سلطان محمد فاتح: وہ عظیم فاتح جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا💚👉

 


سلطان محمد فاتح: قسطنطنیہ کی تسخیر، عسکری مہمات، الٰہی بشارت اور سلطنتِ عثمانیہ کا سنہری دور (مکمل انسائیکلوپیڈیا)

​باب اول: خاندانی پس منظر اور سلطنتِ عثمانیہ کا سیاسی منظرنامہ

​1.1 عثمانی سلطنت کا تاریخی ارتقاء

​سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد تیرہویں صدی کے آخر میں غازی عثمان اول نے اناطولیہ (موجودہ ترکی) کی سرزمین پر رکھی تھی۔ ایک چھوٹی سی چوہدراہٹ یا بیلک (Beylik) سے شروع ہونے والی یہ ریاست دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی طاقتور سلطنت میں تبدیل ہو گئی جس نے بازنطینی سلطنت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ عثمان غازی کے بعد ان کے بیٹے اورخان غازی، پھر سلطان مراد اول، اور پھر سلطان بایزید یلدرم نے سلطنت کی حدود کو یورپ (بلقان) تک پھیلا دیا۔

​1402ء میں جنگِ انقرہ میں امیر تیمور کے ہاتھوں سلطان بایزید یلدرم کی شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ ایک شدید بحران اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئی جسے "دورِ فترت" (Interregnum) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں بایزید کے بیٹوں نے تخت کے لیے آپس میں جنگیں لڑیں۔ یہ عثمانی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا جہاں ایسا لگتا تھا کہ یہ سلطنت اب ختم ہو جائے گی۔ لیکن سلطان محمد اول (سلطان محمد فاتح کے دادا) نے اپنی سیاسی بصیرت اور عزم سے سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔ ان کے بعد سلطان مراد ثانی (سلطان محمد فاتح کے والد) تخت نشین ہوئے، جنہوں نے سلطنت کو مزید استحکام بخشا اور عثمانی فوج کو دنیا کی جدید ترین فوج میں تبدیل کیا۔

​1.2 سلطان مراد ثانی کا دورِ حکومت اور چیلنجز

​سلطان مراد ثانی ایک صوفی منش، عادل اور انتہائی بہادر حکمران تھے۔ ان کا دورِ حکومت عیسائی دنیا کے خلاف مسلسل جہاد اور اندرونی بغاوتوں کو کچلنے میں گزرا۔ مغرب میں ہنگری کے بادشاہ ہنیاڈی (John Hunyadi) اور پوپ کی قیادت میں صلیبی لشکر مسلسل عثمانی حدود پر حملے کر رہے تھے، جبکہ مشرق میں اناطولیہ کی دیگر ترک بیلیکس، خصوصاً قرمان کے حکمران، عثمانیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔

​سلطان مراد ثانی نے ان تمام محاذوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن مسلسل جنگوں، اپنے قریبی وزراء کی سازشوں اور سب سے بڑھ کر اپنے چہیتے اور بڑے بیٹے شہزادہ علاؤ الدین کی ناگہانی وفات نے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچایا۔ وہ دنیاوی شان و شوکت اور سیاست سے بدظن ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ حکومت کسی اور کے حوالے کر کے خود گوشہ نشینی اختیار کر لیں اور اللہ کی عبادت میں وقت گزاریں۔ یہی وہ سیاسی اور نفسیاتی پس منظر تھا جس کے دوران شہزادہ محمد (سلطان محمد فاتح) کی ولادت اور تربیت ہوئی۔

​1.3 سلطان محمد فاتح کی ولادتِ باسعادت

​سلطان محمد ثانی 30 مارچ 1432ء کو ادرنہ (Edirne) کے شاہی محل میں پیدا ہوئے۔ ادرنہ اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا دارالحکومت اور عسکری مہمات کا مرکز تھا۔ ان کی والدہ کا نام ہما خاتون تھا، جو ایک نہایت پارسا اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ شہزادہ محمد کی پیدائش کے وقت سلطنتِ عثمانیہ اپنے عروج کی طرف گامزن تھی، لیکن قسطنطنیہ کا عیسائی شہر اب بھی عثمانی مقبوضات کے عین وسط میں ایک جزیرے کی طرح قائم تھا، جو عثمانیوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا۔

​بچپن میں شہزادہ محمد عام شہزادوں کی طرح نہیں تھے۔ ان کے چہرے پر ایک خاص جلال اور آنکھوں میں ایک گہرا عزم جھلکتا تھا۔ تاہم، وہ شروع میں کافی ضدی اور پڑھائی کے معاملے میں لاپرواہ تھے، جس نے سلطان مراد ثانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس بچے کے کندھوں پر مستقبل میں ایک بہت بڑی سلطنت کا بوجھ آنے والا ہے۔

​باب دوم: ابتدائی زندگی، بے مثال تربیت اور استادِ محترم کا کردار

​2.1 شہزادہ محمد کی باغیانہ طبیعت اور ملا گورانی کی آمد

​شہزادہ محمد اپنے بچپن کے ابتدائی ایام میں اساتذہ کی بات سننے اور پڑھنے لکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ وہ محل کے اساتذہ کو اپنی شہزادگی کے رعب کی وجہ سے خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ جب سلطان مراد ثانی نے دیکھا کہ روایتی اساتذہ شہزادے کی تربیت کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، تو انہوں نے اس وقت کے سب سے جلیل القدر، سخت گیر اور نڈر عالمِ دین ملا احمد گورانی کو ادرنہ طلب کیا۔

​سلطان مراد ثانی نے ملا گورانی کو ایک چھڑی دی اور تاریخی جملہ کہا:

​"یہ لڑکا میرا بیٹا ضرور ہے، لیکن یہ سلطنت کا مستقبل ہے۔ اگر یہ آپ کی بات نہ سنے، تو آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ اس کی جسمانی تنبیہ (پٹائی) بھی کر سکتے ہیں۔"


​ملا گورانی جب پہلی بار شہزادہ محمد کے سامنے گئے، تو انہوں نے ہاتھ میں چھڑی لے رکھی تھی۔ شہزادہ محمد نے ہمیشہ کی طرح لاپرواہی کا اظہار کیا، جس پر ملا گورانی نے بنا کسی خوف کے شہزادے کو سخت سزا دی اور واضح کر دیا کہ عدالتِ علم میں کوئی شہزادہ نہیں ہوتا، بلکہ سب طالب علم ہوتے ہیں۔ اس واقعے نے شہزادہ محمد کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے سامنے کوئی معمولی استاد نہیں، بلکہ ایک سچا الٰہی عالم کھڑا ہے۔ اس دن کے بعد سے شہزادہ محمد نے خود کو مکمل طور پر علم کے لیے وقف کر دیا۔

​2.2 علمی و لسانی کمالات

​ملا گورانی کی زیرِ نگرانی شہزادہ محمد نے حیرت انگیز رفتار سے علوم حاصل کیے۔ انہوں نے چند ہی سالوں میں قرآنِ پاک حفظ کیا، احادیث کا گہرا مطالعہ کیا اور فقہ اسلامی پر مہارت حاصل کی۔

​سلطان محمد فاتح کی علمی پیاس کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے صرف اسلامی علوم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ دنیا کی تاریخ، جغرافیہ اور سائنس کے دیوانے بن گئے۔ انہوں نے درج ذیل زبانوں پر اتنی مہارت حاصل کی کہ وہ ان میں نہ صرف گفتگو کر سکتے تھے بلکہ علمی بحثیں بھی کرتے تھے:

  • ترکی: مادری زبان۔
  • عربی اور فارسی: اسلامی علوم، شاعری اور شاہی خط و کتابت کے لیے۔
  • لاطینی اور یونانی: مغربی تاریخ، فلسفہ اور عیسائی دنیا کی سیاست کو براہِ راست سمجھنے کے لیے۔
  • سربین اور اطالوی: بلقان اور یورپی ریاستوں کے ساتھ سفارتی امور کے لیے۔

​وہ سکندرِ اعظم، جولیس سیزر اور دنیا کے بڑے بڑے فاتحین کی سوانح عمریوں کا راتوں کو اٹھ اٹھ کر مطالعہ کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ تاریخ کا علم حاصل کیے بغیر کوئی شخص اچھا جرنیل نہیں بن سکتا۔

​2.3 روحانی مربی: حضرت آق شمس الدین اور فتحِ قسطنطنیہ کا خواب

​اگر ملا گورانی نے محمد کو علم سکھایا، تو حضرت آق شمس الدین نے ان کی روح کو تراشا۔ حضرت آق شمس الدین ملوامِ نقشبندیہ اور چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ، حاجی بائرام ولی کے خلیفہ اور اپنے وقت کے بہت بڑے طبیب (Physician) بھی تھے۔ انہوں نے شہزادہ محمد کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی اس حدیثِ مبارکہ کی محبت کو اس طرح کوٹ کوٹ کر بھر دیا کہ وہ ان کا مقصدِ حیات بن گئی:

​لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ فَلَنِعْمَ الأَمِيرُ أَمِيرُهَا وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ

"تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، پس کتنا بہترین امیر ہوگا وہ امیر، اور کتنا بہترین ہوگا وہ لشکر۔"


​حضرت آق شمس الدین اکثر شہزادہ محمد کو آبنائے باسفورس کے کنارے لے جاتے، جہاں سے دور قسطنطنیہ کی ناخابلِ تسخیر دیواریں نظر آتی تھیں، اور ان کی طرف اشارہ کر کے کہتے:

​"محمد! دیکھو وہ سامنے جو شہر ہے، اسے تم نے فتح کرنا ہے۔ تم ہی وہ امیر ہو جس کی خوشخبری آقا دو جہاں ﷺ نے دی تھی۔ اپنی راتوں کی نیندیں حرام کر دو، اپنے وجود کو اس مقصد کے لیے وقف کر دو۔"


​یہ الفاظ شہزادہ محمد کے دل و دماغ پر نقش ہو گئے۔ وہ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے صرف قسطنطنیہ کے نقشے بناتے اور اس کی دیواروں کو توڑنے کی تدبیریں سوچتے تھے۔

​باب سوم: پہلی تخت نشینی، جنگِ وارنا اور سیاسی پختگی

​3.1 12 سال کی عمر میں سلطنت کا بوجھ (1444ء)

​1444ء میں سلطان مراد ثانی نے اپنے بڑے بیٹے کی وفات کے بعد شدید اداسی کے عالم میں سلطنت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے ادرنہ میں تمام وزراء اور فوج کے سامنے صرف 12 سالہ شہزادہ محمد کو سلطنتِ عثمانیہ کا نیا سلطان نامزد کر دیا اور خود اناطولیہ کے ایک دور دراز قصبے (مانیسا) میں گوشہ نشین ہو گئے۔

​ایک 12 سالہ بچے کا اتنی بڑی سلطنت کے تخت پر بیٹھنا عثمانی تاریخ کا ایک نازک ترین تجربہ تھا۔ سلطنت کے وزیرِ اعظم خلیل پاشا اس فیصلے کے شدید خلاف تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عثمانی فوج کے جری دستے، خصوصاً انکشاریہ (Janissaries)، ایک بچے کی فرمانبرداری آسانی سے نہیں کریں گے۔

​3.2 صلیبی دنیا کا حملہ اور نوجوان سلطان کا تاریخی خط

​جب یورپ کے عیسائی سلاطین، پوپ اور ہنگری کے بادشاہ کو معلوم ہوا کہ عثمانی سلطنت کا حکمران اب ایک 12 سالہ بچہ ہے، تو انہوں نے اس سنہری موقعے کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ماضی کے تمام امن معاہدوں کو یکطرفہ طور پر توڑ دیا اور ایک بہت بڑا صلیبی لشکر تیار کیا جس کا مقصد عثمانیوں کو یورپ سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کرنا اور ایڈریانوپل (ادرنہ) پر قبضہ کرنا تھا۔

​سلطنتِ عثمانیہ کے دارالحکومت میں افراتفری مچ گئی۔ انکشاری فوج نے بغاوت کے تیور دکھائے۔ اس نازک ترین صورتحال میں سلطنت کے تجربہ کار وزیر خلیل پاشا نے نوجوان سلطان محمد پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے والد سلطان مراد ثانی کو واپس بلائیں۔ نوجوان محمد نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھا اور اپنے والد کو ایک خط لکھا۔ جب سلطان مراد ثانی نے واپس آنے سے انکار کیا اور کہا کہ "تم اب سلطان ہو، اپنے ملک کا دفاع خود کرو"، تو نوجوان محمد نے عثمانی تاریخ کا سب سے مشہور اور تاریخی خط اپنے والد کو ارسال کیا:

​"اگر آپ سلطان ہیں، تو تشریف لائیے اور اپنی فوج کی کمان سنبھالیے کیونکہ آپ کی سلطنت پر دشمن کا حملہ ہو چکا ہے۔ اور اگر میں سلطان ہوں، تو میں اپنی رعایا اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ فوری طور پر تشریف لائیں اور میری فوج کی قیادت سنبھالیں!"


​3.3 جنگِ وارنا اور سلطان مراد ثانی کی واپسی

​اس خط نے سلطان مراد ثانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بیٹے کی اس سیاسی پختگی اور جراتِ رندانہ سے بے حد متاثر ہوئے اور فوری طور پر ادرنہ پہنچے۔ انہوں نے عثمانی فوج کی کمان سنبھالی اور 10 نومبر 1444ء کو جنگِ وارنا (Battle of Varna) میں عیسائیوں کے عظیم صلیبی لشکر کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ یورپ صدیوں تک اس کا صدمہ نہ بھول سکا۔ ہنگری کا بادشاہ ولاڈیسلاو اس جنگ میں مارا گیا اور عثمانی سلطنت کا پرچم بلقان میں دوبارہ پوری آب و تاب سے لہرانے لگا۔

​اس جنگ کے بعد، سلطان مراد ثانی نے محسوس کیا کہ سلطنت کو ابھی مزید کچھ عرصہ ان کے تجربے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے نوجوان محمد کو دوبارہ ولی عہد بنا کر مانیسا کا گورنر مقرر کیا تاکہ وہ وہاں جا کر انتظامی امور کا عملی تجربہ حاصل کر سکیں، اور خود دوبارہ تخت سنبھال لیا۔ مانیسا میں گزارے گئے یہ سال شہزادہ محمد کے لیے ایک بہترین درسگاہ ثابت ہوئے، جہاں انہوں نے ایک ریاست کو چلانے کے تمام مصلحت آمیز طریقے سیکھے۔

باب چہارم: دوسری تخت نشینی اور قسطنطنیہ کی فتح کا عظیم منصوبہ (1451ء)

​4.1 سلطان مراد ثانی کی وفات اور محمد ثانی کی خودمختار حکومت

​3 فروری 1451ء کو سلطان مراد ثانی اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کی خبر ملتے ہی شہزادہ محمد نے مانیسا سے ادرنہ کی طرف تیز رفتار سفر کیا اور 19 سال کی عمر میں دوسری بار سلطنتِ عثمانیہ کے تخت پر متمکن ہوئے۔ اب وہ بارہ سال کے ناپختہ ذہن بچے نہیں تھے، بلکہ جنگ و جدل کے تجربات سے گزرے ہوئے، دنیا کی چھ بڑی زبانوں کے ماہر اور ایک پکے عزم کے مالک نوجوان تھے۔

​یورپ کے عیسائی حکمرانوں نے ایک بار پھر غلط فہمی کا شکار ہو کر خوشیاں منائیں۔ انہوں نے سوچا کہ نیا سلطان نوجوان ہے اور وہ سلطنت کے اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات سے نمٹ نہیں پائے گا۔ بازنطینی سلطنت کے آخری شہنشاہ قسطنطین یازدہم (Constantine XI) نے تو یہاں تک حماقت کی کہ سلطان محمد فاتح کو دھمکی آمیز خط بھیجا، جس میں عثمانی شہزادے اورخان (جو بازنطینیوں کی قید میں تھا) کے اخراجات کے لیے مقررہ رقم میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا اور رقم نہ ملنے کی صورت میں اورخان کو عثمانی تخت کے دعویدار کے طور پر آزاد کرنے کی دھمکی دی گئی۔ سلطان محمد فاتح نے اس خط کا جواب انتہائی تحمل سے دیا، لیکن ان کے ذہن میں بازنطینیوں کا کھیل ختم کرنے کا فیصلہ حتمی ہو چکا تھا۔

​4.2 قسطنطنیہ: ایک ناخابلِ تسخیر قلعہ

​قسطنطنیہ دنیا کا سب سے زیادہ محاصرہ کیا جانے والا شہر تھا۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن ایسی تھی کہ اسے قدرتی قلعہ کہا جا سکتا تھا۔ شہر ایک تکون (Triangle) کی شکل میں تھا جس کے دو حصے سمندر سے گھرے ہوئے تھے:

  1. جنوب میں بحیرہ مرمرہ (Sea of Marmara): جہاں تیز سمندری لہروں اور چٹانوں کی وجہ سے بحری جہازوں کا لنگر انداز ہونا یا حملہ کرنا ناممکن تھا۔
  2. شمال میں خلیجِ شاخِ زریں (Golden Horn): یہ ایک محفوظ ترین قدرتی بندرگاہ تھی، جس کے دہانے پر بازنطینیوں نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوہے کی ایک عظیم الشان زنجیر باندھ رکھی تھی تاکہ کوئی بھی بیرونی جہاز اس خلیج میں داخل نہ ہو سکے۔
  3. مغرب میں خشکی کا راستہ: یہ وہ راستہ تھا جہاں سے شہر پر حملہ ہو سکتا تھا، لیکن یہاں تھیوڈوسین دیواریں (Theodosian Walls) قائم تھیں، جو ایک ہزار سال سے دنیا کی سب سے مضبوط قلعہ بندی مانی جاتی تھیں۔

​یہ دیواریں دوہری اور تہری تہوں پر مشتمل تھیں۔ سب سے پہلے ایک 60 فٹ چوڑی اور 20 فٹ گہری خندق تھی جو پانی سے بھری رہتی تھی۔ اس کے بعد ایک اندرونی اور بیرونی دیوار تھی جس کی اونچائی 40 سے 50 فٹ تھی اور ان پر ہر چند گز کے فاصلے پر مضبوط برج (Towers) بنے ہوئے تھے جہاں بازنطینی تیر انداز اور آتشیں اسلحہ نصب تھا۔ ماضی میں مسلمانوں نے اموی دور میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قیادت میں اور عباسی و عثمانی دور میں کئی بار اس شہر کا محاصرہ کیا، لیکن ان دیواروں کو توڑنا ناممکن ثابت ہوا تھا۔

​4.3 رومیلی حصار کی تعمیر: ناکہ بندی کا آغاز

​سلطان محمد فاتح جانتے تھے کہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کا رابطہ باقی دنیا سے کاٹنا ضروری ہے۔ عیسائی دنیا خصوصاً جینوآ (Genoa) اور وینس (Venice) کے جہاز بحیرہ اسود (Black Sea) کے راستے قسطنطنیہ کو اناج اور ہتھیار سپلائی کرتے تھے۔

​سلطان نے آبنائے باسفورس کے سب سے تنگ مقام پر، جہاں ان کے دادا سلطان بایزید نے "اناطولی حصار" بنوایا تھا، اس کے بالکل سامنے یورپی ساحل پر ایک نئے اور عظیم الشان قلعے کی تعمیر کا حکم دیا جسے "رومیلی حصار" (Rumeli Hisarı) کہا جاتا ہے۔ بازنطینی شہنشاہ نے اس تعمیر پر شدید احتجاج کیا، لیکن سلطان نے اسے مسترد کر دیا۔

​سلطان نے خود اس قلعے کا نقشہ تیار کیا جو اوپر سے دیکھنے پر لفظ "محمد" کی شکل میں نظر آتا تھا۔ انہوں نے اپنے وزراء اور جرنیلوں میں قلعے کے مختلف حصوں کی تعمیر تقسیم کر دی اور مقابلہ حسنِ کارکردگی شروع کروایا۔ سلطان خود ایک عام مزدور کی طرح پتھر اٹھاتے اور دیواریں تعمیر کرتے تھے۔ اس بے پناہ محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ عظیم قلعہ صرف 4 ماہ کے قلیل عرصے میں بن کر تیار ہو گیا۔ اس قلعے پر عثمانیوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپیں نصب کر دیں، جس کے بعد بحیرہ اسود سے آنے والے تمام عیسائی جہاز عثمانیوں کے رحم و کرم پر آ گئے اور شہر کی شمالی سپلائی لائن مکمل طور پر کٹ گئی۔

​4.4 اربان انجینئر اور "شاہی توپ" کی تیاری

​رومیلی حصار کی تعمیر کے بعد سلطان کا اگلا بڑا چیلنج تھیوڈوسین دیواروں کو گرانا تھا۔ اس دور کی روایتی توپیں اتنی طاقتور نہیں تھیں کہ وہ ان موٹی دیواروں پر اثر کر سکیں۔ اسی دوران اربان (Urban) نامی ایک ہنگری کا ماہرِ تعمیرات اور انجینئر ادرنہ آیا۔ وہ پہلے بازنطینی شہنشاہ کے پاس گیا تھا، لیکن شہنشاہ کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اس کی خدمات حاصل کر سکتا اور نہ ہی وہ مواد فراہم کر سکتا تھا جو اربان مانگ رہا تھا۔

​سلطان محمد فاتح نے اربان کی صلاحیتوں کو فوری طور پر بھانپ لیا۔ انہوں نے اربان کو شاہی مہمان بنایا، اس کی مانگی گئی رقم سے چار گنا زیادہ سونا دیا اور سلطنت کے تمام وسائل، تانبا، کانسہ اور کاریگر اس کے حوالے کر دیے۔ سلطان نے خود اربان کے ساتھ بیٹھ کر ریاضی کے فارمولے وضع کیے اور توپ کا ڈیزائن تیار کیا۔

​کئی مہینوں کی رات دن کی محنت کے بعد اربان نے کانسے کی ایک ایسی دیوقامت توپ تیار کی جس کی مثال اس سے پہلے تاریخ میں نہیں ملتی تھی۔ اس توپ کو "شاہی" (The Basilica) کا نام دیا گیا:

  • ​اس توپ کا وزن کئی ٹن تھا اور اس کی لمبائی تقریباً 27 فٹ تھی۔
  • ​یہ توپ 600 کلوگرام (تقریباً 15 من) وزنی پتھر کا گولا ایک میل کی دوری تک پھینک سکتی تھی۔
  • ​جب ادرنہ میں اس کا پہلا تجربہ کیا گیا، تو اس کے دھماکے کی آواز 12 میل دور تک سنی گئی اور اس کا گولا زمین میں کئی فٹ گہرا دھنس گیا۔
  • ​اس ایک توپ کو ادرنہ سے قسطنطنیہ کے محاذ تک لانے کے لیے 60 طاقتور بیلوں اور 200 آدمیوں کی ضرورت پڑی، جبکہ اس کے آگے کا راستہ ہموار کرنے کے لیے عثمانی انجینئرز کا ایک پورا دستہ آگے آگے چل رہا تھا۔

​سلطان نے اس کے علاوہ درجنوں چھوٹی اور درمیانے درجے کی توپیں بھی تیار کروائیں، جنہیں عثمانیوں نے تاریخ میں پہلی بار "بیٹری" (گروپ کی شکل میں ایک ساتھ فائر کرنا) کے طور پر استعمال کرنے کا پلان بنایا۔

​باب پنجم: محاصرے کا آغاز اور خلیجِ شاخِ زریں کا بحران

​5.1 عثمانی لشکر کی آمد اور صف بندی

​6 اپریل 1453ء کو سلطان محمد فاتح اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ قسطنطنیہ کی دیواروں کے سامنے پہنچے۔ عثمانی فوج کی تعداد تقریباً 80,000 سے 100,000 کے درمیان تھی، جس میں سلطنت کے سب سے جری اور تربیت یافتہ دستے انکشاریہ (Janissaries)، اناطولیہ کے سوار اور یورپ کے پیادہ دستے شامل تھے۔ عثمانی بحری بیڑا، جس میں تقریباً 120 سے زائد جنگی کشتیاں شامل تھیں، بحیرہ مرمرہ میں لنگر انداز ہو چکا تھا۔

​دوسری طرف بازنطینی شہنشاہ قسطنطین کے پاس صرف 8,000 سے 10,000 باقاعدہ فوجی تھے، لیکن ان کے پاس دیواروں کا تحفظ اور جینوآ کے مشہور جرنیل گیووانا جیوستینیانی (Giovanni Giustiniani) کی قیادت میں آئے ہوئے پکے عیسائی جنگجو تھے، جو قلعہ بندی کی جنگ لڑنے کے ماہر تھے۔

​سلطان نے اپنی فوج کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا:

  • دائیں بازو کی فوج: بحیرہ مرمرہ کی طرف کی دیواروں کے سامنے۔
  • بائیں بازو کی فوج: خلیجِ شاخِ زریں کی طرف جانے والی پہاڑیوں پر۔
  • مرکزی دستہ: سلطان محمد فاتح خود اپنے انکشاری دستوں اور شاہی توپوں کے ساتھ شہر کے سب سے کمزور دروازے "سینٹ رومانوس" (Saint Romanus) کے بالکل سامنے خیمہ زن ہوئے۔

​5.2 توپوں کی ہولناک بمباری اور بازنطینیوں کی مزاحمت

​سلطان کے حکم پر عثمانی توپوں نے قسطنطنیہ کی ہزار سالہ دیواروں پر گولہ باری شروع کر دی۔ یہ تاریخِ انسانی کی پہلی ایسی جنگ تھی جہاں بارود اور آرٹلری کا اتنے بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا تھا۔ دن بھر توپوں کے دھماکوں سے زمین لرزتی تھی اور دیواروں کے بڑے بڑے ٹکڑے گر کر خندقوں میں جا گرتے تھے۔

​تاہم، جیوستینیانی کی قیادت میں بازنطینیوں نے حیرت انگیز جرات کا مظاہرہ کیا۔ عثمانی توپیں اتنی بھاری تھیں کہ انہیں دن میں صرف 6 سے 8 بار ہی فائر کیا جا سکتا تھا کیونکہ فائرنگ کے بعد انہیں ٹھنڈا کرنے میں گھنٹوں لگتے تھے۔ بازنطینی عیسائی اس وقفے کا فائدہ اٹھاتے اور رات کے اندھیرے میں مرد، خواتین اور بچے مل کر مٹی کے بوروں، پتھروں اور لکڑی کے لٹھوں سے دیواروں کی دوبارہ مرمت کر دیتے۔ عثمانی فوج دن بھر جس دیوار کو گراتی، اگلی صبح وہ دیوار پھر کھڑی ملتی۔

​5.3 زنجیر کا مسئلہ اور سمندری شکست کا صدمہ

​سلطان محمد فاتح جانتے تھے کہ جب تک عثمانی بحری بیڑا خلیجِ شاخِ زریں (Golden Horn) کے اندر داخل ہو کر شہر پر شمال کی طرف سے حملہ نہیں کرے گا، تب تک بازنطینیوں کو مکمل طور پر مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن خلیج کے دہانے پر لگی لوہے کی دیوقامت زنجیر کو توڑنا ناممکن لگ رہا تھا۔

​20 اپریل 1453ء کو عثمانیوں کو ایک شدید نفسیاتی جھٹکا لگا۔ پوپ کی طرف سے بھیجے گئے تین جینوآئی جہاز اور ایک بڑا بازنطینی اناج کا جہاز، عثمانی بحری ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے قسطنطنیہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سلطان محمد فاتح خود گھوڑے پر سوار ہو کر ساحل پر پہنچے اور اپنے بحری بیڑے کے امیر (ایڈمرل) بلطہ اوغلو کو حکم دیا کہ ان جہازوں کو کسی بھی قیمت پر روکا جائے۔

​عثمانی جہازوں نے عیسائی جہازوں کو گھیر لیا، لیکن عیسائی جہاز بہت اونچے اور وزنی تھے، جبکہ عثمانی کشتیاں چھوٹی تھیں۔ عیسائیوں نے اپنے جہازوں سے عثمانیوں پر "یونانی آگ" (Greek Fire - ایک ایسا کیمیکل جو پانی پر بھی جلتا تھا) اور بھاری پتھر پھینکے۔ عثمانی ایڈمرل نے بہادری سے جنگ لڑی، لیکن عیسائی جہاز عثمانی بیڑے کو تہس نہس کرتے ہوئے خلیج کی زنجیر کو پار کر کے شہر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

​سلطان محمد فاتح غصے اور صدمے کی حالت میں اپنا گھوڑا سمندر کی لہروں کے اندر لے گئے، ان کے کپڑے سمندری پانی سے بھیگ گئے۔ یہ عثمانیوں کے لیے ایک بہت بڑی شکست تھی۔ عثمانی کیمپ میں مایوسی پھیلنے لگی اور وزیرِ اعظم خلیل پاشا نے ایک بار پھر سلطان پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھاری تاوان لے کر محاصرہ ختم کر دیں، کیونکہ یورپ سے مزید امداد آنے کا خطرہ تھا۔

باب ششم: تاریخ کا سب سے بڑا عسکری معجزہ – جہازوں کا خشکی پر چلنا

​6.1 سلطان محمد فاتح کا انقلابی اور اچھوتا خیال

​سمندری محاذ پر ناکامی اور عثمانی خیموں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو دیکھ کر سلطان محمد فاتح نے اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر رات بھر نقشوں کا مطالعہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر محاصرہ مزید طویل ہوا، تو عثمانی فوج کا حوصلہ جواب دے جائے گا اور یورپ سے عیسائیوں کی نئی امداد پہنچ جائے گی۔ بازنطینیوں کا سارا غرور اور طاقت اس لوہے کی زنجیر پر تھی جو خلیجِ شاخِ زریں (Golden Horn) کے دہانے پر بندھی تھی۔

​سلطان نے سوچا: اگر ہم زنجیر کو توڑ کر خلیج میں نہیں جا سکتے، تو کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ ہم زنجیر کے اوپر سے گزرے بغیر، خشکی کے راستے اپنے بحری جہازوں کو خلیج میں اتار دیں؟

​یہ ایک ایسا خیال تھا جسے اس دور کے بڑے بڑے جرنیلوں اور وزراء نے "دیوانگی" اور "ناممکن" قرار دیا، کیونکہ بحری جہاز پانی میں چلنے کے لیے بنے تھے، انہیں خشکی پر چلانا عقل سے متبادر تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح عزمِ صمیم کے مالک تھے، انہوں نے فرمایا:

​"میری سلطنت میں 'ناممکن' کا لفظ صرف کمزوروں کے لیے ہے۔ اگر زمین ہمیں راستہ نہیں دیتی، تو ہم زمین کا سینہ چاک کر کے اپنا راستہ خود بنائیں گے۔"


​6.2 آپریشن "گلاٹا بائی پاس": راتوں رات معجزے کی تیاری

​سلطان نے فوری طور پر اپنے سب سے قابل انجینئرز اور ماہرینِ تعمیرات کو بلایا اور ایک انتہائی خفیہ اور تیز رفتار آپریشن کا پلان تیار کیا۔ یہ راستہ بازنطینی شہر کے شمال میں واقع جینوآئی نوآبادی "گلاٹا" (Galata) کے پیچھے موجود پہاڑیوں اور جنگلات سے گزرتا تھا۔ یہ فاصلہ تقریباً 3 سے 4 میل (تقریباً 5 کلومیٹر) بنتا تھا، جو ناہموار، چڑھائی اور اترائی والی گہری پہاڑیوں پر مشتمل تھا۔

​سلطان نے اس آپریشن کو انجام دینے کے لیے درج ذیل حکمتِ عملی وضع کی:

  1. راستے کی ہمواری: ہزاروں عثمانی مزدوروں اور فوجیوں کو گلاٹا کی پہاڑیوں پر بھیجا گیا جنہوں نے رات کے اندھیرے میں درختوں کو کاٹا، جھاڑیاں صاف کیں اور ناہموار راستے کو مٹی ڈال کر بالکل ہموار شاہراہ میں تبدیل کر دیا۔
  2. لکڑی کے تختوں کا بچھانا: عثمانی کارخانوں سے ہزاروں لکڑی کے بھاری تختے اور سلیپر لائے گئے اور انہیں اس پورے راستے پر ایک پٹری (Track) کی طرح بچھا دیا گیا۔
  3. چکنائی کا استعمال: سلطنت کے گوشت کے گوداموں اور چربی کے ذخائر سے ٹنوں کے حساب سے زیتون کا تیل، جانوروں کی چربی اور موم لائی گئی، جسے ان لکڑی کے تختوں پر مل کر انہیں اتنا چکنا کر دیا گیا کہ بھاری سے بھاری چیز بھی ان پر آسانی سے پھسل سکے۔
  4. دشمن کو بے خبر رکھنا: بازنطینیوں کو اس آپریشن سے بالکل بے خبر رکھنے کے لیے سلطان نے حکم دیا کہ عثمانی توپ خانے رات بھر سینٹ رومانوس کے دروازے اور شہر کی مغربی دیواروں پر بلا تعطل ہولناک بمباری جاری رکھیں، تاکہ دشمن کا دھیان صرف مغربی دیواروں پر رہے اور وہ دھماکوں کی آواز میں پہاڑیوں پر ہونے والے کام کی آواز نہ سن سکیں۔

​6.3 22 اپریل کی وہ رات جب سمندر خشکی پر بہہ نکلا

​21 اور 22 اپریل 1453ء کی درمیانی رات عثمانی تاریخ کا ایک سنہری باب بن گئی۔ جب مغربی محاذ پر توپیں آگ اگل رہی تھیں، بلقان کی پہاڑیوں کے پیچھے عثمانی فوجیوں نے اپنے 70 سے زائد جنگی جہازوں اور کشتیوں کو بحیرہ مرمرہ اور باسفورس سے باہر نکالنا شروع کیا۔

​جہازوں کو لکڑی کے چکنے تختوں پر بنے بڑے بڑے پہیوں والے چبوتروں (Cradles) پر رکھا گیا۔ ہر جہاز کو کھینچنے کے لیے درجنوں طاقتور بیل اور سینکڑوں جری عثمانی فوجی متعین تھے۔ عجب سماں تھا؛ جہازوں کے بادبان ہوا کے رخ پر کھلے ہوئے تھے، ملاح جہازوں کے ڈیک پر کھڑے ہو کر ایسے چپو چلا رہے تھے جیسے وہ پانی کے اندر ہوں، اور ڈھول اور نقیبوں کی آوازیں عثمانیوں کے لہو کو گرما رہی تھیں۔

​عثمانیوں نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی لاجسٹک مہم سر انجام دی:

  • ​بھاری بھرکم بحری جہاز پہاڑی کی شدید چڑھائی پر چڑھائے گئے۔
  • ​گلاٹا کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد، انہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ نیچے خلیجِ شاخِ زریں کی طرف اتارا گیا۔
  • ​صبحِ صادق کا وقت تھا جب آخری عثمانی جہاز نہایت خاموشی سے خلیجِ شاخِ زریں کے پرسکون پانیوں میں داخل ہو گیا۔

​6.4 بازنطینیوں کا صدمہ اور نفسیاتی شکست

​22 اپریل کی صبح جب بازنطینی سنتریوں اور جرنیلوں نے خلیج کی طرف دیکھا، تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور پورے شہر میں چیخ و پکار مچ گئی۔ عثمانی بحری بیڑا، جس کا خلیج میں آنا ناممکن تھا، اب ان کی سب سے محفوظ بندرگاہ کے اندر لنگر انداز تھا اور عثمانی پرچم لہرا رہا تھا۔

​بازنطینی تاریخ دان لکھتا ہے:

​"ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہ دیکھا کہ کسی نے جہازوں کو سمندر سے نکال کر خشکی کے پہاڑوں پر چلایا ہو۔ محمد (فاتح) نے زمین کو سمندر میں بدل دیا اور اپنے جہازوں کو لکڑی کے تختوں پر لہروں کی طرح دوڑا دیا۔ یہ کوئی انسان نہیں، یہ کوئی جادوگر ہے!"


​اس واقعے نے بازنطینیوں کی نفسیاتی کمر توڑ دی۔ اب شہنشاہ قسطنطین کو اپنی محدود فوج کا ایک بڑا حصہ خلیج کی طرف کی کمزور دیواروں پر بھی تعینات کرنا پڑا، جس سے مغربی دیواروں پر ان کی گرفت کمزور ہو گئی۔ عثمانیوں نے خلیج کے اندر بیرل اور لکڑی کے تختوں کی مدد سے ایک تیرتا ہوا پل (Floating Bridge) بھی بنا لیا، جس پر توپیں نصب کر کے شہر پر ایک نئے محاذ سے بمباری شروع کر دی گئی۔

​باب ہفتم: محاصرے کے آخری ایام اور حتمی حملے کی تیاریاں

​7.1 سرنگوں کی جنگ (Underground Warfare)

​جہازوں کو خلیج میں اتارنے کے بعد بھی شہر نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ مئی کے وسط تک محاصرہ پہنچ چکا تھا اور دونوں طرف شدید جانی نقصان ہو رہا تھا۔ سلطان محمد فاتح نے اب ایک نیا حربہ آزمایا۔ انہوں نے سربیا کے کان کنوں (Miners) کو بلایا جو زمین کے نیچے سرنگیں کھودنے کے ماہر تھے۔

​عثمانیوں نے قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے سے خندقوں کو پار کرتے ہوئے شہر کے اندر تک جانے والی کئی خفیہ سرنگیں (Tunnels) کھودنا شروع کر دیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ دیواروں کے نیچے بارود بھر کر انہیں اڑا دیں یا فوجی زمین کے نیچے سے شہر کے اندر داخل ہو جائیں۔

​لیکن بازنطینیوں کے پاس بھی ایک ماہر انجینئر جان گرانٹ (John Grant) موجود تھا۔ اس نے شہر کے اندر زمین کے نیچے تانبے کے بڑے بڑے برتن پانی سے بھر کر رکھے ہوئے تھے۔ جب عثمانی نیچے سرنگ کھودتے، تو پانی میں ارتعاش (Vibrations) پیدا ہوتا، جس سے سرنگ کی سمت کا پتہ چل جاتا۔ بازنطینیوں نے عثمانیوں کی سرنگوں کے جواب میں اپنی سرنگیں کھودیں اور زمین کے نیچے ایک ہولناک جنگ شروع ہوئی۔ بازنطینیوں نے عثمانی سرنگوں میں یونانی آگ چھوڑ دی یا انہیں پانی سے بھر دیا، جس کی وجہ سے عثمانیوں کی یہ کوشش بھی زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔

​7.2 متحرک برج (Wooden Siege Towers)

​سلطان محمد فاتح نے اس کے بعد لکڑی کے بنے ہوئے دیوقامت متحرک برج (Moving Towers) تیار کروائے۔ یہ برج کئی منزلہ اونچے تھے اور ان پر گیلی چمڑی لگی ہوئی تھی تاکہ ان پر آگ اثر نہ کر سکے۔ عثمانی فوجی ان برجوں کے اندر بیٹھ کر دیواروں کے بالکل قریب پہنچ جاتے اور اوپر کی منزل سے بازنطینی دیواروں پر براہِ راست حملہ کرتے، جبکہ نیچے کے فوجی خندق کو مٹی اور پتھروں سے بھرنے کا کام کرتے۔ ایک رات عثمانیوں نے ایسا ہی ایک برج دیوار کے ساتھ لگا دیا، لیکن رات کے وقت بازنطینیوں نے جان کی بازی لگا کر اس برج پر بارود پھینکا اور اسے جلا کر خاکستر کر دیا۔

​7.3 آخری الٹی میٹم اور شہنشاہ کا جواب

​26 مئی 1453ء کو سلطان محمد فاتح نے عثمانی کیمپ میں ایک اعلیٰ سطح کا عسکری اجلاس بلایا۔ وزیرِ اعظم خلیل پاشا نے اب بھی محاصرہ ختم کرنے کی بات کی، لیکن سلطان کے روحانی مربی حضرت آق شمس الدین، زغاروس پاشا اور نوجوان جرنیلوں نے حتمی حملے کی بھرپور حمایت کی۔ سلطان نے فیصلہ کیا کہ اب آر یا پار کا وقت آ چکا ہے۔

​حملے سے پہلے، اسلامی اصولوں کے مطابق، سلطان محمد فاتح نے بازنطینی شہنشاہ قسطنطین کو آخری سفارتی پیغام بھیجا:

​"اگر آپ شہر کو پرامن طور پر ہمارے حوالے کر دیں، تو آپ کو اور آپ کے شہریوں کو پوری امان دی جائے گی۔ آپ اپنی تمام دولت کے ساتھ مورا (یونان) کے حکمران بن سکتے ہیں اور شہر کے عیسائی امن سے رہ سکیں گے۔ ہم خونریزی نہیں چاہتے۔"


​شہنشاہ قسطنطین نے جواب دیا:

​"شہر آپ کے حوالے کرنا میرے یا اس کے کسی بھی شہری کے بس میں نہیں ہے۔ ہم سب نے اپنے ملک کے لیے مرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہم اپنی مرضی سے جانیں قربان کر دیں گے، لیکن شہر نہیں دیں گے۔"


​اس جواب کے بعد صلح کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں اور سلطان نے 29 مئی کو حتمی اور تاریخی حملے کا اعلان کر دیا۔

باب ہشتم: معرکہِ عظیم – قسطنطنیہ کی فتح اور بازنطینی سلطنت کا خاتمہ

​8.1 آخری رات: شمعوں کا سمندر اور تکبیر کے نعرے

​28 مئی 1453ء کی شام، عثمانی تاریخ کی سب سے طوفانی رات تھی۔ سلطان محمد فاتح نے حکم دیا کہ عثمانی کیمپوں میں موجود تمام سپاہی روزے رکھیں، اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں۔ عشاء کی نماز کے بعد، سلطان کے حکم پر پورے عثمانی لشکر میں، جو میلوں دور تک پھیلا ہوا تھا، لاکھوں مشعلیں اور شمعیں روشن کر دی گئیں۔

​قسطنطنیہ کی دیواروں پر کھڑے عیسائیوں نے جب باہر دیکھا، تو انہیں ایسا لگا جیسے زمین پر ستاروں کا سمندر اتر آیا ہو۔ پورا عثمانی کیمپ "اللہ اکبر" اور "لا الہ الا اللہ" کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ نقیبوں اور ڈھولوں کی آوازیں دلوں کو دہلا رہی تھیں۔ دوسری طرف، شہر کے اندر چرچوں کے گھنٹے مسلسل بج رہے تھے اور عیسائی رات بھر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اور ایاصوفیہ میں آخری بار عیسائی رسومات ادا کی جا رہی تھیں جہاں شہنشاہ قسطنطین نے بھی شرکت کی اور اپنے جرنیلوں سے الوداعی ملاقات کی۔

​8.2 29 مئی کی صبحِ صادق: تین لہروں کا حملہ

​29 مئی 1453ء کی صبحِ صادق (تقریباً رات 1:30 بجے) عثمانی توپوں کے ایک بیک وقت ہولناک فائر سے حتمی اور فیصلہ کن حملے کا آغاز ہوا۔ سلطان محمد فاتح نے اپنی عسکری حکمتِ عملی کے تحت حملے کو تین بڑی لہروں (Waves) میں تقسیم کیا تھا:

​پہلی لہر: عزب دستے (Azaps)

​یہ بے قاعدہ اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس پیادہ فوج تھی، جس میں سلطنت کے مختلف حصوں کے رضاکار شامل تھے۔ ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ خندقوں کو پار کر کے دیواروں پر چڑھیں اور بازنطینی محافظوں کو تھکا دیں اور ان کا بارود اور تیر ختم کروا دیں۔ بازنطینیوں نے ان پر شدید آتش باری کی اور ہزاروں عثمانی فوجی شہید ہوئے، لیکن انہوں نے اپنا کام پورا کر دیا اور دشمن کو تھکا کر چور کر دیا۔

​دوسری لہر: اناطولیائی فوج (Anatolian Army)

​جب پہلی لہر پیچھے ہٹی، تو سلطان نے فوراً اپنے پکے، زرہ پوش اور باقاعدہ اناطولیائی دستوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ یہ دستے ڈسپلن کے ماہر تھے اور ان کے پاس بھاری ہتھیار تھے۔ انہوں نے سینٹ رومانوس دروازے کے پاس عثمانی توپوں سے بنے شگافوں کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہاں جنگ انتہائی خونریز ہو گئی۔ تلوار سے تلوار اور نیزے سے نیزہ ٹکرا رہا تھا، شہنشاہ قسطنطین اور جرنیل جیوستینیانی خود اس محاذ پر لڑ رہے تھے۔ بازنطینیوں نے عثمانیوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا، لیکن ان کی طاقت اب جواب دے رہی تھی۔

​تیسری لہر: انکشاری دستے (The Janissaries)

​جب سورج طلوع ہو رہا تھا اور دونوں طرف کی فوجیں تھک چکی تھیں، سلطان محمد فاتح نے اپنے سب سے زبردست، تازہ دم اور جاں نثار دستوں یعنی انکشاریہ (Janissaries) کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ سلطان خود گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پیچھے چلے۔ انکشاری دستے عثمانی سلطنت کی سب سے بڑی طاقت تھے جنہیں شکست کا مطلب معلوم نہیں تھا۔ وہ پائپوں اور نفیروں کی جنگی دھنوں پر پورے جلال کے ساتھ دیواروں کی طرف بڑھے.

8.3 حسن اولوباطلی کا کارنامہ اور سلطنت کا پرچم

​اسی ہولناک جنگ کے دوران، عثمانی انکشاری فوج کا ایک طویل القامت اور جری سپاہی حسن اولوباطلی (Hasan of Ulubat) اپنے ہاتھ میں عثمانی پرچم لیے سینٹ رومانوس کی دیوار کی طرف لپکا۔ اس کے ساتھ اس کے تیس جاں نثار ساتھی بھی تھے۔

​بازنطینیوں نے حسن اولوباطلی پر تیروں، پتھروں اور گرم تیل کی بوچھاڑ کر دی، لیکن وہ ایک زخمی شیر کی طرح دیوار کے اوپر چڑھتا گیا۔ اس نے دیوار کے برج پر پہنچ کر عیسائی پرچم کو اکھاڑ پھینکا اور وہاں سلطنتِ عثمانیہ کا پرچم لہراتے ہوئے بلند آواز میں تکبیر کا نعرہ لگایا۔ اگرچہ اسی وقت بازنطینی تیر اندازوں نے ان پر سینکڑوں تیروں کی بارش کر دی اور وہ وہیں دیوار پر شہید ہو گئے، لیکن ان کا لہرایا ہوا پرچم عثمانی فوج کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہوا۔ عثمانی سپاہیوں نے جب اپنے پرچم کو قسطنطنیہ کی دیوار پر لہراتے دیکھا، تو ان کا جوش جنون میں بدل گیا اور وہ یہ کہتے ہوئے دیواروں پر ٹوٹ پڑے کہ "شہر فتح ہو چکا ہے!"

​8.4 جیوستینیانی کا زخمی ہونا اور دفاع کا بکھرنا

​اسی دوران ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ بازنطینی دفاع کی روح، جینوآئی جرنیل گیووانا جیوستینیانی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ وہ درد اور خون بہنے کی وجہ سے محاذ پر کھڑا نہ رہ سکا اور اس کے سپاہی اسے زبردستی بحری جہاز کی طرف لے گئے۔ جیوستینیانی کے محاذ چھوڑتے ہی بازنطینی عیسائیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کی صفوں میں افراتفری مچ گئی۔

​عثمانی انکشاری دستے دیواروں کے شگافوں کو توڑ کر اور ایک چھوٹے خفیہ دروازے "کیرکوپورتا" (Kerkoporta) کے راستے، جو بازنطینیوں کی غفلت کی وجہ سے کھلا رہ گیا تھا، شہر کے اندر داخل ہو گئے۔ شہنشاہ قسطنطین یازدہم نے جب دیکھا کہ شہر کا دفاع ٹوٹ چکا ہے، تو اس نے شاہی علامات اور چغہ اتار پھینکا اور ایک عام سپاہی کی طرح عثمانی فوج پر حملہ آور ہوا اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔ اس طرح بازنطینی سلطنت کا، جو رومن ایمپائر کی آخری نشانی تھی، ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔

​باب نہم: فاتح کا استنبول میں داخلہ اور ایاصوفیہ کا منظر

​9.1 امن و امان کا اعلان اور عاجزی کا ثبوت

​29 مئی 1453ء کی دوپہر کو، سلطان محمد ثانی، جنہیں اب دنیا سلطان محمد فاتح کے نام سے پکارنے والی تھی، اپنے وزراء، جرنیلوں اور حضرت آق شمس الدین کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہو کر قسطنطنیہ کے اندر داخل ہوئے۔ شہر کی سڑکوں پر عثمانی فتح کے پرچم لہرا رہے تھے۔

​سلطان جب شہر کے مرکز میں پہنچے، تو انہوں نے گھوڑے سے اتر کر زمین سے مٹی اٹھائی اور اسے اپنی دستار (پگڑی) پر لگایا۔ یہ اللہ رب العزت کے حضور عاجزی اور شکر گزاری کا اظہار تھا کہ اس نے ایک 21 سالہ نوجوان کو وہ کامیابی عطا کی جو صدیوں سے بڑے بڑے سلاطین کو نصیب نہ ہو سکی تھی۔ انہوں نے اپنی فوج کو سختی سے حکم دیا کہ:

  • ​کسی بھی نہتے شہری، عورت، بچے یا بوڑھے پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔
  • ​شہر کی مذہبی عمارتوں اور عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
  • ​لوٹ مار کو فوری طور پر بند کیا جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عثمانی فوجی کو سخت سزا دی جائے گی۔

​9.2 ایاصوفیہ کا تاریخی منظر اور عیسائیوں کو امان

​سلطان محمد فاتح سیدھے بازنطینی عیسائیت کے سب سے بڑے مرکز اور دنیا کے عظیم ترین چرچ ایاصوفیہ (Hagia Sophia) پہنچے۔ ایاصوفیہ کے عظیم ہال کے اندر ہزاروں خوفزدہ عیسائی بائبل ہاتھ میں لیے رو رہے تھے اور پادری آخری دعائیں مانگ رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ عثمانی فوج ان کا قتلِ عام کرے گی، کیونکہ عیسائیوں نے جب بھی مسلم شہر فتح کیے تھے (جیسے بیت المقدس یا اندلس)، تو مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا تھا۔

​جب سلطان محمد فاتح ایاصوفیہ کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئے، تو پورا ہال سہم گیا۔ سلطان نے آگے بڑھ کر پادریوں اور عوام کو دیکھا، جو خوف سے کانپ رہے تھے اور ان کے پیروں میں گرنے والے تھے۔ سلطان نے نہایت نرمی اور جلال کے ساتھ پادریوں سے فرمایا:

​"کھڑے ہو جاؤ! میں سلطان محمد ہوں اور میں تمہیں اور تمہارے تمام شہریوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ آج سے تمہاری جان، مال، آبرو اور تمہاری مذہبی آزادی پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ تم سب اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہو، تمہیں مکمل امان حاصل ہے۔"


​یہ جملہ سنتے ہی ایاصوفیہ کا ہال پادریوں کے انسوؤں سے بھر گیا، لیکن یہ خوف کے نہیں بلکہ تشکر کے آنسو تھے۔ سلطان کے اس بے مثال حسنِ سلوک نے عیسائیوں کے دل جیت لیے۔

​9.3 ایاصوفیہ کی مسجد میں تبدیلی

​چونکہ قسطنطنیہ جنگ کے ذریعے (بزورِ شمشیر) فتح ہوا تھا، اس لیے اسلامی قوانین کے تحت سلطان کو شہر کی مرکزی عمارت پر حق حاصل تھا۔ سلطان نے ایاصوفیہ کو عیسائی پادریوں سے ان کی مرضی کے مطابق باقاعدہ بھاری رقم دے کر خریدا (جس کی دستاویزات آج بھی ترکی کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں)۔

​سلطان نے ایاصوفیہ کی عمارت کو سلطنت کی مرکزی مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ عمارت کے اندر موجود بتوں کو ہٹایا گیا اور اگلی ہی جمعہ، یعنی 1 جون 1453ء کو، ایاصوفیہ میں تاریخِ اسلام کی پہلی نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ اس نماز کی امامت سلطان کے مربی حضرت آق شمس الدین نے کی اور خطبے میں سلطان محمد فاتح اور عثمانی فوج کے حق میں دعائیں کی گئیں۔ سلطان نے شہر کا نام تبدیل کر کے "اسلام بول" (جہاں اسلام کثرت سے ہو) رکھا، جو بعد میں بگڑ کر استنبول بن گیا، اور اسے سلطنتِ عثمانیہ کا نیا دارالحکومت قرار دیا۔

باب دہم: بلقان کی مہمات اور یورپ پر عثمانی ہیبت (1454ء - 1480ء)

​10.1 سربیا اور بلقان کی مہمات

​قسطنطنیہ کی فتح سلطان محمد فاتح کی فتوحات کا آغاز تھی، اختتام نہیں۔ یورپ کی عیسائی طاقتیں اس صدمے سے ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھیں کہ سلطان نے اپنے اگلے اہداف کا تعین کر لیا۔ بلقان کا خطہ، جو یورپ کا دروازہ کہلاتا ہے، عثمانی سلطنت کے لیے تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی اہم تھا۔

​1454ء سے 1459ء کے دوران، سلطان محمد فاتح نے سربیا پر متعدد حملے کیے۔ اگرچہ ہنگری کے جرنیل جان ہنیاڈی نے بلغراد کے مقام پر عثمانیوں کو سخت مزاحمت فراہم کی، لیکن سلطان نے بالآخر پورے سربیا کو عثمانی قلمرو میں شامل کر لیا۔ سربیا کے عیسائی حکمران عثمانی سلطنت کو جزیہ دینے پر مجبور ہوئے اور بلقان میں عیسائیوں کا ایک بڑا مضبوط گڑھ ہمیشہ کے لیے عثمانیوں کے زیرِ اثر آ گیا۔

​10.2 مورا (Morea) اور طرابزون (Trabzon) کا خاتمہ

​بازنطینی سلطنت کے کچھ بقایا جات اب بھی یونان کے خطے مورا (Peloponnese) اور بحیرہ اسود کے ساحل پر طرابزون میں حکومت کر رہے تھے۔ یہ چھوٹے حکمران اس امید پر تھے کہ مغربی یورپ ان کی مدد کو آئے گا اور وہ دوبارہ قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیں گے۔

​سلطان محمد فاتح نے ان کے عزائم کو بھانپتے ہوئے درج ذیل اقدامات کیے:

  • 1460ء میں: سلطان نے مورا پر حملہ کر کے بازنطینی شہنشاہ کے بھائیوں کو شکست دی اور یونان کے اس اہم حصے پر قبضہ کر لیا۔
  • 1461ء میں: سلطان نے بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع طرابزون کی سلطنت (Empire of Trebizond) کا رخ کیا۔ یہ آخری آزاد یونانی ریاست تھی۔ سلطان نے اس کے حکمران ڈیوڈ کومنینوس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا اور طرابزون کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا کر بحیرہ اسود پر عثمانی بحریہ کی بالادستی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔

​10.3 بوسنیا کی فتح اور بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام (1463ء)

​1463ء میں سلطان محمد فاتح نے بوسنیا کا رخ کیا۔ بوسنیا کا بادشاہ عثمانیوں کو جزیہ دینے کے معاہدے سے مکر گیا تھا اور اس نے ہنگری کے ساتھ مل کر عثمانیوں کے خلاف سازش شروع کر دی تھی۔ سلطان نے ایک تیز رفتار مہم کے ذریعے بوسنیا کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا اور بادشاہ کو اس کی غداری کی سزا دی۔

​بوسنیا کی فتح کی سب سے خاص بات وہاں کے لوگوں کا بڑے پیمانے پر اسلام قبول کرنا تھا۔ بوسنیا کے لوگ عیسائیت کے ایک خاص فرقے (Bogomilism) سے تعلق رکھتے تھے، جس کی وجہ سے رومن کیتھولک اور آرتھوڈوکس عیسائی ان پر شدید مظالم ڈھاتے تھے۔ جب سلطان محمد فاتح وہاں پہنچے، تو انہوں نے بوسنیا کے لوگوں کو نہ صرف جان و مال کا تحفظ دیا بلکہ انہیں ٹیکسوں میں بھی چھوٹ دی۔ سلطان کے حسنِ اخلاق، عدل و انصاف اور رواداری سے متاثر ہو کر بوسنیا کے پورے کے پورے قبیلے اور امراء دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بوسنیا یورپ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

​10.4 البانیا کی مہم اور اسکندر بیگ کی مزاحمت

​عثمانی تاریخ میں البانیا کی مہم سب سے طویل اور کٹھن مہمات میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ یہاں عثمانیوں کو اسکندر بیگ (Skanderbeg) کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکندر بیگ بچپن میں عثمانی دربار میں رہا تھا اور اس نے عثمانیوں کے عسکری طریقے وہیں سے سیکھے تھے۔ اس نے البانیا کی پہاڑیوں کا فائدہ اٹھا کر گوریلا جنگ شروع کی اور عثمانی فوجوں کو کئی بار نقصان پہنچایا۔

​سلطان محمد فاتح نے خود البانیا کی مہمات کی قیادت کی اور عثمانی فوج نے وہاں کے مضبوط قلعوں، جیسے کرویا (Krujë) اور شکودر (Shkodër) کا سخت محاصرہ کیا۔ 1468ء میں اسکندر بیگ کی موت کے بعد البانیا کی مزاحمت دم توڑ گئی اور 1478ء تک پورا البانیا عثمانی سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔

​10.5 کریمیا کی فتح اور بحیرہ اسود کا عثمانی جھیل بننا (1475ء)

​بحیرہ اسود کے شمالی ساحلوں پر تاتاری مسلمانوں کی حکومت تھی جنہیں "کریمیا کی خانات" (Khanate of Crimea) کہا جاتا تھا۔ یہاں جینوآ کے عیسائی تاجروں نے بھی اپنے مضبوط قلعے اور تجارتی مراکز بنا رکھے تھے جو عثمانی تجارت کے لیے خطرہ تھے۔

​سلطان محمد فاتح نے اپنے مایہ ناز وزیرِ بحریہ گدک احمد پاشا کو ایک بڑے بحری بیڑے کے ساتھ کریمیا بھیجا۔ عثمانیوں نے جینوآ کے قلعوں پر قبضہ کر لیا اور کریمیا کے تاتاری خان، منگلی گرائے نے عثمانی سلطان کی بالادستی قبول کر لی۔ اس فتح کے بعد بحیرہ اسود مکمل طور پر ایک عثمانی جھیل (Ottoman Lake) بن گیا، جہاں عثمانیوں کی اجازت کے بغیر کوئی غیر ملکی جہاز داخل نہیں ہو سکتا تھا۔

​10.6 اطالوی مہم: روم کی تسخیر کا عزم (1480ء)

​سلطان محمد فاتح کا خواب صرف قسطنطنیہ تک محدود نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ عیسائیت کے دوسرے بڑے مرکز یعنی روم (Rome) کو بھی فتح کیا جائے اور رسول اللہ ﷺ کی اس پیشگوئی کو بھی پورا کیا جائے جس میں دونوں شہروں کی فتح کا ذکر ہے۔

​1480ء میں سلطان نے ایک انتہائی جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے گدک احمد پاشا کی قیادت میں عثمانی بحری بیڑے کو اٹلی کے ساحلوں کی طرف بھیجا۔ عثمانی فوج نے اٹلی کے جنوب میں واقع ایک اسٹریٹجک شہر اوترانتو (Otranto) پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ عثمانیوں کا اٹلی کی سرزمین پر قدم رکھنا عیسائی دنیا کے لیے ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے پوپ کے محل کو ہلا کر رکھ دیا۔ پوپ نے خوف کے مارے روم سے بھاگنے کی تیاریاں شروع کر دیں، کیونکہ اوترانتو سے روم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ سلطان محمد فاتح خود ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ اٹلی روانگی کے لیے اناطولیہ میں تیاریاں کر رہے تھے۔

​باب یازدہم: سلطنت کا نظامِ عدل اور فabled انصاف کی داستانیں

​11.1 قانون نامہ (Kanunname): عثمانی آئین کی بنیاد

​سلطان محمد فاتح جتنے بڑے جرنیل تھے، اتنے ہی بڑے مدبر اور قانون دان تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ایک عالمی سلطنت کو چلانے کے لیے صرف عسکری طاقت کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور تحریری قانون کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے سلطنت کے تمام سابقہ قوانین، روایات اور مالیاتی اصولوں کو یکجا کر کے سلطنتِ عثمانیہ کا پہلا باقاعدہ قانون مجموعہ تیار کروایا جسے "قانون نامہِ عثمان" کہا جاتا ہے۔

​یہ قانون نامہ درج ذیل اصولوں پر مبنی تھا:

  • ​یہ شریعتِ اسلامیہ کے حدود کے اندر رہ کر بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ملوکیت کے نظام میں وزراء اور گورنروں کے اختیارات کو محدود کرنا تھا۔
  • ​اس میں ٹیکسوں کا ایک عادلانہ نظام وضع کیا گیا تھا تاکہ غریب رعایا پر بوجھ نہ پڑے۔
  • ​اس میں جرائم کی سزائیں مقرر کی گئی تھیں تاکہ رشوت خوری اور ناانصافی کا خاتمہ ہو سکے۔

​11.2 عدالت میں سلطان اور معمار کا تاریخی واقعہ

​سلطان محمد فاتح کے بے لاگ انصاف کا سب سے مشہور واقعہ، جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، ان کا اور ایک یونانی عیسائی معمار (Architect) کا مقدمہ ہے۔

​پس منظر

​استنبول کی فتح کے بعد، سلطان نے ایک نئی اور عظیم الشان مسجد (فاتح مسجد) کی تعمیر کا حکم دیا اور اس کا ٹھیکہ ایک جینوآئی یا یونانی معمار کو دیا گیا۔ سلطان نے معمار کو کانسے کے کچھ قیمتی اور طویل ستون دیے اور ہدایت کی کہ مسجد کے گنبد کو بہت اونچا رکھا جائے تاکہ وہ دور سے نظر آئے۔ تعمیر کے دوران، معمار نے محسوس کیا کہ اگر گنبد کو زیادہ اونچا کیا گیا، تو استنبول کے زلزلوں کی وجہ سے عمارت گر سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے، سلطان کو بتائے بغیر، ان قیمتی ستونوں کو تھوڑا چھوٹا کر دیا تاکہ مسجد کی بنیاد مضبوط ہو جائے۔

​سلطان کا غصہ اور حکم

​جب سلطان محمد فاتح مسجد کے معائنے کے لیے آئے اور دیکھا کہ ستون چھوٹے کر دیے گئے ہیں اور مسجد کا گنبد ان کی خواہش کے مطابق اونچا نہیں ہے، تو وہ شدید غصے میں آ گئے۔ انہوں نے اسے اپنی توہین اور شاہی حکم کی خلاف ورزی سمجھا۔ طیش کے عالم میں، سلطان نے اپنے محافظوں کو حکم دیا کہ اس معمار کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے، تاکہ آئندہ کوئی کاریگر شاہی حکم کی نافذ فرمانی نہ کر سکے۔ سلطان کے حکم پر کاریگر کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔

​قاضی کی عدالت میں مقدمہ

​وہ یونانی معمار اس ناانصافی پر خاموش نہیں رہا۔ وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کا دین انصاف کا دین ہے۔ وہ استنبول کے نامور اور نڈر قاضی حضرت شمس الدین ابنِ خضر بے کی عدالت میں پہنچ گیا اور سلطنتِ عثمانیہ کے سب سے طاقتور حکمران، فاتحِ قسطنطنیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

​قاضی خضر بے نے جب مقدمہ سنا، تو انہوں نے بنا کسی خوف اور جھجھک کے شریعت کے اصولوں کے مطابق عثمانی سلطنت کے سلطان کو عدالت میں حاضر ہونے کا سمن جاری کر دیا۔

​عدالت کا منظر

​مقدمے کے دن، عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سلطان محمد فاتح اپنے شاہی لباس میں عدالت میں داخل ہوئے۔ وہ عثمانی سلاطین کے روایتی رعب کے ساتھ جج کے سامنے رکھی اونچی کرسی پر بیٹھنے لگے، تو قاضی خضر بے نے سخت اور نپی تلی آواز میں کہا:

​"امیر المؤمنین! یہ اللہ کی عدالت ہے جہاں سب برابر ہیں۔ آپ یہاں ایک مدعا علیہ (Accused) کی حیثیت سے آئے ہیں، اس لیے آپ کو اپنی شاہی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ خاموشی سے اس معمار کے برابر میں کھڑے ہو جائیں!"


​تاریخ گواہ ہے کہ وہ سلطان، جس کے نام سے یورپ کے شہنشاہ کانپتے تھے، جس نے قسطنطنیہ کی دیواروں کو ہلا دیا تھا، ایک عام شہری کی طرح اس یونانی معمار کے برابر میں سر جھکائے کھڑا ہو گیا۔

​فیصلہ

​عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔ معمار نے اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے رو کر کہا کہ اس نے ستون بدنیتی سے نہیں بلکہ انجینئرنگ کے اصولوں کے تحت چھوٹے کیے تھے تاکہ مسجد زلزلے میں محفوظ رہے، لیکن سلطان نے بغیر تحقیق کے اس کا ہاتھ کاٹ کر اس کا روزگار چھین لیا۔ قاضی نے سلطان سے پوچھا: "کیا آپ کو اس جرم کا اعتراف ہے؟" سلطان نے جواب دیا: "جی ہاں، مجھ سے طیش میں یہ خطا ہوئی۔"

​قاضی خضر بے نے قرآنِ پاک کے احکامات کے مطابق اپنا تاریخی فیصلہ سنایا:

​"اسلام کا قانونِ قصاص (Retaliation) امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا۔ چونکہ سلطان نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور بغیر مکمل عدالتی تحقیق کے ایک انسان کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس لیے شریعت کے مطابق قصاص میں سلطان محمد فاتح کا بھی دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے!"


​پوری عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ عثمانی جرنیل اور وزراء حیرت زدہ رہ گئے کہ اتنے بڑے فاتح کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن وہ یونانی معمار قاضی کے اس بے لاگ انصاف اور سلطان کی عاجزی کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور بلند آواز میں رونے لگا۔ اس نے عدالت سے کہا:

​"خدا کی قسم! میں نے دنیا کی تاریخ میں ایسا انصاف نہیں دیکھا۔ میں اپنا مقدمہ واپس لیتا ہوں۔ میں قصاص کے بجائے خون بہا (Financial Compensation) پر راضی ہوں، میں نہیں چاہتا کہ ایسے عادل سلطان کا ہاتھ کاٹا جائے۔"


​قاضی نے معمار کے بیان کے بعد اپنا فیصلہ بدلا اور حکم دیا کہ سلطان محمد فاتح اپنے ذاتی مال سے (شاہی خزانے سے نہیں) معمار کو ایک شاندار نیا مکان دیں گے اور عمر بھر کے لیے اس کا اور اس کے بچوں کا بھاری روزانہ کا وظیفہ ادا کریں گے تاکہ اسے کبھی کام کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ سلطان نے اس فیصلے کو خوشی سے قبول کیا۔

​تلوار اور خنجر کا راز

​عدالت کی کارروائی ختم ہونے کے بعد، جب معمار مطمئن ہو کر چلا گیا، تو سلطان محمد فاتح نے اپنی چادر کے نیچے چھپائی ہوئی لوہے کی گرز یا تلوار قاضی خضر بے کو دکھائی اور مسکرا کر فرمایا:

​"اے قاضی! خدا کی قسم، اگر تم میرے شاہی رعب یا میری سلطنت کی طاقت سے ڈر کر میرے حق میں جھکا ہوا فیصلہ دیتے، تو میں اس تلوار سے اسی وقت تمہارا سر قلم کر دیتا۔"


​قاضی خضر بے نے بھی مسکرا کر اپنی گدی کے نیچے سے ایک تیز دھار خنجر نکالا اور جواب دیا:

​"اور اے سلطان! خدا کی قسم، اگر آپ قاضی کا شریعی فیصلہ ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے یا عدالت کے احترام میں کھڑے نہ ہوتے، تو میں اس خنجر کو آپ کے سینے میں اتار دیتا۔"


​سلطان نے قاضی کو گلے لگا لیا۔ یہ تھا وہ عدل و انصاف جس نے سلطنتِ عثمانیہ کی بنیادوں کو زمین کے اندر اتنا مضبوط کر دیا کہ وہ اگلی کئی صدیوں تک دنیا کی سپر پاور بنی رہی۔

​باب دوازدہم: علمی سرگرمیاں، ثقافتی انقلاب اور اقلیتوں کے حقوق

​12.1 علم پروری اور دانشوروں کی سرپرستی

​سلطان محمد فاتح کے دور میں استنبول صرف عسکری مہمات کا مرکز نہیں بنا، بلکہ وہ علم و حکمت کا الہیٰ گڑھ بن گیا۔ سلطان کو کتابوں سے عشق تھا، ان کے پاس ایک بہت بڑی شاہی لائبریری تھی جس میں لاطینی، یونانی، عربی اور فارسی کی نادر کتابیں موجود تھیں۔ وہ دنیا بھر کے سائنسدانوں، ریاضی دانوں، فلسفیوں اور شاعروں کو استنبول آنے کی دعوت دیتے تھے اور انہیں بھاری وظائف دیتے تھے۔

​انہوں نے علی قوشجی (Ali Qushji) جیسے نامور مسلم ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان کو سمرقند سے استنبول بلایا اور انہیں سلطنت کا اعلیٰ علمی عہدہ دیا۔ سلطان خود اکثر راتوں کو ان علماء کے ساتھ بیٹھ کر کائنات کے اسرار، ریاضی کے اصولوں اور فلسفے پر بحث کرتے تھے۔

​12.2 جامعہ فاتح (Sahn-ı Seman) کا قیام

​تعلیمی میدان میں سلطان کا سب سے بڑا کارنامہ استنبول میں جامعہ فاتح (Sahn-ı Seman Medrese) کی تاسیس تھا۔ یہ اپنے دور کی آکسفورڈ یا کیمبرج یونیورسٹی تھی، جہاں زیرِ تعلیم طلباء کے لیے نہ صرف مفت رہائش اور خوراک کا انتظام تھا بلکہ انہیں وظائف بھی دیے جاتے تھے۔ اس یونیورسٹی کا نصاب اتنا جدید تھا کہ اس میں روایتی اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ درج ذیل علوم لازمی پڑھائے جاتے تھے:

  • علمِ ہندسہ (Geometry) اور ریاضی (Mathematics)
  • علمِ نجوم و فلکیات (Astronomy)
  • علمِ طب (Medicine): جہاں ہسپتال (Darüşşifa) بھی قائم تھا، جہاں مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا۔

​12.3 ملت سسٹم (Millet System) اور اقلیتوں کا تحفظ

​یورپ میں اس دور میں اگر کوئی عیسائی بادشاہ کسی دوسرے عیسائی فرقے کے علاقے پر قبضہ کرتا، تو وہ وہاں کے لوگوں کو زبردستی اپنا فرقہ قبول کرنے پر مجبور کرتا یا انہیں زندہ جلا دیتا تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح نے استنبول اور اپنی پوری سلطنت میں "ملت سسٹم" نافذ کیا۔

​اس نظام کے تحت:

  • ​تمام غیر مسلموں (یونانی آرتھوڈوکس، آرمینیائی عیسائی اور یہودی) کو اپنی برادری کے داخلی معاملات، شادی بیاہ اور مذہبی قوانین کے فیصلے خود کرنے کی مکمل قانونی خودمختاری حاصل تھی۔
  • ​عیسائیوں کے چرچ اور یہودیوں کی عبادت گاہیں عثمانی تحفظ میں تھیں۔
  • ​سلطان نے خود یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے نئے پادری (Patriarch) جیناڈیوس کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے وسیع اختیارات دیے اور عثمانی فوج کو ان کی حفاظت پر مامور کیا۔

​باب تسیز دہم: آخری مہم اور وفاتِ حسرت آیات (1481ء)

​13.1 پراسرار مہم کا آغاز

​1481ء کے اوائل میں، سلطان محمد فاتح نے ایک بار پھر عثمانی فوج کو متحرک ہونے کا حکم دیا۔ استنبول کے ساحل پر ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا اور عثمانی بیڑا تیار ہو گیا۔ ہمیشہ کی طرح، سلطان نے اپنی منزل کا نام کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ ان کا ایک مشہور جملہ تاریخ میں درج ہے:

​"اگر میری داڑھی کے ایک بال کو بھی معلوم ہو جائے کہ میرا اگلا ہدف کیا ہے، تو میں اس بال کو اسی وقت اکھاڑ کر آگ میں پھینک دوں۔"


​مؤرخین کا قیاس ہے کہ سلطان کی یہ مہم دو بڑے اہداف میں سے کسی ایک کے لیے تھی: یا تو وہ خود اٹلی جا کر روم کو فتح کرنے والے تھے، یا پھر وہ مصر کی مملوک سلطنت کے خلاف ایک بڑی مہم پر جا رہے تھے کیونکہ عثمانیوں اور مملوکوں کے تعلقات ان دنوں کشیدہ تھے۔

​13.2 اچانک بیماری اور زہر کا شبہ

​سلطان محمد فاتح اپنی فوج کی قیادت کرتے ہوئے استنبول سے نکلے اور آبنائے باسفورس پار کر کے اناطولیہ کی زمین پر پہنچے۔ ابھی وہ استنبول سے تھوڑی ہی دور گیبزے (Gebze) کے مقام پر پہنچے تھے کہ ان کی طبیعت اچانک شدید خراب ہو گئی۔ ان کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور وہ خیمے سے باہر آنے کے قابل نہ رہے۔

​سلطان کے شاہی طبیبوں نے ان کا علاج کرنے کی کوشش کی، لیکن درد بڑھتا ہی چلا گیا۔ عثمانی تاریخ میں یہ بات انتہائی مضبوط شواہد کے ساتھ درج ہے کہ سلطان محمد فاتح کو ان کے ایک اطالوی طبیب (یعقوب پاشا) نے، جو بظاہر مسلمان ہو چکا تھا لیکن اصل میں وینس (Venice) کے عیسائیوں کا جاسوس تھا، آہستہ آہستہ زہر (Poison) دیا تھا کیونکہ وینس کے حکمران سلطان محمد فاتح کی اطالوی فتوحات سے شدید خوفزدہ تھے اور انہوں نے سلطان کو مارنے کے لیے کئی بار سازشیں کی تھیں۔

​13.3 عقاب کا زوال اور دنیا فانی سے رخصت

3 مئی 1481ء کو، صرف 49 سال کی عمر میں، سلطنتِ عثمانیہ کا وہ عظیم عقاب، فاتحِ قسطنطنیہ، جس نے دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا، اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ ان کی وفات کی خبر کو فوج میں بغاوت کے ڈر سے کچھ دنوں کے لیے خفیہ رکھا گیا۔

​جب سلطان محمد فاتح کی وفات کی تصدیق عیسائی دنیا اور یورپ تک پہنچی، تو پورے یورپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ روم (Rome) کے چرچوں میں، جہاں پوپ خوف سے کانپ رہا تھا، تالیاں بجائی گئیں اور تمام گرجا گھروں کے گھنٹے بجا کر پادریوں نے منادی کی:

"La Grande Aquila è morta!" (The Great Eagle is dead! - عظیم عثمانی عقاب مر گیا ہے!)


​سلطان محمد فاتح کے جسدِ خاکی کو استنبول لایا گیا اور ان کی بنائی ہوئی عظیم الشان فاتح مسجد (Fatih Mosque) کے احاطے میں تیار کیے گئے مقبرے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی ان کا مزار استنبول میں مرجعِ خلائق ہے جہاں لاکھوں مسلمان روزانہ ان کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔

​باب چہاردہم: سلطان محمد فاتح کی وراثت اور تاریخی خلاصہ

​سلطان محمد فاتح نے اپنے 30 سالہ دورِ حکومت میں سلطنتِ عثمانیہ کو ایک چھوٹی علاقائی ریاست سے بدل کر دنیا کی سب سے طاقتور اور منظم بین البراعظمی سپر پاور (Global Empire) بنا دیا۔

​ان کے دور کے اہم ترین اعداد و شمار اور فتوحات کا خلاصہ:

  1. فتوحات کی تعداد: انہوں نے اپنے دور میں 2 عظیم سلطنتیں (بازنطینی اور طرابزون)، 14 خود مختار ریاستیں اور صوبے فتح کیے۔
  2. عسکری جدت: انہوں نے دنیا میں پہلی بار بڑی آرٹلری (توپ خانے) اور منظم بحری ناکہ بندی کی جنگی حکمتِ عملی متعارف کروائی۔
  3. مذہبی رواداری: انہوں نے غیر مسلموں کو جان و مال اور اپنے قوانین پر عمل کرنے کی وہ آزادی دی جس کا تصور اس دور کے یورپ میں ناممکن تھا۔
  4. سلطان محمد فاتح تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف زمینیں فتح کیں بلکہ اپنے اعلیٰ اخلاق، بے مثال عسکری جینیئس اور خوفِ خدا پر مبنی عدل و انصاف سے غیروں کے دلوں کو بھی فتح کیا۔ وہ ہمیشہ تاریخ کے افق پر اُمّتِ مسلمہ کے ایک عظیم ہیرو اور "بہترین امیر" کی حیثیت سے چمکتے رہیں گے۔

سلطان محمد فاتح تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف زمینیں فتح کیں بلکہ اپنے اعلیٰ اخلاق، بے مثال عسکری جینیئس اور خوفِ خدا پر مبنی عدل و انصاف سے غیروں کے دلوں کو بھی فتح کیا۔ وہ ہمیشہ تاریخ کے افق پر اُمّتِ مسلمہ کے ایک عظیم ہیرو اور "بہترین امیر" کی حیثیت سے چمکتے رہیں گے۔


امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 

اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کردیں اور آگے بھی شیئر کریں 

اور کومنٹس میں ضرور بتائیے کہ اگلا واقعہ آپ کو کسی کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔


Comments

Popular posts from this blog

​سلطان الپ ارسلان: جب حکمران نے جیتے جی کفن پہن لیا

سلطان اورخان غازی: عثمانی سلطنت کے وہ عظیم معمار جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

سلطان محمد رابع اور قلعہ کامانیٹ کی تاریخی فتح: سلطنتِ عثمانیہ کی شان