سلطان نور الدین زنگی اور روضہِ رسول ﷺ کی حفاظت کا معجزہ
سلطان نور الدین زنگی اور روضہ رسول ﷺ کی حفاظت کا تاریخی معرکہ: عزم، جہاد اور عدل کا درخشاں باب
پارٹ 1: بارہویں صدی کا عالمی منظرنامہ، عالمِ اسلام کا زوال اور زنگی سلطنت کا ظہور
1. پس منظر: بارہویں صدی عیسوی کا مسلم ورلڈ اور سیاسی انتشار
انسانی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جو کسی قوم کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بارہویں صدی عیسوی (پھر چوتھی اور پانچویں صدی ہجری) کا دور عالمِ اسلام کے لیے ایک ایسا ہی تاریک، کٹھن اور ہولناک دور تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان دنیا بھر میں اپنی سیاسی، عسکری اور اخلاقی طاقت کھو رہے تھے۔ اگر ہم اس دور کے جغرافیائی اور سیاسی نقشے کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافتِ اسلامیہ کا وہ عظیم شیرازہ جو بنو امیہ اور ابتدائی بنو عباس کے دور میں ایک مضبوط مرکز کے تحت قائم تھا، وہ اب مکمل طور پر بکھر چکا تھا۔
بغداد میں خلافتِ عباسیہ کا وجود تو قائم تھا، لیکن عباسی خلفاء کی حیثیت صرف ایک مہر یا برائے نام مذہبی پیشوا کی رہ گئی تھی۔ ان کے پاس نہ تو کوئی حقیقی عسکری طاقت تھی اور نہ ہی وہ سلطنت کے دور دراز علاقوں پر اپنا حکم نافذ کرنے کے اہل تھے۔ خلافتِ عباسیہ کا پورا نظام کمزور بیوروکریسی، درباری سازشوں اور اندرونی بغاوتوں کی وجہ سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم دنیا چھوٹی چھوٹی نیم خود مختار ریاستوں، امارتوں اور اتابکوں میں تقسیم ہو گئی۔ یہ چھوٹے چھوٹے حکمران، جنہیں اتابک یا امیر کہا جاتا تھا، اپنے اپنے اقتدار کو بچانے اور اپنی حدود کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہتے تھے۔ ان کے درمیان سگے بھائیوں کی طرح محبت کے بجائے خونی دشمنی کے جذبات کارفرما تھے، اور وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے غیر مسلم طاقتوں تک سے اتحاد کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
اسی دوران، عالمِ اسلام کے ایک اور بڑے مرکز یعنی مصر میں فاطمی سلطنت قائم تھی، لیکن وہ بھی اپنے زوال کے آخری مراحل میں تھی۔ فاطمی خلفاء عیش و عشرت میں ڈوب چکے تھے اور مصر کا اصل انتظام ان کے وزراء کے ہاتھوں میں تھا، جو سلطنت پر قبضے کے لیے ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے۔ مصر کی یہ کمزوری اور انتظامی زوال آگے چل کر عیسائیوں کے لیے ایک کھلا دعوت نامہ بننے والا تھا۔ دوسری طرف، وسطی ایشیا اور اناطولیہ میں سلطنتِ سلجوقیہ، جس نے ایک وقت میں رومیوں کو ملازگرد کے میدان میں تاریخی شکست دی تھی، وہ بھی الپ ارسلان اور ملک شاہ اول جیسے عظیم حکمرانوں کے بعد تقسیم کا شکار ہو چکی تھی۔ سلجوقی شہزادے آپس کی خانہ جنگی میں مصروف تھے اور ان کے پاس شام یا فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کے لیے نہ تو وقت تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی و عسکری حکمتِ عملی۔
اس سیاسی خلا، مرکزیت کے فقدان اور فرقہ وارانہ و نظریاتی انتشار نے مسلمانوں کو عالمی سطح پر انتہائی کمزور اور بے بس کر دیا۔ عوام مایوسی کا شکار تھے، بازاروں میں رونق ختم ہو رہی تھی، اور علم و حکمت کے مراکز درباری سیاست کی نذر ہو رہے تھے۔ مسلمان یہ بھول چکے تھے کہ ان کی اصل طاقت اتحاد، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔ جب قومیں اپنے بنیادی مقصد کو فراموش کر دیتی ہیں، تو قدرت ان پر بیرونی دشمنوں کو مسلط کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کی یہی وہ اندرونی حالت تھی جس نے یورپ کی عیسائی دنیا کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ مسلمانوں کے قلب پر حملہ آور ہوں اور ان کے سب سے مقدس مقامات کو نشانہ بنائیں۔
2. صلیبی جنگوں (Crusades) کا ہولناک آغاز اور سقوطِ بیت المقدس
جب یورپ نے دیکھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلمانوں کا کوئی ایک نگران یا طاقتور خلیفہ موجود نہیں ہے جو ان کے خلاف متحد ہو کر لڑ سکے، تو وہاں ایک مہم کا آغاز ہوا۔ فرانس کے شہر کلیرمونٹ میں ۱۰۹۵ء میں پاپائے روم (Pope Urban II) نے ایک تاریخی اور اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس نے یورپ کے عیسائیوں کو ابھارا کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی اور ارضِ مقدس (Holy Land) یعنی یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ایک مقدس جنگ کا آغاز کریں۔ پاپائے روم نے عیسائیوں سے وعدہ کیا کہ جو بھی اس جنگ میں حصہ لے گا، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اگر وہ مارا گیا تو اسے سیدھا جنت ملے گی۔
اس مذہبی پروپیگنڈے، معاشی بدحالی اور زمینوں پر قبضے کی ہوس نے پورے یورپ میں ایک آگ لگا دی۔ یورپ کے بادشاہ، نائٹس (شہسوار)، جاگیردار اور عام کسان لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے لباسوں پر سرخ رنگ کے کراس (صلیب) کے نشان لگا لیے، اسی وجہ سے تاریخ میں ان جنگوں کو "صلیبی جنگیں" (Crusades) کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی عام فوجی حملہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک جنونی اور مذہبی سیلاب تھا جو یورپ سے اٹھا اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرتا ہوا مسلم دنیا کی حدود میں داخل ہو گیا۔
۱۰۹۹ء (۴۹۲ ہجری) میں یہ صلیبی لشکر فلسطین پہنچ گیا اور انہوں نے اسلام کے تیسرے سب سے مقدس شہر اور پہلی قبلہِ اول، بیت المقدس (یروشلم) کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت بیت المقدس پر فاطمی سلطنت کے گورنر کا کنٹرول تھا، لیکن دمشق، حلب یا بغداد سے مسلمانوں کی کوئی امدادی فوج ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچی۔ چند ہفتوں کے سخت محاصرے کے بعد، عیسائیوں نے شہر کی دیواروں کو توڑ دیا اور شہر کے اندر داخل ہو گئے۔
بیت المقدس کے اندر داخل ہونے کے بعد صلیبیوں نے وحشیانہ پن اور سفاکی کی وہ داستان رقم کی جس کی مثال دنیا کی کسی بھی مہذب تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے شہر کے عام شہریوں، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا بے دریغ قتلِ عام شروع کر دیا۔ مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے مسجدِ اقصی کے احاطے اور گنبدِ خضرا کے نیچے اکٹھے ہو گئے، لیکن ظالم صلیبیوں نے وہاں بھی کسی پر رحم نہیں کھایا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ مسجدِ اقصی کے اندر مسلمانوں کا اس قدر خون بہایا گیا کہ عیسائی گھوڑوں کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون جمع ہو گیا تھا۔ اس ایک ہفتے کے اندر ستر ہزار (70,000) سے زائد مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ عیسائیوں نے نہ صرف مسلمانوں کو مارا، بلکہ شہر کے یہودی شہریوں کو بھی ان کے عبادت خانوں کے اندر بند کر کے زندہ جلا دیا۔
بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے بعد صلیبیوں نے وہاں ایک مستقل عیسائی حکومت قائم کی جسے "مملکتِ یروشلم" (Kingdom of Jerusalem) کا نام دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شام اور فلسطین کے دیگر اہم ساحلی اور تجارتی علاقوں پر قبضہ کر کے تین مزید بڑی عیسائی ریاستیں قائم کر لیں:
- امارتِ ایڈیسا (الرَّہا): یہ مسلمانوں کے بالکل قریب اور شام کے شمالی حصے میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹجک ریاست تھی۔
- امارتِ انطاکیہ (Antioch): یہ ایک قدیم اور مضبوط قلعہ بند شہر تھا جو شام اور اناطولیہ کے سنگم پر واقع تھا۔
- امارتِ طرابلس (Tripoli): یہ ساحلِ سمندر پر واقع ایک اہم تجارتی اور بحری مرکز تھا۔
ان چاروں عیسائی ریاستوں کی موجودگی نے مسلمانوں کے پورے جغرافیائی وجود کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اب شام کا عراق اور حجاز سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا، اور عیسائیوں کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے تھے کہ وہ جب چاہتے مسلمانوں کے تجارتی اور زائرین کے قافلوں پر حملے کرتے، ان کا مال لوٹتے اور اسلام کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ مسلم دنیا اس صدمے سے مفلوج ہو چکی تھی اور بغداد کے منبروں پر شعراء بیت المقدس کے مرثیے پڑھتے تھے، لیکن عملی طور پر کوئی بھی حکمران آگے بڑھ کر تلوار اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔
3. عماد الدین زنگی کا ظہور اور جہادِ اسلام کا احیاء
جب مایوسی کی یہ گھٹا پوری مسلم دنیا پر چھائی ہوئی تھی، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کی حالت پر رحم فرمایا۔ اسلام کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ جب بھی اس پر کوئی کٹھن وقت آتا ہے، تو اس کی حفاظت کے لیے غیب سے ایسے مردِ حر پیدا ہوتے ہیں جو باطل کے سیلاب کو روک دیتے ہیں۔ اس بار قدرت نے یہ کام زنگی خاندان سے لینے کا فیصلہ کیا۔
اس خاندان کے بانی کا نام آق سنقر الحاجب تھا، جو سلجوقی سلطنت کے ایک وفادار اور بہادر گورنر تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عماد الدین زنگی نے تاریخ کے اسٹیج پر قدم رکھا۔ عماد الدین زنگی ایک غیر معمولی عسکری صلاحیتوں کے مالک، بیدار مغز اور دلیر انسان تھے۔ ۱۱۲۷ء میں انہیں بغداد کے عباسی خلیفہ اور سلجوقی سلطان کی طرف سے موصل (عراق) کا اتابک (گورنر) مقرر کیا گیا۔ بعد میں انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے شام کے اہم شہر حلب (Aleppo) کو بھی اپنی قلمرو میں شامل کر لیا۔
عماد الدین زنگی وہ پہلے مسلم حکمران تھے جنہوں نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی تھی کہ صلیبیوں کو اس وقت تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک مسلمانوں کی بکھری ہوئی طاقت کو اکٹھا نہ کیا جائے اور آپس کی خانہ جنگی کو ختم نہ کیا جائے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی سلطنت کے اندر امن و امان قائم کیا، ڈاکوؤں اور باغیوں کا خاتمہ کیا، اور ایک ایسی منظم، تربیت یافتہ اور مخلص فوج تیار کی جس کا واحد مقصد جہاد فی سبیل اللہ اور بیت المقدس کی آزادی تھا۔
۱۱۴۴ء (۵۳۹ ہجری) میں عماد الدین زنگی نے وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا جس نے صلیبیوں کے ناقابلِ شکست ہونے کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے صلیبیوں کی سب سے پہلی اور سب سے مضبوط مانے جانے والی ریاست ایڈیسا (الرَّہا) پر ایک ناگہانی اور زوردار حملہ کیا۔ ایڈیسا کا قلعہ انتہائی مضبوط اور پہاڑی علاقے پر واقع تھا، لیکن عماد الدین زنگی کے مجاہدین نے جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کی دیواروں کے نیچے سرنگیں کھودیں اور ان میں آگ لگا دی، جس سے قلعے کی دیوار کا ایک بڑا حصہ گر گیا۔ مسلم فوج قلعے کے اندر داخل ہو گئی اور عیسائیوں کو عبرت ناک شکست دے کر ایڈیسا کو ہمیشہ کے لیے آزاد کروا لیا۔
ایڈیسا کی یہ فتح تاریخِ اسلام کا ایک بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ (Turning Point) تھی۔ اس فتح نے مسلمانوں کو یہ یقین دلایا کہ اگر وہ متحد ہو کر لڑیں، تو وہ عیسائیوں کو اپنی دھرتی سے باہر نکال سکتے ہیں۔ پورے عالمِ اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بغداد کے خلیفہ نے عماد الدین زنگی کو بڑے بڑے القابات سے نوازا۔ لیکن عیسائیوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا، اور اسی فتح کے ردِعمل میں یورپ نے "دوسری صلیبی جنگ" کی تیاری شروع کر دی-
ابھی عماد الدین زنگی اپنی اس مہم کو مزید آگے بڑھانا چاہتے تھے اور عیسائیوں کی باقی ریاستوں پر حملے کی پلاننگ کر رہے تھے کہ ۱۱۴۶ء میں، جب وہ ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، ان کے ایک فرانسیسی خادم (جو کہ دراصل عیسائیوں کا جاسوس تھا) نے رات کے وقت خیمے میں سوتے ہوئے انہیں دھوکے سے شہید کر دیا۔ عماد الدین زنگی کی شہادت مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا، لیکن وہ جاتے جاتے مسلمانوں کو ایک ایسا راستہ دکھا گئے تھے جس پر چل کر اگلی نسلوں نے فتوحات کے جھنڈے گاڑنے تھے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ اپنے پیچھے ایک ایسا بیٹا چھوڑ گئے تھے جو ان کے مشن کو اس کی آخری منزل یعنی بیت المقدس کی آزادی اور مدینہ منورہ کی حفاظت تک پہنچانے والا تھا—اور اس بیٹے کا نام تھا نور الدین محمود زنگی۔
4. سلطان نور الدین محمود زنگی کی ولادت، نسب اور خاندانی تربیت
سلطان نور الدین محمود زنگی فروری ۱۱۱۸ء (۵۱۱ ہجری) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام محمود بن عماد الدین زنگی تھا، اور ان کی کنیت "ابو القاسم" اور لقب "نور الدین" (دین کا نور) تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے جہاں لوریوں میں بھی تلواروں کی جھنکار اور جہاد کے قصے سنائے جاتے تھے۔ ان کے والد عماد الدین زنگی خود ایک زاہد اور مجاہد انسان تھے، اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔
نور الدین زنگی کی تربیت کے دو بنیادی پہلو تھے: ایک عسکری تربیت اور دوسرا علمی و روحانی تربیت۔ عسکری لحاظ سے انہیں بچپن ہی سے گھڑ سواری، تیر اندازی، تلوار بازی اور قلعہ بندی کے علوم سکھائے گئے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ کئی جنگی مہمات میں شریک ہوئے، جس سے انہیں میدانِ جنگ کے اتار چڑھاؤ، فوج کی صف بندی اور دشمن کی نفسیات کو سمجھنے کا براہِ راست موقع ملا۔ وہ ایک ایسے نڈر شہسوار بن کر ابھرے جن کی بہادری کی تعریف خود ان کے دشمن عیسائی نائٹس بھی کرتے تھے۔
لیکن ان کی تربیت کا جو سب سے خوبصورت اور نمایاں پہلو تھا، وہ ان کی علمی اور اخلاقی تربیت تھی۔ عماد الدین زنگی نے ان کے لیے اس دور کے سب سے بڑے علماء، فقہاء اور محدثین کو استاد مقرر کیا۔ نور الدین زنگی نے نہ صرف قرآنِ پاک حفظ کیا، بلکہ وہ فقہِ حنفی کے بہت بڑے ماہر بنے۔ انہیں احادیثِ رسول ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود باقاعدہ محدثین کے پاس بیٹھ کر احادیث کی سماعت کرتے تھے اور ان سے روایات کی اجازت حاصل کرتے تھے۔ ان کی زندگی پر تقویٰ اور خوفِ خدا کا گہرا اثر تھا، جو عام طور پر اس دور کے شاہی شہزادوں میں نظر نہیں آتا تھا۔
وہ بچپن ہی سے نہایت سنجیدہ، کم گو اور صابر انسان تھے۔ انہوں نے کبھی شاہی محلات کی عیاشیوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا، نہ ہی کبھی شراب و کباب اور گانے بجانے کی محفلوں کا رخ کیا۔ ان کا دل دنیا کی رنگینیوں کے بجائے مسجد، علم کے حلقوں اور جہاد کے میدانوں میں لگتا تھا۔ یہی وہ مضبوط ایمانی اور خاندانی پس منظر تھا جس نے انہیں آگے چل کر ایک ایسا حکمران بنایا جس کے بارے میں تاریخ کے بڑے بڑے مورخین (جیسے ابنِ اثیر اور علامہ ابنِ کثیر) نے لکھا ہے کہ:
"خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے بعد، تاریخِ اسلام میں نور الدین زنگی سے زیادہ عادل، متقی اور شفیق حکمران کوئی دوسرا نہیں گزرا۔"
5. حلب کی حکومت کا سنبھالنا اور سلطنت کی تقسیم کا چیلنج
۱۱۴۶ء میں جب عماد الدین زنگی کی اچانک شہادت کی خبر پھیلی، تو زنگی سلطنت ایک بار پھر شدید خطرے اور انتشار کی زد میں آ گئی۔ عیسائیوں نے سمجھا کہ اب زنگی خاندان کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ ایڈیسا (الرَّہا) کو دوبارہ چھین لیں گے۔ اس نازک وقت میں سلطنت کے امراء اور وزراء نے عقلمندی سے کام لیا اور سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ انتظام مضبوط رہے:
- بڑے بیٹے سیف الدین زنگی کو موصل (عراق) کا حکمران بنایا گیا کیونکہ وہ مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے اہل تھے۔
- چھوٹے بیٹے سلطان نور الدین محمود زنگی کو حلب (شام) کی حکومت سونپی گئی، جو کہ صلیبیوں کے بالکل سامنے ہراول دستے کی حیثیت رکھتی تھی۔
نور الدین زنگی جب حلب کے تخت پر بیٹھے، تو ان کی عمر صرف ۲۸ سال تھی۔ یہ عمر عام طور پر جذبات اور غلطیوں کی ہوتی ہے، لیکن سلطان زنگی نے جس تدبر اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے سب کو حیران کر دیا۔ ان کے سامنے سب سے پہلا چیلنج یہ تھا کہ حلب کی حالت کو مستحکم کیا جائے، کیونکہ حلب کے بالکل مضافات میں عیسائیوں کی مضبوط ریاستیں موجود تھیں اور شہر کی معاشی حالت بھی خراب تھی۔
سلطان نے تخت سنبھالتے ہی اپنی فوج کو دوبارہ منظم کیا اور اپنے والد کے وفادار جرنیلوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ انہوں نے عیسائیوں کو یہ پیغام دیا کہ عماد الدین زنگی اگرچہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن ان کا مشن اور ان کی تلوار اب ان کے بیٹے کے ہاتھ میں زندہ ہے۔ انہوں نے حلب کے قلعے کی مرمت کروائی، شہر کے گرد نئی دیواریں تعمیر کروائیں، اور عوام کے لیے انصاف کا دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے اپنی ذات پر ہونے والے تمام شاہی اخراجات کو ختم کر دیا اور اپنی پوری توجہ صرف اور صرف سرحدوں کے دفاع اور جہاد کی تیاری پر مرکوز کر دی-
6. دوسری صلیبی جنگ (Second Crusade) کا سامنا اور شاندار فتح
سلطان نور الدین زنگی کی حکومت کے ابتدائی سالوں میں ہی مسلمانوں پر ایک اور بہت بڑی آزمائش آئی۔ جب یورپ کو ایڈیسا کی شکست کا پتہ چلا تھا، تو انہوں نے جس "دوسری صلیبی جنگ" کا اعلان کیا تھا، اس کا ایک بہت بڑا عسکری لشکر ۱۱۴۷ء میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا۔ اس لشکر کی قیادت یورپ کے دو سب سے بڑے بادشاہ کر رہے تھے: فرانس کا بادشاہ لوئی ہفتم (King Louis VII) اور جرمنی کا شہنشاہ کونراڈ سوم (Emperor Conrad III)۔ ان کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں بکتر بند سپاہی اور نائٹس تھے۔
ان کا اصل ہدف یہ تھا کہ وہ شام کے سب سے قدیم اور مرکزی شہر دمشق پر قبضہ کر لیں، کیونکہ دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد وہ حلب اور موصل کو آسانی سے تباہ کر سکتے تھے۔ عیسائیوں کے اس سیلاب کو دیکھ کر دمشق کے مقامی مسلم حکمران (انر) سخت خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے اپنی بقا کے لیے سلطان نور الدین زنگی سے مدد کی اپیل کی۔
سلطان زنگی نے اس موقع پر اپنی ذاتی خاندانی رقابتوں کو بالائے طاق رکھ دیا (کیونکہ دمشق کے حکمران ماضی میں ان کے والد کے مخالف رہے تھے)۔ انہوں نے فرمایا کہ "یہ وقت آپس کے جھگڑوں کا نہیں ہے، بلکہ اسلام کے دفاع کا ہے-" انہوں نے موصل سے اپنے بھائی کی فوج کو بھی ساتھ لیا اور ایک بہت بڑا متحد مسلم لشکر لے کر دمشق کی طرف بڑھے۔
۱۱۴۸ء میں جب صلیبیوں نے دمشق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور شہر کے مسلمان اندرونی طور پر سخت پیاس اور بھوک کا سامنا کر رہے تھے، سلطان نور الدین زنگی کی فوج دمشق کے مضافات میں پہنچ گئی۔ سلطان نے عیسائیوں کی سپلائی لائن کو کاٹ دیا اور اپنے گھڑ سواروں کے ذریعے ان پر گوریلا حملے شروع کر دیے۔ مسلم مجاہدین کی بہادری اور سلطان زنگی کی جنگی حکمتِ عملی کے سامنے عیسائیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ فرانس اور جرمنی کے بادشاہوں کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہو گئے، اور جب انہوں نے دیکھا کہ نور الدین زنگی کی شکل میں ایک لوہے کی دیوار ان کے سامنے کھڑی ہے، تو وہ اپنا لاکھوں کا نقصان کروا کر، محاصرہ ختم کر کے ذلیل و خوار ہو کر واپس یورپ بھاگنے پر مجبور ہو گئے-
دوسری صلیبی جنگ کی یہ عبرت ناک ناکامی سلطان نور الدین زنگی کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی بین الاقوامی عسکری فتح تھی۔ اس فتح نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا اور عیسائی دنیا پر یہ واضح ہو گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اب مسلمانوں کو ایک ایسا لیڈر مل چکا ہے جسے ہرانا ناممکن ہے۔ دوسری طرف، مسلمانوں کے دلوں سے عیسائیوں کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، اور انہوں نے سلطان زنگی کو اپنا حقیقی قائد اور نجات دہندہ تسلیم کر لیا۔ یہیں سے اس عظیم دور کی بنیاد پڑی جس نے آگے چل کر روضہ رسول ﷺ کی حفاظت جیسے تاریخی واقعے کو جنم دینا تھا۔
پارٹ 2: دمشق کا الحاق، سلطان کا انٹیلیجنس نظام، زاہدانہ زندگی اور مدینہ کا وہ تاریخی خواب
1. دمشق کا الحاق اور شام کی وحدت کا خواب
دوسری صلیبی جنگ میں عیسائیوں کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد سلطان نور الدین محمود زنگی کے سامنے جو سب سے بڑا اور اہم ترین ہدف تھا، وہ تھا شام کے تمام مسلم علاقوں کو ایک مضبوط مرکز کے تحت متحد کرنا۔ اس وقت تک دمشق ایک الگ امارت تھی، جہاں انُرجیسے مقامی امراء حکومت کر رہے تھے۔ دمشق جغرافیائی اور تزویراتی (Strategic) لحاظ سے اس قدر اہم تھا کہ اس کے بغیر صلیبیوں کے خلاف کوئی بھی بڑی عسکری مہم یا بیت المقدس کی آزادی کا تصور ممکن ہی نہیں تھا۔ لیکن دمشق کے حکمران اپنی بقا اور اقتدار کے لالچ میں اکثر صلیبیوں کے ساتھ خفیہ معاہدے کر لیتے تھے، جو کہ اسلام کے اجتماعی مفاد کے خلاف ایک سنگین خطرہ تھا۔
سلطان نور الدین زنگی نے یہاں اپنی روایتی عسکری طاقت کے بجائے زبردست سیاسی تدبر اور نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا استعمال کیا۔ وہ دمشق پر زبردستی حملہ کر کے مسلمانوں کا خون نہیں بہانا چاہتے تھے۔ انہوں نے دمشق کے عام شہریوں، تاجروں، علماء اور صوفیاء کے دلوں کو فتح کرنا شروع کیا۔ سلطان نے حلب سے دمشق کے غریبوں کے لیے غلہ اور امداد بھیجی، اور دمشق کے لوگوں پر یہ واضح کر دیا کہ "میں تمہارا شہر چھیننا نہیں چاہتا، بلکہ میں تمہیں صلیبیوں کے چنگل سے بچا کر ایک محفوظ اور اسلامی نظام دینا چاہتا ہوں۔"
مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان زنگی کی اس محبت اور مخلصانہ پالیسی کا یہ اثر ہوا کہ دمشق کے عوام اپنے ہی حکمرانوں کے خلاف ہو گئے اور وہ سرِعام بازاروں میں سلطان نور الدین زنگی کے نام کے نعرے لگانے لگے۔ جب دمشق کے امیر نے دیکھا کہ اب شہر کی عوام اور فوج بھی سلطان زنگی کے ساتھ مل چکی ہے، تو اس نے ۱۱۵۴ء (۵۴۹ ہجری) میں بغیر کسی خون خرابے کے دمشق کی چابیاں سلطان نور الدین زنگی کے حوالے کر دیں۔
دمشق کا یہ الحاق تاریخِ اسلام کا ایک عظیم سنگِ میل تھا۔ اب حلب، موصل اور دمشق یعنی پورا ہلالِ خصیب (Fertile Crescent) ایک ہی مجاہد حکمران کے جھنڈے تلے آ چکا تھا۔ دمشق کو سلطان نے اپنی سلطنت کا نیا دارالحکومت (Capital) بنایا اور یہاں سے صلیبیوں کے خلاف اس منظم اور فیصلہ کن جہاد کا آغاز کیا جس نے عیسائی دنیا کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ دمشق کی فتح نے یہ ثابت کر دیا کہ نور الدین زنگی صرف تلوار چلانا نہیں جانتے، بلکہ وہ دلوں کو جوڑنے اور بغیر تلوار اٹھائے سلطنتیں فتح کرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔
2. سلطان کا بے مثال انٹیلیجنس اور کبوتروں کا ڈاک نظام
جب سلطنت وسیع ہو گئی اور اس کی سرحدیں ایک طرف عراق اور دوسری طرف مصر اور فلسطین کے عیسائی قلعوں سے جا ملیں، تو سلطان نور الدین زنگی کو یہ احساس ہوا کہ دشمن کی ہر چال، ہر سازش اور ہر فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک انتہائی تیز رفتار اور جدید انٹیلیجنس (جاسوسی) کے نظام کی ضرورت ہے۔ اس دور میں جب نہ تو کوئی ٹیلیفون تھا، نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی وائرلیس سسٹم، سلطان زنگی نے دنیا کی تاریخ کا سب سے پہلا اور منظم "کبوتروں کا ڈاک نظام" (Pigeon Post System) قائم کیا۔
انہوں نے سلطنت کے طول و عرض میں، خصوصاً سرحدوں پر واقع قلعوں اور چوکیوں پر ہزاروں تربیت یافتہ کبوتر (Carrier Pigeons) رکھے ہوئے تھے۔ ان کبوتروں کی تربیت کے لیے باقاعدہ سرکاری ملازم مقرر تھے جنہیں بھاری تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ اگر سرحد پر کوئی بھی مشکوک لہر یا صلیبیوں کی فوج کی نقل و حرکت نظر آتی، تو وہاں کا نگران فوراً ایک چھوٹے سے باریک کاغذ پر کوڈ ورڈز (خفیہ زبان) میں پیغام لکھ کر کبوتر کے پروں یا پاؤں کے ساتھ باندھ کر اسے اڑا دیتا تھا۔ یہ کبوتر چند ہی گھنٹوں میں سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے دمشق میں سلطان کے دارالامار کے مخصوص ٹاور پر پہنچ جاتا تھا۔
اس نظام کا یہ فائدہ ہوا کہ سلطان زنگی کو دشمن کے حملے سے کئی دن پہلے ہی اس کی پوری لوکیشن اور تعداد کا علم ہو جاتا تھا، اور عیسائیوں کے حملے سے پہلے ہی مسلم فوج وہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار کھڑی ہوتی تھی۔ عیسائیوں کے پادری اور جرنیل اس بات پر حیران تھے کہ "نور الدین زنگی انسان ہے یا کوئی جادوگر؟ ہم ابھی اپنے قلعے سے نکلنے کا پلان ہی بناتے ہیں اور زنگی کی فوج کو پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے-"
اس بحری اور زمینی انٹیلیجنس نظام کے لیے سلطان نے بھیس بدلنے والے ماہر جاسوس بھی تیار کیے ہوئے تھے، جو عیسائیوں کے لباس پہن کر، ان کی زبان بول کر یروشلم، انطاکیہ اور طرابلس کے درباروں میں گھومتے تھے اور وہاں کی تمام خفیہ فوجی پلاننگ دمشق پہنچاتے تھے۔ یہی وہ مضبوط اور بے لچک انٹیلیجنس نیٹ ورک تھا جس نے آگے چل کر روضہ رسول ﷺ کے خلاف ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اور خفیہ ترین بین الاقوامی سازش کو پکڑنے میں بنیادی کردار ادا کرنا تھا۔
3. سلطنت کے مالک کی درویشی: پوشیدہ زاہدانہ زندگی کے چند گوشے
مورخ ابنِ اثیر، جو سلطان نور الدین زنگی کے دور کے عینی شاہد ہیں، اپنی مشہور تاریخ "الکامل" میں لکھتے ہیں کہ: "میں نے اسلام کے ابتدائی دور کے بعد کی تاریخ کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، لیکن مجھے خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے بعد نور الدین زنگی جیسا زاہد اور عادل بادشاہ کہیں نظر نہیں آیا۔"
سلطان نور الدین زنگی اتنی بڑی اور مالدار سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود اپنی انفرادی زندگی میں ایک عام فقیر اور صوفی کی طرح رہتے تھے۔ ان کا لباس موٹے اور سستے کپڑے کا ہوتا تھا جس پر اکثر پیوند لگے ہوتے تھے۔ وہ شاہی ریشم یا زرق برق لباسوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ان کا بستر چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، اور وہ اکثر مسجد کے فرش پر ہی سو جایا کرتے تھے۔
آپ کی راتیں بستر پر آرام کرنے کے بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریزی میں گزرتی تھیں۔ وہ عشاء کی نماز کے بعد کچھ دیر کے لیے سوتے، اور پھر رات کے آخری پہر (تہجد کے وقت) اٹھ کھڑے ہوتے۔ وہ رات بھر رو رو کر اللہ سے امتِ مسلمہ کی بخشش، جہاد میں فتح اور بیت المقدس کی آزادی کی دعائیں مانگتے تھے۔ ان کے خادم بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت سلطان کے خیمے یا کمرے سے اس طرح رونے اور سسکیاں لینے کی آوازیں آتی تھیں جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے لپٹ کر رو رہا ہو۔
سلطان کا ایک اور پوشیدہ گوشہ یہ تھا کہ وہ کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ جنگ کے شدید ترین دنوں میں بھی، جب صحرا کی تپتی دھوپ اور لو چل رہی ہوتی تھی اور مجاہدین کے لیے تلوار اٹھانا مشکل ہوتا تھا، سلطان زنگی روزے کی حالت میں گھوڑے پر سوار ہو کر صفوں کی قیادت کر رہے ہوتے تھے۔ افطار کے وقت ان کا کھانا صرف سوکھی روٹی اور پانی ہوتا تھا۔ وہ اپنے دربار میں کسی بھی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے تھے جو دنیا دار ہو یا چاپلوسی کرے۔ ان کی محفل ہمیشہ علماء، محدثین، فقہاء اور اللہ والے صوفیاء سے بھری رہتی تھی، اور وہ ان کی نصائح کو بہت غور سے سنتے تھے اور رو پڑتے تھے۔
4. عدل و انصاف کا فاروقی جذبہ اور عوامی رسائی
سلطان نور الدین زنگی کے دل میں عدل و انصاف کا وہی جذبہ موجزن تھا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پہچان تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ "سلطنت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے، لیکن ناانصافی اور ظلم کے ساتھ کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔" انہوں نے اپنے دارالامار کے دروازے عام عوام کے لیے ہر وقت کھلے رکھے ہوئے تھے۔ کوئی بھی غریب سے غریب کسان، کوئی بیوہ یا کوئی غیر مسلم شہری بغیر کسی روک ٹوک یا پروٹوکول کے سیدھا سلطان کے پاس آ کر اپنی فریاد پیش کر سکتا تھا۔
جب سلطان نے دیکھا کہ ان کے وزراء اور دربان بعض اوقات غریبوں کو ان تک پہنچنے نہیں دیتے، تو انہوں نے دمشق کے مرکزی بازار میں ایک مخصوص عمارت بنائی جس کا نام انہوں نے "دار العدل" رکھا۔ یہاں سلطان خود ہفتے میں دو دن باقاعدگی سے بیٹھتے تھے۔ عدالت کے دروازے پر کوئی گارڈ یا چوکیدار نہیں ہوتا تھا۔ سلطان کے دائیں اور بائیں جانب دمشق کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) اور دیگر مذاہب کے جج بیٹھتے تھے۔
اس عدالت میں سلطان کا اپنا کوئی رعب یا شاہی جلال نہیں ہوتا تھا۔ اگر کسی شہری کو سلطنت کے کسی بڑے جرنیل، شہزادے یا خود سلطان کے خلاف کوئی شکایت ہوتی، تو مقدمہ دائر کر دیا جاتا۔ سلطان اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ جج کسی دباؤ کے بغیر، خالصتاً شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرے۔ اگر فیصلہ کسی سرکاری عہدیدار کے خلاف آتا، تو سلطان اسے خود اپنے ہاتھوں سے سزا دیتے یا اس کا منصب چھین لیتے تھے۔ اسی بے لاگ انصاف کی وجہ سے پوری سلطنت میں امن و امان کا وہ مثالی دور قائم ہوا جس نے مسلمانوں کے اندر ایک نیا اخلاقی اور ایمانی روح پھونک دی، اور رعایا اپنے سلطان پر جان چھڑکنے کے لیے تیار ہو گئی۔
5. وہ تاریخی اور لرزہ خیز رات: دمشق میں سلطان کا خواب
اب ہم تاریخ کے اس موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں سے اس عظیم معجزے کا آغاز ہوتا ہے جس نے پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ ۵۵۷ ہجری (مطابق ۱۱۶۲ء) کا سال تھا۔ دمشق کا شہر رات کے گہرے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ سردی کی شدت تھی اور ہوا تیز چل رہی تھی۔ سلطان نور الدین زنگی ہمیشہ کی طرح عشاء کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد، اپنے علمی اور سرکاری کاموں سے فارغ ہو کر، اپنے مخصوص حجرے میں تہجد اور وظائف کے بعد بستر پر لیٹ گئے۔
رات کے آخری پہر، جب پوری دنیا گہری نیند کے آغوش میں تھی، سلطان زنگی کو ایک ایسی خوابِ صالحہ کی زیارت ہوئی جس نے ان کی پوری زندگی اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ کائنات کے سب سے مبارک اور مقدس انسان، سید الانبیاء، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما ہیں۔ آپ ﷺ کے چہرہِ مبارک پر ایک عجیب سا اضطراب اور فکر کے آثار تھے۔
سلطان زنگی نے دیکھا کہ حضورِ اکرم ﷺ نے ان کی طرف اپنی مبارک انگلی سے اشارہ کیا، ان کا نام لے کر پکارا: "اے محمود!" اور پھر آپ ﷺ نے اپنے سامنے کھڑے دو عجیب الخلقت، گورے رنگ کے، نیلی آنکھوں والے مردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتہائی دردناک اور جلال بھری آواز میں فرمایا:
"میری مدد کرو! مجھے ان دو کتوں سے بچاؤ!"
یہ جملہ سنتے ہی سلطان نور الدین زنگی کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ ان کا پورا وجود خوفِ خدا اور ہیبت سے کانپ رہا تھا۔ ان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے اور دل سینے میں اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئے گا۔ وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے خواب کے مناظر کو اپنے ذہن میں دہرایا۔ حضور ﷺ کا چہرہِ مبارک اور ان دو گورے مردوں کی شکلیں ان کی آنکھوں کے سامنے بالکل صاف اور واضح گھوم رہی تھیں۔
سلطان نے فوراً استغفار پڑھا، وضو کیا، مصلے پر کھڑے ہو کر اللہ کے حضور رو رو کر نوافل ادا کیے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس خواب کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ کیا مدینہ منورہ پر کسی دشمن نے حملہ کر دیا ہے؟ یا روضہ مبارک کے قریب کوئی فتنہ کھڑا ہو گیا ہے؟ اور حضور ﷺ نے انہیں (محمود کو) ہی اس کام کے لیے کیوں چنا؟ ان کے دل میں عشق اور ذمہ داری کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔
نوافل ادا کرنے کے بعد، جب رات کی تھکن اور ذہنی اضطراب بڑھا، تو سلطان دوبارہ اپنے بستر پر لیٹ گئے تاکہ کچھ دیر آرام کر سکیں۔ لیکن تعجب اور حیرت کی انتہا اس وقت ہوئی جب جیسے ہی ان کی آنکھ لگی، دوبارہ وہی منظر ان کے سامنے آ گیا۔ حضور اکرم ﷺ پھر اسی جلال کے ساتھ جلوہ افروز تھے، اور انہوں نے پھر انہی دو شخصیات کی طرف اشارہ کر کے وہی الفاظ دہرائے: "اے محمود! میری مدد کرو، مجھے ان دو کتوں سے بچاؤ!"
سلطان زنگی دوسری بار تڑپ کر، دیوانوں کی طرح بستر سے اٹھے۔ اب ان کا صدمہ اور اضطراب حد سے بڑھ چکا تھا۔ انہوں نے پھر وضو کیا، دوبارہ لمبی نماز پڑھی، اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور تضرع کے ساتھ دعا کی: "اے اللہ! اس گنہگار بندے کو اس خواب کی حقیقت سمجھا اور مجھے اپنے حبیب ﷺ کے روضے کی حفاظت کا شرف عطا فرما۔"
تیسری مرتبہ جب سلطان زنگی دوبارہ لیٹے، تو قدرت کو یہ منظور تھا کہ اس معاملے میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ تیسری بار بھی وہی خواب، اسی شدت، اسی حلیے اور انہی الفاظ کے ساتھ بالکل اسی طرح دہرایا گیا۔ اب سلطان کے پاس بستر پر لیٹنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام خواب یا نفس کا وہم نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست دربارِ رسالت ﷺ سے آنے والا ایک ہنگامی حکم ہے، اور مدینہ منورہ میں اس وقت کوئی ایسی ہولناک سازش چل رہی ہے جس کا فوری تدارک وقت کے خلیفہ اور سلطانِ وقت محمود زنگی کے ذمے لگا دیا گیا ہے۔
6. وزیرِ خاص جمال الدین موصلی سے رازداری کی مشاورت
تیسری بار خواب دیکھنے کے بعد، سلطان نور الدین زنگی نے رات کے اسی اندھیرے میں اپنے سب سے معتمد، عقلمند اور وفادار وزیر جمال الدین موصلی کو دارالامار میں حاضر ہونے کا ہنگامی حکم بھیجا۔ وزیرِ خاص اپنے گھر میں سو رہے تھے، جب شاہی قاصد نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ "سلطان اسی وقت، اسی سیکنڈ آپ کو یاد فرما رہے ہیں-" جمال الدین موصلی کا دل دھک سے رہ گیا، وہ جانتے تھے کہ سلطان زنگی بلاوجہ رات کے اس پہر کسی کو نہیں بلاتے۔
جب وزیر دارالامار کے حجرے میں داخل ہوا، تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کی عقل دنگ رہ گئی۔ سلطان زنگی مصلے پر بیٹھے تھے، ان کا سر ننگا تھا، چہرہ زرد ہو چکا تھا، اور آنکھوں سے آنسو مسلسل ان کی داڑھی پر گر رہے تھے۔ وزیر نے آگے بڑھ کر انتہائی ادب اور تشویش سے پوچھا: "عالی جاہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، خیریت تو ہے؟ آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ کیا سرحد سے کوئی بری خبر آئی ہے؟ کیا صلیبیوں نے دمشق پر حملے کا پلان بنا لیا ہے؟"
سلطان نور الدین زنگی نے اپنے وزیر کو اپنے پاس بٹھایا اور انتہائی رازداری کے ساتھ اپنے اس خواب کی تینوں مرتبہ کی تفصیل بیان کی اور ان دو گورے چہروں کا حلیہ بھی بتایا۔ سلطان نے روتے ہوئے کہا: "اے جمال الدین! میرے آقا ﷺ مجھے پکار رہے ہیں اور میں یہاں دمشق کے محل میں بیٹھا ہوں۔ مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟ میرا دل پھٹا جا رہا ہے، مجھے مدینہ منورہ میں کسی بہت بڑی آفت کا احساس ہو رہا ہے۔"
وزیرِ خاص جمال الدین موصلی، جو خود ایک بیدار مغز اور دور اندیش انسان تھے، خواب کی تفصیل سنتے ہی ان کے چہرے پر بھی سنجیدگی اور خوف کے آثار نمایاں ہو گئے۔ انہوں نے سلطان کی طرف دیکھا اور کہا:
"سلطانِ معظم! یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اگر تین بار آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ مدینہ منورہ کے اندر کوئی ایسی پوشیدہ اور خطرناک سازش چل رہی ہے جس سے وہاں کے مقامی لوگ اور گورنر بالکل اندھے اور بے خبر ہیں- اب دمشق میں ایک لمحہ بھی بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ اگر آپ نے یہاں دیر کی، تو یہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں سخت گستاخی اور غفلت ہوگی۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ اس خواب کا ذکر کسی تیسرے بندے سے نہ کریں، اور اسی وقت، رات کے اندھیرے میں مدینہ منورہ کے لیے ایک ہنگامی مہم پر روانہ ہو جائیں۔"
سلطان زنگی کو اپنے وزیر کی یہ رائے بالکل درست معلوم ہوئی۔ انہوں نے اسی وقت اپنے وزیر کو حکم دیا کہ دمشق کے بیت المال سے جتنا بھی سونا، چاندی اور قیمتی جواہرات ہیں، انہیں خفیہ طور پر اونٹوں پر لاد دیا جائے، اور فوج کے سب سے بہترین، نڈر اور تیز رفتار بیس (20) گھڑ سوار مجاہدین کا ایک دستہ تیار کیا جائے جو کسی بھی ہنگامی عسکری کارروائی کے لیے تیار ہوں۔ سلطان نے اس مہم کو اس قدر خفیہ رکھا کہ دمشق کی باقی فوج اور عوام کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا بادشاہ اتنی بڑی رات کو کہاں اور کس مقصد کے لیے جا رہا ہے۔ سب نے سمجھا کہ شاید سلطان سرحد پر کسی قلعے کا معائنہ کرنے جا رہے ہیں۔
7. دمشق سے مدینہ منورہ کا طوفانی سفر
جیسے ہی اونٹوں پر مال لاد دیا گیا اور بیس گھڑ سواروں کا دستہ تیار ہوا، سلطان نور الدین محمود زنگی دمشق کے دروازے سے باہر نکل آئے۔ یہ ایک ایسا طوفانی اور تیز رفتار سفر تھا جس کی مثال اس دور کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ عام حالات میں، جب کوئی شاہی قافلہ یا تجارتی کارواں دمشق سے مدینہ منورہ کا سفر طے کرتا تھا، تو راستے کی صعوبتوں، صحرا کی گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے کم و بیش 20 سے 25 دن کا وقت لگتا تھا۔ لیکن سلطان زنگی کے دل میں جو اضطراب، بے چینی اور عشقِ رسول ﷺ کا طوفان برپا تھا، اس کے سامنے یہ چودہ سو کلومیٹر کا طویل اور سنگلاخ صحرا ایک تالاب کی طرح سمٹ گیا۔
سلطان زنگی اپنے گھوڑے پر سوار صفِ اول میں بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا ہوا تھا کہ "کوئی شخص راستے میں آرام کے لیے نہیں رکے گا، ہمارے گھوڑے تبھی رکیں گے جب وہ تھکن سے مر جائیں یا مدینہ منورہ کا سبز گنبد ہمارے سامنے آ جائے-" یہ قافلہ دن کی تپتی ہوئی دھوپ اور رات کی یخ بستہ ہواؤں کو چیرتا ہوا، ریت کے طوفانوں کا سامنا کرتا ہوا، دیوانہ وار آگے بڑھ رہا تھا۔
راستے میں سپاہیوں کے گھوڑے تھکن کی شدت اور مسلسل دوڑنے کی وجہ سے ہانپنے لگتے اور کچھ گھوڑے تو راستے میں ہی دم توڑ کر گر گئے، لیکن سلطان زنگی فوراً دوسرے گھوڑے پر سوار ہوتے اور سفر جاری رکھتے۔ انہوں نے راستے میں نہ تو کسی شہر میں قیام کیا اور نہ ہی کسی نخلستان میں سستانے کے لیے رکے۔ ان کا ذہن مسلسل اس خواب کی کڑیوں کو جوڑ رہا تھا اور ان کے کانوں میں حضور ﷺ کے وہ الفاظ گونج رہے تھے: "محمود! میری مدد کرو۔"
سلطان کی اس بے پناہ تڑپ اور عزمِ صادق کا نتیجہ یہ نکلا کہ قدرت نے راستے کی تمام مسافتوں کو ان کے لیے لپیٹ دیا، اور جو سفر تقریباً ایک مہینے میں طے ہوتا تھا، سلطان نور الدین زنگی اور ان کے بیس مجاہدین نے وہ طویل اور کٹھن ترین سفر صرف اور صرف تین سے چار دن کے مختصر ترین وقت میں مکمل کر لیا۔ جب مدینہ منورہ کے مضافات اور کھجوروں کے باغات دور سے نظر آنے لگے، تو سلطان زنگی نے اپنے گھوڑے کی لگام تھامی۔ ان کا چہرہ مٹی سے اٹا ہوا تھا، آنکھیں جاگنے کی وجہ سے سرخ تھیں، لیکن ان کے دل میں ایک امید کی کرن جاگ اٹھی تھی کہ وہ وقت پر پہنچ چکے ہیں۔ اب مدینہ منورہ کے اندر داخل ہو کر اس ناپاک سازش کا پردہ چاک کرنے کا وقت آ چکا تھا
پارٹ 3: مدینہ منورہ میں آمد، شاہی دربار کا انعقاد اور سازش کا عبرت ناک پردہ چاک
1. مدینہ منورہ کی حدود میں داخلہ اور گورنر کی حیرت و استعجاب
دمشق سے شروع ہونے والا وہ طوفانی اور تھکا دینے والا سفر، جو صرف تین سے چار دنوں میں طوفانی رفتار سے طے ہوا تھا، بالآخر اپنی منزل کے قریب پہنچ گیا۔ جب سلطان نور الدین محمود زنگی اور ان کے بیس مخلص، جانثار گھڑ سواروں کا دستہ مدینہ منورہ کی مضافاتی سرحدوں اور کھجوروں کے گھنے باغات کے قریب پہنچا، تو صبح کا وقت تھا اور سورج کی پہلی کرنیں مدینہ کی پاکیزہ دھرتی پر پڑ رہی تھیں۔ سلطان زنگی کا لباس، داڑھی اور چہرہ صحرا کی اڑتی ہوئی ریت اور مٹی سے اٹا ہوا تھا، گھوڑے تھکن کی وجہ سے ہانپ رہے تھے اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا، لیکن سلطان کی آنکھوں میں تھکن کا نام و نشان نہیں تھا—وہاں صرف ایک ہی تڑپ تھی کہ کسی طرح روضہ رسول ﷺ تک پہنچ کر اس پوشیدہ خطرے کو معلوم کیا جائے۔
مدینہ منورہ کی چوکی پر موجود نگران سپاہیوں نے جب وقت کے سب سے بڑے سلطان، حلب اور دمشق کے حاکم کو اس حالت میں، بغیر کسی پیشگی اطلاع، بغیر کسی شاہی لاؤ لشکر، بغیر کسی پروٹوکول اور جھنڈوں کے، صرف چند گھڑ سواروں کے ساتھ اچانک اپنے شہر کے دروازے پر دیکھا، تو ان کی عقل دنگ رہ گئی۔ انہوں نے دوڑتے ہوئے مدینہ منورہ کے گورنر کو دارالامارت میں جا کر یہ سنسنی خیز خبر دی کہ "سلطان نور الدین زنگی دمشق سے ہنگامی حالت میں مدینہ پہنچ چکے ہیں اور ان کا حلیہ بتا رہا ہے کہ وہ راستے میں کہیں ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں رکے!"
مدینہ کا گورنر یہ سن کر خوف اور حیرت کے مارے کانپنے لگا۔ اس کے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے کہ کیا بغداد میں کوئی انقلاب آ گیا ہے؟ کیا صلیبیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا ہے اور سلطان وہاں سے جان بچا کر یہاں آئے ہیں؟ یا پھر مجھ سے مدینہ کے انتظام میں کوئی ایسی سنگین غلطی ہو گئی ہے جس کی سزا دینے کے لیے سلطان خود چل کر آئے ہیں؟ وہ بدحواسی کی حالت میں اپنے درباریوں کے ساتھ شہر کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگا اور سلطان کے سامنے پہنچ کر انتہائی عاجزی اور احترام سے جھکا۔
گورنر نے سلطان زنگی کے گھوڑے کی لگام کو چوما اور کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا:
"سلطانِ معظم! عالی جاہ! خیر تو ہے؟ آپ کی اس اچانک اور طوفانی آمد نے ہمارے دلوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ دمشق اور حلب کی خیرات تو ہے؟ کیا کوئی بہت بڑی آفت مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ہے؟ اگر آپ ہمیں پہلے سے کوئی خط یا قاصد بھیج دیتے، تو ہم پورے حجاز کی فوج کو آپ کے استقبال کے لیے صف آرا کر دیتے، آپ نے خود کو اتنی شدید تکلیف کیوں دی؟"
سلطان نور الدین زنگی نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا، ان کے چہرے پر ایک عجیب سا جلال اور سنجیدگی تھی۔ انہوں نے گورنر کو گھبرانے سے روکا اور انتہائی دھیمی لیکن مضبوط آواز میں فرمایا: "گورنر! دمشق اور شام میں سب خیریت ہے، صلیبیوں کی کوئی عسکری مہم وہاں نہیں آئی۔ میں یہاں کسی سیاسی یا جنگی مقصد کے لیے نہیں آیا، بلکہ میں اپنے آقا، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضہ مبارک کی حاضری اور زیارت کے لیے آیا ہوں۔ تم فوراً میرے ٹھہرنے کا انتظام کرو، اور ایک بات یاد رکھو، میری اس آمد کی رازداری برقرار رہنی چاہیے، ابھی شہر میں کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں کس خاص مقصد کے تحت یہاں پہنچا ہوں۔"
2. سلطان کی رازداری کی حکمتِ عملی اور شاہی انعامات کا اعلان
سلطان نور الدین زنگی ایک انتہائی ذہین اور دور اندیش حکمران تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے مدینہ پہنچتے ہی اپنے خواب کا تذکرہ عام کر دیا، یا روضہ رسول ﷺ کے گرد فوج کھڑی کر کے تلاشی شروع کروا دی، تو وہ ناپاک عیسائی سازشی (اگر وہ شہر میں موجود ہیں) فوراً ہوشیار ہو جائیں گے اور رات کے اندھیرے میں مدینہ سے فرار ہو جائیں گے، یا اپنے گناہ کے نشانات مٹا دیں گے۔ اس طرح وہ اصل مجرموں تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنے وزیر جمال الدین موصلی کی مشاورت سے ایک ایسی نفسیاتی اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی (Strategic Plan) تیار کی جس سے مجرم خود چل کر ان کے سامنے آ جائیں۔
سلطان نے روضہ رسول ﷺ کے پاس پہنچ کر سب سے پہلے نہایت عاجزی سے صلوٰۃ و سلام پیش کیا، اپنے آنسوؤں کا نذرانہ دیا، اور پھر مدینہ کے گورنر کو بلایا۔ سلطان نے گورنر سے فرمایا:
"اے گورنر! میں جب دمشق سے روانہ ہو رہا تھا، تو میں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ میں مدینہ منورہ کے ہر چھوٹے بڑے شہری، امیر اور غریب، بدو اور شہری کی اپنے ہاتھوں سے ضیافت کروں گا اور دمشق کے بیت المال سے لایا گیا سونا اور چاندی ان میں تقسیم کروں گا۔ تم اسی وقت پورے مدینہ، اس کے مضافات اور آس پاس کے تمام بدو قبائل میں یہ سرکاری اعلان کروا دو کہ سلطانِ وقت محمود زنگی مدینہ میں موجود ہیں اور وہ شہر کے ہر فرد کو اپنے ہاتھوں سے قیمتی تحائف اور نقد درہم و دینار دینا چاہتے ہیں۔"
سلطان نے اس اعلان کے ساتھ ایک کڑی شرط یہ عائد کی کہ:
"مدینہ کا کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بوڑھا ہو، بچہ ہو، یا کوئی باہر سے آیا ہوا مسافر ہو، وہ اس شاہی ضیافت اور انعام سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شخص کو خود چل کر میرے سامنے آنا ہوگا اور اپنا انعام وصول کرنا ہوگا، کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی طرف سے انعام کا وکیل بن کر نہیں آ سکتا۔"
گورنر مدینہ نے سلطان کے اس حکم کو ایک بادشاہ کی سخاوت اور مذہبی عقیدت سمجھا اور فوراً اپنے منادی کرنے والے کارندوں کو پورے شہر میں بھیج دیا۔ مدینہ کی گلیوں، بازاروں، کھجوروں کے باغات اور دور دراز کے خیموں تک یہ آواز گونجنے لگی کہ "لوگو! دمشق کے سلطان نور الدین زنگی مدینہ آ چکے ہیں اور وہ ہر فرد کو سونا اور چاندی بانٹ رہے ہیں، چلو اور مسجدِ نبوی کے احاطے میں اپنا اپنا حصہ وصول کرو!"
یہ اعلان سنتے ہی پورے مدینہ منورہ میں ایک جشن اور خوشی کا ماحول بن گیا۔ لوگ جوق در جوق، اپنے خاندانوں کے ساتھ مسجدِ نبوی کے احاطے کی طرف روانہ ہو گئے جہاں سلطان زنگی کا عارضی دربار لگایا گیا تھا۔ سلطان کا یہ ماسٹر پلان (Master Plan) دراصل اس خواب والے چہروں کو تلاش کرنے کا ایک ایسا جال تھا جس سے کوئی بھی مشکوک شخص بچ کر نہیں نکل سکتا تھا، کیونکہ اگر کوئی شخص انعام لینے نہیں آتا، تو وہ خود بخود شک کے دائرے میں آ جاتا۔
3. مسجدِ نبوی کا دربار اور عقابی نظروں کا پہرہ
اگلے دن صبح سویرے، مسجدِ نبوی کے صحن کے ایک گوشے میں سلطان نور الدین زنگی کا دربار سجایا گیا۔ سلطان کے سامنے سونے اور چاندی کے سکوں سے بھری ہوئی بوریاں اور ٹوکریاں رکھ دی گئیں۔ سلطان زنگی ایک اونچی چٹائی پر بیٹھ گئے، ان کے دائیں طرف ان کا وزیر جمال الدین موصلی اور بائیں طرف مدینہ کا گورنر موجود تھا، جس کے ہاتھ میں مدینہ کے تمام شہریوں کا سرکاری رجسٹر (مردم شماری کا ریکارڈ) تھا۔ شاہی محافظین نے لوگوں کو ایک منظم لائن میں کھڑا کر دیا تاکہ ہر شخص باری باری سلطان کے سامنے سے گزر سکے۔
یہ منظر دیکھنے میں تو ایک بادشاہ کی سخاوت کا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تاریخِ اسلام کی سب سے بڑی اور خاموش تفتیش (Investigation) چل رہی تھی۔ ہر وہ شخص جو سلطان کے سامنے آتا، سلطان اسے اپنے مبارک ہاتھوں سے سونے کے سکے دیتے، اس سے اس کا نام اور قبیلہ پوچھتے، لیکن ان کی تیز، عقابی اور پارکھ نظریں اس شخص کے چہرے، اس کی آنکھوں، اس کے حلیے اور اس کے پورے وجود کا گہرائی سے معائنہ کرتی تھیں۔ سلطان اپنے ذہن کے پردے پر دمشق میں دیکھے گئے اس خواب کے مناظر کو مسلسل گھما رہے تھے—وہ دو گورے رنگ کے، نیلی آنکھوں والے مرد جن کا چہرہ حضور ﷺ نے دکھایا تھا، سلطان انہی دو چہروں کو اس ہجوم میں تلاش کر رہے تھے۔
دن گزرتے گئے، مدینہ کے تمام بڑے قبیلے، انصار اور مہاجرین کی اولادیں، شہر کے تاجر، بازار کے دکاندار، یہاں تک کہ معذور اور بوڑھے لوگ بھی اپنے رشتہ داروں کے سہارے دربار میں حاضر ہوئے اور انعام لے کر سلطان کو دعائیں دیتے ہوئے واپس گئے۔ گورنر مدینہ رجسٹر پر ہر آنے والے کے نام کے آگے نشان لگاتا جاتا تھا۔ ہزاروں لوگ سلطان کی نظروں کے سامنے سے گزرے، لیکن سلطان کے چہرے پر اطمینان کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا تھا، کیونکہ وہ مخصوص دو چہرے ابھی تک ان کے سامنے نہیں آئے تھے۔ سلطان کا دل مسلسل بے چین ہو رہا تھا کہ کہیں مجرم مدینہ سے بھاگ تو نہیں گئے؟ یا کہیں خواب کو سمجھنے میں مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی؟
جب دربار کا آخری دن آیا اور لوگوں کا آنا بند ہو گیا، تو سلطان نے مدینہ کے گورنر کی طرف رخ کیا، ان کی آواز میں ایک جلال اور سختی تھی، انہوں نے پوچھا: "اے گورنر! اپنے اس رجسٹر کو دیکھو اور مجھے سچ بتاؤ، کیا مدینہ کا ہر ایک شہری، ہر مسافر اور ہر رہنے والا میرے سامنے سے گزر چکا ہے؟ کیا کوئی ایک بھی ایسا انسان باقی ہے جو اس شہر کی حدود میں رہتا ہو اور یہاں انعام لینے نہ آیا ہو؟"
گورنر نے اپنے کارندوں سے دوبارہ کراس چیک کیا، رجسٹر کے تمام صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور انتہائی ادب سے عرض کیا: "سلطانِ معظم! خدا کی قسم، اس رجسٹر کے مطابق مدینہ کا ہر ایک قبیلہ، ہر گھرانہ، یہاں تک کہ پردہ نشین خواتین اور معصوم بچے بھی آ چکے ہیں۔ شہر کا کوئی بھی مقامی شہری ایسا نہیں ہے جو اس وقت یہاں موجود نہ ہو، سب اپنا اپنا حصہ لے کر جا چکے ہیں۔"
سلطان زنگی کا چہرہ سرخ ہو گیا، انہوں نے اپنے وزیر کی طرف دیکھا اور پھر گورنر پر گرج دار آواز میں فرمایا: "نہیں! یہ ناممکن ہے! اپنے دماغ پر زور دو، شہر کی ایک ایک گلی اور مکان کو اپنے ذہن میں گھماؤ۔ کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور چھوٹ گیا ہے جو مدینہ میں مقیم ہے لیکن اس دربار میں نہیں آیا۔ اگر تم نے مجھ سے کچھ چھپایا، تو یاد رکھو اس کی سزا بہت سخت ہوگی!"
گورنر مدینہ سلطان کے اس غیر معمولی غصے اور جلال کو دیکھ کر شدید خوفزدہ ہو گیا، وہ اپنے درباریوں اور شہر کے چوکیداروں کی طرف مڑا اور غصے سے کہا: "تم سب اندھے ہو گئے ہو؟ سلطان کے سامنے سچ بتاؤ، کیا شہر میں کوئی باہر کا مسافر، کوئی خانہ بدوش یا کوئی ایسا فقیر ہے جو یہاں نہیں آیا؟"
اس موقع پر مدینہ کے ایک بوڑھے چوکیدار نے دوزانو ہو کر عرض کیا: "عالی جاہ! شہر کے شہریوں میں تو واقعی کوئی باقی نہیں ہے، لیکن روضہ رسول ﷺ کی مشرقی دیوار کے بالکل قریب، ایک سنسان گلی میں ایک چھوٹا سا مکان ہے، جہاں اندلس (Spain) اور مراکش سے آئے ہوئے دو اجنبی درویش، مغرب کے زاہد رہتے ہیں۔ وہ بہت ہی متقی، پرہیزگار اور اللہ والے لوگ ہیں۔ وہ دن بھر روزے رکھتے ہیں، رات بھر مسجدِ نبوی میں رو رو کر عبادت کرتے ہیں، اور روزانہ صبح جنت البقیع میں جا کر غریبوں اور زائرین کو اپنے پیسوں سے پانی پلاتے ہیں۔ وہ کسی کا انعام، صدقہ یا خیرات قبول نہیں کرتے، وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے یہاں رہ رہے ہیں، اسی لیے وہ اس شاہی ضیافت میں بھی حاضر نہیں ہوئے کیونکہ انہیں دنیاوی مال کی کوئی لالچ نہیں ہے۔"
یہ سننا تھا کہ سلطان نور الدین زنگی کے پورے وجود میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ ان کے دل نے زور سے گواہی دی کہ "محمود! جس شکار کی تلاش میں تم دمشق سے یہاں تک دوڑے ہو، وہ شکار یہی ہے!" سلطان نے اپنے وزیر جمال الدین کی طرف دیکھا، دونوں کی آنکھوں میں ایک خاموش چمک آگئی۔ سلطان نے گورنر کو حکم دیا: "ان دونوں درویشوں کو اسی وقت، اسی سیکنڈ، جس حال میں بھی وہ ہیں، میرے سامنے دربار میں حاضر کیا جائے!"
4. اندلس کے درویشوں کی آمد اور خواب کے چہروں کا ٹکراؤ
کچھ ہی دیر کے بعد، شاہی محافظین مدینہ کی اس سنسان گلی سے ان دو نام نہاد زاہدوں کو لے کر مسجدِ نبوی کے دربار میں حاضر ہو گئے۔ جیسے ہی وہ دونوں دربار کے دروازے سے اندر داخل ہوئے اور سلطان نور الدین زنگی کی نظر ان کے چہروں پر پڑی، تو سلطان کا پورا وجود خوفِ خدا، حیرت اور شکر گزاری کے جذبات سے کانپ اٹھا۔ ان کے ہاتھ سے سونے کے سکے نیچے گر گئے۔
یہ بالکل وہی دو چہرے تھے! وہی گورا چٹا رنگ، وہی نیلی چمکتی ہوئی آنکھیں، وہی چہروں کی بناوٹ اور وہی حلیہ تھا جو کائنات کے امام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دمشق کی اس تاریخی رات میں تین بار اپنی مبارک انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا تھا اور فرمایا تھا کہ "محمود! مجھے ان دو کتوں سے بچاؤ۔" سلطان کے دل میں ایمان کا سمندر امڈ آیا کہ حضور ﷺ کا خواب کتنا سچا اور حق تھا!
سلطان زنگی نے اپنے جذبات اور غصے پر پورا کنٹرول رکھا، کیونکہ وہ ابھی مدینہ کے عوام اور گورنر کے سامنے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا چاہتے تھے، کیونکہ مدینہ کے لوگ ان دونوں کو بہت بڑا ولی اللہ اور صوفی سمجھتے تھے۔ سلطان نے انتہائی نرم لیکن گہری آواز میں ان سے پوچھا: "اے اللہ کے بندو! تم دونوں کون ہو؟ تمہارا وطن کہاں ہے اور تم یہاں مدینہ منورہ میں کب سے اور کس مقصد کے لیے رہ رہے ہو؟"
ان دونوں مجرموں نے، جو کہ دراصل یورپ کے سب سے خطرناک اور تربیت یافتہ جاسوس تھے، اپنے چہروں پر عاجزی اور مسکراہٹ کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، انہوں نے انتہائی میٹھی اور خالص عربی زبان میں جواب دیا:
"عالی جاہ! ہم مغرب (مراکش اور اندلس) کے رہنے والے غریب مسلمان ہیں۔ ہمارے دلوں میں حج کی تڑپ تھی، ہم یہاں بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے تھے، لیکن جب ہم مدینہ منورہ پہنچے اور روضہ رسول ﷺ کا قرب ہمیں نصیب ہوا، تو ہمارے دلوں نے کہا کہ اب اس پاک شہر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا۔ ہم نے دنیا کو خیرباد کہہ دیا ہے، اب ہم یہاں صرف نماز، روزہ، ذکرِ الٰہی اور غریبوں کی خدمت کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، ہم کسی بادشاہ کا انعام نہیں لیتے، اس لیے ہم آپ کے دربار میں حاضر نہیں ہوئے تھے، ہمیں معاف فرما دیں۔"
مدینہ کے لوگ جو وہاں موجود تھے، وہ ان کی یہ گفتگو سن کر آبدیدہ ہو گئے اور سلطان سے کہنے لگے: "سلطانِ معظم! یہ دونوں بڑے نیک انسان ہیں، مدینہ میں جب سے یہ آئے ہیں، انہوں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، بلکہ یہ تو روزانہ غریبوں کی مالی مدد کرتے ہیں اور روضہ مبارک کے پاس بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، یہ بہت بڑے زاہد ہیں۔"
سلطان نور الدین زنگی نے مدینہ کے لوگوں کی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ظاہری تقویٰ کے پیچھے باطل کا کتنا بڑا جال چھپا ہوا ہے۔ سلطان نے ان دونوں عیسائیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، وہاں عاجزی کے پیچھے ایک گہرا خوف اور مکر چھپا ہوا تھا۔ سلطان نے ان سے پوچھا: "تمہارا گزر بسر کیسے ہوتا ہے؟ تم اس مہنگے مکان کا کرایہ اور غریبوں کو پانی پلانے کے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہو؟"
انہوں نے جواب دیا: "حضور! ہم اپنے وطن سے بہت سا سونا اور مالِ تجارت ساتھ لائے تھے، ہم اسے ہی آہستہ آہستہ خرچ کرتے ہیں اور اسی سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔" سلطان زنگی نے اپنے وزیر جمال الدین کو اشارہ کیا اور فرمایا: "ان دونوں کو یہیں کڑی نگرانی میں رکھا جائے، ہم خود ان کے مکان کی تلاشی لینے کے لیے جائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کا زہد اور تقویٰ کتنا سچا ہے۔"
5. مکان کی تفصیلی تلاشی اور سنسنی خیز انکشاف
سلطان نور الدین زنگی، اپنے وزیرِ خاص، گورنر مدینہ اور اپنے بیس مسلح محافظوں کے دستے کے ساتھ مسجدِ نبوی سے نکل کر ان دونوں مغرب کے درویشوں کے مکان کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ کے عوام بھی حیرت اور تجسس کے عالم میں ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ وہ مکان روضہ رسول ﷺ کی مشرقی دیوار کے بالکل قریب، محض چند سو فٹ کے فاصلے پر واقع تھا، جو کہ ایک انتہائی سنسان اور خاموش گلی میں تھا۔
جب سلطان مکان کے لوہے کے دروازے کو کھول کر اندر داخل ہوئے، تو وہاں ظاہری طور پر واقعی زہد و تقویٰ اور درویشی کا تماشا لگا ہوا تھا۔ مکان کی کچی دیواروں پر قرآنِ پاک کی مختلف آیات اور اسمائے الٰہی بڑے خوبصورت انداز میں لکھے ہوئے تھے، ایک کونے میں مٹی کے چند پرانے برتن پڑے تھے، تلاوت کے لیے رحل اور قرآن پاک موجود تھا، اور زمین پر دو انتہائی پرانی، کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ مکان میں پہلی نظر میں کوئی بھی مشکوک چیز، کوئی ہتھیار یا کوئی ایسی چیز نظر نہیں آ رہی تھی جس سے ان پر شک کیا جا سکے۔
گورنر مدینہ نے جب یہ منظر دیکھا تو اس نے دوبارہ عاجزی سے کہا: "سلطانِ معظم! آپ خود دیکھ لیجیے، یہاں تو صرف درویشی کا سامان ہے۔ یہ بیچارے تو اللہ کے ولی لگتے ہیں، ان کے مکان میں کوئی دولت یا سازش کا سامان نہیں ہے۔ شاید آپ کو ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔"
لیکن سلطان نور الدین زنگی کا دل مطمئن نہیں تھا، کیونکہ انہیں اپنے آقا ﷺ کے فرمانِ مبارک پر کامل یقین تھا کہ "مجھے ان دو کتوں سے بچاؤ۔" سلطان نے اپنے محافظوں کو حکم دیا: "مکان کی ایک ایک انچ جگہ کو چھانو! دیواروں کو ہلا کر دیکھو، برتنوں کو الٹ پلٹ کرو، اور زمین کی مٹی کو کھود کر دیکھو کہ اس کے نیچے کیا چھپا ہوا ہے!"
محافظوں نے تلاشی شروع کر دی۔ انہوں نے کتابیں دیکھیں، برتنوں کو چیک کیا، الماریوں کی تلاشی لی، لیکن کچھ برآمد نہ ہوا۔ سلطان زنگی خود کمرے کے اندر گھومنے لگے۔ اچانک ان کی نظر اس جگہ پر پڑی جہاں وہ دو پرانی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں جن پر وہ دونوں بیٹھ کر رات بھر 'عبادت' کا ڈرامہ کرتے تھے۔ سلطان آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے ان دونوں چٹائیوں کو ایک ہی جھٹکے میں زور سے اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔
جیسے ہی وہ چٹائیاں ہٹیں، نیچے کی کچی مٹی کے بجائے لکڑی کا ایک بہت بڑا، بھاری اور چورس تختہ (Wooden Plank) نظر آیا۔ وہ تختہ زمین کے اندر اس طرح فٹ کیا گیا تھا کہ عام نظر اس کا اندازہ نہیں لگا سکتی تھی۔ یہ منظر دیکھتے ہی کمرے میں موجود گورنر اور چوکیداروں کے سانس رک گئے۔ سلطان زنگی کے چہرے پر ایک جلال آ گیا، انہوں نے گرج کر فرمایا: "محافظو! آگے بڑھو اور اس لکڑی کے تختے کو اسی وقت یہاں سے اکھاڑ پھینکو!"
دو طاقتور محافظوں نے آگے بڑھ کر کلہاڑیوں اور لوہے کے راڈز کے ذریعے اس لکڑی کے تختے کو زور لگا کر اٹھایا۔ جیسے ہی وہ بھاری تختہ زمین سے الگ ہوا، اس کے نیچے کا اندوہناک اور ہولناک منظر دیکھ کر پورے کمرے میں موجود مسلمانوں کے جسموں میں جھرجھری دوڑ گئی اور ان کی چیخیں نکل گئیں۔
اس تختے کے نیچے زمین کے اندر ایک بہت گہرا، اندھیرا اور باقاعدہ بنایا گیا غار یعنی ایک خفیہ سرنگ (Secret Tunnel) نظر آ رہی تھی! وہ سرنگ زمین کے نیچے نیچے سیدھی روضہ رسول ﷺ کی اس مقدس دیوار کی طرف جا رہی تھی جہاں کائنات کے تاجدار آرام فرما رہے تھے۔ اس سرنگ کے دہانے پر مٹی کھودنے کے جدید اور تیز دھار اوزار، لوہے کے بیلچے، کلہاڑیاں، ٹوکریاں، مٹی اٹھانے والے چمڑے کے بڑے بڑے تھیلے اور رات کے وقت روشنی کے لیے استعمال ہونے والی مشعلیں اور موم بتیاں بکھری پڑی تھیں۔
یہ ایک ایسا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا انکشاف تھا جس نے مدینہ کے گورنر اور عوام کے ہوش اڑا دیے۔ وہ نیک درویش جنہیں پورا شہر ولی اللہ سمجھ رہا تھا، وہ دراصل زمین کے نیچے نیچے کائنات کی سب سے بڑی اور ہولناک ترین دہشت گردی اور گستاخی کا جال بن رہے تھے! سلطان نور الدین زنگی نے جب اس سرنگ کو دیکھا، تو ان کی آنکھوں سے غصے اور صدمے کے آنسو جاری ہو گئے، اور اب وقت آ چکا تھا کہ ان دونوں ناپاک عیسائی جاسوسوں کو ان کے عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے
پارٹ 4 (آخری حصہ): عبرت ناک اعتراف، سیسہ پلائی دیوار کی تعمیر اور سلطانِ عادل کا لازوال انجام
1. عیسائی جاسوسوں کا اعترافِ جرم اور بین الاقوامی سازش کا انکشاف
مکان کے اندر سے خفیہ سرنگ، مٹی کھودنے کے اوزار اور چمڑے کے تھیلے برآمد ہونے کے بعد، مدینہ منورہ کے گورنر، چوکیداروں اور عام شہریوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ لوگ جو چند منٹ پہلے ان دونوں عیسائیوں کو بہت بڑا ولی اللہ اور زاہد سمجھ رہے تھے، اب غصے اور صدمے سے ان کا خون کھول رہا تھا۔ سلطان نور الدین زنگی نے غصے اور جلال کی حالت میں محافظوں کو حکم دیا: "ان دونوں مکاروں کو اسی وقت گھسیٹتے ہوئے اس سرنگ کے پاس لایا جائے!"
شاہی محافظین ان دونوں عیسائی جاسوسوں کو زنجیروں میں جکڑ کر مکان کے اندر لے آئے۔ جب ان دونوں مکاروں نے دیکھا کہ اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی، ان کی کھودی ہوئی سرنگ اور اوزار سب کے سامنے آ چکے ہیں، اور سلطان زنگی کی تلوار ان کی گردنوں پر چمک رہی ہے، تو ان کے چہروں کا جھوٹا زہد غائب ہو گیا اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگے۔ انہوں نے روتے ہوئے، رحم کی بھیک مانگتے ہوئے اپنے اصل جرم اور دنیا کی اس سب سے بڑی خفیہ سازش کا اعتراف کر لیا۔
انہوں نے کانپتی ہوئی آواز میں بتایا:
"سلطان! ہم مسلمان نہیں ہیں، بلکہ ہم عیسائی ہیں اور ہمارا تعلق یورپ (اندلس اور روم) سے ہے۔ ہمیں یورپ کے پادریوں، عیسائی بادشاہوں اور صلیبی رہنماؤں نے ایک انتہائی خفیہ اور بین الاقوامی مشن پر مدینہ منورہ بھیجا تھا۔ انہوں نے ہمیں کثیر مقدار میں سونا، جواہرات اور رقم دی تھی تاکہ ہم بھیس بدل کر مسلمانوں کے مقدس ترین شہر میں داخل ہو سکیں۔ ہمارا اصل مقصد یہ تھا کہ ہم روضہ رسول ﷺ کے بالکل قریب مکان لیں، اور دن کے وقت زہد و تقویٰ کا ڈرامہ کریں تاکہ کسی کو شک نہ ہو، اور رات کے اندھیرے میں زمین کے نیچے سے سرنگ کھودنا شروع کریں۔"
انہوں نے مزید ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا:
"ہم روزانہ رات کو اس تختے کو ہٹا کر اندر جاتے تھے اور کئی گھنٹے مٹی کھودتے تھے۔ اس مٹی کو ہم چمڑے کے مخصوص تھیلوں میں بھرتے تھے، اور اگلے دن جب ہم لوگوں کو پانی پلانے یا جنت البقیع میں زیارت کے لیے جاتے تھے، تو وہاں قبروں کے درمیان اس مٹی کو آہستہ آہستہ پھیلا دیتے تھے تاکہ مدینہ میں کسی کو شک نہ ہو کہ یہ مٹی کہاں سے آ رہی ہے۔ ہم پچھلے کئی مہینوں سے یہ کام کر رہے تھے، اور ہماری یہ سرنگ زمین کے نیچے نیچے بالکل روضہ مبارک کی اصلی دیوار کے قریب پہنچ چکی تھی- اگر آپ دمشق سے یہاں نہ پہنچتے، تو آج رات یا کل رات ہمارا مشن مکمل ہونے والا تھا اور ہم معاذ اللہ، حضرت محمد ﷺ کے جسدِ مبارک کو زمین کے نیچے سے نکال کر خفیہ راستے سے ساحلِ سمندر پر کھڑے عیسائی بحری جہاز کے ذریعے یورپ لے جانے والے تھے، تاکہ مسلمانوں کا غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائے- لیکن ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری اس خفیہ سازش کی خبر دمشق میں بیٹھے آپ کو کس نے دی؟"
2. مجرموں کو سرِعام عبرت ناک سزا
ان دونوں جاسوسوں کا یہ ہولناک اور دل دہلا دینے والا اعتراف سن کر پورے کمرے میں موجود مسلمانوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ غصے سے چلانے لگے۔ سلطان نور الدین زنگی روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کے سامنے کھڑے ہو کر زار و قطار رو پڑے، ان کا پورا جسم سسکیاں لے رہا تھا، انہوں نے روتے ہوئے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ اس گنہگار محمود کی کتنی بڑی خوش قسمتی ہے کہ آپ ﷺ نے دمشق کے محل میں سوئے ہوئے اس عاجز بندے کو اپنی مدد کے لیے یاد فرمایا، اور اللہ نے مجھے وقت پر پہنچا کر اس ناپاک سازش کو ناکام کرنے کا شرف عطا فرمایا۔"
سلطان زنگی نے اسی وقت مدینہ کے قاضی اور علماء کو بلایا اور شریعتِ اسلامیہ کے مطابق ان دونوں عیسائی جاسوسوں کے لیے موت کی سزا کا حکم صادر فرمایا۔ اگلے دن صبح، مسجدِ نبوی کے باہر مدینہ کے سب سے بڑے بازار میں پورے شہر کی عوام کو اکٹھا کیا گیا۔ ان دونوں مکار عیسائیوں کو، جنہوں نے اسلام کے مرکز پر اتنا بڑا وار کرنے کی کوشش کی تھی، سرِعام پھانسی دے دی گئی اور ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔
سلطان نے صرف ان کو سزا دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے حکم دیا کہ ان کے ناپاک وجود کو زمین کے اندر دفن نہ کیا جائے کیونکہ زمین ان کے ناپاک جسموں کو قبول نہیں کرے گی۔ ان کی لاشوں کو ایک بہت بڑے گڑھے میں ڈال کر آگ لگا دی گئی اور انہیں جلا کر راکھ کر دیا گیا، تاکہ قیامت تک کے لیے یورپ اور عیسائی دنیا کو یہ پیغام مل جائے کہ مسلمانوں کا ایمان اور ان کے نبی ﷺ کی محبت ابھی زندہ ہے، اور جو بھی اسلام کے مراکز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، اس کا انجام یہی ہوگا۔
3. روضہ رسول ﷺ کے گرد سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی تعمیر (تکنیکی احوال)
عیسائی جاسوسوں کے خاتمے کے بعد، سلطان نور الدین زنگی کے سامنے جو سب سے بڑا چیلنج تھا، وہ یہ تھا کہ مستقبل میں ایسی کسی بھی پوشیدہ سازش کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے، کیونکہ عیسائیوں کے دلوں میں یہ ناپاک خواہش موجود تھی اور وہ دوبارہ بھی بھیس بدل کر ایسی کوشش کر سکتے تھے۔ اس مقصد کے لیے سلطان زنگی نے ایک ایسا عماراتی اور عسکری کارنامہ سرانجام دیا جو دنیا کی انجینئرنگ کی تاریخ میں امر ہو گیا۔
سلطان نے حجاز اور شام کے سب سے ماہر معماروں (Architects)، لوہاروں اور کاریگروں کو مدینہ منورہ میں اکٹھا کیا۔ انہوں نے روضہ رسول ﷺ کے چاروں طرف، یعنی اس پورے احاطے کے گرد زمین کو کھودنے کا حکم دیا۔ معماروں نے روضہ مبارک سے ایک محفوظ فاصلے پر زمین کی کھدائی شروع کی۔ یہ کھدائی کوئی عام کھدائی نہیں تھی، بلکہ اسے زمین کے اندر اتنا گہرا کھودا گیا کہ کاریگر کھودتے کھودتے زمین کے اس آخری حصے تک پہنچ گئے جہاں سے پانی کی لہریں اور چشمے نکل آئے، یعنی زمین کی چٹانیں نمودار ہو گئیں۔
جب یہ گہری خندق (Trench) روضہ مبارک کے چاروں طرف مکمل ہو گئی، تو سلطان زنگی نے بیت المال کے خزانے سے ٹنوں کے حساب سے خالص تانبا (Copper) اور سیسہ (Lead) منگوایا۔ مدینہ منورہ کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر دھاتوں کو پگھلانے کا کام شروع ہوا۔ روضہ مبارک کے مضافات میں بڑے بڑے کڑھاؤ اور بھٹیاں لگائی گئیں، جن میں تانبے اور سیسے کو شدید آگ پر پگھلا کر سرخ گرم مائع (Liquid) کی شکل دی گئی۔
جب یہ دھاتیں مکمل طور پر پگھل گئیں، تو کاریگروں نے اس پگھلے ہوئے سرخ گرم سیسے کو روضہ مبارک کے گرد کھودی گئی اس گہری خندق کے اندر ڈالنا شروع کیا۔ یہ پگھلا ہوا سیسہ زمین کے اندر کی چٹانوں اور مٹی کے ذرات کے اندر اس طرح جذب ہو گیا کہ جب وہ ٹھنڈا ہوا، تو وہ زمین کے نیچے سے لے کر اوپر تک ایک ٹھوس، فولادی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار (Liquid Lead Wall) بن گیا۔
یہ دیوار اتنی موٹی، گہری اور مضبوط ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج جدید دور میں بھی اگر کوئی شخص زمین کے نیچے سے بڑی بڑی لوہے کی مشینوں اور ڈرلنگ سسٹم کے ساتھ بھی سرنگ کھودنا چاہے، تو وہ اس سیسے کی دیوار کو نہیں توڑ سکتا۔ سلطان نور الدین زنگی کی اس عسکری اور ایمانی بصیرت نے روضہ مبارک کو قیامت تک کے لیے ہر قسم کی زمینی اور زیرِ زمین سازشوں سے محفوظ کر دیا۔ اسی عظیم الشان کارنامے کی بدولت تاریخ نے سلطان محمود زنگی کو "محافظِ روضہ رسول ﷺ" کا وہ ابدی لقب دیا جو آج تک کسی اور حکمران کے حصے میں نہیں آیا۔
4. سلطان کی دیگر عسکری مہمات اور بیت المقدس کی آزادی کی بنیاد
مدینہ منورہ کے اس تاریخی واقعے کے بعد سلطان نور الدین زنگی کی روحانی طاقت اور عزم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ واپس دمشق پہنچے اور اپنی زندگی کا آخری اور سب سے بڑا مقصد پورا کرنے میں مصروف ہو گئے، جو کہ بیت المقدس (مسجدِ اقصی) کو صلیبیوں کے ناپاک قبضے سے آزاد کروانا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دو محاذوں پر کام کیا: ایک شام کی سرحدوں کی حفاظت اور دوسرا مصر کا الحاق۔
اس وقت مصر میں فاطمی سلطنت کا آخری دور تھا اور وہاں کے وزراء عیسائیوں کے ساتھ مل کر شام کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔ سلطان زنگی جانتے تھے کہ جب تک مصر کو عیسائیوں کے اثر سے پاک نہیں کیا جائے گا، بیت المقدس کو فتح کرنا ناممکن ہوگا۔ انہوں نے اپنے سب سے بہترین اور وفادار جرنیل اسد الدین شیر کوہ اور ان کے نوجوان بھتیجے صلاح الدین ایوبی کو ایک مضبوط لشکر کے ساتھ مصر بھیجا۔
کئی سالوں کی کٹھن عسکری مہمات اور جنگوں کے بعد، ۱۱۶۹ء میں مسلمانوں نے مصر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ مصر دوبارہ بغداد کی خلافتِ عباسیہ سے جڑ گیا اور وہاں کا انتظام صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ میں آ گیا۔ یہ سلطان نور الدین زنگی کی سب سے بڑی سیاسی فتح تھی، کیونکہ اب صلیبی عیسائیوں کی ریاستیں شام اور مصر کے دو بڑے اسلامی حصوں کے درمیان میں گھیر چکی تھیں اور ان کا خاتمہ اب صرف وقت کی بات تھی۔
5. سلطانِ عادل کی وفات اور لازوال میراث
سلطان نور الدین محمود زنگی نے ۲۸ سال تک مسلمانوں کی حکومت سنبھالی۔ ان ۲۸ سالوں میں انہوں نے ایک دن بھی آرام نہیں کیا، وہ یا تو میدانِ جنگ میں گھوڑے کی پیٹھ پر ہوتے تھے، یا عدالت میں غریبوں کو انصاف فراہم کر رہے ہوتے تھے، یا مساجد میں اللہ کے حضور رو رہے ہوتے تھے۔ ان کی اس مسلسل محنت اور مجاہدانہ زندگی نے ان کی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔
مئی ۱۱۷۴ء (۵۶۹ ہجری) میں، جب ان کی عمر ۵۶ سال تھی، انہیں گلے کا ایک شدید انفیکشن (Throat Infection / دیفتھریا) ہوا، جس کی وجہ سے انہیں تیز بخار ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام اور جنگی مہمات سے دور رہنے کا مشورہ دیا، لیکن سلطان آخری وقت تک سلطنت کے سرکاری کاغذات اور مظلوموں کی فریادیں سنتے رہے۔ بالآخر، عدل، جہاد اور عشقِ رسول ﷺ کا یہ چمکتا ہوا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور سلطان زنگی نے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی وفات کی خبر سن کر پورے عالمِ اسلام میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ دمشق اور حلب کے بازار بند ہو گئے اور لوگ گلیوں میں یتیم بچوں کی طرح رو رہے تھے کہ "آج ہمارا عادل باپ دنیا سے رخصت ہو گیا-" یہاں تک کہ ان کے कट्टर دشمن، عیسائی بادشاہوں نے بھی ان کی موت پر تاریخی جملے لکھے کہ "آج دنیا سے ایک ایسا سچا بادشاہ چلا گیا جس کا عدل اور شجاعت بے مثال تھی، اور جس نے کبھی دھوکے سے جنگ نہیں جیتی۔" انہیں دمشق میں ان کے قائم کردہ مدرسہ نوریہ کے احاطے میں دفن کیا گیا، جہاں ان کا مزار آج بھی مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔
سلطان نور الدین زنگی اگرچہ اپنی زندگی میں مسجدِ اقصی کو آزاد نہیں دیکھ سکے، لیکن ان کے تیار کردہ روحانی اور عسکری شاگرد سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان کی وفات کے ٹھیک ۱۳ سال بعد، ۱۱۸۷ء میں معرکہ حطین کے ذریعے بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کروایا۔ اور جب صلاح الدین ایوبی مسجدِ اقصی کے اندر داخل ہوئے، تو انہوں نے نور الدین زنگی کا وہ خواب پورا کیا جو انہوں نے حلب کے کاریگروں سے ایک عالی شان منبر بنوا کر دیکھا تھا- صلاح الدین ایوبی وہ منبر دمشق سے منگوا کر مسجدِ اقصی میں نصب کیا، جو اس بات کی گواہی تھا کہ بیت المقدس کی آزادی کی اصل بنیاد نور الدین زنگی نے ہی رکھی تھی۔
6. حاصلِ کلام: بلاگ کے قارئین کے لیے پیغام
سلطان نور الدین زنگی کی پوری زندگی جدید دور کے مسلمانوں اور حکمرانوں کے لیے ایک کھلا سبق ہے۔ ان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی محلوں کی زرق برق، پروٹوکول، دولت کی فراوانی یا بڑی بڑی فوجوں سے نہیں ملتی، بلکہ کامیابی تقویٰ، بے لاگ انصاف، اور اللہ کے رسول ﷺ سے سچی اور عملی محبت سے ملتی ہے۔
جب کوئی حکمران اپنی ذات کو مٹا کر، سرکاری خزانے کو مسلمانوں کی امانت سمجھ کر شریعت کا نظام قائم کرتا ہے، تو کائنات کا مالک غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے، یہاں تک کہ خود سید الانبیاء ﷺ خواب میں آ کر اس کا نام لے کر اسے پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو دوبارہ نور الدین زنگی جیسا عادل اور سچا مجاہد حکمران عطا فرمائے۔ آمین!
امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کردیں
اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments
Post a Comment