سلطان محمود ہوتکی: وہ افغان درویش صفت فاتح جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

 


تعارف: ایک عظیم الشان انقلاب کا آغاز

​تاریخ کے صفحات میں کچھ ایسی شخصیات ملتی ہیں جن کا عروج کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ 18ویں صدی کے آغاز میں جب مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں صفوی اور عثمانی سلطنتوں کا طوطی بول رہا تھا، قندھار کے سنگلاخ پہاڑوں سے ایک ایسا نوجوان اٹھا جس نے صرف 25 سال کی عمر میں اس وقت کی ایک سپر پاور، "صفوی سلطنت" کا خاتمہ کر دیا۔ یہ نوجوان سلطان محمود ہوتکی تھا۔ ان کا سفر صرف ایک بادشاہ بننے کا سفر نہیں تھا، بلکہ یہ مظلوموں کی آزادی اور ایک نئی افغان ریاست کی تعمیر کی داستان ہے۔

خاندانی پس منظر: حریت کا ورثہ

​محمود ہوتکی 1697ء میں قندھار کے مشہور ہوتکی قبیلے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، میر واعظ ہوتکی، اپنے وقت کے ایک عظیم بصیرت رکھنے والے رہنما تھے۔ اس دور میں قندھار ایران کی صفوی سلطنت کے زیرِ اثر تھا اور وہاں کا گورنر گورگن خان اپنے ظلم و ستم کے لیے مشہور تھا۔ میر واعظ ہوتکی نے پختونوں کے تمام قبائل کو متحد کیا اور ایک ایسی تحریک شروع کی جس نے قندھار کو ایرانی تسلط سے آزاد کرایا۔ محمود نے اسی ماحول میں پرورش پائی جہاں ہر طرف آزادی کے نعرے اور تلواروں کی کھنکھناہٹ تھی۔ ان کی تربیت ان کے چچا اور والد نے اس طرح کی کہ وہ نہ صرف ایک بہترین جنگجو بنے بلکہ ان میں سیاسی شعور بھی کوٹ کوٹ کر بھر گیا تھا۔

جنگی مہارت اور عسکری ٹیکنالوجی میں انقلاب

​سلطان محمود ہوتکی کی سب سے بڑی طاقت ان کی سوچ کا جدید ہونا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس دشمن کے مقابلے میں تعداد کم ہے، اس لیے انہوں نے جنگی حربوں میں ایسی تبدیلیاں کیں جو اس وقت کے حساب سے انقلابی تھیں۔

  1. زنبورک (Camel Artillery): محمود ہوتکی نے تاریخ میں پہلی بار اونٹ توپ خانے کا ایسا استعمال کیا جس نے دشمن کو دنگ کر دیا۔ انہوں نے چھوٹی مگر انتہائی طاقتور توپوں کو اونٹوں کی پیٹھ پر خاص قسم کے زینوں (Saddles) کے ساتھ نصب کیا۔ ان کا فائدہ یہ تھا کہ یہ توپیں پہاڑی علاقوں اور ریگستانوں میں کسی بھی جگہ تیزی سے منتقل ہو سکتی تھیں۔ جبکہ دشمن کی بڑی توپیں زمین میں دھنس جاتی تھیں یا انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ناممکن ہوتا تھا۔
  2. خفیہ اطلاعات کا نظام: محمود نے اپنے جاسوسوں کا ایک ایسا جال بچھایا ہوا تھا جو انہیں دشمن کی ہر نقل و حرکت کی خبر دیتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ شاہِ ایران کے دربار میں کون سے وزراء غدار ہیں اور کون سے جرنیل بزدل۔
  3. نفسیاتی حربے: وہ دشمن کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے وہاں اپنی ہیبت کے قصے مشہور کروا دیتے تھے۔ ان کا نام سنتے ہی دشمن کی آدھی فوج ذہنی طور پر ہار مان لیتی تھی۔

ایران پر حملے کا فیصلہ اور کٹھن سفر

​اپنے والد کی وفات کے بعد جب محمود ہوتکی نے اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے دیکھا کہ صفوی سلطنت اندرونی طور پر کھوکھلی ہو چکی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو آگے بڑھائیں اور اصفہان (ایران کا دارالحکومت) فتح کریں۔ 1722ء میں وہ تقریباً 18 سے 20 ہزار جاں نثاروں کے ساتھ قندھار سے نکلے۔ یہ سفر کوئی معمولی نہیں تھا۔ انہیں سینکڑوں میل کا ریگستانی اور پہاڑی راستہ طے کرنا تھا جہاں پانی اور خوراک کی کمی تھی۔ لیکن محمود ہوتکی کا جذبہ ایسا تھا کہ ان کی فوج نے ہر مشکل کو ہنستے ہوئے برداشت کیا۔

عظیم معرکہ: جنگِ گلون آباد کی مکمل تفصیل

​یہ وہ جنگ ہے جس نے فیصلہ کرنا تھا کہ تختِ ایران پر کون بیٹھے گا۔ 8 مارچ 1722ء کو اصفہان سے 12 میل دور گلون آباد کے مقام پر دونوں لشکر آمنے سامنے تھے۔

صفوی فوج کی طاقت:

ایرانی فوج کی تعداد 50 ہزار سے زائد تھی۔ ان کے پاس فرانسیسی ماہرین کی تیار کردہ بھاری توپیں تھیں اور ان کا دستہ "قزلباش" اپنی بہادری کے لیے مشہور تھا۔ ان کے گھوڑے بہترین زرہوں سے لدی ہوئے تھے اور بظاہر ایسا لگتا تھا کہ یہ مٹھی بھر افغان ان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔

محمود ہوتکی کی حیرت انگیز چال:

سلطان محمود نے اپنی فوج کو تین حصوں میں بانٹا۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ دشمن کے پہلے حملے پر پیچھے ہٹیں تاکہ دشمن جوش میں اپنی مضبوط پوزیشن چھوڑ دے۔ جب ایرانی فوج نے حملہ کیا اور افغانوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا، تو وہ سمجھ بیٹھے کہ فتح ان کی ہے۔ جیسے ہی ایرانی فوج اپنی توپوں کی حفاظت سے باہر نکلی، محمود نے اپنے "زنبورک" دستوں کو اشارہ کیا۔

​اونٹوں پر لدی ان توپوں نے ایسی آگ برسائی کہ صفوی گھوڑے بدحواس ہو گئے۔ افغانوں نے اپنی تلواریں نکالیں اور دشمن کے قلب پر بجلی کی طرح گرے۔ سلطان محمود خود پہلی صف میں رہ کر لڑ رہے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دن گلون آباد کی زمین ایرانیوں کے خون سے سرخ ہو گئی تھی۔ صفوی فوج کے بڑے بڑے جرنیل مارے گئے اور شاہِ ایران کی فوج تتر بتر ہو گئی۔

اصفہان کا محاصرہ اور شاہِ ایران کی دستبرداری

​جنگ جیتنے کے بعد محمود ہوتکی نے اصفہان کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ مہینوں تک جاری رہا۔ شہر میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی، لیکن محمود نے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی۔ آخر کار صفوی بادشاہ شاہ سلطان حسین کو احساس ہو گیا کہ اب مزاحمت فضول ہے۔

​اکتوبر 1722ء میں ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران کا شہنشاہ، جس کے آباؤ اجداد صدیوں سے حکومت کر رہے تھے، خود چل کر محمود ہوتکی کے خیمے میں آیا۔ اس نے اپنے سر سے شاہی تاج اتارا اور اسے محمود ہوتکی کے سر پر رکھتے ہوئے کہا: "آج سے ایران کی سلطنت اور اس کے عوام تمہارے حوالے ہیں۔" یہ ایک عظیم تاریخی فتح تھی جس نے ایک 25 سالہ نوجوان کو ایران کا سلطان بنا دیا۔

سلطان محمود کا دورِ حکومت اور فتوحات کا تسلسل

​تخت پر بیٹھنے کے بعد محمود ہوتکی نے اپنی ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ انہوں نے شیراز اور دیگر صوبوں کو فتح کیا۔ انہوں نے روسیوں اور عثمانیوں کو، جو ایران پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، سخت پیغام دیا کہ وہ اپنی حدود میں رہیں۔ ان کی فتوحات کا دائرہ تیزی سے پھیلتا گیا۔ وہ ایک ایسا حکمران بننا چاہتے تھے جو عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرے، لیکن انہیں سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کردار اور وفات

​سلطان محمود ہوتکی ایک نہایت سادہ اور درویش صفت انسان تھے۔ وہ شاہی محلات میں رہنے کے بجائے اپنے سپاہیوں کے ساتھ خیموں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف فتوحات نہیں بلکہ اپنی قوم کا وقار بلند کرنا تھا۔ مسلسل جنگوں اور محنت نے ان کی صحت پر اثر ڈالا اور 1725ء میں یہ عظیم فاتح اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

خلاصہ اور میراث

​سلطان محمود ہوتکی کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو اور حکمتِ عملی درست ہو تو وسائل کی کمی کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ افغان قوم نے جب بھی اتحاد کیا، انہوں نے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو خاک میں ملا دیا۔ آج بھی ان کی جنگی چالیں ملٹری اکیڈمیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔


امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے 

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے 

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان