میسور کا شیر: سلطان ٹیپو کی غیرت، شجاعت اور شہادت کا آخری منظر

 


​سلطان فتح علی خان ٹیپو تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس نے انگریز استعمار کے سامنے سر جھکانے کے بجائے کٹ جانے کو ترجیح دی۔ 4 مئی 1799ء کی وہ منحوس دوپہر سرنگاپٹم کے قلعے پر موت کا سایہ لے کر آئی تھی۔ انگریز فوج، نظامِ دکن اور مرہٹوں کے متحدہ لشکر نے قلعے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ قلعے کے اندر موجود میر صادق جیسے غداروں نے انگریزوں سے سازش کر کے قلعے کی فصیل میں شگاف کی خفیہ معلومات فراہم کر دی تھیں اور عین جنگ کے دوران اپنی ہی فوج کی تنخواہ بانٹنے کے بہانے سپاہیوں کو مورچوں سے ہٹا دیا تھا۔

​سلطان ٹیپو اس وقت اپنے محل کے ایک برآمدے میں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ اچانک قلعے میں شور بلند ہوا۔ ایک وفادار سپاہی ہانپتا ہوا پہنچا اور خبر دی کہ غداروں نے قلعے کا ایک اہم دروازہ دشمن کے لیے کھول دیا ہے اور انگریز فوج سیلاب کی طرح اندر داخل ہو رہی ہے۔ سلطان نے لقمہ ہاتھ میں لیا تھا، اسے وہیں چھوڑ دیا، ہاتھ دھوئے اور میان سے اپنی مشہورِ زمانہ تلوار نکال کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ "عالی جاہ! ابھی وقت ہے، آپ قلعے کے خفیہ آبی راستے سے نکل کر کسی دوسرے مقام پر اپنا لشکر دوبارہ تیار کر سکتے ہیں، دشمن آپ کی جان کا پیاسا ہے۔" سلطان کی آنکھوں میں جلال اتر آیا، ان کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی اور انہوں نے وہ تاریخی جملہ کہا جو رہتی دنیا تک غیرت مندوں کا نعرہ بن گیا: "شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔"

​سلطان اپنے چند گنتی کے جانثاروں کے ساتھ قلعے کے اسی شگاف کی طرف دوڑے جہاں سے انگریزی فوج اندر آ رہی تھی۔ میدانِ جنگ میں قیامت کا شور تھا، گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور ہر طرف لاشیں گر رہی تھیں۔ سلطان زخمی حالت میں بھی ایک غضب ناک شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔ ان کے جسم پر گولیوں اور تلواروں کے بے شمار زخم لگے، ان کا گھوڑا مارا گیا، لیکن وہ ایک دیوار کے سہارے کھڑے ہو کر آخری سانس تک لڑتے رہے۔ جب ان کی ڈھال گر گئی اور وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر گرے، تب بھی ان کی گرفت اپنی تلوار پر اتنی مضبوط تھی کہ دشمن قریب آنے سے لرز رہا تھا۔

​رات کے اندھیرے میں جب جنرل ہیرس لالٹین لے کر لاشوں کے ڈھیر میں سلطان کو ڈھونڈنے نکلا، تو اس نے دیکھا کہ سلطان کا جسدِ مبارک ایک دیوار کے سہارے ہے، چہرہ پرسکون مگر رعب ایسا کہ فاتح لشکر کے جرنیلوں کی روحیں کانپ گئیں۔ اس نے اپنی تلوار بلند کر کے کہا: "آج سے ہندوستان ہمارا ہے!" کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جب تک یہ شیر زندہ ہے، انگریز کی غلامی ممکن نہیں۔

سبق: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی عزت اقتدار میں نہیں بلکہ غیرت اور ایمان کی حفاظت میں ہے۔ غداری ملک و قوم کو غلام بنا دیتی ہے، جبکہ شہادت کی تمنا رکھنے والے مر کر بھی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔ بزدلی کی طویل زندگی سے عزت کی مختصر زندگی ہزار درجہ بہتر ہے کیونکہ ضمیر کا سکون صرف حق پر ڈٹ جانے میں ہے

امید ہے آپ کو یہ واقعہ بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان