سلطان بہلول لودھی: درویشی، دلیری اور دہلی کی بادشاہت کا انوکھا سودا

 


تاریخِ ہند میں بہت سے بادشاہ اپنی شان و شوکت اور جاہ و جلال کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، لیکن سلطان بہلول لودھی کا نام ایک ایسے حکمران کے طور پر ابھرا جس نے سلطنت کو ایک خاندان کی طرح چلایا۔ وہ لودھی سلطنت کے بانی تھے، مگر ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ ان کی جوانی کا ہے، جب وہ ابھی محض ایک عام سپاہی اور تاجر تھے۔ یہ واقعہ ان کی بلند ہمتی اور اللہ کے نیک بندوں پر ان کے پختہ یقین کی بہترین مثال ہے۔

​واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ بہلول لودھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ان کا گزر ایک مجذوب صفت فقیر (سید ائین) کے پاس سے ہوا۔ وہ درویش ایک عجیب مستی میں بیٹھا پکار رہا تھا:

​"ہے کوئی جو مجھے دو ہزار ٹکے دے اور اس کے بدلے دہلی کی بادشاہت خرید لے؟"


​ساتھ چلنے والے دوستوں نے قہقہہ لگایا اور فقیر کی بات کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ بھلا دو ہزار ٹکے میں بھی کہیں سلطنتیں بکتی ہیں؟ لیکن بہلول لودھی وہیں رک گئے۔ ان کے اندر کی بصیرت نے محسوس کیا کہ یہ کوئی معمولی سودا نہیں ہے۔ انہوں نے فوراً اپنی جیب سے دو ہزار ٹکے نکالے، جو اس وقت ان کی زندگی بھر کی کل جمع پونجی تھی، اور نہایت ادب سے درویش کے سامنے رکھ دیے۔

​درویش نے وہ رقم قبول کی اور دعا دیتے ہوئے کہا: "جا! اللہ نے تجھے دہلی کا تخت عطا کر دیا۔"

​جب بہلول اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو انہوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ "تم نے اپنی ساری دولت ایک فقیر کی باتوں میں آ کر ضائع کر دی۔" اس پر بہلول لودھی نے ایک ایسا جواب دیا جو ان کی دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا:

​"دیکھو بھائیو! اس سودے میں میرا کوئی نقصان نہیں۔ اگر اس فقیر کی بات سچی نکلی تو دو ہزار ٹکے میں دہلی جیسی عظیم سلطنت بہت سستا سودا ہے۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہوا، تو کم از کم میری یہ دولت ایک اللہ والے کے کام تو آگئی، مجھے اس کا ثواب تو ملے گا ہی۔"


​یہ سودا محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ بہلول کے پختہ ارادے کی شروعات تھی۔ تقدیر نے ایسی کروٹ لی کہ حالات بدلتے گئے، ان کی طاقت بڑھتی گئی اور آخر کار 1451ء میں وہ وقت آیا جب بہلول لودھی دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ انہوں نے بادشاہ بننے کے بعد بھی کبھی غرور نہیں کیا۔ وہ اپنے امیروں کے ساتھ زمین پر بیٹھتے، بیماروں کی عیادت کو خود جاتے اور ہمیشہ وہی سادہ مزاجی برقرار رکھی جس کی بنیاد اس درویش کے سامنے رکھی گئی تھی۔

سبق: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی نیت صاف ہو اور وہ اللہ کی رضا پر یقین رکھتے ہوئے بڑے فیصلے کرنے کی ہمت رکھتا ہو، تو کائنات کی طاقتیں اس کے لیے راستے ہموار کر دیتی ہیں۔ عظمت ان کو ملتی ہے جو اپنی اوقات کو یاد رکھتے ہیں اور اللہ کے بندوں کی قدر کرتے ہیں۔

امید کرتا ہوں کے آپ کو یہ واقعہ بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے شئر بھی کرے 

کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پرھنا ہے۔شکریہ۔

Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان