باربروسہ خیر الدین پاشا: سمندروں کا بے تاج بادشاہ وہ جری مجاہد جس نے سمندروں کو مسخر کر لیا

 


تاریخِ عالم میں بہت سے فاتحین گزرے ہیں، لیکن سمندر کی بپھری ہوئی لہروں پر جس طرح کی حکمرانی خیر الدین پاشا نے کی، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انہیں یورپ والے "باربروسہ" (سرخ داڑھی والا) کہتے تھے، لیکن ان کا اصل نام خضر تھا اور انہیں "خیر الدین" (دین کی بھلائی کرنے والا) کا لقب خود سلطان سلیمان عالیشان نے عطا کیا تھا۔ وہ ایک معمولی ملاح کے بیٹے تھے، لیکن اپنی خداداد صلاحیتوں اور ایمانی جذبے کی بدولت وہ سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے "قپودان پاشا" (ایڈمرل ان چیف) بنے۔

ابتدائی دور اور جہاد کا آغاز

​خیر الدین اور ان کے بھائی عروج پاشا نے اپنی زندگی کا آغاز بحیرہ روم میں عیسائی قزاقوں اور ظالم بحری بیڑوں کے خلاف جہاد سے کیا۔ اس دور میں جب سپین میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، یہ باربروسہ بھائی ہی تھے جنہوں نے اپنی کشتیوں کے ذریعے ہزاروں مظلوم اندلسی مسلمانوں کو بچا کر شمالی افریقہ منتقل کیا۔ ان کی اسی انسانی ہمدردی اور بہادری نے انہیں عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا۔

​جب ان کی شہرت سلطان سلیمان تک پہنچی، تو سلطان نے انہیں استنبول بلایا اور عثمانی بحریہ کی کمان ان کے سپرد کر دی۔ خیر الدین پاشا نے نہ صرف بحری بیڑے کو جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ ایسی نئی جنگی چالیں متعارف کروائیں جن کا توڑ اس وقت کی کسی بھی یورپی طاقت کے پاس نہیں تھا۔

جنگِ پریوزا: حق اور باطل کا عظیم معرکہ

​1538ء میں عیسائی دنیا نے ایک بار پھر متحد ہو کر مسلمانوں کو سمندر سے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پوپ پال سوم کی اپیل پر ایک "مقدس اتحاد" تشکیل دیا گیا، جس میں سپین، وینس، جنیوا، اور مالٹا جیسی بڑی طاقتیں شامل تھیں۔ اس عظیم الشان بحری بیڑے کی کمان اس وقت کے سب سے تجربہ کار عیسائی ایڈمرل اینڈریا ڈوریا کے پاس تھی۔

تعداد کا موازنہ:

صلیبی اتحاد کے پاس 600 سے زائد بحری جہاز تھے، جن میں 300 بڑے جنگی جہاز شامل تھے، اور ان پر تقریباً 60,000 فوجی سوار تھے۔ دوسری طرف، خیر الدین پاشا کے پاس صرف 122 جہاز اور 20,000 کے قریب جری مجاہدین تھے۔ دنیا کے ماہرین کا خیال تھا کہ باربروسہ اس عظیم لشکر کے سامنے ایک دن بھی نہیں ٹک سکیں گے۔

سمندر کے سینے پر لکھی گئی داستانِ شجاعت

​28 ستمبر 1538ء کو یونان کے ساحل "پریوزا" کے قریب دونوں بیڑے آمنے سامنے آئے۔ اینڈریا ڈوریا کو اپنی عددی برتری پر اس قدر ناز تھا کہ اس نے دور سے ہی قہقہہ لگایا۔ لیکن خیر الدین پاشا کی نظریں سمندر کی لہروں اور آسمان کی سمت تھیں۔

​جنگ شروع ہوئی تو خیر الدین پاشا نے اپنے جہازوں کو "ہلال" (نصف چاند) کی شکل میں ترتیب دیا۔ یہ وہی ترتیب تھی جو عثمانی سلاطین خشکی کی جنگوں میں استعمال کرتے تھے۔ باربروسہ نے اپنے توپچیوں کو سختی سے حکم دیا کہ جب تک دشمن کی کشتیوں کی لکڑی کا ریشہ نظر نہ آئے، گولی نہ چلائی جائے۔

​جیسے ہی عیسائی بیڑا قریب آیا، باربروسہ نے اپنی تلوار فضا میں لہرائی۔ اچانک عثمانی توپوں سے آگ کے ایسے گولے نکلے کہ سمندر کا نیلا پانی دھوئیں اور شعلوں میں چھپ گیا۔ باربروسہ کے چھوٹے اور پھرتیلے جہاز دشمن کے بھاری بھرکم اور سست جہازوں کے گرد ایسے چکر لگا رہے تھے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے شکار کو گھیر لیتی ہیں۔ وہ دشمن کے جہازوں کے بالکل قریب جا کر ان کے مستول گرا دیتے اور پھر تیزی سے نکل جاتے۔

باربروسہ کی دعا اور فیصلہ کن فتح

​روایت ہے کہ جب جنگ کے دوران ہوا تھم گئی اور عثمانی جہازوں کی حرکت مشکل ہونے لگی، تو خیر الدین پاشا نے قرآن پاک کی آیات کاغذ پر لکھ کر سمندر میں پھینکیں اور اللہ سے نصرت کی دعا مانگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا کا رخ بدلا اور عثمانیوں کو دشمن پر حاوی ہونے کا موقع مل گیا۔

​اینڈریا ڈوریا نے جب دیکھا کہ اس کے ناقابلِ تسخیر جہاز ایک ایک کر کے غرق ہو رہے ہیں اور اس کے بہترین سپاہی سمندر کی نذر ہو رہے ہیں، تو اس کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے باقی ماندہ بیڑے کو بچانے کے لیے میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا۔ یہ تاریخ کی سب سے یک طرفہ بحری فتح تھی، جہاں عثمانیوں کا ایک بھی جہاز تباہ نہیں ہوا، جبکہ دشمن کے درجنوں جہاز یا تو غرق کر دیے گئے یا انہیں مالِ غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔

فتح کے بعد کی عظمت

​اس فتح کی خبر جب استنبول پہنچی، تو سلطان سلیمان سجدہ ریز ہو گئے۔ اس دن کے بعد سے بحیرہ روم پر عثمانیوں کا ایسا رعب قائم ہوا کہ اگلے تین سو سال تک کسی یورپی طاقت کو وہاں سر اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔ باربروسہ نے ثابت کر دیا کہ سمندر میں فتح صرف جہازوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ کپتان کی ذہانت اور سپاہیوں کے ایمان سے ملتی ہے۔

​خیر الدین پاشا اپنی وفات تک بحریہ کے سربراہ رہے۔ انہوں نے نہ صرف قلعے فتح کیے بلکہ لاکھوں مظلوموں کو آزادی دلائی۔ آج بھی ترکی کے شہر استنبول میں ان کا مزار موجود ہے، اور روایت ہے کہ صدیوں تک جب بھی ترکی کا کوئی بحری جہاز وہاں سے گزرتا، تو وہ توپوں کی سلامی دے کر اپنے اس محسن کو یاد کرتا تھا۔

حاصلِ کلام

​خیر الدین باربروسہ کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، اگر ارادے بلند ہوں اور مقصد نیک ہو، تو اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ ان کی تلوار کی چمک آج بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے، جو بتاتی ہے کہ "سمندروں کا بادشاہ" وہی ہوتا ہے جو لہروں سے ڈرتا نہیں بلکہ انہیں اپنا رفیق بنا لیتا ہ


امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 

اور کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان