طارق بن زیاد: وہ فاتح جس نے واپسی کی کشتیاں جلا دیں

 

طارق بن زیاد: اندلس کی تسخیر، کشتیاں جلانے کا تاریخی واقعہ اور یورپ میں اسلام کا آغاز

​باب اول: خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی اور بربر قبیلہ

​1.1 شمالی افریقہ کا جغرافیائی اور سیاسی منظرنامہ

​ساتویں صدی عیسوی کے آخر اور آٹھویں صدی کے آغاز میں، شمالی افریقہ (موجودہ مراکش، الجزائر، اور تیونس) کی سرزمین تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی تھی۔ بنو امیہ کے دورِ حکومت میں، خصوصاً خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں، اسلامی سلطنت کی سرحدیں مشرق میں سندھ (برِصغیر) سے لے کر مغرب میں بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے ساحلوں تک پھیل چکی تھیں۔

​شمالی افریقہ کا یہ خطہ، جسے عربی میں "مغربِ اقصی" کہا جاتا ہے، صدیوں سے بربر (Berber) قبیلوں کا مسکن تھا۔ بربر ایک نہایت جری، جنگجو اور غیرت مند قوم تھی جو کسی کی غلامی آسانی سے قبول نہیں کرتی تھی۔ رومیوں اور بازنطینیوں نے ان پر طویل عرصے تک حکومت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ کبھی بھی ان کے دلوں کو فتح نہ کر سکے۔ جب مسلمان جرنیل عقبہ بن نافع اور بعد میں موسیٰ بن نصیر اس خطے میں پہنچے، تو انہوں نے بربروں کو صرف تلوار کے زور پر مغلوب نہیں کیا، بلکہ اسلام کے عادلانہ نظام اور مساوات کے اصولوں سے ان کے دل جیت لیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، بربر قبیلوں کے بڑے بڑے سردار اور نوجوان دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کے خلاف اسلامی فوج کا سب سے مضبوط بازو بن گئے۔

​1.2 طارق بن زیاد کی ولادت اور نسل کا تنازع

​طارق بن زیاد کی ابتدائی زندگی اور ان کی ولادت کے بارے میں تاریخی مآخذ میں مختلف روایات ملتی ہیں، لیکن اکثر مورخین (جیسے ابنِ خلدون) اس بات پر متفق ہیں کہ وہ نسل کے لحاظ سے بربر تھے۔ وہ شمالی افریقہ کے مشہور بربر قبیلے "نفزاوہ" (Nafzawa) سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش تقریباً 670ء کے آس پاس ہوئی تھی۔

​کچھ عرب مورخین نے انہیں عرب نسل کا بھی لکھا ہے اور ان کا شجرہ نسب بنو ہمدان سے جوڑا ہے، لیکن جدید اور مستند تاریخ دان اس بات کو رد کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ طارق بن زیاد کا بربر ہونا ہی اسلام کی سب سے بڑی خوبصورتی کا ثبوت ہے، کیونکہ اسلام نے ایک غیر عرب (عجمی) بربر نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تاریخ کا اتنا عظیم جرنیل بننے کا موقع دیا۔ ان کے والد کا نام "زیاد" تھا، جو عثمانی یا اموی مہمات کے دوران ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ بچپن ہی سے طارق کے اندر ایک عظیم سپاہی کے لچھن موجود تھے۔ وہ گھڑ سواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی میں اپنے ہم عمروں میں سب سے آگے تھے۔

​1.3 موسیٰ بن نصیر کی نظرِ انتخاب اور تربیت

​شمالی افریقہ کے اموی گورنر موسیٰ بن نصیر ایک نہایت زیرک، دوراندیش اور انسان شناس مدبر تھے۔ جب انہوں نے بربر نوجوانوں کی فوج تیار کرنا شروع کی، تو ان کی نظرِ انتخاب طارق بن زیاد پر پڑی۔ موسیٰ بن نصیر نے طارق کے اندر چھپی ہوئی عسکری جینیئس اور غیر معمولی قیادت کی صلاحیتوں کو فوراً بھانپ لیا۔

​موسیٰ بن نصیر نے طارق بن زیاد کو اپنا آزاد کردہ غلام اور پھر اپنا سب سے قریبی نائِب اور جرنیل بنا لیا۔ انہوں نے طارق کو مختلف جنگی مہمات میں بھیجا تاکہ وہ میدانِ جنگ کے تمام نشیب و فراز سے واقف ہو سکیں۔ طارق بن زیاد نے اپنی وفاداری، جرات اور جنگی حکمتِ عملی سے موسیٰ بن نصیر کا اعتماد اس حد تک جیت لیا کہ جب موسیٰ بن نصیر نے مراکش کا اہم ترین شہر طنجہ (Tangier) فتح کیا، تو انہوں نے کسی عرب جرنیل کے بجائے طارق بن زیاد کو طنجہ کا مستقل گورنر مقرر کر دیا اور ان کی کمان میں 17,000 مسلم سپاہیوں کا لشکر دیا، جس میں اکثریت نومسلم بربروں کی تھی۔

​باب دوم: اندلس (اسپین) کی ابتر صورتحال اور جولین کا کردار

​2.1 ویزگوتھ (Visigoth) سلطنت کا ظلم و ستم

​آٹھویں صدی کے آغاز میں جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) یعنی موجودہ اسپین اور پرتگال پر ویزگوتھ (Visigoth) عیسائی خاندان کی حکومت تھی، اور اس پورے خطے کو مسلمان "اندلس" کہتے تھے۔ اندلس اس وقت داخلی طور پر شدید ظلم، بربریت اور افلاس کا شکار تھا۔ وہاں کا معاشرہ تین طبقات میں بٹا ہوا تھا: شاہی خاندان اور امراء، چرچ کے پادری، اور تیسرا طبقہ غریب عوام اور کسانوں کا تھا جن کی حیثیت غلاموں سے بدتر تھی۔

​کسانوں پر اتنے بھاری ٹیکس عائد تھے کہ وہ اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور تھے، جبکہ یہودی برادری پر تو زمین تنگ کر دی گئی تھی۔ یہودیوں کو زبردستی عیسائی بنایا جا رہا تھا، ان کے بچوں کو ان سے چھین لیا جاتا تھا اور ان کی جائدادیں ضبط کر لی جاتی تھیں۔ پورا ملک بارود کا ڈھیر بن چکا تھا اور عوام کسی ایسے نجات دہندہ کے منتظر تھے جو انہیں ویزگوتھ عیسائیوں کے اس جہنم سے نجات دلائے۔

​2.2 راڈرک (Roderick) کا غاصبانہ قبضہ

​اسی دوران اندلس کے تخت پر ایک غاصب جرنیل راڈرک (Roderick) نے قبضہ کر لیا۔ راڈرک نے اندلس کے قانونی بادشاہ غیطشہ (Witiza) کو تخت سے اتارا، اسے اندھا کر دیا اور بعد میں قتل کر دیا۔ راڈرک ایک عیاش، ظالم اور متکبر حکمران تھا۔ اس کے اس قدم سے ملک کے اندر ایک شدید خانہ جنگی شروع ہو گئی، اور مقتول بادشاہ کے بیٹے اور حامی راڈرک کے جانی دشمن بن گئے، لیکن وہ اکیلے راڈرک کی بھاری فوج کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔

​2.3 کاؤنٹ جولین کی بیٹی کا واقعہ اور انتقام کی آگ

​اندلس کی اس کہانی میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب سبتہ (Ceuta) کے عیسائی گورنر کاؤنٹ جولین (Count Julian) نے راڈرک کے خلاف مسلمانوں سے مدد مانگی۔ سبتہ کا شہر مراکش کے ساحل پر واقع تھا لیکن وہ اندلس کی سلطنت کا حصہ تھا، اور جولین وہاں کا نیم خود مختار حکمران تھا۔

​اس دور کے رواج کے مطابق، اندلس کے امراء اپنے بچوں کو اعلیٰ تربیت اور آدابِ شاہی سیکھنے کے لیے دارالحکومت طلیطلہ (Toledo) میں بادشاہ کے محل میں بھیجا کرتے تھے۔ کاؤنٹ جولین نے بھی اپنی انتہائی خوبصورت بیٹی فلورینڈا (Florinda) کو راڈرک کے محل میں بھیجا۔ لیکن ظالم اور عیاش راڈرک نے فلورینڈا کی عصمت دری (Rape) کر دی۔

​فلورینڈا نے کسی طرح ایک خفیہ خط کے ذریعے اپنے والد جولین کو اس ہولناک واقعے کی اطلاع دی۔ جب جولین کو یہ خط ملا، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کی غیرت نے اسے تڑپا کر رکھ دیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ راڈرک کی سلطنت کو ملیا میٹ کر دے گا اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دے گا۔ جولین نے فوراً طلیطلہ جا کر اپنی بیٹی کو واپس لیا اور راڈرک کو شک پڑے بغیر واپس سبتہ آ گیا۔ اب اسے راڈرک کو تباہ کرنے کے لیے ایک ایسی طاقت کی ضرورت تھی جو دنیا کی سب سے مضبوط فوج کو ہرا سکے، اور وہ طاقت آبنائے کے دوسری طرف موجود مسلم فوج تھی۔

​باب سوم: موسیٰ بن نصیر کا فیصلہ اور طریف بن مالک کی ابتدائی مہم

​3.1 کاؤنٹ جولین کا مسلم دربار میں آنا

​کاؤنٹ جولین طنجہ میں طارق بن زیاد کے دربار میں حاضر ہوا اور اندلس پر حملے کی دعوت دی۔ طارق بن زیاد نے صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جولین کو قیروان (تیونس) میں موجود عثمانی/اموی گورنر موسیٰ بن نصیر کے پاس بھیج دیا۔

​جولین نے موسیٰ بن نصیر کے سامنے اندلس کے غریب عوام کی حالت، راڈرک کے ظلم، اور مقتول بادشاہ کے بیٹوں کی حمایت کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اگر مسلمان اندلس پر حملہ کریں، تو وہ اپنے جہاز، اپنے قلعے اور تمام خفیہ راستوں کی معلومات مسلمانوں کو فراہم کرے گا۔

​3.2 خلیفہ ولید بن عبدالملک کی اجازت اور احتیاط

​موسیٰ بن نصیر ایک تجربہ کار جرنیل تھے۔ وہ کسی عیسائی گورنر کے کہنے پر اپنی فوج کو ایک انجان سمندر کے پار اتنی بڑی مہم میں نہیں جھونک سکتے تھے۔ انہوں نے دمشق میں موجود اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کو خط لکھ کر اندلس کی صورتحال سے آگاہ کیا اور حملے کی اجازت مانگی۔

​خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جواب میں لکھا:

​"اندلس پر ضرور پیش قدمی کرو، لیکن اپنی فوج کو خطرے میں نہ ڈالو۔ پہلے چھوٹے دستے بھیج کر وہاں کے حالات کا جائزہ لو (اسکاؤٹنگ کرو) اور سمندر کی لہروں کے مزاج کو سمجھو۔"


​3.3 طریف بن مالک کا ابتدائی حملہ (جولائی 710ء)

​خلیفہ کے حکم کے مطابق، موسیٰ بن نصیر نے رمضان 91ھ (جولائی 710ء) میں ایک بربر کمانڈر طریف بن مالک کی قیادت میں صرف 400 پیادہ اور 100 سواروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا دستہ کاؤنٹ جولین کے چار بحری جہازوں میں بٹھا کر اندلس کے جنوبی ساحل پر بھیجا۔

​طریف بن مالک نے جس جگہ قدم رکھا، اسے آج بھی ان کے نام پر "طاریفہ" (Tarifa) کہا جاتا ہے۔ اس دستے نے ساحلی علاقوں پر کامیاب چھاپہ مارا، اندلس کی دفاعی پوزیشن کا جائزہ لیا، اور بغیر کسی جانی نقصان کے بھاری مالِ غنیمت اور اہم معلومات لے کر واپس افریقہ پہنچ گئے۔ اس مہم نے ثابت کر دیا کہ کاؤنٹ جولین غدار نہیں تھا بلکہ واقعی راڈرک سے بدلہ لینا چاہتا تھا، اور اندلس کا ساحل مسلمانوں کے ایک بڑے حملے کے لیے بالکل موزوں تھا۔

باب چہارم: جبلِ طارق پر آمد اور بحری کشتیاں جلانے کا معرکہ آرا واقعہ (711ء)

​4.1 آبنائے کی عبوریت اور جبلِ طارق کا نام

​طریف بن مالک کی کامیاب مہم کے بعد، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے ایک بڑے حملے کا حتمی پلان تیار کیا۔ رجب 92ھ (اپریل 711ء) میں طارق بن زیاد کی قیادت میں 7,000 مجاہدین کا لشکر کاؤنٹ جولین کے فراہم کردہ چار بحری جہازوں میں سوار ہو کر اندلس کی طرف روانہ ہوا۔ اس لشکر میں صرف 300 عرب عسکری ماہرین تھے، جبکہ باقی تمام کے تمام نومسلم بربر جنگجو تھے، جن کے دلوں میں جہاد کا جذبہ ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

​طارق بن زیاد نے اندلس کے ساحل پر ایک عظیم الشان، اونچی اور پتھریلی پہاڑی کے دامن میں اپنے جہاز لنگر انداز کیے۔ اس پہاڑی کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ان کے نام پر "جبلِ طارق" (Gibraltar) کا نام دے دیا گیا، جسے آج دنیا "جبرالٹر" کے نام سے جانتی ہے۔ طارق بن زیاد نے پہاڑی پر اترتے ہی وہاں ایک مضبوط عسکری چھاؤنی قائم کی اور اپنے پیچھے افریقہ سے رابطے کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک دستہ متعین کیا۔

​4.2 بحری کشتیاں جلانے کا تاریخی فیصلہ: "پشت پر سمندر، سامنے دشمن"

​جب راڈرک کو معلوم ہوا کہ شمالی افریقہ سے مسلمانوں نے اندلس پر دھاوا بول دیا ہے، تو وہ اس وقت ملک کے شمالی حصے میں بسکونیہ کی بغاوت کچلنے میں مصروف تھا۔ اس نے فوراً ایک خط لکھ کر اپنے نائب جرنیل "تدمیر" کو عثمانی/اموی فوج کو روکنے کے لیے بھیجا۔ لیکن طارق بن زیاد کے جری بربروں نے تدمیر کے دستوں کو ابتدائی جھڑپوں میں ہی دھول چٹا دی۔ تدمیر نے راڈرک کو ایک ہنگامی خط لکھا جس کے الفاظ تاریخ میں محفوظ ہیں:

​"امیر! ہماری زمین پر ایک ایسی قوم نے قدم رکھ دیا ہے جن کا انداز، جن کا لباس اور جن کا عزم دنیا کے عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ زمین سے نکلے ہیں یا آسمان سے اترے ہیں۔ تم فوراً اپنی پوری طاقت کے ساتھ پہنچو، ورنہ اندلس ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔"


​راڈرک یہ سنتے ہی غصے اور خوف کے عالم میں 100,000 (ایک لاکھ) کا جرار اور زرہ پوش لشکر لے کر جنوب کی طرف بڑھا۔ جب طارق بن زیاد کو جاسوسوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک لاکھ کا ہولناک عیسائی لشکر ان کی طرف بڑھ رہا ہے، تو انہوں نے موسیٰ بن نصیر کو خط لکھ کر مزید 5,000 فوجی منگوائے، جس کے بعد مسلمانوں کی کل تعداد 12,000 ہو گئی۔ لیکن ایک لاکھ کے ٹڈی دل لشکر کے سامنے بارہ ہزار کی تعداد اب بھی بہت کم تھی۔ عثمانی اور بربر فوج کے کچھ سپاہیوں کے دلوں میں یہ خیال آیا کہ اتنی بڑی فوج سے لڑنا خودکشی ہے، کیوں نہ ہم اپنے جہازوں میں بیٹھ کر واپس افریقہ لوٹ چلیں۔

​طارق بن زیاد نے جب اپنے لشکر میں یہ کمزوری محسوس کی، تو انہوں نے تاریخِ انسانی کا وہ سب سے جرات مندانہ اور حیرت انگیز فیصلہ کیا جس نے رہتی دنیا تک کے لیے عزم و استقلال کی نئی مثال قائم کر دی۔ انہوں نے اپنے جرنیلوں کو حکم دیا:

​"ساحل پر کھڑے تمام بحری جہازوں کو آگ لگا دو اور انہیں جلا کر راکھ کر دو!"


​فوجی یہ حکم سن کر دنگ رہ گئے۔ جہازوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام کشتیاں جن کے ذریعے مسلمان افریقہ واپس جا سکتے تھے، سمندر کی لہروں میں غرق ہو گئیں۔ عثمانی اور بربر سپاہی اکھٹے ہو کر طارق بن زیاد کے پاس آئے اور کہا: "اے طارق! یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ نے ہماری واپسی کا واحد راستہ بھی بند کر دیا۔ اب ہم واپس کیسے جائیں گے؟"

​طارق بن زیاد نے اپنی چمکتی ہوئی تلوار میان سے نکالی، جلتے ہوئے جہازوں کی طرف اشارہ کیا اور وہ تاریخی خطبہ دیا جو آج بھی دنیا بھر کی عسکری اکیڈمیوں میں پڑھایا جاتا ہے:

​"اے میرے جری مجاہدوں! اب واپسی کا خیال اپنے ذہنوں سے نکال دو۔ تمہاری پشت پر گہرا سمندر ہے اور تمہارے سامنے تمہارا دشمن ہے۔ اب تمہارے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اس زمین پر اب تمہارے لیے صرف دو ہی راستے ہیں: یا تو تم بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرو گے، یا غازی بن کر اس پورے اندلس کو فتح کرو گے۔ تمہارا سپہ سالار خود تمہارے ساتھ لڑے گا اور جو میرا انجام ہوگا، وہی تمہارا ہوگا!"


​اس سحر انگیز خطبے نے مسلم فوج کے اندر وہ تڑپ اور جنون پیدا کر دیا کہ موت کا خوف ان کے دلوں سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا اور وہ ایک ناقابلِ شکست فولادی دیوار بن گئے۔

​باب پنجم: معرکہِ وادی لکہ (Battle of Guadalete) – تاریخ بدلنے والی جنگ

​5.1 دونوں فوجوں کا آمنا سامنا (رمضان 92ھ)

​28 رمضان 92ھ (19 جولائی 711ء) کو اندلس کے جنوبی حصے میں وادیِ لکہ (Guadalete River) کے کنارے تاریخ کا وہ ہولناک معرکہ شروع ہوا جس نے اگلے 800 سال کے لیے یورپ اور اسلام کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

​ایک طرف راڈرک کا ایک لاکھ کا زرہ پوش لشکر تھا، جس کے پاس بہترین گھوڑے، لوہے کی مضبوط زرہیں اور جدید ترین ہتھیار تھے۔ راڈرک خود ایک سونے کے بنے ہوئے شاہی تخت پر متمکن تھا جسے دو سفید خچر کھینچ رہے تھے، اس کے سر پر موتیوں کا تاج تھا اور اس کا غرور عروج پر تھا۔ دوسری طرف طارق بن زیاد کی کمان میں صرف 12,000 مجاہدین تھے، جن کے پاس نہ تو بھاری زرہیں تھیں اور نہ ہی بڑے گھوڑے، لیکن ان کے پاس ایمان کی وہ دولت تھی جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹک سکتی تھی۔

​5.2 آٹھ دن کی خونریز جنگ اور جولین کی وفاداری

​جنگ کا آغاز ہوا تو دونوں فوجیں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں۔ راڈرک کی فوج نے اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں پر شدید دباؤ ڈالا۔ جنگ اتنی ہولناک تھی کہ وادیِ لکہ کا پانی انسانی خون سے سرخ ہو گیا۔ مسلسل کئی دنوں تک یہ معرکہ بغیر کسی فیصلے کے جاری رہا۔ عیسائی فوج کے پے در پے حملوں کو مسلمانوں نے اپنی فولادی استقامت سے روکے رکھا۔

​اسی دوران، کاؤنٹ جولین اور اندلس کے مقتول بادشاہ غیطشہ کے بیٹوں نے، جو راڈرک کی فوج کے دائیں اور بائیں بازو کی کمان کر رہے تھے، راڈرک کے ساتھ تاریخی غداری کی۔ وہ راڈرک کے ظلم کا بدلہ لینے کے لیے جنگ کے عین وسط میں اپنی فوجوں کے ساتھ محاذ چھوڑ کر الگ ہو گئے اور کچھ دستے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے۔ اس اقدام نے راڈرک کی فوج کے اندر افراتفری پھیلا دی اور عیسائی سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔

​5.3 راڈرک کا عبرتناک انجام اور مسلمانوں کی فتح

​جنگ کے آٹھویں دن، طارق بن زیاد نے اپنے جاں نثار دستے کے ساتھ راڈرک کے مرکزی کیمپ پر ایک بھرپور اور فیصلہ کن حملہ کیا۔ طارق بن زیاد اپنے گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے راڈرک کے تخت کے قریب پہنچ گئے۔ راڈرک نے جب طارق کو اپنے سامنے دیکھا، تو اس کا سارا غرور خاک میں مل گیا۔ طارق بن زیاد نے بلند آواز میں تکبیر کا نعرہ لگایا اور اپنی تلوار کا ایسا بھرپور وار راڈرک پر کیا کہ وہ اپنے تخت سے نیچے گر گیا۔

​راڈرک زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے بھاگا۔ وہ وادیِ لکہ کے تیز بہاؤ والے دریا میں کود گیا تاکہ دوسری طرف نکل سکے، لیکن دریا کی بپھری ہوئی لہروں نے اس ظالم غاصب کو ہمیشہ کے لیے نگل لیا۔ اس کا تاج، اس کے سونے کے جوتے اور اس کا زرہ پوش گھوڑا ساحل پر مٹی میں لت پت پائے گئے۔ اپنے بادشاہ کی موت اور غداری کی خبر سنتے ہی ایک لاکھ کی عیسائی فوج کے پیر اکھڑ گئے اور وہ مولی گاجر کی طرح کٹتی ہوئی میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ بارہ ہزار مجاہدین نے تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ جیت لیا تھا۔

​باب ششم: اندلس کے شہروں کی تیز رفتار تسخیر اور موسیٰ بن نصیر کی آمد

​6.1 طارق بن زیاد کی برق رفتار پیش قدمی

​وادیِ لکہ کی فتح نے اندلس کے دروازے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیے۔ طارق بن زیاد ایک منجھے ہوئے جرنیل تھے، وہ جانتے تھے کہ اگر دشمن کو سنبھلنے کا موقع دیا گیا، تو وہ دارالحکومت میں دوبارہ بڑی فوج اکٹھی کر لیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی فوج کو چھوٹے دستوں میں تقسیم کیا اور اندلس کے بڑے بڑے شہروں کی طرف روانہ کر دیا۔

  • قرطبہ (Cordoba) کی فتح: طارق بن زیاد نے اپنے ایک بربر جرنیل مغیث الرومی کو ایک چھوٹا دستہ دے کر قرطبہ کی طرف بھیجا۔ مغیث نے شہر کے چرواہے کی مدد سے دیوار کا ایک کمزور حصہ معلوم کیا اور رات کے اندھیرے میں عثمانی/بربر سپاہی دیوار پھلانگ کر شہر میں داخل ہو گئے اور قرطبہ پر اسلامی پرچم لہرا دیا۔
  • غرناطہ (Granada) اور مالقہ کی فتح: عثمانی دستوں نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ان شہروں پر قبضہ کر لیا، جہاں کے مظلوم یہودی شہریوں نے مسلمانوں کا استقبال اپنے نجات دہندہ کے طور پر کیا اور شہر کے دروازے خود کھول دیے۔

​6.2 دارالحکومت طلیطلہ (Toledo) پر قبضہ

​طارق بن زیاد خود اندلس کے مرکزی دارالحکومت طلیطلہ کی طرف بڑھے، جو پہاڑوں کے بیچ میں واقع ایک ناخابلِ تسخیر شہر تھا۔ لیکن راڈرک کی موت کے بعد عیسائی امراء کے اندر اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ طارق کی ہیبت کا سامنا کر سکیں۔ جب مسلم فوج طلیطلہ کے دروازوں پر پہنچی، تو شہر کے پادری اور امراء شہر چھوڑ کر بھاگ چکے تھے۔ طارق بن زیاد نے شہر پر پرامن طور پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے غریب عوام کو جان و مال کا تحفظ دیا۔ طلیطلہ کے شاہی محل سے مسلمانوں کو ویزگوتھ سلاطین کے وہ بے شمار خزانے، سونے کے تاج اور تاریخی نوادرات ملے جن کی مالیت اربوں روپے تھی۔

​6.3 موسیٰ بن نصیر کی اندلس میں آمد (712ء)

​جب شمالی افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر کو طارق بن زیاد کی اس حیرت انگیز اور برق رفتار کامیابیوں کی خبر ملی، تو وہ خود ایک 18 outdoor زرہ پوش اور جری عرب فوج کے ساتھ رمضان 93ھ (712ء) میں اندلس پہنچے۔ کچھ مورخین لکھتے ہیں کہ موسیٰ بن نصیر کو طارق کی شہرت سے حسد ہوا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عالمی اسٹریٹجسٹ تھے؛ وہ جانتے تھے کہ اندلس کو مستقل طور پر اسلامی سلطنت کا حصہ بنانے کے لیے ابھی مزید بڑے شہروں (جیسے اشبیلیہ اور ماردہ) کو فتح کرنا ضروری تھا جو اب بھی عیسائیوں کے پاس تھے۔

​موسیٰ بن نصیر نے اندلس پہنچ کر اشبیلیہ (Seville) اور ماردہ (Merida) کا سخت محاصرہ کیا اور ان اہم شہروں کو فتح کر کے اندلس پر اسلامی حکومت کی گرفت کو مکمل طور پر مضبوط کر دیا۔ اس کے بعد طلیطلہ میں طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کی ملاقات ہوئی، جہاں دونوں عظیم جرنیلوں نے گلے مل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور اندلس کو فرانس کی سرحدوں تک فتح کرنے کا اگلا پلان تیار کیا۔

باب ہفتم: پیرینیز پار مہمات اور دمشق سے بلاوا

​7.1 فرانس کی سرحدوں پر دستک

​اندلس کے مرکزی شہروں کو اپنی مصلحت آمیز حکمتِ عملی اور عسکری طاقت سے زیر کرنے کے بعد، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کی نظریں اب شمال کی طرف موجود عظیم پہاڑی سلسلے پیرینیز (Pyrenees Mountains) پر تھیں۔ یہ پہاڑیاں اندلس کو باقی یورپ (خصوصاً فرانس) سے جدا کرتی تھیں۔

​طارق بن زیاد نے اپنی برق رفتار پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے اندلس کے شمالی صوبوں، جیسے سرقسطہ (Zaragoza)، لیون اور قشتالہ پر اسلامی پرچم لہرایا۔ مسلم فوج نے تاریخ میں پہلی بار فرانس کے جنوبی حصوں (سیپٹیمینیا) میں داخل ہو کر وہاں کے قلعوں کو مسخر کیا۔ موسیٰ بن نصیر کا عزم تو یہ تھا کہ وہ پورے یورپ کو فتح کرتے ہوئے، قسطنطنیہ کے راستے واپس دمشق پہنچیں، لیکن تاریخ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

​7.2 خلیفہ ولید بن عبدالملک کا ہنگامی حکم

​جب اندلس کی مکمل فتح اور فرانس کی سرحدوں پر عثمانی و بربر فوج کی موجودگی کی خبر دمشق پہنچی، تو اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک شدید بیمار ہو چکے تھے اور اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ خلیفہ کے ذہن میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر یہ دونوں عظیم جرنیل اتنی دور دراز سرزمین پر آگے بڑھتے چلے گئے اور خدانخواستہ کوئی عسکری سانحہ پیش آ گیا، تو اسلامی سلطنت کا یہ بہترین لشکر ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائے گا۔

​چنانچہ، خلیفہ نے ایک خاص قاصد کے ذریعے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کو فوری طور پر اپنی فتوحات روکنے اور تمام مالِ غنیمت کے ساتھ دمشق حاضر ہونے کا حکم جاری کیا۔ یہ حکم دونوں جرنیلوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا، کیونکہ وہ یورپ کے دل میں داخل ہونے کے بالکل قریب تھے، لیکن ایک سچے مسلم سپاہی کی طرح انہوں نے "سمع و طاعت" (حکم ماننے) کے اصول پر عمل کیا اور مہم کو وہیں روک کر دمشق کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دیا۔

​باب ہشتم: دمشق کا سفر، دربارِ خلافت اور زوالِ نعمت

​8.1 تاریخی الوداعی سفر (141ھ / 714ء)

​سلطان طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے 714ء میں اندلس سے دمشق کی طرف اپنے تاریخی سفر کا آغاز کیا۔ ان کے ساتھ ویزگوتھ سلاطین کے وہ بے شمار خزانوں کے انبار تھے جن میں ہیرے، جواہرات، سونے کے تاج اور اندلس کے محلوں سے ملنے والی تاریخی نوادرات شامل تھیں۔ ان کے اس قافلے میں اندلس کے کئی عیسائی امراء اور قیدی بھی شامل تھے جو خلیفہ کے دربار میں حاضری کے لیے جا رہے تھے۔

​شمالی افریقہ اور مصر سے ہوتا ہوا جب یہ قافلہ شام کی سرزمین میں داخل ہوا، تو عوام نے ان دونوں فاتحین کا ایسا شاندار استقبال کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ لوگ سڑکوں کے دونوں اطراف کھڑے ہو کر ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔

​8.2 سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی اور سرد مہری

​جب یہ قافلہ دمشق کے بالکل قریب پہنچا، تو خلیفہ ولید بن عبدالملک بسترِ مرگ پر تھے اور ان کے بھائی سلیمان بن عبدالملک سلطنت کے سیاہ و سفید کے مالک بننے والے تھے۔ سلیمان نے موسیٰ بن نصیر کو پیغام بھیجا کہ وہ دمشق میں داخل ہونے کے لیے خلیفہ ولید کی موت کا انتظار کریں، تاکہ ان فتوحات اور خزانوں کا سہرا سلیمان کے سر سج سکے۔ لیکن موسیٰ بن نصیر نے اپنے محسن خلیفہ ولید کی زندگی میں ہی دربار پہنچنے کو ترجیح دی اور دمشق میں داخل ہو گئے۔

​چند ہی دنوں بعد خلیفہ ولید کا انتقال ہو گیا اور سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوئے۔ نئے خلیفہ نے طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے ساتھ شدید سرد مہری اور ناانصافی کا سلوک کیا۔ سیاسی مصلحتوں، درباری سازشوں اور بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے سلیمان نے موسیٰ بن نصیر پر بھاری جرمانے عائد کر دیے اور ان کے تمام عہدے چھین لیے۔

​8.3 طارق بن زیاد کے آخری ایام: گمنامی کا دور

​اس پورے تنازعے میں طارق بن زیاد نے خود کو سیاست اور درباری سازشوں سے بالکل دور رکھا۔ انہوں نے اپنی تمام فتوحات اور مالِ غنیمت بنا کسی لالچ کے خلافت کے سپرد کر دیا۔ عثمانی اور اموی تاریخ دان لکھتے ہیں کہ طارق بن زیاد دنیاوی مال و دولت اور عہدوں کے طلبگار کبھی تھے ہی نہیں؛ ان کا مقصد صرف اللہ کے دین کو پھیلانا اور مظلوموں کو نجات دلانا تھا۔

​زندگی کے آخری سالوں میں وہ دمشق کی گلیوں میں ایک عام شہری کی طرح زندگی گزارنے لگے۔ انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں عبادت اور قرآن پاک کی تلاوت میں گزارنے لگے۔ تاریخ کے اوراق اس کے بعد ان کے بارے میں خاموش ہو جاتے ہیں۔ دنیا کا وہ عظیم جرنیل، جس نے ایک لاکھ کی فوج کو بارہ ہزار سے عبرتناک شکست دی تھی، جس نے اندلس کی تقدیر بدل دی تھی، سنہ 720ء کے آس پاس دمشق کی سرزمین پر نہایت خاموشی اور گمنامی کے عالم میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ان کی قبر کا نشان بھی وقت کی دھول میں کہیں گم ہو گیا، لیکن ان کا نام تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

​باب نہم: طارق بن زیاد کا نظامِ عدل اور اسلامی رواداری

​9.1 اندلس کے عیسائیوں کے ساتھ بے مثال حسنِ سلوک

​طارق بن زیاد صرف میدانِ جنگ کے ہیرو نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نہایت عادل اور شفیق حکمران تھے۔ ویزگوتھ عیسائی سلاطین کے دور میں اندلس کا جو کسان اور عام شہری ظلم کی چکی میں پس رہا تھا، مسلمانوں کے آتے ہی اسے ایک نئی زندگی ملی۔

​طارق بن زیاد نے فتح کے بعد اندلس کے عیسائیوں اور یہودیوں کو درج ذیل حقوق فراہم کیے:

  • مذہبی آزادی: کسی بھی عیسائی کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا، اور ان کے گرجا گھروں (Churches) کو سرکاری تحفظ دیا گیا۔
  • ٹیکسوں میں کمی: ویزگوتھ دور کے ظالمانہ اور کمر توڑ ٹیکسوں کو ختم کر کے ایک معمولی اور عادلانہ ٹیکس (جزیہ) نافذ کیا گیا، جس سے غریب عوام کی معاشی حالت راتوں رات بدل گئی۔
  • ذاتی جائداد کا حق: کسانوں کو ان کی زمینوں کا مالکانہ حق دیا گیا، جو اس سے پہلے صرف شاہی خاندان کی ملکیت ہوتی تھیں۔

​9.2 یہودیوں کے لیے سنہری دور کا آغاز

​ویزگوتھ حکمرانوں کے دور میں اندلس کے یہودیوں پر جو ہولناک مظالم ڈھائے جا رہے تھے، طارق بن زیاد کی فتح نے ان کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ مسلمانوں نے یہودیوں کو شہروں کے انتظامی امور میں شامل کیا اور انہیں تجارت کی مکمل آزادی دی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم اندلس کی تاریخ کو "یہودیوں کا سنہری دور" (Golden Age of Jewish Culture) کہا جاتا ہے، جہاں انہوں نے علم و ادب اور سائنس میں مسلمانوں کے کندھے سے کندھا ملا کر ترقی کی۔

​باب دہم: طارق بن زیاد کی وراثت اور تاریخی خلاصہ

​طارق بن زیاد کی صرف ایک سال کی مہم نے یورپ کی تاریخ کو ایسا موڑ دیا جس کے اثرات آج 1300 سال بعد بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کی فتح کے بعد ہی اندلس میں سلطنتِ قرطبہ اور اس شاندار تمدن کی بنیاد پڑی جس نے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے قرونِ وسطیٰ کے یورپ کو علم، سائنس، طب اور فلسفے کی روشنی فراہم کی۔

طارق بن زیاد امّتِ مسلمہ کے وہ عظیم اور بے لوث ہیرو ہیں جن کا نام جب بھی لیا جاتا ہے، تو دلوں میں عزمِ صمیم، شجاعت اور ایمان کی حرارت بیدار ہو جاتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی کا انحصار وسائل کی کثرت پر نہیں، بلکہ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور اپنے مقصد کے ساتھ سچی وفاداری پر ہوتا ہے۔

امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کردیں 

اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔


Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان