمان افروز واقعہ وسطی ایشیا کی مہم کے دوران پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مغل فوج کا سامنا تاتاریوں اور ازبکوں کے ٹڈی دل لشکر سے تھا۔ دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ آسمان گرد و غبار سے اٹ گیا تھا۔ جنگ اپنے پورے جلال پر تھی، ہر طرف کٹے ہوئے سر اور خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔

​اسی ہما ہمی میں عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ سلطان نے اپنے سپہ سالاروں کی طرف دیکھا، جن کے چہروں پر موت کا خوف تھا، لیکن سلطان کا چہرہ پرسکون تھا۔ انہوں نے حکم دیا: "نماز کا وقت ہو گیا ہے، میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا چاہتا ہوں۔"

​سپہ سالاروں نے منت کی کہ "حضور! یہ خودکشی ہے، دشمن سر پر ہے، وہ آپ کو شہید کر دیں گے۔" لیکن اورنگزیب عالمگیر نے وہ تاریخی جملہ کہا:

"جو بادشاہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے نہیں جھک سکتا، وہ دنیا کو کیسے جھکا سکتا ہے؟ اگر میری موت کا وقت قریب ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ میں سجدے کی حالت میں اپنے رب سے ملوں۔"


​سلطان نے اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگائی، اپنا نیزہ زمین میں گاڑا اور مصلہ بچھایا۔ لاکھوں دشمنوں کے درمیان، تیروں کی سنسناہٹ اور تلواروں کی کھنکھناہٹ کے بیچ، مغل اعظم نے سکون سے نماز شروع کر دی۔ دشمن کا سپہ سالار "عبدالعزیز خان" یہ منظر دیکھ کر پتھر کا بن گیا۔ اس نے اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور اپنے سپاہیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا، اور پکار اٹھا:

"ایسے شخص سے لڑنا جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے خدا سے باتیں کر رہا ہو، نری حماقت ہے۔ اس شخص کو انسان نہیں ہرا سکتے، اس کے ساتھ خدا کی غیبی طاقت ہے۔"


سادگی اور درویشی: تاجدارِ ہند کی اصل حقیقت

دنیا جس اورنگزیب کو ایک ظالم یا سخت گیر بادشاہ سمجھتی تھی، وہ راتوں کو مصلے پر بیٹھ کر رونے والا ایک فقیر تھا۔ وہ اپنی گزر بسر کے لیے سرکاری خزانے سے ایک پائی بھی نہیں لیتے تھے۔ ان کے دن میدانِ جنگ میں گزرتے اور راتیں قرآن کی خطاطی اور ٹوپیاں سینے میں۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کے کفن دفن کا خرچ ان کی اپنی کمائی (ٹوپیوں کی فروخت) سے کیا جائے اور ان کی قبر پر کوئی عالیشان مقبرہ نہ بنایا جائے، بلکہ اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ اس پر اللہ کی رحمت کی بارش براہِ راست گرے۔

اختتام: ایک عظیم عہد کا خاتمہ

سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے 1707ء میں وفات پائی۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا وہ سنہرا باب بند ہو گیا جو عدل، جرات اور تقویٰ پر مبنی تھا۔ وہ تاریخ کے وہ واحد بادشاہ تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ آپ بادشاہ ہو کر بھی درویش رہ سکتے ہیں اور لاکھوں کی فوج کے باوجود تنہا اللہ کے سامنے جھکنے میں ہی اصل بڑائی ہے۔

امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقع کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان