سلطان عبدالحمید ثانی: وہ مردِ درویش جس نے فلسطین کے بدلے دنیا کی تمام دولت ٹھکرا دی

 


سلطنتِ عثمانیہ کی ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ میں جہاں تلواروں کی دھار اور میدانِ جنگ کی فتوحات کا ذکر ملتا ہے، وہیں ایک ایسا دور بھی آیا جب جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں دماغ اور ایمان کے زور پر لڑی گئیں۔ یہ دور تھا سلطان عبدالحمید ثانی کا، جنہیں تاریخ "سلطنتِ عثمانیہ کا آخری محافظ" اور "سیاست کا بادشاہ" کہتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی جب سلطنت چاروں طرف سے بھیڑیوں کے نرغے میں تھی، لیکن ان کی ایمانی غیرت نے ثابت کر دیا کہ ایک سچا مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے، مگر مقدس زمین کا سودا نہیں کر سکتا۔
​سازشوں کا جال اور سلطنت کی حالت
​19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ معاشی طور پر بہت کمزور ہو چکی تھی۔ یورپی طاقتیں اور عالمی ساہوکار سلطنت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا چکے تھے۔ اس نازک وقت میں عالمی صہیونی تحریک (Zionist Movement) کے بانی، تھیوڈور ہرزل نے ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد فلسطین کی زمین پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست قائم کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ قائم ہے اور تخت پر سلطان عبدالحمید جیسا نڈر شخص بیٹھا ہے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
​چنانچہ انہوں نے سوچا کہ سلطان کو پیسے اور دولت کا لالچ دے کر خریدا جائے۔ یہیں سے وہ تاریخی واقعہ شروع ہوتا ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔
​وہ ملاقات جس نے تاریخ کو لرزا دیا
​مئی 1901ء کا مہینہ تھا، جب یہودیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد استنبول کے یلدز محل پہنچا۔ اس وفد کی قیادت تھیوڈور ہرزل کر رہا تھا۔ ان کے پاس دنیا بھر کے امیر ترین یہودیوں کی حمایت اور دولت کی طاقت تھی۔ جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے ایک ایسی پیشکش رکھی جو بظاہر سلطنت کے تمام معاشی مسائل کا حل تھی۔
​ہرزل نے نہایت چالاکی سے کہا: "عالی جاہ! ہم جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ اس وقت غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمیں صرف فلسطین کے ایک چھوٹے سے حصے پر اپنی بستی بسانے کی اجازت دے دیں۔ اس کے بدلے میں ہم سلطنت کا وہ تمام قرضہ اتار دیں گے جو یورپ کے بینکوں نے آپ پر لاد رکھا ہے۔ ہم عثمانی بیڑے کو جدید ترین بحری جہاز بنا کر دیں گے اور آپ کی ذاتی تجوریوں کو سونے اور ہیروں سے بھر دیں گے۔"
​کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ وزراء اور دربار کے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، کیونکہ سلطنت کو ان پیسوں کی بہت اشد ضرورت تھی۔ لیکن سلطان عبدالحمید ثانی خاموش بیٹھے دشمن کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سا جلال نمودار ہوا، ان کی آنکھیں سرخی مائل ہو گئیں اور وہ لمحہ آگیا جس نے یہودیوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔
​رونگٹے کھڑے کر دینے والا تاریخی جواب
​سلطان عبدالحمید ثانی اپنی جگہ سے اٹھے اور نہایت گرجدار آواز میں فرمایا:
​"خبردار! دوبارہ اس قسم کی ناپاک گفتگو میرے سامنے نہ کرنا۔ میں فلسطین کی ایک انچ زمین بھی تمہیں نہیں دوں گا، کیونکہ یہ زمین میری ملکیت نہیں بلکہ میری ملت (مسلمانوں) کی ملکیت ہے۔ میرے آباؤ اجداد اور مسلمانوں نے اس زمین کو اپنے خون سے سینچا ہے، اور جو چیز خون سے حاصل کی جائے، وہ کبھی پیسوں سے نہیں بیچی جا سکتی!"
​سلطان یہاں ہی نہیں رکے، بلکہ انہوں نے ہرزل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ جملہ کہا جو آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے:
​"یہودی اپنے کروڑوں روپے اپنے پاس ہی رکھیں۔ اگر کسی دن میری سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی (جو کہ تمہارے بس کی بات نہیں)، تو شاید تم اسے مفت میں حاصل کر لو، لیکن جب تک میں زندہ ہوں، میری گردن کاٹنا تمہارے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت اس کے کہ میں فلسطین کا ایک ٹکڑا تمہارے حوالے کروں۔ جب تک میں زندہ ہوں، یہ مقدس زمین خلافتِ اسلامیہ کا حصہ رہے گی۔"
​یہ سن کر یہودی وفد کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک "بیمار سلطنت" کا حکمران اتنی بڑی دولت کو ٹھکرانے کی جرات کر سکتا ہے۔ تھیوڈور ہرزل وہاں سے نامراد لوٹا اور اپنی ڈائری میں لکھا: "جب تک سلطان عبدالحمید تخت پر ہے، ہمارا وہاں جانا ناممکن ہے۔ ہمیں پہلے اس شخص کو ہٹانا ہوگا"۔
​عشقِ رسول ﷺ اور ایمانی غیرت
​سلطان عبدالحمید ثانی صرف ایک حکمران نہیں تھے، وہ عاشقِ رسول ﷺ بھی تھے۔ ایک بار جب فرانس میں ایک گستاخانہ اسٹیج ڈرامہ تیار کیا گیا، تو سلطان نے تڑپ کر فرانسیسی سفیر کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ اگر یہ ڈرامہ نہ رکا تو میں پوری دنیا میں جہاد کا اعلان کر دوں گا اور فرانس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ ان کے اس رعب کا یہ عالم تھا کہ وہ ڈرامہ فوری طور پر بند کر دیا گیا۔
​ان کا معمول تھا کہ وہ ہمیشہ وضو کی حالت میں رہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں مسلمانوں کا خلیفہ ہوں، میں نہیں چاہتا کہ کسی سرکاری کاغذ پر میرے دستخط بغیر وضو کے ہوں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے حجاز ریلوے بنائی تاکہ حاجیوں کو مکہ اور مدینہ تک پہنچنے میں آسانی ہو، اور وہ بھی صرف اس لیے کہ کسی غیر مسلم کمپنی کا اس مقدس راستے پر اثر و رسوخ نہ ہو۔
​آخری وقت اور مظلومیت
​بالآخر، اندرونی غداروں اور بیرونی طاقتوں نے مل کر سلطان کے خلاف سازش کی اور انہیں تخت سے ہٹا دیا گیا۔ جب انہیں معزول کیا گیا، تو ان کے پاس اپنی ذاتی دولت کے نام پر کچھ نہ تھا۔ وہ شخص جس نے اربوں ڈالر کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، اس کے پاس آخری وقت میں پہننے کے لیے ایک سادہ لباس کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان کی شہادت کے بعد جب ان کا جنازہ اٹھا، تو استنبول کی دیواریں رو رہی تھیں اور لوگ پکار رہے تھے کہ "اے سلطان! ہمیں معاف کر دو، ہم نے تمہاری قدر نہیں کی"۔
​حاصلِ سبق (نتیجہ)
​سچی غیرت اور ایمان وہ طاقت ہے جو دنیا کی تمام دولت اور خزانوں پر بھاری ہوتی ہے۔ سلطان نے ثابت کیا کہ مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہے، مگر غدار نہیں ہو سکتا۔
​قدس اور فلسطین کی حفاظت صرف ایک زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جس کے لیے سلطان عبدالحمید جیسے حکمرانوں نے اپنا تخت و تاج داؤ پر لگا دیا۔
​دشمن ہمیشہ پہلے آپ کی معیشت کو نشانہ بناتا ہے تاکہ آپ کو مجبور کر سکے، لیکن توکل علی اللہ اور خودداری ہی وہ ہتھیار ہیں جو ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
سلطنتِ عثمانیہ کی ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ میں جہاں تلواروں کی دھار اور میدانِ جنگ کی فتوحات کا ذکر ملتا ہے، وہیں ایک ایسا دور بھی آیا جب جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں دماغ اور ایمان کے زور پر لڑی گئیں۔ یہ دور تھا سلطان عبدالحمید ثانی کا، جنہیں تاریخ "سلطنتِ عثمانیہ کا آخری محافظ" اور "سیاست کا بادشاہ" کہتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی جب سلطنت چاروں طرف سے بھیڑیوں کے نرغے میں تھی، لیکن ان کی ایمانی غیرت نے ثابت کر دیا کہ ایک سچا مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے، مگر مقدس زمین کا سودا نہیں کر سکتا۔
​سازشوں کا جال اور سلطنت کی حالت
​19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ معاشی طور پر بہت کمزور ہو چکی تھی۔ یورپی طاقتیں اور عالمی ساہوکار سلطنت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا چکے تھے۔ اس نازک وقت میں عالمی صہیونی تحریک (Zionist Movement) کے بانی، تھیوڈور ہرزل نے ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد فلسطین کی زمین پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست قائم کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ قائم ہے اور تخت پر سلطان عبدالحمید جیسا نڈر شخص بیٹھا ہے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
​چنانچہ انہوں نے سوچا کہ سلطان کو پیسے اور دولت کا لالچ دے کر خریدا جائے۔ یہیں سے وہ تاریخی واقعہ شروع ہوتا ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔
​وہ ملاقات جس نے تاریخ کو لرزا دیا
​مئی 1901ء کا مہینہ تھا، جب یہودیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد استنبول کے یلدز محل پہنچا۔ اس وفد کی قیادت تھیوڈور ہرزل کر رہا تھا۔ ان کے پاس دنیا بھر کے امیر ترین یہودیوں کی حمایت اور دولت کی طاقت تھی۔ جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے ایک ایسی پیشکش رکھی جو بظاہر سلطنت کے تمام معاشی مسائل کا حل تھی۔
​ہرزل نے نہایت چالاکی سے کہا: "عالی جاہ! ہم جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ اس وقت غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمیں صرف فلسطین کے ایک چھوٹے سے حصے پر اپنی بستی بسانے کی اجازت دے دیں۔ اس کے بدلے میں ہم سلطنت کا وہ تمام قرضہ اتار دیں گے جو یورپ کے بینکوں نے آپ پر لاد رکھا ہے۔ ہم عثمانی بیڑے کو جدید ترین بحری جہاز بنا کر دیں گے اور آپ کی ذاتی تجوریوں کو سونے اور ہیروں سے بھر دیں گے۔"
​کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ وزراء اور دربار کے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، کیونکہ سلطنت کو ان پیسوں کی بہت اشد ضرورت تھی۔ لیکن سلطان عبدالحمید ثانی خاموش بیٹھے دشمن کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سا جلال نمودار ہوا، ان کی آنکھیں سرخی مائل ہو گئیں اور وہ لمحہ آگیا جس نے یہودیوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔
​رونگٹے کھڑے کر دینے والا تاریخی جواب
​سلطان عبدالحمید ثانی اپنی جگہ سے اٹھے اور نہایت گرجدار آواز میں فرمایا:
​"خبردار! دوبارہ اس قسم کی ناپاک گفتگو میرے سامنے نہ کرنا۔ میں فلسطین کی ایک انچ زمین بھی تمہیں نہیں دوں گا، کیونکہ یہ زمین میری ملکیت نہیں بلکہ میری ملت (مسلمانوں) کی ملکیت ہے۔ میرے آباؤ اجداد اور مسلمانوں نے اس زمین کو اپنے خون سے سینچا ہے، اور جو چیز خون سے حاصل کی جائے، وہ کبھی پیسوں سے نہیں بیچی جا سکتی!"
​سلطان یہاں ہی نہیں رکے، بلکہ انہوں نے ہرزل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ جملہ کہا جو آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے:
​"یہودی اپنے کروڑوں روپے اپنے پاس ہی رکھیں۔ اگر کسی دن میری سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی (جو کہ تمہارے بس کی بات نہیں)، تو شاید تم اسے مفت میں حاصل کر لو، لیکن جب تک میں زندہ ہوں، میری گردن کاٹنا تمہارے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت اس کے کہ میں فلسطین کا ایک ٹکڑا تمہارے حوالے کروں۔ جب تک میں زندہ ہوں، یہ مقدس زمین خلافتِ اسلامیہ کا حصہ رہے گی۔"
​یہ سن کر یہودی وفد کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک "بیمار سلطنت" کا حکمران اتنی بڑی دولت کو ٹھکرانے کی جرات کر سکتا ہے۔ تھیوڈور ہرزل وہاں سے نامراد لوٹا اور اپنی ڈائری میں لکھا: "جب تک سلطان عبدالحمید تخت پر ہے، ہمارا وہاں جانا ناممکن ہے۔ ہمیں پہلے اس شخص کو ہٹانا ہوگا"۔
​عشقِ رسول ﷺ اور ایمانی غیرت
​سلطان عبدالحمید ثانی صرف ایک حکمران نہیں تھے، وہ عاشقِ رسول ﷺ بھی تھے۔ ایک بار جب فرانس میں ایک گستاخانہ اسٹیج ڈرامہ تیار کیا گیا، تو سلطان نے تڑپ کر فرانسیسی سفیر کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ اگر یہ ڈرامہ نہ رکا تو میں پوری دنیا میں جہاد کا اعلان کر دوں گا اور فرانس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ ان کے اس رعب کا یہ عالم تھا کہ وہ ڈرامہ فوری طور پر بند کر دیا گیا۔
​ان کا معمول تھا کہ وہ ہمیشہ وضو کی حالت میں رہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں مسلمانوں کا خلیفہ ہوں، میں نہیں چاہتا کہ کسی سرکاری کاغذ پر میرے دستخط بغیر وضو کے ہوں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے حجاز ریلوے بنائی تاکہ حاجیوں کو مکہ اور مدینہ تک پہنچنے میں آسانی ہو، اور وہ بھی صرف اس لیے کہ کسی غیر مسلم کمپنی کا اس مقدس راستے پر اثر و رسوخ نہ ہو۔
​آخری وقت اور مظلومیت
​بالآخر، اندرونی غداروں اور بیرونی طاقتوں نے مل کر سلطان کے خلاف سازش کی اور انہیں تخت سے ہٹا دیا گیا۔ جب انہیں معزول کیا گیا، تو ان کے پاس اپنی ذاتی دولت کے نام پر کچھ نہ تھا۔ وہ شخص جس نے اربوں ڈالر کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، اس کے پاس آخری وقت میں پہننے کے لیے ایک سادہ لباس کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان کی شہادت کے بعد جب ان کا جنازہ اٹھا، تو استنبول کی دیواریں رو رہی تھیں اور لوگ پکار رہے تھے کہ "اے سلطان! ہمیں معاف کر دو، ہم نے تمہاری قدر نہیں کی"۔
​حاصلِ سبق (نتیجہ)
​سچی غیرت اور ایمان وہ طاقت ہے جو دنیا کی تمام دولت اور خزانوں پر بھاری ہوتی ہے۔ سلطان نے ثابت کیا کہ مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہے، مگر غدار نہیں ہو سکتا۔
​قدس اور فلسطین کی حفاظت صرف ایک زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جس کے لیے سلطان عبدالحمید جیسے حکمرانوں نے اپنا تخت و تاج داؤ پر لگا دیا۔
​دشمن ہمیشہ پہلے آپ کی معیشت کو نشانہ بناتا ہے تاکہ آپ کو مجبور کر سکے، لیکن توکل علی اللہ اور خودداری ہی وہ ہتھیار ہیں جو ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔


سلطنتِ عثمانیہ کی ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ میں جہاں تلواروں کی دھار اور میدانِ جنگ کی فتوحات کا ذکر ملتا ہے، وہیں ایک ایسا دور بھی آیا جب جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں دماغ اور ایمان کے زور پر لڑی گئیں۔ یہ دور تھا سلطان عبدالحمید ثانی کا، جنہیں تاریخ "سلطنتِ عثمانیہ کا آخری محافظ" اور "سیاست کا بادشاہ" کہتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی جب سلطنت چاروں طرف سے بھیڑیوں کے نرغے میں تھی، لیکن ان کی ایمانی غیرت نے ثابت کر دیا کہ ایک سچا مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے، مگر مقدس زمین کا سودا نہیں کر سکتا۔

سازشوں کا جال اور سلطنت کی حالت

​19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ معاشی طور پر بہت کمزور ہو چکی تھی۔ یورپی طاقتیں اور عالمی ساہوکار سلطنت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا چکے تھے۔ اس نازک وقت میں عالمی صہیونی تحریک (Zionist Movement) کے بانی، تھیوڈور ہرزل نے ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد فلسطین کی زمین پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست قائم کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ قائم ہے اور تخت پر سلطان عبدالحمید جیسا نڈر شخص بیٹھا ہے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

​چنانچہ انہوں نے سوچا کہ سلطان کو پیسے اور دولت کا لالچ دے کر خریدا جائے۔ یہیں سے وہ تاریخی واقعہ شروع ہوتا ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔

وہ ملاقات جس نے تاریخ کو لرزا دیا

​مئی 1901ء کا مہینہ تھا، جب یہودیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد استنبول کے یلدز محل پہنچا۔ اس وفد کی قیادت تھیوڈور ہرزل کر رہا تھا۔ ان کے پاس دنیا بھر کے امیر ترین یہودیوں کی حمایت اور دولت کی طاقت تھی۔ جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے ایک ایسی پیشکش رکھی جو بظاہر سلطنت کے تمام معاشی مسائل کا حل تھی۔

​ہرزل نے نہایت چالاکی سے کہا: "عالی جاہ! ہم جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ اس وقت غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمیں صرف فلسطین کے ایک چھوٹے سے حصے پر اپنی بستی بسانے کی اجازت دے دیں۔ اس کے بدلے میں ہم سلطنت کا وہ تمام قرضہ اتار دیں گے جو یورپ کے بینکوں نے آپ پر لاد رکھا ہے۔ ہم عثمانی بیڑے کو جدید ترین بحری جہاز بنا کر دیں گے اور آپ کی ذاتی تجوریوں کو سونے اور ہیروں سے بھر دیں گے۔"

​کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ وزراء اور دربار کے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، کیونکہ سلطنت کو ان پیسوں کی بہت اشد ضرورت تھی۔ لیکن سلطان عبدالحمید ثانی خاموش بیٹھے دشمن کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سا جلال نمودار ہوا، ان کی آنکھیں سرخی مائل ہو گئیں اور وہ لمحہ آگیا جس نے یہودیوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والا تاریخی جواب

​سلطان عبدالحمید ثانی اپنی جگہ سے اٹھے اور نہایت گرجدار آواز میں فرمایا:

"خبردار! دوبارہ اس قسم کی ناپاک گفتگو میرے سامنے نہ کرنا۔ میں فلسطین کی ایک انچ زمین بھی تمہیں نہیں دوں گا، کیونکہ یہ زمین میری ملکیت نہیں بلکہ میری ملت (مسلمانوں) کی ملکیت ہے۔ میرے آباؤ اجداد اور مسلمانوں نے اس زمین کو اپنے خون سے سینچا ہے، اور جو چیز خون سے حاصل کی جائے، وہ کبھی پیسوں سے نہیں بیچی جا سکتی!"


​سلطان یہاں ہی نہیں رکے، بلکہ انہوں نے ہرزل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ جملہ کہا جو آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے:

"یہودی اپنے کروڑوں روپے اپنے پاس ہی رکھیں۔ اگر کسی دن میری سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی (جو کہ تمہارے بس کی بات نہیں)، تو شاید تم اسے مفت میں حاصل کر لو، لیکن جب تک میں زندہ ہوں، میری گردن کاٹنا تمہارے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت اس کے کہ میں فلسطین کا ایک ٹکڑا تمہارے حوالے کروں۔ جب تک میں زندہ ہوں، یہ مقدس زمین خلافتِ اسلامیہ کا حصہ رہے گی۔"


​یہ سن کر یہودی وفد کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک "بیمار سلطنت" کا حکمران اتنی بڑی دولت کو ٹھکرانے کی جرات کر سکتا ہے۔ تھیوڈور ہرزل وہاں سے نامراد لوٹا اور اپنی ڈائری میں لکھا: "جب تک سلطان عبدالحمید تخت پر ہے، ہمارا وہاں جانا ناممکن ہے۔ ہمیں پہلے اس شخص کو ہٹانا ہوگا"۔

عشقِ رسول ﷺ اور ایمانی غیرت

​سلطان عبدالحمید ثانی صرف ایک حکمران نہیں تھے، وہ عاشقِ رسول ﷺ بھی تھے۔ ایک بار جب فرانس میں ایک گستاخانہ اسٹیج ڈرامہ تیار کیا گیا، تو سلطان نے تڑپ کر فرانسیسی سفیر کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ اگر یہ ڈرامہ نہ رکا تو میں پوری دنیا میں جہاد کا اعلان کر دوں گا اور فرانس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ ان کے اس رعب کا یہ عالم تھا کہ وہ ڈرامہ فوری طور پر بند کر دیا گیا۔

​ان کا معمول تھا کہ وہ ہمیشہ وضو کی حالت میں رہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں مسلمانوں کا خلیفہ ہوں، میں نہیں چاہتا کہ کسی سرکاری کاغذ پر میرے دستخط بغیر وضو کے ہوں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے حجاز ریلوے بنائی تاکہ حاجیوں کو مکہ اور مدینہ تک پہنچنے میں آسانی ہو، اور وہ بھی صرف اس لیے کہ کسی غیر مسلم کمپنی کا اس مقدس راستے پر اثر و رسوخ نہ ہو۔

آخری وقت اور مظلومیت

​بالآخر، اندرونی غداروں اور بیرونی طاقتوں نے مل کر سلطان کے خلاف سازش کی اور انہیں تخت سے ہٹا دیا گیا۔ جب انہیں معزول کیا گیا، تو ان کے پاس اپنی ذاتی دولت کے نام پر کچھ نہ تھا۔ وہ شخص جس نے اربوں ڈالر کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، اس کے پاس آخری وقت میں پہننے کے لیے ایک سادہ لباس کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان کی شہادت کے بعد جب ان کا جنازہ اٹھا، تو استنبول کی دیواریں رو رہی تھیں اور لوگ پکار رہے تھے کہ "اے سلطان! ہمیں معاف کر دو، ہم نے تمہاری قدر نہیں کی"۔

حاصلِ سبق (نتیجہ)

  1. سچی غیرت اور ایمان وہ طاقت ہے جو دنیا کی تمام دولت اور خزانوں پر بھاری ہوتی ہے۔ سلطان نے ثابت کیا کہ مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہے، مگر غدار نہیں ہو سکتا۔
  2. قدس اور فلسطین کی حفاظت صرف ایک زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جس کے لیے سلطان عبدالحمید جیسے حکمرانوں نے اپنا تخت و تاج داؤ پر لگا دیا۔
  3. دشمن ہمیشہ پہلے آپ کی معیشت کو نشانہ بناتا ہے تاکہ آپ کو مجبور کر سکے، لیکن توکل علی اللہ اور خودداری ہی وہ ہتھیار ہیں جو ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 
کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان