سلطان غیاث الدین بلبن: دہلی کا وہ آہنی سلطان جس کی ہیبت سے منگولوں کے کلیجے کانپتے تھے
تمہید: تاریخ کا ایک بے رحم کردار
برصغیر کی تاریخ، خاص طور پر دہلی سلطنت کا دور، بہت سے بہادر اور عظیم سلاطین سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن، تاریخ کے جھروکوں سے غیاث الدین بلبن کا نام ایک ایسے حکمران کے طور پر ابھرتا ہے جس کا ذکر آتے ہی دلوں میں ہیبت، آنکھوں میں جلال اور تاریخ کے صفحات میں لہو کا رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔ بلبن کوئی معمولی بادشاہ نہیں تھا۔ وہ اپنے عہد کی سب سے بڑی طاقت، چنگیز خان کے جانشینوں (منگولوں) کے لیے ایک ایسا آہنی بند تھا جس نے ہندوستان کو اس تباہی سے بچایا جو بغداد، سمرقند اور بخارا کا مقدر بنی۔
اس کی زندگی ایک غلام کی حیثیت سے شروع ہوئی، لیکن اپنی شمشیر اور بے پناہ صلاحیتوں کے بل پر وہ اس بلند مقام تک پہنچا جہاں تک پہنچنا کسی اور غلام کے لیے ایک خواب تھا۔ اس کا 20 سالہ دورِ اقتدار (بحیثیت سلطان) اور اس سے پہلے کے 20 سال (بحیثیت نائب) تاریخ کا وہ باب ہیں جس نے دہلی سلطنت کو ایک ایسی مضبوط بنیاد فراہم کی جس پر آگے چل کر خلجی اور تغلق خاندان نے اپنی عظیم سلطنتیں قائم کیں۔
بابِ اول: غلامی کا داغ اور قسمت کی الٹ پھیر
بلبن کا تعلق وسطی ایشیا کے مشہور ترک قبیلے "الباری" سے تھا۔ وہ ایک اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوا تھا، لیکن بچپن میں اس کی قسمت نے ایسی پلٹی کھائی کہ اسے منگولوں نے قید کر لیا۔ وہ دور ایسا تھا جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ منگولوں نے اسے بغداد کی غلاموں کی منڈی میں پیش کیا۔ وہاں اسے خواجہ جمال الدین بصری نامی ایک تاجر نے خریدا۔
قسمت اسے بغداد سے دہلی لے آئی۔ 1232ء میں، سلطان التمش (مملوک خاندان کے بانی) نے اسے دیکھا تو اس کی تیز آنکھوں اور صلاحیت کو بھانپ لیا۔ التمش نے اسے خرید کر اپنے "خاص غلاموں کے گروہ" (چہلگانی) میں شامل کر لیا۔ یہ گروہ 40 ایسے وفادار غلاموں پر مشتمل تھا جو سلطنت کے تمام اہم معاملات کو سنبھالتے تھے۔
لیکن، بلبن کا راستہ آسان نہیں تھا۔ چہلگانی کے دوسرے ممبران بھی اتنے ہی باصلاحیت تھے اور وہ بھی تختِ دہلی پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ بلبن نے اپنی خاموش محنت، وفاداری اور بے مثال جنگی صلاحیتوں کی بنیاد پر آہستہ آہستہ سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ التمش کی بیٹی، سلطان رضیہ سلطانہ کے دور میں وہ ایک اہم فوجی عہدے پر فائز ہوا اور پھر سلطان ناصر الدین محمود (التمش کا بیٹا) کے دور میں وہ نائب السلطنت بنا اور اسے 'الغ خان' (عظیم خان) کا لقب ملا۔
بابِ دوم: تختِ دہلی پر آہنی گرفت
1266ء میں، سلطان ناصر الدین محمود کی وفات کے بعد، بلبن کے لیے تختِ دہلی کا راستہ صاف ہو گیا۔ اس نے غیاث الدین بلبن کے نام سے شاہی تاج سر پر رکھا۔ بلبن جب تخت پر بیٹھا تو سلطنت کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ بادشاہ کا رعب ختم ہو چکا تھا، گورنر خود مختار ہو گئے تھے اور منگول سرحدوں پر ٹڈی دل کی طرح منڈلا رہے تھے۔
بلبن نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ "چہلگانی" کے گروہ کو، جس کا وہ خود حصہ رہا تھا، مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس کا ماننا تھا کہ بادشاہی میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔ اس نے اپنے ان تمام سابقہ ساتھیوں کو، جو اس کے لیے خطرہ بن سکتے تھے، ایک ایک کر کے ختم کر دیا۔ کسی کو زہر دیا گیا، کسی کو جنگ میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، اور کسی کو سرِ عام قتل کروا دیا گیا۔
بابِ سوم: ہیبت اور جلال کا دربار
بلبن کا ماننا تھا کہ "بادشاہت خدا کی طرف سے ایک نیابت ہے" اور رعایا کے دل میں بادشاہ کا رعب ایسا ہونا چاہیے کہ کسی کو سر اٹھانے کی جرات نہ ہو۔ اس نے اپنے دربار کے آداب ایسے سخت کیے کہ تاریخ دان آج بھی حیران رہ جاتے ہیں۔
دربار میں کسی کو مسکرانے، اونچی آواز میں بات کرنے یا بے جا حرکت کرنے کی اجازت نہ تھی۔ بلبن خود کبھی دربار میں نہیں ہنستا تھا اور نہ ہی کسی کو ہنستے دیکھتا تھا۔ اس نے ایران کے قدیم بادشاہوں کی طرح 'سجدہ' اور 'پابوس' (قدم بوسی) کی رسم جاری کی، جس کا مقصد بڑے سے بڑے امیر اور گورنر کو یہ بتانا تھا کہ سلطان کے سامنے سب برابر اور ہیچ ہیں۔
اس کے دربار میں قد آور اور ہیبت ناک حبشی محافظ ننگی تلواریں لے کر کھڑے ہوتے، جو "بسم اللہ" اور "اللہ اکبر" کے نعرے لگاتے، جس سے دیکھنے والوں پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ اس کی سواری جب نکلتی تو اس کے آگے آگے حبشی محافظ "ہشدار، باشدار" (خبردار، ہوشیار) کے نعرے لگاتے تھے، جس سے پوری گلی میں خاموشی چھا جاتی تھی۔
بابِ چہارم: جاسوسی کا بے مثال نظام (بریدِ سلطانی)
بلبن کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کا جاسوسی نظام تھا۔ اس نے پوری سلطنت میں جاسوسوں (بریدوں) کا ایک ایسا جال بچھا دیا تھا کہ کوئی بھی بات اس سے چھپی نہیں رہتی تھی۔ یہ جاسوس براہِ راست سلطان کو رپورٹ کرتے تھے اور اگر کوئی جاسوس غلط خبر دیتا تو اسے عبرت ناک سزا دی جاتی تھی۔
اس جاسوسی نظام نے بلبن کو اپنے امرا اور گورنروں پر مکمل کنٹرول فراہم کیا۔ کوئی بھی شخص سلطان کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، کیونکہ اسے پتہ ہوتا تھا کہ اس کی سوچنے سے پہلے بلبن تک خبر پہنچ جائے گی۔ یہ جاسوس بازاروں، مساجد، حماموں، اور یہاں تک کہ امرا کے گھروں میں بھی موجود ہوتے تھے۔
بابِ پنجم: منگولوں کے خلاف آہنی دیوار - لہو رنگ معرکے
اس وقت کا سب سے بڑا خطرہ منگول تھے، جو ٹڈی دل کی طرح سرحدوں پر منڈلا رہے تھے۔ چنگیز خان کے پوتے، ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کرنے کے بعد ہندوستان کی طرف بڑھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ ہندوستان کے لوگ منگولوں کا نام سن کر تھر تھر کانپتے تھے۔
بلبن نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے اپنی پوری فوجی طاقت سرحدوں پر جھونک دی۔ اس نے 'خون اور لوہے' (Blood and Iron) کی پالیسی اپنائی۔ اس نے سرحدوں پر پرانے قلعوں کو ازسرِ نو تعمیر کروایا اور وہاں ایسے خوں خوار دستے مقرر کیے جن کا کام صرف 'مارنا یا مرنا' تھا۔
بلبن نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ایسے جرنیل مقرر کیے جو موت سے نہیں ڈرتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب منگولوں نے پنجاب کے راستے حملہ کیا، تو بلبن نے ایسی جوابی کارروائی کی کہ دریائے راوی کا پانی منگولوں کے خون سے سرخ ہو گیا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ پکڑے جانے والے منگول قیدیوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلوا دیا جائے یا ان کی کھالوں میں بھس بھروا کر سرحدوں پر لٹکا دیا جائے۔ یہ اس کی وہ جنگی دہشت تھی جس نے ہندوستان کو اس فتنے سے بچایا جس نے بغداد کو کھنڈر بنا دیا تھا۔
بلبن خود کبھی دہلی سے دور نہیں جاتا تھا تاکہ اگر منگول دہلی پر حملہ کریں تو وہ موجود ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو جنگ کے لیے تیار رکھتا تھا اور اس کی فوج ہمیشہ متحرک رہتی تھی۔
بابِ ششم: رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ - طغرل خان کی بغاوت کا انجام
بلبن کے دور کا سب سے ہولناک اور عبرت ناک واقعہ بنگال کے گورنر طغرل خان کی بغاوت ہے۔ بنگال دہلی سے بہت دور تھا، اور طغرل نے سمجھا کہ بوڑھا بلبن وہاں تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ بلبن نے پہلے دو لشکر بھیجے جو ناکام ہو گئے، جس پر سلطان کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔
سلطان نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کرے گا جب تک طغرل کا سر قلم نہ کر دے۔ اس نے اپنی عمر اور بیماری کی پرواہ کیے بغیر بنگال کی طرف کوچ کیا۔ یہ سفر انتہائی مشکل تھا کیونکہ اس وقت بنگال کے راستے میں گھنے جنگل اور دریا تھے، اور منگولوں کا خطرہ بھی موجود تھا۔ لیکن بلبن کا عزم پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔
جب طغرل خان کو پتہ چلا کہ 'قہرِ الہیٰ' (بلبن) خود آ رہا ہے، تو وہ جنگلوں کی طرف بھاگ گیا۔ بلبن نے اپنے بہترین سپاہیوں پر مشتمل ایک دستہ طغرل کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا۔ ان سپاہیوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر طغرل کو ڈھونڈ نکالا۔ ایک خونریز معرکے کے بعد طغرل کو قتل کر کے اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ سپاہی طغرل کا سر لے کر بلبن کے پاس آئے۔ سلطان نے اس کا سر اپنے لشکر کے آگے آگے لٹکا دیا تاکہ ہر کوئی دیکھے کہ بغاوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔
لیکن، اصل لرزہ خیز منظر تو ابھی باقی تھا۔ جب سلطان لکھنوتی (بنگال) میں داخل ہوا، تو اس نے ایک ایسا حکم دیا جس نے تاریخ کو لرزا کر رکھ دیا۔ سلطان نے حکم دیا کہ بازار کے دونوں طرف میلوں تک لکڑی کے تختے (سولیاں) لگا دیے جائیں۔
سلطان نے طغرل خان کے تمام خاندان، سپاہیوں اور ان کے حامیوں کو، جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، ان لکڑیوں پر زندہ کیلوں سے جڑوا دیا۔ یہ منظر اتنا ہولناک تھا کہ بازار میں موجود لوگ خوف سے بے ہوش ہو گئے۔ کچھ لوگ اسے 'زندہ انسانوں کا قبرستان' کہنے لگے۔ سلطان نے اپنے بیٹے بغرا خان کو بلایا اور ان لاشوں کے درمیان سے گزارتے ہوئے کہا:
"دیکھو بغرا! اگر تمہارے دل میں کبھی بغاوت کا خیال آئے، تو ان چہروں کو یاد کر لینا۔ بلبن اپنی سلطنت کے لیے اپنے خون کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔"
اس واقعے کے بعد پورے ہندوستان میں کسی گورنر یا امیر کی جرات نہ ہوئی کہ وہ بلبن کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی سکے۔
بابِ ہفتم: عدل و انصاف کی تلوار - جہاں بادشاہ اور غلام برابر تھے
بلبن جتنا سخت دل دشمنوں اور باغیوں کے لیے تھا، اتنا ہی کھرا اور منصف مزاج انصاف کے لیے تھا۔ وہ ایک سخت گیر حکمران تھا، لیکن جب بات انصاف کی آتی تھی تو وہ اپنے قریبی ساتھیوں اور گورنروں کو بھی نہیں بخشتے تھے۔
اس کے دور میں بدایوں کا گورنر، ملک بلق، ایک بہت بااثر شخص تھا۔ ایک دن نشے کی حالت میں اس نے اپنے ایک خادم کو کوڑوں سے اتنا مارا کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ملک بلق کو لگا کہ وہ گورنر ہے اور سلطان کا قریبی ہے، اس لیے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
جب سلطان بلبن بدایوں کے دورے پر آئے تو اس مقتول نوکر کی بیوہ نے سلطان کے راستے میں کھڑے ہو کر دہائی دی۔ سلطان نے فوراً تحقیقات کا حکم دیا۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ ملک بلق نے واقعی ظلم کیا ہے، تو سلطان بلبن کا چہرہ غصے سے تمتا اٹھا۔
سلطان نے بھری عدالت میں کہا:
"خدا کی قسم! اگر میں نے اپنی رعایا کو انصاف نہ دیا تو میں اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ بادشاہت کا تاج سر پر رکھنے کا حق صرف اسے ہے جو انصاف کر سکے۔"
سلطان نے اپنے قریبی گورنر ملک بلق کو سرِ عام کوڑے مارنے کی سزا سنائی اور اسے عہدے سے برطرف کر دیا۔ یہی نہیں، بلکہ جس مخبر (News Reporter) نے یہ واقعہ سلطان تک دیر سے پہنچایا تھا، اسے بھی سخت سزا دی گئی تاکہ آئندہ کوئی ظلم چھپانے کی جرات نہ کرے۔ اس واقعے کے بعد پورے ہندوستان میں کسی گورنر یا امیر کی جرات نہ ہوئی کہ وہ کسی غریب پر ہاتھ اٹھا سکے۔
بابِ ہشتم: ایک عظیم باپ کا دکھ اور آخری ایام
بلبن جتنا سخت دل نظر آتا تھا، اندر سے اتنا ہی ٹوٹ چکا تھا۔ اس کا سب سے بڑا سہارا اس کا لائق ترین بیٹا شہزادہ محمد تھا، جو منگولوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔ جب دربار میں شہادت کی خبر آئی، تو بلبن نے ایک آنسو بھی نہ بہایا اور معمول کے مطابق دربار جاری رکھا تاکہ دشمن یہ نہ سمجھیں کہ سلطان کمزور ہو گیا ہے۔
لیکن جیسے ہی رات ہوتی، سلطان اپنے کمرے میں اکیلا ہوتا تو وہ دھاڑیں مار مار کر روتا تھا۔ اپنے بیٹے کے غم نے اس لوہے کے انسان کو موم کر دیا۔ اس نے اپنے دوسرے بیٹے، بغرا خان، کو دہلی بلایا لیکن وہ بنگال کے آرام دہ ماحول کا عادی ہو چکا تھا اور وہ بلبن کی سختیوں سے ڈرتا تھا۔ اس نے دہلی کا تخت سنبھالنے سے انکار کر دیا۔
اسی غم میں وہ بیمار پڑ گیا اور 1287ء میں یہ آہنی سلطان، جس نے ہندوستان کو ایک نئی پہچان دی تھی اور منگولوں کے فتنے سے بچایا تھا، اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی وفات کے بعد دہلی سلطنت میں ایک بار پھر افراتفری مچ گئی، لیکن بلبن نے جو مضبوط بنیادیں فراہم کی تھیں، وہ اب بھی قائم تھیں۔
نتیجہ: بلبن کی میراث
سلطان غیاث الدین بلبن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ نظم و ضبط، انصاف اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس نے ایک بکھری ہوئی ریاست کو متحد کیا اور اسے وہ وقار دیا جو صدیوں تک قائم رہا۔ اس کی زندگی غلامی سے بادشاہت تک کا سفر نہیں، بلکہ عزم، شمشیر اور عدل کی ایک زندہ جاوید داستان ہے
امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا
Comments
Post a Comment