​سلطان علاؤالدین خلجی: چتوڑ کا خونی معرکہ اور عظیم فتح

 


تحریر: ایک عظیم الشان سلطنت اور لرزہ خیز فتوحات کی مکمل داستان

​ہندوستان کی ہزاروں سالہ تاریخ میں بہت سے بادشاہ آئے اور چلے گئے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جو صرف وقت کی گرد میں گم نہیں ہوئے بلکہ تاریخ کے سینے پر اپنی تلوار سے ایسا نقش ثبت کر گئے جسے مٹانا ناممکن ہے۔ ان ناموں میں سب سے بلند، سب سے ہیبت ناک اور سب سے پراسرار نام سلطان علاؤالدین خلجی کا ہے۔ یہ وہ سلطان تھا جس نے مصلحتوں کو پاؤں تلے روندا، جس نے دشمنوں کی کھوپڑیوں سے اپنی سلطنت کی بنیادیں بھریں اور جس نے ہندوستان کو ایک ایسی طاقت بنا دیا کہ دنیا کی بڑی سے بڑی فوج بھی اس کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو گئی۔

​تختِ دہلی اور لہو رنگ آغاز

​علاؤالدین خلجی کی داستان کسی معمولی تخت نشینی سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ داستان ایک ایسے جنون سے شروع ہوتی ہے جہاں اقتدار کی ہوس اور سلطنت کی تڑپ نے رشتوں کے تقدس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ 1296ء کی وہ تپتی دوپہر جب دریائے گنگا کے کنارے علاؤالدین نے اپنے محسن اور چچا جلال الدین خلجی کا سر قلم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دہلی کے تخت نے ایک نئے اور بے رحم وارث کا استقبال کیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب جلال الدین کا کٹا ہوا سر نیزے پر چڑھا کر شہر میں گھمایا گیا، تو آسمان سے خون کی بوندیں نہیں بلکہ خوف کی لہریں برس رہی تھیں۔ علاؤالدین نے تخت سنبھالتے ہی یہ پیغام دے دیا کہ اب دہلی پر رحم کا نہیں بلکہ "قہر" کا راج ہوگا۔

​منگولوں کا فتنہ اور خلجی کی آہنی دیوار (رونگٹے کھڑے کر دینے والی جنگ)

​اس دور میں دنیا کا نقشہ منگولوں کے خونخوار لشکروں کے سامنے لرز رہا تھا۔ منگول وہ قوم تھی جس نے بغداد کی لائبریریوں کو جلایا، وسطی ایشیا کے شہروں کو قبرستان بنایا اور جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جہاں سے گزرتے ہیں وہاں پرندے بھی پر مارنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان منگولوں نے ہندوستان پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے۔

خونی معرکہ:

جب لاکھوں منگولوں نے دہلی کا محاصرہ کیا، تو شہر میں افراتفری پھیل گئی۔ لیکن علاؤالدین خلجی وہ چٹان تھا جو اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ اس نے اپنی بہترین فوج کو منظم کیا اور حکم دیا: "آج کے بعد کسی منگول کی ہمت نہ ہو کہ وہ ہندوستان کی مٹی کی خوشبو بھی سونگھ سکے!" میدانِ جنگ میں جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں، تو زمین منگولوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے دوزخ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ لیکن خلجی کے ترک سواروں نے وہ قیامت ڈھائی کہ تاریخ دنگ رہ گئی۔ سلطان خود اپنی شمشیرِ براں لیے صفوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور منگولوں کے بڑے بڑے جرنیلوں کو خاک چٹائی۔ اس جنگ کے بعد جو ہوا وہ انسانی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ سلطان نے ہزاروں منگول قیدیوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلوا دیا اور ان کے کٹے ہوئے سروں سے دہلی کے باہر ایک مینار تعمیر کروایا۔ یہ "سروں کا مینار" کئی میل دور سے نظر آتا تھا اور دشمنوں کے لیے یہ پیغام تھا کہ خلجی کی سلطنت میں داخل ہونے کا راستہ موت کی گلی سے ہو کر گزرتا ہے۔

​چتوڑ گڑھ کا معرکہ: آگ، خون اور جنون کی انتہا

​سلطان علاؤالدین کی زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے خونی باب "چتوڑ کی فتح" ہے۔ 1303ء میں سلطان نے راجستھان کے اس قلعے کا رخ کیا جو اپنی اونچائی اور ناقابلِ تسخیر ہونے کی وجہ سے مشہور تھا۔ راجپوتوں کی بہادری اور ان کی جنگی مہارت ایک طرف تھی اور سلطان کا جنون دوسری طرف۔

محاصرے کی ہولناکی:

سلطان نے قلعے کا ایسا محکم محاصرہ کیا کہ پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔ مہینوں گزر گئے، قلعے کے اندر خوراک ختم ہو گئی، گھوڑے بھوک سے مرنے لگے، لیکن سلطان پیچھے نہ ہٹا۔ آخر کار وہ گھڑی آ گئی جب قلعے کے دروازے کھلے۔ راجپوتوں نے اپنے سروں پر کیسریا دستاریں باندھ لیں، جس کا مطلب تھا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

​میدانِ جنگ ایک قصائی خانہ بن گیا۔ تلواریں جب ڈھالوں سے ٹکراتیں تو ایسا لگتا جیسے آسمان سے بجلیاں گر رہی ہوں۔ سلطان کی فوج نے وہ قتال کیا کہ چتوڑ کی پہاڑیاں انسانی لہو سے سرخ ہو گئیں۔ ہر طرف کٹے ہوئے ہاتھ، ادھوری کھوپڑیاں اور تڑپتے ہوئے جسم تھے۔

جوہر کا لرزہ خیز منظر:

جب راجپوت خواتین نے دیکھا کہ ان کے مرد بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں، تو انہوں نے وہ کام کیا جسے سن کر آج بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ رانی پدمنی کی قیادت میں سینکڑوں خواتین نے قلعے کے وسط میں ایک عظیم الشان آگ جلائی۔ وہ آگ کسی دوزخ کے شعلوں سے کم نہ تھی۔ اللہ اکبر کے نعروں اور مذہبی منتروں کے درمیان وہ تمام خواتین ایک ایک کر کے اس دہکتی ہوئی آگ میں کود گئیں۔ جب سلطان قلعے میں داخل ہوا، تو وہاں فاتح کا استقبال کرنے کے لیے کوئی زندہ انسان نہ تھا، صرف جلی ہوئی ہڈیوں کی بو اور راکھ کے ڈھیر تھے۔ سلطان نے غصے اور ہیبت میں آ کر حکم دیا کہ قلعے میں موجود باقی ماندہ فوج کو چن چن کر قتل کر دیا جائے۔ اس دن تیس ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

​جنوبی ہند کی فتوحات اور ملک کافور کا قہر

​علاؤالدین خلجی وہ پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے اپنی تلوار کا رخ جنوب (South India) کی طرف کیا۔ اس نے اپنے سب سے وفادار اور خطرناک جنرل ملک کافور کو جنوب کی مہم پر بھیجا۔ ملک کافور نے وہ طوفان برپا کیا کہ دیوگیری، ورنگل اور دوار سمندر کی قدیم ریاستیں ریت کے گھروندوں کی طرح گر گئیں۔

​مندروں کے شہروں سے بے پناہ دولت، سونا، ہیرے اور جواہرات دہلی لائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ملک کافور واپس دہلی پہنچا، تو سونے سے لدے ہوئے ہاتھیوں کی قطار اتنی لمبی تھی کہ شہر کے دروازے چھوٹے پڑ گئے۔ اس مہم نے علاؤالدین کو دنیا کا امیر ترین بادشاہ بنا دیا۔

​سلطنت کا آہنی نظام اور خوف کا راج

​سلطان صرف میدانِ جنگ کا ہی نہیں، بلکہ انتظام کا بھی بادشاہ تھا۔ اس نے ایسا نظامِ جاسوسی قائم کیا کہ لوگوں کو اپنے گھروں میں بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔

  • مارکیٹ کنٹرول: سلطان نے اشیاء کی قیمتیں مقرر کر دیں تاکہ فوج کو سستا راشن ملے۔
  • سخت سزائیں: اگر کوئی دکاندار ناپ تول میں ایک گرام کی بھی کمی کرتا، تو سلطان کا جلاد اس کے جسم سے اتنا ہی زندہ گوشت کاٹ لیتا۔ یہ وہ خوف تھا جس نے سلطنت میں امن و امان قائم رکھا۔ چوری اور ڈکیتی کا تصور ختم ہو گیا کیونکہ ہر مجرم جانتا تھا کہ خلجی کا انصاف صرف موت پر ختم ہوتا ہے۔

​سلطان کے آخری ایام اور تاریخی ورثہ

​علاؤالدین خلجی کی زندگی کے آخری ایام بیماری اور تنہائی میں گزرے، لیکن اس کا قائم کردہ رعب و دبدبہ اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہا۔ اس نے ہندوستان کو ایک ایسا دفاعی نظام دیا جس نے اسے صدیوں تک بیرونی حملوں سے بچایا۔ قطب مینار کے پہلو میں اس کا بنایا ہوا "علائی دروازہ" آج بھی اس کی عظمت کی گواہی دیتا ہے۔

​اختتامی کلمات

​سلطان علاؤالدین خلجی ایک ایسا کردار ہے جس سے محبت کرنا مشکل ہے، لیکن اسے نظر انداز کرنا ناممکن۔ وہ آگ کا وہ بگولہ تھا جس نے ہندوستان کی تاریخ کو جلا کر راکھ کر دیا اور پھر اس راکھ سے ایک ایسی نئی سلطنت کھڑی کی جس کی مثال رہتی دنیا تک دی جائے گی۔ وہ ایک ایسا جری فاتح تھا جس نے لہو سے اپنی داستان لکھی اور جس کے نام کی گونج آج بھی تاریخ کے قبرستانوں میں سنائی دیتی ہے.

امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔


Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان