عظیم الشان سلطان اور عدل کی ایک سنہری داستان سلطنتِ عثمانیہ کے پندرہویں سلطان سلطان محمود ثانی کے بارے میں ایک سبق آموز واقعہ

 سلطنتِ عثمانیہ اپنی شان و شوکت، عدل و



انصاف اور بہادری کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی۔ اس سلطنت میں کئی عظیم سلاطین گزرے جنہوں نے اپنی دانشمندی، بہادری اور رعایا سے محبت کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام روشن کر لیا۔ انہی عظیم حکمرانوں میں سلطنتِ عثمانیہ کے پندرہویں سلطان، سلطان محمود ثانی بھی شامل تھے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپہ سالار تھے بلکہ اپنی رعایا کے لیے نرم دل اور انصاف پسند حکمران بھی تھے۔

یہ واقعہ اُس زمانے کا ہے جب سلطنتِ عثمانیہ اندرونی مشکلات کا شکار تھی۔ مختلف علاقوں میں بغاوتیں اٹھ رہی تھیں، خزانہ کمزور ہو رہا تھا اور دشمن سلطنت کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن سلطان محمود ثانی نہایت حوصلہ مند انسان تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:

“جس قوم کا حکمران اپنی رعایا کے دکھ کو محسوس کرے، اللہ اُس قوم کو کبھی تباہ نہیں ہونے دیتا۔”

ایک سرد رات تھی۔ استنبول کی گلیوں میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ بازار بند ہو چکے تھے اور لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے۔ لیکن سلطان محمود ثانی کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ اُن کے دل میں اپنی رعایا کے حالات جاننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک عام آدمی کا لباس پہنا، سر پر سادہ سی پگڑی رکھی اور محل سے خاموشی کے ساتھ باہر نکل آئے۔

وہ شہر کی مختلف گلیوں سے گزرتے رہے۔ کہیں غریب مزدور اپنے بچوں کے لیے لکڑی جمع کر رہے تھے، کہیں عورتیں پانی بھرنے جا رہی تھیں اور کہیں بوڑھے لوگ مسجد کے باہر بیٹھے سردی سے کانپ رہے تھے۔ سلطان یہ سب کچھ دیکھ کر بہت افسردہ ہوئے۔

چلتے چلتے وہ شہر کے ایک غریب محلے میں پہنچے۔ وہاں ایک چھوٹا سا ٹوٹا ہوا گھر تھا جس کے اندر سے بچوں کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ سلطان دروازے کے قریب گئے تو ایک عورت کی آواز سنائی دی:

“میرے بچو! صبر کرو، شاید صبح تک اللہ کوئی راستہ نکال دے۔”

سلطان نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ عورت نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک عام مسافر کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ سلطان نے کہا:

“بہن! میں ایک مسافر ہوں، کیا مجھے کچھ دیر آرام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے؟”

عورت نے ادب سے جواب دیا: “گھر تو غریب ہے، لیکن مہمان کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔”

سلطان اندر داخل ہوئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ گھر میں نہ کوئی مناسب بستر تھا، نہ کھانے کو کچھ موجود تھا۔ ایک کونے میں تین بچے بیٹھے تھے جن کی آنکھوں میں بھوک نمایاں تھی۔ چولہے پر ایک خالی برتن رکھا ہوا تھا جس میں صرف پانی ابل رہا تھا۔

سلطان نے حیرت سے پوچھا: “اس برتن میں کیا پک رہا ہے؟”

عورت کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اُس نے کہا: “کچھ بھی نہیں۔ میرے بچے بھوک سے رو رہے تھے، اس لیے میں نے خالی برتن میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیا تاکہ وہ سمجھیں کہ کھانا تیار ہو رہا ہے اور انتظار کرتے کرتے سو جائیں۔”

یہ سن کر سلطان محمود ثانی کا دل کانپ اٹھا۔ اُنہوں نے پوچھا: “کیا تم نے کسی سے مدد نہیں مانگی؟”

عورت نے دکھ بھرے لہجے میں کہا: “ہم غریبوں کی آواز کون سنتا ہے؟ اگر سلطان کو ہمارے حالات کا علم ہوتا تو شاید ہم بھوکے نہ سوتے۔”

یہ الفاظ سلطان کے دل میں تیر کی طرح لگے۔ وہ خاموشی سے وہاں سے نکل آئے۔ سیدھا محل پہنچے، شاہی باورچی خانے سے آٹا، چاول، گوشت، خشک میوہ اور گرم کپڑے لیے۔ پھر کسی خادم کو ساتھ لیے بغیر خود یہ سامان اپنے کندھے پر اٹھایا اور واپس اسی گھر کی طرف چل پڑے۔

محل کے ایک محافظ نے حیرت سے پوچھا: “حضور! یہ کام ہم کر دیتے ہیں، آپ کیوں تکلیف اٹھا رہے ہیں؟”

سلطان نے جواب دیا: “قیامت کے دن اس عورت اور اس کے بچوں کا بوجھ تم نہیں اٹھاؤ گے، مجھے ہی جواب دینا ہوگا۔”

جب سلطان دوبارہ اُس گھر پہنچے تو عورت حیران رہ گئی۔ سلطان نے خاموشی سے سامان اندر رکھا، بچوں کے لیے کھانا تیار کیا اور خود اپنے ہاتھوں سے اُنہیں کھانا پیش کیا۔ بچے خوشی سے کھانے لگے اور اُن کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔

عورت نے دعا دیتے ہوئے کہا: “اللہ ہمارے سلطان کو سلامت رکھے۔”

سلطان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ ایک حکمران کی اصل کامیابی محلوں کی شان میں نہیں بلکہ غریبوں کے چہروں پر خوشی لانے میں ہے۔

اگلی صبح سلطان نے دربار بلایا۔ تمام وزراء، امیر اور سپہ سالار جمع ہوئے۔ سلطان نے سخت لہجے میں فرمایا:

“اگر میری سلطنت میں ایک بھی شخص بھوکا سوئے تو اس کا ذمہ دار صرف وہ شخص نہیں بلکہ میں اور تم سب ہیں۔ حکمرانی تاج پہننے کا نام نہیں بلکہ رعایا کی خدمت کا نام ہے۔”

اُنہوں نے فوراً حکم جاری کیا کہ سلطنت کے ہر شہر میں غریبوں کے لیے لنگر خانے قائم کیے جائیں، بیواؤں اور یتیموں کے لیے خزانے سے وظیفہ مقرر کیا جائے اور ہر محلے میں ایسے افراد مقرر کیے جائیں جو رات کے وقت لوگوں کے حالات معلوم کریں۔

چند ہی مہینوں میں سلطنت کے حالات بہتر ہونے لگے۔ غریبوں کو سہارا ملا، بازار دوبارہ آباد ہونے لگے اور عوام کے دلوں میں سلطان کی محبت بڑھ گئی۔ لوگ کہا کرتے تھے:

“ہمارا سلطان صرف تخت پر بیٹھنے والا بادشاہ نہیں بلکہ ہماری تکلیف کو محسوس کرنے والا باپ ہے۔”

ایک دن سلطان محمود ثانی محل کے باغ میں بیٹھے تھے۔ اُن کے ایک وزیر نے کہا: “حضور! آپ نے رعایا پر خزانے کا بہت سا مال خرچ کر دیا ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟”

سلطان مسکرائے اور بولے: “جس حکمران کے ساتھ اُس کی رعایا کھڑی ہو، اُسے کسی دشمن کا خوف نہیں ہوتا۔”

واقعی ایسا ہی ہوا۔ کچھ عرصے بعد سلطنت پر دشمن نے حملہ کیا۔ لیکن اس بار عوام اپنے سلطان کے ساتھ تھی۔ کسانوں نے فوج کو اناج دیا، نوجوان سپاہیوں کے ساتھ شامل ہوئے اور عورتوں نے زخمیوں کی خدمت کی۔ دشمن حیران رہ گیا کہ یہ سلطنت اتنی مضبوط کیسے ہے۔

آخرکار دشمن کو شکست ہوئی اور سلطنتِ عثمانیہ ایک بار پھر سربلند ہوگئی۔

اس فتح کے بعد دربار میں جشن منایا گیا۔ سب لوگ سلطان کی بہادری کی تعریف کر رہے تھے، لیکن سلطان محمود ثانی نے فرمایا:

“یہ فتح میری نہیں، میری رعایا کی محبت اور اتحاد کی فتح ہے۔”

وقت گزرتا گیا، لیکن سلطان کا یہ واقعہ پورے استنبول میں مشہور ہوگیا۔ مائیں اپنے بچوں کو یہ قصہ سناتیں اور کہتیں:

“بیٹا! ہمیشہ ایسا انسان بننا جو دوسروں کے درد کو محسوس کرے۔”

سلطان محمود ثانی نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ایک عظیم حکمران وہی ہوتا ہے جو طاقت کے باوجود عاجزی اختیار کرے، دولت کے باوجود غریبوں کا خیال رکھے اور اقتدار کے باوجود انصاف کو نہ چھوڑے۔

آج بھی تاریخ کے صفحات میں اُن کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے صرف حکومت نہیں کی بلکہ انسانیت کی خدمت بھی کی۔

سبق

حقیقی حکمران وہی ہوتا ہے جو اپنی رعایا کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھے۔

عدل، رحم دلی اور خدمتِ خلق کسی بھی قوم کو مضبوط اور کامیاب بنا دیتی ہے۔


امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک کیجئے اور آگے بھی شیئر کریں 

اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان