​سلطان حیدر علی: وہ مردِ غازی جس نے انگریزوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا

 


تعارف: میسور کے شیر کا ظہور

​تاریخِ ہند میں سلطان حیدر علی (1721ء - 1782ء) کا نام ایک ایسے عبقری سپہ سالار اور حکمران کے طور پر ابھرا جس نے اپنی ہمت اور ذہانت کے بل بوتے پر ایک عام سپاہی سے میسور کے تخت تک کا سفر طے کیا۔ وہ ایک ایسے دور میں نمودار ہوئے جب ہندوستان کی بڑی بڑی ریاستیں انگریزوں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی تھیں۔ حیدر علی نے نہ صرف اپنی ریاست کا دفاع کیا بلکہ انگریزوں کو وہ تاریخی شکستیں دیں کہ آج بھی برطانوی تاریخ دان ان کا نام احترام اور خوف سے لیتے ہیں۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر: مدراس کا گھیراؤ اور انگریزوں کی ذلت

​یہ 1769ء کا واقعہ ہے، جب پہلی اینگلو میسور جنگ اپنے عروج پر تھی۔ انگریزوں نے مکر و فریب سے حیدر علی کو دبانے کی کوشش کی، لیکن سلطان نے ایسی جوابی کارروائی کی کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے۔ حیدر علی نے اپنی فوج کے ساتھ بجلی کی سی تیزی سے سفر کیا اور صرف تین دنوں میں 130 میل کا فاصلہ طے کر کے مدراس (موجودہ چنائی) کے قلعے کے سامنے جا کھڑے ہوئے، جہاں انگریز افسران چین کی بانسری بجا رہے تھے۔

​جب انگریزوں نے قلعے کی فصیل سے دیکھا کہ میسور کا شیر اپنی تلوار لہراتے ہوئے سامنے کھڑا ہے، تو پورے قلعے میں کہرام مچ گیا۔ انگریز گورنر اور جرنیل بدحواس ہو کر جانیں بچانے کے لیے چھپنے لگے۔ سلطان نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ باہر نکلیں اور ان کی شرائط پر امن معاہدہ کریں۔ یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ انگریزوں کو کسی ہندوستانی حکمران کے سامنے اس قدر ذلیل ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھنا پڑا۔

دنیا کا پہلا راکٹ حملہ: جب آسمان سے آگ برسی

​سلطان حیدر علی کی سب سے بڑی طاقت ان کی جدید سوچ تھی۔ انہوں نے دنیا میں پہلی بار "لوہے کے راکٹ" (Mysorean Rockets) ایجاد کیے اور انہیں جنگ میں استعمال کیا۔ 1780ء کی "جنگِ پولیلور" میں جب انگریز فوج کرنل بیلی کی قیادت میں آگے بڑھ رہی تھی، تو حیدر علی نے اپنے راکٹ دستوں کو حملے کا حکم دیا۔

​تصور کریں! وہ ہولناک منظر جب ہزاروں کی تعداد میں راکٹ شور مچاتے ہوئے آسمان سے آگ برسانے لگے۔ ان راکٹوں کے ساتھ تیز دھار تلواریں بندھی ہوئی تھیں جو گھومتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس جاتیں۔ انگریزوں کے بارود کے ذخیروں میں جب یہ راکٹ گرے، تو خوفناک دھماکے ہوئے اور پوری انگریز فوج میں بھگڈر مچ گئی۔ کرنل بیلی، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، اسے سلطان کے سامنے قیدی بنا کر لایا گیا۔ یہ انگریزوں کی ہندوستان میں اب تک کی سب سے بڑی اور شرمناک شکست تھی۔

سلطان کا جاہ و جلال اور آہنی عزم

​سلطان حیدر علی کی شخصیت کا رعب ایسا تھا کہ بڑے بڑے راجے اور مہاراجے ان کے سامنے بات کرتے ہوئے لرزتے تھے۔ ان کا قد درمیانہ تھا لیکن ان کی آنکھیں عقاب کی طرح تیز تھیں جو دشمن کے ارادوں کو بھانپ لیتی تھیں۔ وہ نظم و ضبط کے اتنے پابند تھے کہ اگر کوئی افسر غفلت کرتا، تو اسے عبرت ناک سزا دی جاتی۔

​وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھے بلکہ نہایت دوراندیش حکمران تھے۔ انہوں نے میسور میں زراعت، تجارت اور صنعت کو اس قدر فروغ دیا کہ میسور اس وقت ہندوستان کا سب سے خوشحال خطہ بن گیا۔ انہوں نے اپنی ایک مضبوط بحریہ (Navy) بنائی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کا اصل زور سمندر سے آتا ہے۔

مذہبی رواداری اور انصاف

​سلطان حیدر علی کے دربار میں ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ان کا انصاف سب کے لیے برابر تھا۔ مشہور ہے کہ ایک بار سلطان کے اپنے سپاہی نے کسی غریب کسان کی فصل کو نقصان پہنچایا، تو سلطان نے اسے بھرے دربار میں کوڑے لگوائے اور کسان کو اس کا پورا حق دلایا۔ ان کی اسی خوبی کی وجہ سے میسور کی عوام انہیں اپنے باپ کی جگہ سمجھتی تھی اور ان کے ایک اشارے پر اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتی تھی۔

ٹیپو سلطان کی تربیت: ایک شیر کا دوسرا شیر

​حیدر علی کا سب سے بڑا کارنامہ ان کے فرزند سلطان فتح علی خان ٹیپو (ٹیپو سلطان) کی تربیت تھی۔ انہوں نے ٹیپو کو نہ صرف قرآن و حدیث کی تعلیم دی بلکہ فنِ سپہ گری میں بھی یکتا بنایا۔ وہ اکثر اپنے بیٹے سے کہتے تھے: "بیٹے! شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔" باپ کی اسی تربیت نے ٹیپو کو "میسور کا شیر" بنا دیا جس نے آگے چل کر انگریزوں کے خلاف جہاد جاری رکھا۔

آخری معرکہ اور وصیت

​1782ء میں، جب دوسری اینگلو میسور جنگ جاری تھی، سلطان حیدر علی کی طبیعت بگڑ گئی۔ کینسر جیسے موذی مرض کے باوجود وہ میدانِ جنگ سے پیچھے نہ ہٹے۔ مرنے سے چند گھنٹے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے ٹیپو سلطان کو بلایا اور وصیت کی:

"فرزند! یہ انگریز سفید چمڑی والے لوگ نہایت مکار اور فریبی ہیں۔ ان پر کبھی بھروسہ نہ کرنا اور جب تک تمہارے جسم میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے، انہیں اس پاک سرزمین پر قدم نہ جمانے دینا۔"


​اسی وصیت کے ساتھ 7 دسمبر 1782ء کو یہ عظیم مجاہد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ ان کی وفات پر انگریزوں نے سکھ کا سانس لیا، کیونکہ ان کے نزدیک حیدر علی ہی وہ واحد دیوار تھے جو ان کے راستے میں حائل تھی۔

حاصلِ کلام

​سلطان حیدر علی کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ غلامی مقدر نہیں ہوتی بلکہ ارادے اور محنت انسان کو غلام سے سلطان بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی۔ آج بھی میسور کے قلعے اور گنجِ شہیداں کی زمین حیدر علی کی شجاعت کی گواہی دیتی ہے۔ اگر آج کے دور کا مسلمان بھی حیدر علی جیسی بصیرت اور جرات پیدا کر لے، تو کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکتی۔

امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان