❤👍 سلطان صلاح الدین ایوبی اور بیت المقدس کی فتح – ایک عظیم فاتح کی کہانی👉💚
سلطان صلاح الدین ایوبی اور بیت المقدس کی تاریخی فتح: حق و باطل کا وہ معرکہ جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی
مقدمہ: تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب جو رہتی دنیا تک مثال بن گیا
تاریخِ انسانی نے بڑے بڑے فاتحین، سلاطین اور جرنیل دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی تلوار کے زور پر سلطنتیں قائم کیں، شہروں کو تاخت و تاراج کیا اور اپنے نام کے ڈنکے بجوائے۔ لیکن تاریخ کے افق پر چند ایسے نام بھی چمکتے ہیں جن کی شہرت صرف ان کی فتوحات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے اعلیٰ کردار، عدل و انصاف، عزمِ مصمم اور دشمنوں کے ساتھ کیے جانے والے حسنِ سلوک کی وجہ سے ہے۔ انہی ناموں میں سب سے معتبر اور روشن نام سلطان صلاح الدین ایوبی کا ہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی صرف مسلمانوں کے ہیرو نہیں تھے، بلکہ خود ان کے بدترین دشمن یعنی یورپی عیسائی (صلیبی) بھی ان کی شجاعت، سخاوت اور اعلیٰ اخلاق کے معترف تھے۔ تاریخِ اسلام میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ بیت المقدس (Jerusalem) کو تقریباً 88 سال کے طویل غاصبانہ صلیبی قبضے سے آزاد کروانا ہے۔ یہ فتح کوئی عام فتح نہیں تھی، بلکہ یہ عزم، ایمان، بہترین جنگی حکمتِ عملی اور صبر و استقلال کی وہ داستان ہے جو آج بھی دنیا بھر کے فوجی تعلیمی اداروں میں ایک نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم سلطان صلاح الدین ایوبی کی پیدائش، ان کے خاندانی پس منظر، ان کی ابتدائی تربیت، سلطنتِ ایوبیہ کے قیام، صلیبیوں کے خلاف ان کی طویل جدوجہد، معرکہ حطین کی سنسنی خیز تفصیلات اور بالاخر بیت المقدس میں مسلمانوں کے دوبارہ داخلے کے ایمان افروز واقعات کا احاطہ کریں گے۔
باب اول: خاندانی پس منظر، پیدائش اور ابتدائی تربیت
۱. پیدائش اور قلعہ تکریت کا واقعہ
سلطان صلاح الدین ایوبی کا اصل نام یوسف تھا، جبکہ ان کا لقب صلاح الدین (دین کی اصلاح کرنے والا) اور کنیت ابو المظفر تھی۔ وہ ۱۱۳۷ عیسوی (۵۳۲ ہجری) میں عراق کے مشہور شہر اور قلعہ تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز اور جنگجو کُرد خاندان سے تھا۔ ان کے والد کا نام نجم الدین ایوب تھا، جو تکریت کے قلعہ دار (گورنر) تھے۔
سلطان کی پیدائش کی رات ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ نجم الدین ایوب کو کسی سیاسی وجہ سے اسی رات قلعہ تکریت چھوڑنے کا حکم ملا۔ وہ اپنے خاندان اور نوزائیدہ بچے (صلاح الدین) کو لے کر رات کے اندھیرے میں نکلے۔ راستے میں روتے ہوئے بچے کو دیکھ کر نجم الدین ایوب نے غصے اور مایوسی میں کہا: "یہ بچہ ہمارے لیے بدشگونی لے کر آیا ہے، ہماری حکومت چھن گئی اور ہمیں راتوں رات دربدر ہونا پڑا"۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہی بچہ آگے چل کر پوری امتِ مسلمہ کا نجات دہندہ بنا اور تاریخِ اسلام کا عظیم ترین جرنیل کہلایا۔
۲. عماد الدین زنگی اور نور الدین زنگی کی سرپرستی
تکریت سے نکلنے کے بعد نجم الدین ایوب اور ان کے بھائی اسد الدین شیر کوہ نے وقت کے عظیم مجاہد اور حکمران عماد الدین زنگی کے ہاں پناہ لی۔ عماد الدین زنگی نے ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں اپنی فوج میں اعلیٰ عہدے دیے۔ عماد الدین زنگی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سلطان نور الدین زنگی تخت نشین ہوئے، جو تاریخِ اسلام کی ایک نہایت متقی اور مجاہد شخصیت تھے۔
صلاح الدین ایوبی نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ دمشق میں نور الدین زنگی کے زیرِ سایہ گزارا۔ یہاں انہوں نے نہ صرف قرآن، حدیث، فقہ اور عربی ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، بلکہ فنِ سپہ گری، نیزہ بازی، شہسواری اور جنگی چالوں میں بھی مہارت حاصل کی۔ نور الدین زنگی نے نوجوان صلاح الدین کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور انہیں اپنا خاص مشیر مقرر کیا۔ صلاح الدین ایوبی کو علم و ادب سے گہرا لگاؤ تھا، خاص طور پر وہ احادیثِ مبارکہ اور اسلامی تاریخ کو بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
باب دوم: مصر کی مہمات اور اقتدار کا آغاز
۱. فاطمی سلطنت کا زوال اور اسد الدین شیر کوہ کی مہم
اس دور میں اسلامی دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی تھی؛ بغداد میں عباسی خلافت تھی (جو کمزور ہو چکی تھی) اور دمشق میں نور الدین زنگی کی حکومت تھی، جبکہ دوسری طرف مصر میں فاطمی خلافت قائم تھی جو اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور وہاں شدید سیاسی انتشار تھا۔ مصر کے وزیر شاور نے اپنے مخالفین کے خلاف سلطان نور الدین زنگی سے مدد مانگی۔
سلطان نور الدین زنگی نے صلاح الدین ایوبی کے چچا اسد الدین شیر کوہ کو ایک مضبوط فوج دے کر مصر بھیجا۔ صلاح الدین ایوبی اس مہم میں اپنے چچا کے ساتھ نائب کے طور پر گئے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ "میں مصر جانے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا، لیکن میرے چچا اور سلطان نور الدین کے اصرار پر مجھے جانا پڑا، اور میں یوں گیا جیسے مجھے موت کی طرف ہنکایا جا رہا ہو"۔ لیکن اللہ کا منصوبہ کچھ اور تھا۔
مصر میں صلیبیوں نے بھی مداخلت شروع کر دی تھی کیونکہ وہ مصر کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اسد الدین شیر کوہ اور صلاح الدین ایوبی نے اپنی زبردست جنگی حکمتِ عملی سے عیسائیوں کو مصر سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
۲. صلاح الدین ایوبی مصر کے وزیر اور حاکم کی حیثیت سے
۱۱۶۹ عیسوی میں اسد الدین شیر کوہ کی اچانک وفات کے بعد، فاطمی خلیفہ العاضد نے صلاح الدین ایوبی کو مصر کا وزیر مقرر کر دیا۔ عیسائی اور فاطمی دربار کے سازشی یہ سمجھ رہے تھے کہ صلاح الدین ابھی نوجوان ہیں اور انہیں آسانی سے قابو کیا جا سکے گا، لیکن صلاح الدین نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی سیاسی اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے مصر سے سازشی عناصر کا خاتمہ کیا، فوج کو منظم کیا اور عوام کے دل جیتے۔ جب ۱۱۷۱ عیسوی میں آخری فاطمی خلیفہ کا انتقال ہوا، تو صلاح الدین ایوبی نے مصر میں فاطمی خلافت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور خطبے میں عباسی خلیفہ کا نام شامل کر کے مصر کو دوبارہ مرکزی اسلامی دھارے سے جوڑ دیا۔ اب وہ مصر کے بلا شرکتِ غیرے حاکم بن چکے تھے۔
باب سوم: سلطنتِ ایوبیہ کا قیام اور اتحادِ عالمِ اسلام
۱. نور الدین زنگی کی وفات اور شام کا الحاق
۱۱۷۴ عیسوی میں سلطان نور الدین زنگی کی وفات اسلامی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔ ان کی وفات کے بعد شام میں ان کے امرا اور بیٹوں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھا کر عیسائی (صلیبی) دمشق اور دیگر اسلامی شہروں پر حملے کرنے لگے۔
صلاح الدین ایوبی جانتے تھے کہ جب تک مسلمان خود آپس میں متحد نہیں ہوں گے، تب تک بیت المقدس کو صلیبیوں کے چنگل سے آزاد کروانا ناممکن ہے۔ چنانچہ انہوں نے مصر سے شام کا رخ کیا۔ دمشق، حمص اور حماہ کے عوام نے صلاح الدین کا شاندار استقبال کیا اور انہیں اپنا حکمران تسلیم کیا۔ انہوں نے نور الدین زنگی کے خاندان کا احترام برقرار رکھا لیکن اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس طرح سلطنتِ ایوبیہ کی بنیاد پڑی، جس کی سرحدیں مصر، شام، حجاز اور یمن تک پھیل گئیں۔
۲. اتحادِ امت کے لیے داخلی اصلاحات
سلطان صلاح الدین ایوبی نے حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے اندرونی امن و امان قائم کیا۔ انہوں نے جگہ جگہ مدارس، ہسپتال اور مسافر خانے قائم کیے۔ انہوں نے عوام پر سے بھاری ٹیکس ختم کیے جس کی وجہ سے تجارت کو فروغ ملا۔ انہوں نے ایک ایسی فوج تیار کی جو نسل اور قبیلے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف اور صرف اسلام کے جذبے اور وفاداری کی بنیاد پر متحد تھی۔ بغداد کے عباسی خلیفہ نے بھی سلطان صلاح الدین کو باقاعدہ "سلطانِ مصر و شام" کی سند اور خلعت بھیجی۔
باب چہارم: صلیبی ریاستیں اور ان کی بدعہدیاں
۱. مملکتِ یروشلم (Kingdom of Jerusalem) کی صورتحال
پہلی صلیبی جنگ (1099ء) کے بعد عیسائیوں نے ارضِ فلسطین پر قبضہ کر کے اپنی حکومتیں قائم کر لی تھیں، جن میں سب سے بڑی حکومت "مملکتِ یروشلم" تھی۔ عیسائی بادشاہ بالڈون چہارم (Baldwin IV) جو کہ جذام (Leprosy) کی بیماری میں مبتلا تھا، سلطان صلاح الدین کی طاقت سے واقف تھا، اس لیے اس نے سلطان کے ساتھ ایک معاہدہِ امن کر رکھا تھا تاکہ عیسائی حکومت محفوظ رہے۔
۲. رینالڈ ڈی چیٹلن (ارناط) کی وحشت اور بدعہدیاں
صلیبیوں میں ایک انتہائی ظالم، متعصب اور کینہ پرور جرنیل تھا جس کا نام رینالڈ ڈی چیٹلن (مسلم تاریخ میں اسے ارناط کہا جاتا ہے) تھا۔ وہ الکرک (Krak) کے مضبوط قلعے کا مالک تھا۔ ارناط نے امن معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مسلسل مسلمان تاجروں اور زائرین کے قافلوں کو لوٹنا شروع کیا۔
اس کی بربریت اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے بحیرہ احمر میں بحری بیڑے بھیجے اور اعلان کیا کہ وہ (معاذ اللہ) نبی کریم ﷺ کا جسدِ مبارک مدینہ منورہ سے نکال لائے گا۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو اس ہولناک سازش کا علم ہوا، تو ان کے جلال کی کوئی حد نہ رہی۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے بحری دستے بھیج کر ارناط کے جہازوں کو غرق کیا اور اس کے فوجیوں کو عبرت ناک شکست دی۔
ارناط کی سب سے بڑی بدعہدی یہ تھی کہ اس نے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان قائم جنگ بندی کے باوجود حج پر جانے والے ایک بڑے قافلے پر حملہ کیا، مردوں اور عورتوں کو بے دردی سے قتل کیا اور ان کا مال لوٹ لیا۔ جب زائرین نے اس سے رحم کی اپیل کی اور معاہدے کا واسطہ دیا، تو اس ظالم نے ہنس کر کہا: "جاؤ، اپنے نبی محمد (ﷺ) کو بلاؤ کہ وہ تمہیں مجھ سے چھڑائیں"۔
جب یہ خبر سلطان صلاح الدین ایوبی تک پہنچی، تو وہ زار و قطار روئے اور انہوں نے اللہ کے حضور سجدے میں گر کر یہ تاریخی قسم کھائی:
"میں اللہ کو گواہ بنا کر قسم کھاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے موقع دیا، تو میں اپنے ہاتھ سے اس ملعون ارناط کی گردن اڑاؤں گا!"
اب جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔ سلطان نے پورے عالمِ اسلام میں جہاد کا اعلان کر دیا اور مصر، شام اور عراق سے مجاہدین کے دستے سلطان کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔
باب پنجم: معرکہ حطین (Battle of Hattin) — فتح کا پیش خیمہ
۱. جنگی میدان کا انتخاب اور سلطان کی حکمتِ عملی
جولائی ۱۱۸۷ عیسوی (ربیع الثانی ۵۸۳ ہجری) میں سلطان صلاح الدین ایوبی تقریباً ۳۰ ہزار مجاہدین کا لشکر لے کر اردن کو پار کرتے ہوئے طبریا (Tiberias) کے علاقے میں پہنچے۔ دوسری طرف عیسائیوں کے تمام چھوٹے بڑے نائٹس، لارڈز اور بادشاہ گائے ڈی لوزینان (Guy of Lusignan) کی قیادت میں ایک بہت بڑا اور لوہے میں ڈوبا ہوا لشکر لے کر مقابلے پر آئے۔ عیسائی فوج کی تعداد ۶۰ ہزار سے زائد تھی۔
سلطان صلاح الدین ایک ذہین جنگی دماغ کے مالک تھے۔ انہوں نے جنگ کے لیے حطین کے میدان کا انتخاب کیا، جو کہ پہاڑیوں کے درمیان واقع تھا۔ سلطان نے سب سے پہلا اور اہم کام یہ کیا کہ بحیرہ طبریا (پانی کے چشموں) پر مسلمانوں کا قبضہ کروا دیا اور عیسائیوں کے لیے پانی کے تمام راستے بند کر دیے۔
۲. پیاس کی جنگ اور عیسائیوں کا محاصرہ
جنگِ حطین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہ صرف تلواروں کی نہیں، بلکہ پیاس کی جنگ تھی۔ جولائی کا مہینہ تھا، فلسطین کی تپتی ہوئی دھوپ اور گرم ہوا چل رہی تھی۔ عیسائی فوج بھاری لوہے کی زرہیں پہن کر کئی میل کا سفر طے کر کے آئی تھی اور وہ پیاس سے نڈھال تھی۔
سلطان نے رات کے وقت مجاہدین کو حکم دیا کہ وہ عیسائیوں کے کیمپ کے ارد گرد موجود خشک جھاڑیوں اور گھاس کو آگ لگا دیں۔ صبح ہوتے ہی عیسائی فوج آگ کے دھوئیں، تپتی دھوپ اور شدید پیاس کے تہرے عذاب میں گھِر چکی تھی۔ عیسائیوں کے گھوڑے پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو کر گرنے لگے۔
۳. معرکے کا آغاز اور صلیبیوں کی عبرت ناک شکست
۴ جولائی ۱۱۸۷ء کو معرکہ حطین کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ عیسائیوں نے پیاس کی شدت میں پاگل ہو کر پانی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کی صفوں پر شدید حملے کیے، لیکن مجاہدینِ اسلام لوہے کی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ سلطان صلاح الدین خود فوج کے آگے آگے لڑ رہے تھے اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
مسلمان تیر اندازوں نے عیسائیوں پر تیروں کی بارش کر دی۔ عیسائیوں کی صفیں اکھڑ گئیں اور ان کا پورا لشکر تتر بتر ہو گیا۔ ان کے بڑے بڑے نامور نائٹس مارے گئے یا قیدی بنا لیے گئے۔ عیسائیوں کا سب سے مقدس ترین مانا جانے والا صلیبِ اعظم (True Cross) بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔ عیسائیوں کے غرور کا سر نیچا ہو چکا تھا اور ان کی پوری فوج کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
۴. ارناط کا انجام اور سلطان کی قسم کا پورا ہونا
جنگ کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں عیسائیوں کے بادشاہ گائے ڈی لوزینان اور ظالم جرنیل ارناط کو قیدی بنا کر پیش کیا گیا۔ بادشاہ پیاس سے کانپ رہا تھا۔ سلطان نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے بادشاہ کو عزت سے بٹھایا اور اسے ٹھنڈے پانی کا ایک کٹورا دیا جسے بادشاہ نے پی لیا۔ بادشاہ نے وہ کٹورا ارناط کی طرف بڑھایا، تو سلطان نے فوراً ترجمان سے کہا: "بادشاہ سے کہہ دو کہ پانی اس نے دیا ہے، میں نے نہیں؛ کیونکہ میری عادت اپنے قیدی کو امان دینے کی ہے، لیکن اس ملعون کے لیے کوئی امان نہیں ہے"۔
سلطان صلاح الدین ایوبی اٹھ کھڑے ہوئے، انہوں نے ارناط کو اس کی بدعہدیاں، معصوم مسلمانوں کا قتلِ عام اور نبی کریم ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخی یاد دلائی۔ سلطان نے اپنی تلوار اٹھائی اور ارناط پر وار کیا۔ اس کے بعد محافظوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔ اس طرح سلطان نے اپنی تاریخی قسم پوری کی اور امتِ مسلمہ کے دل ٹھنڈے کیے۔ عیسائی بادشاہ خوف سے کانپنے لگا، تو سلطان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: "ڈرو مت، بادشاہ بادشاہوں کو قتل نہیں کرتے، لیکن اس شخص نے ظلم اور بدعہدی کی تمام حدیں پار کر دی تھیں"۔ سلطان نے عیسائی بادشاہ کو قید خانے بھیج دیا۔
باب ششم: بیت المقدس کا تاریخی محاصرہ
۱. فتحِ حطین کے بعد دیگر شہروں کی آزادی
حطین کی عظیم الشان فتح کے بعد عیسائیوں کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ اب بیت المقدس تک پہنچنے کے لیے راستہ بالکل صاف تھا۔ لیکن سلطان نے عجلت پسندی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے پہلے عسقلان، عکا، یافا، صیدا اور بیروت جیسے ساحلی شہروں پر قبضہ کیا تاکہ یورپ سے آنے والی عیسائیوں کی بحری امداد کا راستہ روکا جا سکے۔ چند ہی ہفتوں میں فلسطین کے زیادہ تر حصے پر دوبارہ مسلمانوں کا پرچم لہرانے لگا۔
۲. محاصرے کا آغاز اور بالین ڈی ابیلین کی مزاحمت
۲۰ ستمبر ۱۱۸۷ عیسوی کو سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی فاتح فوج کے ساتھ بیت المقدس کی دیواروں کے سامنے پہنچے۔ ۸۸ سال بعد کسی مسلم فوج نے اس مقدس شہر کا رخ کیا تھا۔ شہر کے اندر اس وقت لاکھوں عیسائی موجود تھے، جن کی قیادت ایک نامور عیسائی نائٹ بالین ڈی ابیلین (Balian of Ibelin) کر رہا تھا۔
سلطان نے شہر کا سخت محاصرہ کر لیا۔ مسلمانوں نے منجنیقوں (Catapults) کی مدد سے شہر کی دیواروں پر پتھراؤ شروع کیا اور دیوار کے ایک بڑے حصے کے نیچے سرنگ کھود کر اسے گرا دیا۔ عیسائیوں کو اندازہ ہو گیا کہ اب شہر کو بچانا نامکن ہے اور اگر مسلمان شہر کے اندر داخل ہو گئے تو ان کا بچنا مشکل ہے۔
۳. مذاکرات اور ہتھیار ڈالنا
بالین ڈی ابیلین خود سلطان کے خیمے میں مذاکرات کے لیے آیا۔ اس نے پہلے دھمکی دی کہ "اگر ہمیں امان نہ ملی، تو ہم شہر کے اندر موجود تمام ۵ ہزار مسلم قیدیوں کو ذبح کر دیں گے، چٹان کے گنبد (مسجدِ اقصیٰ) اور تمام مقدس مقامات کو بارود سے اڑا دیں گے اور اپنے بال بچوں کو خود قتل کر کے مرتے دم تک لڑیں گے"۔
سلطان صلاح الدین ایوبی ایک رحم دل اور دور اندیش حکمران تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بیت المقدس جیسے مقدس شہر میں خون خرابہ ہو یا عمارات کو نقصان پہنچے۔ چنانچہ انہوں نے بالین کی شرط تسلیم کر لی اور عیسائیوں کو ایک پرامن معاہدے کے تحت شہر سے نکلنے کی اجازت دے دی۔
باب ہفتم: بیت المقدس میں داخلہ اور اعلیٰ ترین اخلاق کا مظاہرہ
۱. ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء — ۲۷ رجب کا وہ مبارک دن
بالاخر وہ تاریخی دن آ ہی گیا جس کا مسلمانوں کو ۸۸ سال سے انتظار تھا۔ ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ عیسوی کو عیسائیوں نے باقاعدہ طور پر بیت المقدس کی چابیاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے حوالے کر دیں۔ اتفاق دیکھیے کہ اس دن اسلامی کیلنڈر کے مطابق ۲۷ رجب کی تاریخ تھی، یعنی وہی رات جس رات نبی کریم ﷺ کو معراج ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی تھی۔ اس مبارک دن شہر پر دوبارہ اسلام کا پرچم لہرایا۔
۲. تاریخ کا سب سے بڑا موازنہ: ۱۰۹۹ء بمقابلہ ۱۱۸۷ء
جب ۱0۹۹ عیسوی میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران عیسائیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا، تو انہوں نے وحشی پن کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔ عیسائی مورخین خود لکھتے ہیں کہ جب عیسائی شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ۷۰ ہزار سے زائد مسلمانوں اور یہودیوں کو بے دردی سے ذبح کیا، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا، اور مسجدِ اقصیٰ کے اندر اتنا خون بہا کہ عیسائی گھوڑوں کے گھٹنوں تک خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔
لیکن اس کے برعکس، جب سلطان صلاح الدین ایوبی ۱۱۸۷ء میں فاتح بن کر داخل ہوئے، تو انہوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ:
کسی ایک عیسائی شہری کو قتل نہیں کیا گیا۔
کسی عورت کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔
عیسائیوں کے کسی چرچ یا مقدس مقام کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، بلکہ ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے مسلم محافظ کھڑے کیے گئے۔
۳. سلطان کی سخاوت اور عیسائیوں کا فدیہ
معاہدے کے مطابق ہر عیسائی مرد کو ۱۰ دینار، عورت کو ۵ دینار اور بچے کو ۱ دینار فدیہ (Tax) دے کر شہر سے باامن نکلنے کی اجازت تھی۔ جو عیسائی فدیہ ادا کر دیتا، وہ اپنا مال و اسباب لے کر جہاں چاہے جا سکتا تھا۔
لیکن شہر میں ہزاروں ایسے غریب عیسائی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ ایسے موقع پر سلطان صلاح الدین کی سخاوت عروج پر دیکھی گئی:
سلطان کے بھائی سیف الدین نے سلطان سے درخواست کی کہ ۷ ہزار غریب عیسائیوں کو ان کے نام پر بغیر فدیہ کے رہا کر دیا جائے، سلطان نے فوراً اجازت دے دی۔
بیت المقدس کے عیسائی پادری (Patriarch) نے اپنے گرجا گھروں کا سونا، چاندی اور قیمتی خزانے بڑی بڑی گاڑیوں میں بھرے اور شہر سے نکلنے لگا، لیکن غریب عیسائیوں کے لیے ایک دینار بھی نہ دیا۔ سلطان کے امرا نے کہا کہ اس پادری کو روکیں اور یہ خزانہ ضبط کریں، لیکن سلطان نے فرمایا: "میں عیسائیوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں دوں گا کہ مسلمانوں نے معاہدہ توڑ دیا"، اور پادری کو خزانوں سمیت جانے دیا۔
جب ہزاروں غریب عورتیں اور بچے روتے ہوئے سلطان کے سامنے آئے، تو سلطان نے اپنی جیب سے ان کا فدیہ ادا کیا اور انہیں باقاعدہ محافظ دے کر عیسائی علاقوں تک پہنچایا۔
سلطان صلاح الدین کے اس بے مثال حسنِ سلوک کو دیکھ کر خود انگریز اور یورپی مورخین یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ:
"صلاح الدین عیسائیت کے بدترین دشمن تھے، لیکن انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ خود عیسائی حکمران اپنے عیسائی بھائیوں کے ساتھ کبھی نہیں کر سکے"۔
باب ہشتم: مسجدِ اقصیٰ کی تطہیر اور پہلی نمازِ جمعہ
۱. عیسائی اثرات کا خاتمہ
عیسائیوں نے مسجدِ اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ (Dome of the Rock) کو چرچ میں بدل دیا تھا، وہاں بت رکھ دیے تھے اور مسجد کے ایک حصے کو گھوڑوں کا اصطبل بنا رکھا تھا۔ سلطان صلاح الدین نے شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے مسجدِ اقصیٰ کی صفائی کا حکم دیا۔
مسجد کی دیواروں اور فرش کو گلاب کے عرق اور مشک سے دھویا گیا، صلیبوں اور بتوں کو ہٹایا گیا اور محراب کو دوبارہ اپنی اصل شکل میں بحال کیا گیا۔
۲. وہ منبر جو نور الدین زنگی نے بنوایا تھا
سلطان نور الدین زنگی کا یہ خواب تھا کہ وہ بیت المقدس کو آزاد کروائیں گے، اسی لیے انہوں نے سالہا سال پہلے حلب (Aleppo) کے ماہر کاریگروں سے ایک نہایت خوبصورت اور لکڑی کا شاہکار منبر تیار کروایا تھا، تاکہ جب شہر فتح ہو تو اسے مسجدِ اقصیٰ میں رکھا جائے۔ نور الدین زنگی تو وفات پا چکے تھے، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے روحانی استاد کا وہ خواب پورا کیا اور اس تاریخی منبر کو حلب سے منگوا کر مسجدِ اقصیٰ کی محراب کے ساتھ نصب کیا۔ (یہ منبر صدئیوں تک وہاں رہا، جسے بعد میں ۱۹۶۹ء میں ایک متعصب یہودی نے آگ لگا کر شہید کر دیا)۔
۳. شاندار خطبہِ جمعہ
بیت المقدس کی آزادی کے بعد جو پہلا جمعہ آیا، اس میں مسجدِ اقصیٰ کے اندر لاکھوں مسلمانوں نے نماز ادا کی۔ سلطان کی موجودگی میں قاضی محی الدین ابن الزکی نے ایک یادگار اور رقت آمیز خطبہ دیا، جس میں انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور مجاہدینِ اسلام کی تعریف کی جنہوں نے اس پاک دھرتی کو دوبارہ اسلام کا گہوارہ بنایا۔ پورا مجمع اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا اور لوگوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری تھے۔
باب نہم: تیسری صلیبی جنگ اور سلطان کی استقامت
بیت المقدس کی فتح کی خبر جب یورپ پہنچی، تو وہاں کہرام مچ گیا۔ عیسائی دنیا صدمے میں ڈوب گئی اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پوپ اربن سوم (Pope Urban III) اس صدمے سے انتقال کر گئے۔ یورپ کے بڑے بڑے بادشاہوں نے بیت المقدس کو دوبارہ چھیننے کے لیے ایک نیا عہد کیا، جس کے نتیجے میں تیسری صلیبی جنگ (Third Crusade) کا آغاز ہوا۔
۱. انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیر دل (Richard the Lionheart)
اس بار یورپ کی طرف سے جو سب سے بڑا جرنیل آیا، وہ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ اول تھا، جسے دنیا رچرڈ شیر دل (Richard the Lionheart) کے نام سے جانتی ہے۔ رچرڈ ایک انتہائی بہادر، جنگجو اور کٹر عیسائی بادشاہ تھا۔ اس نے آتے ہی عکا (Acre) کے شہر پر قبضہ کر لیا اور وہاں موجود ۳ ہزار نہتے مسلم قیدیوں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
۲. صلاح الدین اور رچرڈ کے درمیان معرکے
سلطان صلاح الدین اور رچرڈ شیر دل کے درمیان کئی سال تک ہولناک معرکے ہوئے۔ رچرڈ نے پوری کوشش کی کہ وہ کسی طرح بیت المقدس پر قبضہ کر لے، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی عزم اور استقلال کی چٹان بن کر اس کے سامنے کھڑے رہے۔ مسلمانوں نے گوریلا جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے صلیبیوں کی سپلائی لائنز کو تباہ کر دیا۔
۳. جنگی میدان میں انسانیت کی مثالیں
ان دونوں جرنیلوں کی دشمنی کے باوجود، ان کے درمیان احترام کا ایک عجیب رشتہ قائم تھا۔ تاریخ میں درج ہے کہ:
ایک معرکے کے دوران جب رچرڈ شیر دل کا گھوڑا مارا گیا اور وہ پیدل لڑنے لگا، تو سلطان صلاح الدین نے اپنے خادم کے ہاتھ دو بہترین عربی گھوڑے رچرڈ کے لیے بھجوائے اور پیغام دیا کہ "اتنا بڑا جرنیل پیدل لڑتا ہوا اچھا نہیں لگتا"۔
جب رچرڈ شدید بیمار ہو گیا اور اسے بخار چڑھا، تو سلطان نے اپنے خاص طبیب (ڈاکٹر) کو اس کے علاج کے لیے بھیجا اور اس کے لیے تازہ پھل اور برف کے ٹکڑے بھجوائے۔ رچرڈ سلطان کے اس اعلیٰ کردار کا ایسا گرویدہ ہوا کہ اس نے یورپ جا کر سلطان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔
۴. معاہدہِ رملہ (Treaty of Ramla) اور جنگ کا خاتمہ
رچرڈ شیر دل کو اندازہ ہو گیا کہ جب تک صلاح الدین ایوبی زندہ ہیں، عیسائی کبھی بیت المقدس پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف رچرڈ کے اپنے ملک انگلینڈ میں اس کے بھائی نے بغاوت کر دی تھی، اس لیے وہ واپس جانا چاہتا تھا۔ چنانچہ ۱۱۹۲ عیسوی میں دونوں کے درمیان معاہدہِ رملہ طے پایا:
بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں ہی رہے گا۔
یورپ سے آنے والے عام عیسائی زائرین کو بغیر کسی ٹیکس اور روک ٹوک کے اپنے مقدس مقامات کی زیارت کی مکمل اجازت ہوگی۔
رچرڈ ناکام و نامراد واپس یورپ لوٹ گیا اور بیت المقدس ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے پاس محفوظ رہا۔
باب دہم: آخری ایام، وفات اور سلطان کا ترکہ
۱. وفاتِ حسرت آیات
تیسری صلیبی جنگ کے خاتمے اور بیت المقدس کو مستقل طور پر محفوظ کرنے کے بعد، سلطان صلاح الدین ایوبی کی صحت مسلسل گرنے لگی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر، خیموں میں اور جہاد کے میدانوں میں گزاری تھی، جس کی وجہ سے ان کا جسم تھک چکا تھا۔
۴ مارچ ۱۱۹۳ عیسوی (۲۷ صفر ۵۸۹ ہجری) کو دمشق کے اندر اسلام کا یہ عظیم مجاہد اور مایہ ناز جرنیل صرف ۵۵ سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ دمشق کی جامع مسجد اموی کے سائے میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات پر نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پورا یورپ بھی سوگوار ہوا۔
۲. سلطان کا اثاثہ: ایک سچے مجاہد کا ترکہ
جب سلطان صلاح الدین ایوبی کا انتقال ہوا، تو وہ ایک وسیع و عریض سلطنت (مصر، شام، یمن، حجاز) کے مالک تھے۔ لیکن جب ان کا ترکہ (جائداد) چیک کیا گیا، تو دنیا دنگ رہ گئی:
ان کے ذاتی خزانے میں صرف ایک سونے کا دینار اور ۴۷ چاندی کے درہم تھے۔
انہوں نے اپنے پیچھے کوئی محل، کوئی بڑی جائداد، کوئی باغ یا دکان نہیں چھوڑی۔
یہاں تک کہ ان کی تدفین اور کفن دفن کے اخراجات کے لیے ان کے وزیروں کو اپنے کسی دوست سے پیسے ادھار لینے پڑے۔
سلطان نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کمایا، وہ غریبوں، یتیموں، مسافروں اور جہاد کے کاموں میں صدقہ کر دیا۔ وہ چاہتے تو اپنے بچوں کے لیے خزانوں کے ڈھیر لگا سکتے تھے، لیکن انہوں نے امتِ مسلمہ کی غیرت اور بیت المقدس کی آزادی کو اپنی ذاتی دولت پر ترجیح دی۔
نچوڑ (Conclusion): سلطان صلاح الدین ایوبی کا پیغام
سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی اور بیت المقدس کی فتح کا یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی صرف بڑی فوج، بہترین ہتھیاروں یا خزانوں سے نہیں ملتی، بلکہ کامیابی ایمان کی پختگی، کردار کی عظمت، آپس کے اتحاد اور عدل و انصاف سے ملتی ہے۔سلطان نے مسلمانوں کو جوڑ کر ایک مٹھی بنایا، تو اللہ نے انہیں بیت المقدس کی چابیاں عطا فرما دیں۔ آج بھی اگر مسلمان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام اور وقار دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں صلاح الدین ایوبی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا اور عزمِ مصمم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا رہے گا اور ان کی قائم کردہ مثالیں رہتی دنیا تک انسانیت اور شجاعت کا بہترین نمونہ رہیں گی۔
دوستو! امید ہے کہ آپ کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی یہ ایمان افروز کہانی پسند آئی ہوگی۔"
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی تو اسے نیچے دیے گئے بٹن سے لائک (Like) ضرور کریں۔
اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر (Share) کریں تاکہ وہ بھی اس عظیم تاریخ سے واقف ہو سکیں۔
ایسی ہی مزید دلچسپ اور تاریخی کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے بلاگ کو فالو (Follow) کرنا نہ بھولیں۔
آپ کا ایک لائک ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
کمنٹ میں ضرور بتائیں کہ اگلی کہانی آپ کس شخصیت کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں؟"شکریہ

Comments
Post a Comment