​محمد بن قاسم: ایک بیٹی کی پکار اور سندھ کی فتح کی لرزہ خیز داستان

 


وہ پکار جس نے خلافتِ اسلامیہ کو ہلا کر رکھ دیا

یہ آٹھویں صدی عیسوی کا ذکر ہے، جب لنکا کے راجہ نے مسلمان بیواؤں اور یتیم بچوں کو ایک بحری جہاز میں بصرہ کی طرف روانہ کیا۔ جب یہ جہاز سندھ کے ساحل "دیبل" کے قریب پہنچا، تو راجہ داہر کے حمایت یافتہ سمندری ڈاکوؤں نے اس پر حملہ کر دیا۔ مردوں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا اور عورتوں و بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس بے بسی کے عالم میں، ایک نوجوان مسلمان لڑکی کی چیخ فضا میں گونجی: "اے حجاج! ہماری خبر لو، ہمیں ان ظالموں سے بچاؤ!"

​جب یہ خبر عراق کے گورنر حجاج بن یوسف تک پہنچی، تو اس کی غیرتِ ایمانی تڑپ اٹھی۔ اس نے تڑپ کر جواب دیا: "لبیک! (میں آ رہا ہوں)"۔ حجاج نے اپنے سب سے قابل، نڈر اور صرف 17 سالہ بھتیجے محمد بن قاسم کو طلب کیا اور اسے ایک لشکر دے کر سندھ کی طرف روانہ کیا کہ "جاؤ اور اس بیٹی کی پکار کا حساب لو۔"

رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر

محمد بن قاسم جب سندھ پہنچے، تو سامنے راجہ داہر کی لاکھوں کی فوج اور پتھروں سے بنا مضبوط قلعہ تھا۔ راجہ داہر کو اپنی طاقت، ہاتھیوں اور قلعے کی دیواروں پر بہت گھمنڈ تھا۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کا مقابلہ اس 17 سالہ نوجوان سے ہے جس کے دل میں فتح کا شوق نہیں، بلکہ ایک مظلوم کی عزت بچانے کا تڑپتا ہوا جذبہ ہے۔

​جنگ کے دوران جب راجہ داہر کے مہیب ہاتھی مسلمانوں کے لشکر پر حملہ آور ہوئے، تو فضا میں خوف چھانے لگا۔ تب محمد بن قاسم نے اپنے گھوڑے کو آگے بڑھایا اور ایسی دھاڑ ماری کہ سپاہیوں کے لہو میں آگ لگ گئی:

"اے اللہ کے شیرو! آج تمہاری تلواریں دشمن کے سروں کا فیصلہ کریں گی۔ یاد رکھو، ہم یہاں زمینیں جیتنے یا خزانے لوٹنے نہیں آئے، ہم اس بیٹی کی پکار کا جواب دینے آئے ہیں جس نے ہمیں دیوارِ گریہ سے پکارا تھا۔ اگر آج ہم پیچھے ہٹ گئے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی!"


ایمان کا وہ طوفان جس نے تاریخ بدل دی

محمد بن قاسم نے "عروس" نامی منجنیق سے آگ کے وہ گولے برسائے کہ قلعے کا غرور خاک میں مل گیا۔ راجہ داہر میدانِ جنگ میں مارا گیا اور اس کا لشکر تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ جب قلعہ فتح ہوا اور وہ مسلمان قیدی عورتیں رہا ہوئیں، تو ان کی زبان پر صرف ایک ہی جملہ تھا: "اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہماری پکار سن لی۔"

​محمد بن قاسم نے نہ صرف سندھ فتح کیا بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لیے۔ ان کا انصاف اور اخلاق دیکھ کر وہاں کے مقامی لوگ ان سے اتنی محبت کرنے لگے کہ جب وہ واپس جانے لگے تو لوگوں نے ان کے مجسمے بنا کر اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ اس 17 سالہ جرنیل کی کہانی ہے جس نے ثابت کیا کہ اسلام میں ایک بیٹی کی عزت کی قیمت پوری سلطنت سے بڑھ کر ہے۔

سبق:

​"محمد بن قاسم کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کے لیے عمر بڑی ہونا ضروری نہیں، بلکہ مقصد کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ جب انسان کسی مظلوم کی پکار پر اللہ کے بھروسے نکلتا ہے، تو سمندر بھی اسے راستہ دیتے ہیں اور قلعے بھی اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔

امید ہے کے آپ کو یہ واقعہ بہت پسند آیا ہوگا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے ۔اور آگے شئر بھی کرے  


کمنٹس میں ضرور بتائے کے واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے 

۔شکریہ۔

 

"

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان