سلطان شہاب الدین غوری: وہ فاتح جس نے شکست کی راکھ سے عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی
تمہید: عزم و استقلال کا کوہِ گراں
اسلامی تاریخ ایسے عظیم سپہ سالاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، لیکن سلطان شہاب الدین غوری کا مقام سب سے جدا ہے۔ وہ محض ایک بادشاہ نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسی تحریک کا نام تھے جس نے برصغیر پاک و ہند میں مستقل اسلامی حکومت کی شمع روشن کی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایک سچا مجاہد کبھی ہار نہیں مانتا، بلکہ ہر ناکامی اسے ایک نئی اور بڑی کامیابی کے لیے تیار کرتی ہے۔
تراین کا پہلا میدان: جب قسمت نے پیٹھ پھیر لی (1191ء)
1191ء میں تراین کے ریگزاروں میں ایک ایسا معرکہ برپا ہوا جس نے غوری سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔ سلطان شہاب الدین غوری اپنے لشکر کے ساتھ راجہ پرتھوی راج چوہان کے مدمقابل تھے۔ راجہ کے پاس لاکھوں کا لشکر، بپھرے ہوئے ہاتھی اور راجپوتوں کی جرات تھی۔ جنگ شروع ہوئی تو راجپوتوں کے زبردست حملے نے غوری فوج کے قدم اکھاڑ دیے۔
اسی افراتفری میں سلطان کا سامنا راجہ کے بھائی کھانڈے راؤ سے ہوا۔ سلطان نے نیزہ مار کر اس کے دانت توڑ دیے، لیکن جواب میں اس نے ایک بھاری برچھا سلطان کے کندھے پر مارا جس سے سلطان شدید زخمی ہو کر گھوڑے سے گرنے ہی والے تھے۔ قریب تھا کہ سلطان شہید ہو جاتے، لیکن ایک وفادار خلجی سپاہی نے اپنی جان پر کھیل کر سلطان کو گھوڑے پر سہارا دیا اور انہیں میدانِ جنگ سے نکال کر محفوظ مقام پر لے گیا۔ غوری فوج یہ سمجھ کر کہ سلطان شہید ہو چکے ہیں، بدحواسی میں پیچھے ہٹ گئی۔ یہ سلطان کی زندگی کی سب سے بڑی اور تکلیف دہ شکست تھی۔
رونگٹے کھڑے کر دینے والا سال: کرب، ندامت اور تیاری
تراین کی شکست کے بعد جب سلطان غزنی پہنچے، تو ان کی حالت بدل چکی تھی۔ وہ شکست جو ان کے ماتھے پر لگی تھی، انہیں ایک لمحے کے لیے بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی تھی۔ تاریخ لکھتی ہے کہ سلطان اس ایک سال کے دوران:
- کبھی اپنے خاندان کے پاس نہ گئے: انہوں نے قسم کھا لی تھی کہ جب تک شکست کا بدلہ نہیں لیں گے، وہ خوشی کی محفلوں میں شریک نہیں ہوں گے۔
- کپڑے نہیں بدلے: انہوں نے ایک ہی لباس پہنا اور بستر پر سونا ترک کر دیا۔
- ندامت کا سمندر: وہ اکثر راتوں کو اللہ کے حضور سجدے میں روتے کہ یا اللہ! مجھے میرے سپاہیوں کی نظروں میں سرخرو کر دے۔
سلطان نے اپنی تمام تر توجہ ایک نئی فوج کی تشکیل پر لگا دی۔ انہوں نے 1 لاکھ 20 ہزار کا ایسا لشکر تیار کیا جو صرف آہن پوش سواروں اور ماہر تیر اندازوں پر مشتمل تھا۔ وہ دن رات اپنے سپاہیوں کو یہ بتاتے کہ ہم صرف زمین جیتنے نہیں، بلکہ توحید کا جھنڈا گاڑنے جا رہے ہیں۔
واپسی: جب شیر نے دوبارہ دھاڑا (1192ء)
ایک سال بعد، 1192ء میں سلطان دوبارہ تراین کے اسی میدان میں آ کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف پرتھوی راج چوہان کا غرور آسمان چھو رہا تھا۔ اس نے سلطان کو خط لکھا کہ "تم پچھلی شکست بھول گئے ہو؟ واپس چلے جاؤ ورنہ اس بار کوئی زندہ نہیں بچے گا۔" سلطان نے نہایت زیرک جواب دیا کہ "میں اپنے بھائی کے حکم کا تابع ہوں، مجھے مہلت دو تاکہ میں اس سے مشورہ کر سکوں۔" یہ ایک جنگی چال تھی تاکہ دشمن غافل ہو جائے۔ راجپوتوں نے سمجھا کہ سلطان ڈر گیا ہے اور وہ جشن میں مصروف ہو گئے۔
وہ خونی صبح اور سلطان کی حیرت انگیز چال
ابھی سورج کی پہلی کرن بھی نہیں نکلی تھی کہ سلطان نے وہ فیصلہ کیا جس نے دشمن کے ہوش اڑا دیے۔ انہوں نے اپنی فوج کو چار حصوں میں تقسیم کیا اور حکم دیا کہ ہر دستہ باری باری حملہ کرے اور پھر پیچھے ہٹ جائے۔
جب جنگ شروع ہوئی، تو مسلمانوں کے ہلکے گھڑ سوار تیر انداز دشمن پر تیروں کی بارش کرتے اور جب راجپوت جوابی حملہ کرتے تو مسلمان پیچھے ہٹ جاتے۔ راجپوتوں نے سمجھا کہ مسلمان ایک بار پھر بھاگ رہے ہیں، لہذا وہ اپنے مضبوط دفاعی حصار کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پیچھے دوڑ پڑے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا سلطان کو انتظار تھا۔ راجپوتوں کی صفیں بکھر گئیں اور ان کے بھاری ہاتھی خود اپنی ہی فوج کے لیے بوجھ بن گئے۔
آخری حملہ: "فتح یا شہادت"
جب سلطان نے دیکھا کہ دشمن تھک چکا ہے اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہو چکا ہے، تو انہوں نے اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے 12 ہزار زرہ پوش جانثاروں کو حملے کا حکم دیا۔ سلطان خود اس دستے کی قیادت کر رہے تھے۔
ہاتھ میں ننگی تلوار لیے سلطان بجلی کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ فضا "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھی۔ راجپوتوں کا غرور ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ پرتھوی راج چوہان کو شکست ہوئی اور وہ پکڑا گیا۔ تراین کا وہی میدان جہاں ایک سال پہلے مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی، آج وہیں توحید کا علم بلند ہو رہا تھا۔
عظیم میراث: "میرے ہزاروں بیٹے ہیں"
سلطان شہاب الدین غوری نے اس فتح کے بعد دہلی اور اجمیر سمیت بڑے علاقے فتح کیے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، لیکن ان کا وہ جملہ آج بھی تاریخ کا حصہ ہے:
"دوسرے بادشاہوں کے ایک یا دو بیٹے ہوں گے، لیکن میرے ہزاروں بیٹے ہیں، اور وہ میرے یہ ترک غلام ہیں جو میرے بعد میرا نام اور میرے دین کا کام زندہ رکھیں گے۔"
انہی غلاموں میں قطب الدین ایبک جیسے نامور سپہ سالار شامل تھے جنہوں نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ 1206ء میں سلطان کو اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے، لیکن وہ اپنا مشن پورا کر چکے تھے۔
حاصلِ تحریر: سبق آموز انجام
سلطان شہاب الدین غوری کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ شکست آخری منزل نہیں ہوتی۔ اگر انسان میں تڑپ، ندامت اور دوبارہ اٹھنے کا عزم ہو تو وہ پوری دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ آپ کی ویب سائٹ کے قارئین کے لیے یہ واقعہ ایک ایسی مشعلِ راہ ہے جو انہیں کبھی ہمت نہ ہارنے کا درس دے گی۔
امید کرتا ہو کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے
کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments
Post a Comment