سلطان عمرو بن العاصؓ: فاتحِ مصر اور وہ حکمران جس نے نیل کے کنارے عدل کی بنیاد رکھی

 


تمہید: تاریخ کا ایک نیا باب

​جب ہم تاریخِ اسلام کے عظیم فاتحین کا ذکر کرتے ہیں، تو عمرو بن العاصؓ کا نام ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ابھرتا ہے۔ وہ صرف ایک جرنیل نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسی سیاسی بصیرت، ذہانت اور حکمت کے مالک تھے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے اس وقت کی عظیم طاقت، بازنطینی سلطنت (رومیوں) سے ٹکر لی اور افریقہ کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھول دیے۔ مصر کی فتح، جس کا سہرا ان کے سر ہے، تاریخ کا وہ موڑ تھا جس نے بحیرہ روم کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

بچپن اور قبولِ اسلام کا سفر: ایک دشمن سے جانثار تک

​عمرو بن العاصؓ مکہ کے ایک معزز اور امیر خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور انہوں نے حبشہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے خلاف قریش کی نمائندگی بھی کی تھی۔ وہ ایک کامیاب تاجر تھے اور مصر کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے دل میں حق کی پکار بہت دیر سے جاگی، لیکن جب وہ جاگی تو انہوں نے سب کچھ قربان کر دیا۔ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مدینہ جا کر اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ نے انہیں "سیف من سیوف اللہ" (اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار) کا لقب دیا۔

مصر کی فتح کا ارادہ: ایک جرات مندانہ فیصلہ

​جب مسلمانوں نے شام فتح کر لیا، تو عمرو بن العاصؓ کی نظریں مصر پر لگی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ مصر رومیوں کا اہم ترین غذائی اور اقتصادی مرکز ہے اور جب تک مصر فتح نہیں ہوتا، شام کا دفاع مکمل نہیں ہوگا۔ حضرت عمر فاروقؓ شروع میں اس مہم کے حق میں نہیں تھے کیونکہ اسلامی افواج پہلے ہی دو بڑی سلطنتوں (فارس اور روم) سے لڑ رہی تھیں، لیکن عمرو بن العاصؓ کے اصرار اور ان کی فراہم کردہ معلومات نے خلیفہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ: جب خط سرحد پر ملا

​یہ واقعہ عمرو بن العاصؓ کی ذہانت اور عزم کا بہترین ثبوت ہے۔ وہ چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ مصر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جب وہ سرحد کے قریب پہنچے، تو حضرت عمرؓ کا قاصد ایک خط لے کر آیا۔ عمرو بن العاصؓ نے قاصد سے پوچھا: "کیا میں مصر کی حدود میں ہوں یا فلسطین کی؟" قاصد نے کہا: "ابھی آپ فلسطین کی حدود میں ہیں"۔

​عمرو بن العاصؓ نے خط وصول کر لیا لیکن اسے پڑھا نہیں۔ انہوں نے اپنے لشکر کو تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ جب وہ سرحد عبور کر کے مصر کی حدود میں ایک گاؤں "العریش" پہنچے، تو انہوں نے لشکر کو روکا اور خلیفہ کا خط پڑھا۔ خط میں لکھا تھا: "اگر یہ خط تمہیں مصر کی حدود سے پہلے ملے، تو واپس آ جاؤ"۔ عمرو بن العاصؓ نے مسکرا کر قاصد سے کہا: "کیا ہم اب مصر کی حدود میں ہیں؟" قاصد نے کہا: "جی ہاں"۔ عمرو بن العاصؓ نے کہا: "تو پھر اب ہم خلیفہ کے حکم کے مطابق آگے بڑھیں گے، کیونکہ ہم اب مصر کی سرزمین پر کھڑے ہیں"۔

بابلیون کا محاصرہ: رومیوں کی ہیبت کا خاتمہ

​مصر میں داخل ہونے کے بعد ان کا سامنا رومیوں کے مضبوط قلعے "بابلیون" (موجودہ قاہرہ کے قریب) سے ہوا۔ رومیوں کا حکمران "المقوقس" قلعے میں بند ہو گیا۔ عمرو بن العاصؓ نے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ رومیوں کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھی اور قلعہ اتنا مضبوط تھا کہ اسے توڑنا ناممکن لگتا تھا۔

​محاصرہ سات ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران مسلمانوں نے ایسی بہادری دکھائی کہ رومی دنگ رہ گئے۔ حضرت عمرؓ نے چار ہزار مزید سپاہی بھیجے جن کی قیادت حضرت زبیر بن العوامؓ جیسے جلیل القدر صحابی کر رہے تھے۔ حضرت زبیرؓ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر قلعے کی دیوار پر سیڑھی لگائی اور "اللہ اکبر" کا نعرہ لگاتے ہوئے اوپر چڑھ گئے۔ رومی یہ سمجھے کہ پوری اسلامی فوج قلعے کے اندر آ گئی ہے، اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

فتحِ اسکندریہ: افریقہ کا دروازہ کھل گیا

​بابلیون کے بعد سب سے بڑا معرکہ اسکندریہ (Alexandria) کا تھا۔ یہ اس وقت کا سب سے خوبصورت اور محفوظ شہر تھا۔ رومیوں نے اپنی پوری طاقت یہاں جھونک دی تھی کیونکہ اسکندریہ کا کھونا پورے مصر کو کھونے کے برابر تھا۔ عمرو بن العاصؓ نے اپنی جنگی حکمتِ عملی سے رومیوں کی رسد کاٹ دی اور ایک سخت مقابلے کے بعد اسکندریہ کو فتح کر لیا۔ اس فتح کے بعد رومیوں کا افریقہ سے تسلط ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

عدل و انصاف کا دور: جب قبطی عیسائی مسلمانوں کے دوست بنے

​عمرو بن العاصؓ نے مصر کو اپنا گھر بنایا اور وہاں ایک نیا شہر "فسطاط" آباد کیا۔ انہوں نے مصر کے لوگوں کو، جن پر رومیوں نے بھاری ٹیکس لگا رکھے تھے اور ان کے مذہب پر پابندیاں لگائی تھیں، وہ حقوق دیے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کو مذہبی آزادی دی، ان کے گرجوں کی حفاظت کی اور ان کے ساتھ ایسا عدل و انصاف کیا کہ وہ مسلمانوں کے وفادار بن گئے۔ یہی وجہ تھی کہ مصر کے عام لوگ رومیوں کے بجائے مسلمانوں کے حامی بن گئے تھے۔

نیل کے کنارے کا لرزہ خیز واقعہ: جب دریا کا رخ مڑ گیا

​نیل کے کنارے کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے اور ایمانی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصر کے لوگ قدیم جاہلانہ رسم کے مطابق ہر سال دریا نیل میں ایک خوبصورت لڑکی کو بھینٹ چڑھاتے تھے تاکہ دریا کا پانی کم نہ ہو۔ عمرو بن العاصؓ نے اس رسم کو سختی سے روک دیا۔ جب دریا خشک ہونے لگا تو لوگوں میں بے چینی پھیل گئی۔

​خلیفہ حضرت عمرؓ نے اس صورتحال پر ایک پرچہ بھیجا جس پر لکھا تھا:

"اے نیل! اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے، تو مت چل، ہمیں تیری ضرورت نہیں۔ اور اگر تو اللہ کے حکم سے چلتا ہے، تو میں اس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے چلا دے"۔


​جیسے ہی وہ پرچہ دریا میں ڈالا گیا، نیل میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی اور وہ ظالمانہ رسم ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔

عمرو بن العاصؓ کا آخری دور اور جذباتی وصیت

​عمرو بن العاصؓ مصر کے گورنر رہے اور وہاں اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اپنی وفات کے وقت وہ بہت غمزدہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میری زندگی کے تین دور تھے۔ ایک جب میں اسلام کا دشمن تھا، دوسرا جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور میں ان کا محبوب بن گیا، اور تیسرا یہ گورنری کا دور۔ انہوں نے وصیت کی کہ مجھے سادگی سے دفن کرنا اور میری قبر پر صرف مٹی ڈالنا۔

سبق:

1. ایمان کی طاقت اور اللہ پر بھروسہ

​دریائے نیل کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ پر پکا یقین رکھتا ہے اور شرک و جالت کی رسموں کو ختم کرنے کا عزم کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ قدرت کے اصولوں کو بھی بدل دیتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا پرچہ دریا میں ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے حکم کی پابند ہے۔

امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا  ہے  ۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان