❤سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا انصاف💚
سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا انصاف: عدل و انصاف کی وہ لازوال داستان جس نے سلطنتِ غزنویہ کو امر کر دیا
مقدمہ: تاریخِ اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت اور سلاطین کا کردار
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ جن سلطنتوں نے دنیا پر طویل عرصے تک حکومت کی، ان کی طاقت کا راز صرف ان کی وسیع فوج یا جدید ہتھیار نہیں تھے، بلکہ ان کا مضبوط نظامِ عدل تھا۔ اسلام نے حکمرانوں کے لیے عدل و انصاف کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے، جہاں ایک عام شہری اور وقت کے بادشاہ کے درمیان قانون کی نظر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ تاریخِ اسلام کے افق پر کئی ایسے سلاطین چمکے جنہوں نے میدانِ جنگ میں اپنی شجاعت کے جھنڈے گاڑے، لیکن تاریخ نے انہیں ان کے عدل و انصاف کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔ انہی عظیم الشان حکمرانوں میں سے ایک نام سلطان محمود غزنوی کا ہے۔
سلطان محمود غزنوی کا نام ذہن میں آتے ہی عام طور پر ہندوستان پر ان کے ۱۷ حملے، سومنات کی فتح اور ایک عظیم فاتح کی تصویر سامنے آتی ہے۔ لیکن محمود غزنوی صرف ایک تلوار چلانے والے مجاہد یا فاتح نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نہایت انصاف پسند، علم پرور، عاقل اور رعایا پرور بادشاہ تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں غزنوی سلطنت علم و ادب اور عدل و انصاف کا مرکز بن چکی تھی۔ ان کے انصاف کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کا اپنا بیٹا یا کوئی قریبی رشتہ دار بھی کسی ظلم میں ملوث پایا جاتا، تو وہ اسے بھی کڑی سزا دینے سے گریز نہیں کرتے تھے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم سلطان محمود غزنوی کی زندگی کے اسی روشن پہلو یعنی ان کے نظامِ عدل پر روشنی ڈالیں گے اور خاص طور پر "بوڑھی عورت اور سلطان کے انصاف" کا وہ مشہور اور ایمان افروز واقعہ تفصیلاً بیان کریں گے جو آج بھی دنیا بھر کے حکمرانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
باب اول: سلطان محمود غزنوی کا خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی
۱. پیدائش اور سلطنتِ غزنویہ کا آغاز
سلطان محمود غزنوی ۲ نومبر ۹۷۱ عیسوی (۳۶۰ ہجری) کو افغانستان کے تاریخی شہر غزنی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمود تھا اور ان کی کنیت ابو القاسم تھی۔ ان کے والد کا نام امیر سبکتگین تھا، جو سلطنتِ غزنویہ کے بانی اور ایک نہایت بہادر اور نیک دل حکمران تھے۔ امیر سبکتگین نے اپنے بیٹے محمود کی تربیت پر خصوصی توجہ دی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آگے چل کر اس بچے کو ایک عظیم سلطنت کا بوجھ اٹھانا ہے۔
محمود غزنوی نے بچپن ہی سے قرآنی علوم، فقہ، حدیث اور عربی و فارسی ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے شہسواری، تیر اندازی، تلوار بازی اور جنگی چالوں میں اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ وہ اپنی جوانی ہی میں سلطنت کے بہترین جرنیل بن گئے۔ ان کے والد نے انہیں اپنی زندگی ہی میں کئی اہم مہمات کا نگران بنایا، جہاں محمود نے اپنی انتظامی اور فوجی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
۲. تخت نشینی اور عظیم سلطنت کا قیام
۹۹۷ عیسوی میں امیر سبکتگین کی وفات کے بعد کچھ داخلی اختلافات کے بعد ۹۹۸ عیسوی میں سلطان محمود غزنوی باقاعدہ طور پر غزنی کے تخت پر بیٹھے۔ تخت نشین ہوتے ہی انہوں نے بغداد کے عباسی خلیفہ الکادر باللہ سے اپنے اقتدار کی سند حاصل کی، اور خلیفہ نے انہیں "یمین الدولہ" (سلطنت کا دایاں ہاتھ) اور "امین الملت" (امت کا امانت دار) کے خطابات سے نوازا۔
سلطان محمود غزنوی نے اپنی ۳۲ سالہ حکومت کے دوران سلطنتِ غزنویہ کی حدود کو اس دور کی دنیا کے ایک بہت بڑے حصے تک پھیلا دیا۔ ان کی سلطنت میں پورا افغانستان، موجودہ ایران، پاکستان، وسطی ایشیا کے کچھ حصے اور شمال مغربی ہندوستان شامل تھے۔ انہوں نے غزنی کو اس وقت دنیا کا خوبصورت ترین شہر بنا دیا، جہاں بڑے بڑے محلات، مدارس، لائبریریاں اور ہسپتال قائم کیے گئے۔ ان کے دربار میں فردوسی اور البیرونی جیسے جلیل القدر علماء اور شعراء موجود تھے۔
باب دوم: سلطان محمود غزنوی کا تصورِ عدل اور انتظامی نظام
۱. قانون کی نظر میں سب برابر
سلطان محمود غزنوی کا یہ پختہ ایمان تھا کہ جو حکومت اپنی رعایا کو انصاف فراہم نہیں کر سکتی، وہ بہت جلد تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری سلطنت میں ایک ایسا نظامِ قضا (Judiciary) قائم کیا جو بالکل آزاد تھا اور بادشاہ کے دباؤ سے آزاد تھا۔ سلطنت کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں قاضی (جج) مقرر کیے گئے تھے جو شریعتِ اسلامی کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔
سلطان نے اپنے تمام گورنروں اور سرکاری اہلکاروں کو سخت ہدایت کر رکھی تھی کہ عوام پر کسی قسم کا ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی سرکاری افسر کسی غریب شہری کا حق مارتا، تو سلطان خود اس کی تحقیقات کرتے اور جرم ثابت ہونے پر اس افسر کو سرِعام سزا دیتے۔ سلطان کا یہ اصول تھا کہ انصاف کے معاملے میں نسل، رنگ، مذہب یا خاندانی حیثیت کو بالکل نہیں دیکھا جائے گا۔
۲. راتوں کو گشت اور عوامی شکایات کا جائزہ
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، سلطان محمود غزنوی اکثر راتوں کو بھیس بدل کر غزنی کی گلیوں اور بازاروں کا چکر لگاتے تھے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے عوام کے حالات دیکھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ ان کے کارندے عوام کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے محل کے باہر ایک خاص "فریادی گھنٹی" یا ایسا انتظام بھی کر رکھا تھا کہ کوئی بھی مظلوم شخص بلا جھجک براہِ راست بادشاہ تک پہنچ سکے۔
باب سوم: بوڑھی عورت کا واقعہ اور اس کا پس منظر
اب ہم تاریخ کے اس مشہور واقعے کی طرف آتے ہیں جس نے سلطان محمود غزنوی کے عدل کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ یہ واقعہ اس دور کا ہے جب سلطان محمود غزنوی کی فتوحات کا ڈنکا بج رہا تھا اور ان کی سلطنت ایران اور وسطی ایشیا کے دور دراز علاقوں تک پھیل چکی تھی۔
۱. عراق کے سرحدی علاقے پر ڈاکوؤں کا راج
سلطان محمود غزنوی نے ایران کا ایک بڑا علاقہ فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا تھا، جس میں "رے" اور اس کے آس پاس کے ریگستانی و پہاڑی علاقے شامل تھے۔ یہ علاقہ غزنی کے مرکزی دارالحکومت سے سینکڑوں میل دور سلطنت کے بالکل آخری کونے پر واقع تھا۔ دور دراز اور دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے تجارتی راستوں پر اکثر ڈاکو، قزاق اور لٹیرے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔
انہی علاقوں سے گزرنے والے ایک تجارتی قافلے میں ایک غریب بوڑھی عورت کا جوان بیٹا بھی شامل تھا، جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے محنت مزدوری اور تجارت کی غرض سے سفر کر رہا تھا۔ یہ بوڑھی عورت اپنی زندگی کے آخری ایام میں تھی اور اس کا بیٹا ہی اس کا کل اثاثہ اور جینے کا واحد سہارا تھا۔
۲. قافلے پر حملہ اور جوان بیٹے کی شہادت
جب یہ تجارتی قافلہ رے کے ایک سنسان اور پہاڑی راستے سے گزر رہا تھا، تو اچانک پہاڑیوں کے پیچھے چھپے ہوئے ڈاکوؤں کے ایک بڑے گروہ نے قافلے پر دھاوا بول دیا۔ ڈاکوؤں کے پاس تیز دھار ہتھیار اور گھوڑے تھے۔ انہوں نے پورے قافلے کو گھیرے میں لے لیا اور ان کا سارا مال و اسباب لوٹنا شروع کر دیا ہ۔
بوڑھی عورت کے جوان بیٹے نے اپنی محنت کی کمائی اور مال کو بچانے کے لیے ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ظالم ڈاکوؤں نے رحم کھانے کے بجائے اس نوجوان پر تلواروں سے پیاپے وار کیے اور اسے موقع پر ہی بے دردی سے شہید کر دیا۔ ڈاکو قافلے کا سارا سونا، چاندی اور مال لے کر پہاڑیوں میں غائب ہو گئے، اور پیچھے صرف لاشیں اور زخمیوں کی آہ و پکار رہ گئی۔
باب چہارم: بوڑھی عورت کا غزنی کا طویل سفر اور سلطان کے دربار میں آمد
۱. صدمہ اور عزمِ انصاف
جب اس غریب اور بوڑھی ماں تک اس کے جوان بیٹے کی شہادت اور لٹ جانے کی خبر پہنچی، تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کا گھر اجڑ چکا تھا اور بڑھاپے کا سہارا چھن گیا تھا۔ وہ چاہتی تو گھر بیٹھ کر آنسو بہاتی اور اپنی قسمت کو روتی، لیکن اس کے اندر کے انصاف کے جذبے نے اسے خاموش بیٹھنے نہ دیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس خطے کا حاکم سلطان محمود غزنوی ہے، جس کے عدل کے قصے پوری دنیا میں مشہور تھے۔
اس بوڑھی عورت نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کے خون کا انصاف مانگنے کے لیے خود وقت کے بادشاہ کے پاس جائے گی۔ رے کے علاقے سے غزنی کا فاصلہ سینکڑوں میل کا تھا، جو پہاڑوں، تپتے ہوئے ریگستانوں اور پرخطر راستوں سے ہو کر گزرتا تھا۔ ایک کمزور اور بوڑھی عورت کے لیے یہ سفر کسی موت کے کھیل سے کم نہیں تھا، لیکن اپنے بیٹے کے انصاف کی تڑپ نے اسے طاقت دی۔ وہ مہینوں پیدل اور قافلوں کے ساتھ سفر کر کے بالاخر غزنی کے دارالحکومت پہنچ گئی۔
۲. دربارِ سلطانی میں بوڑھی عورت کی پکار
غزنی پہنچ کر وہ بوڑھی عورت سیدھی سلطان محمود غزنوی کے محل کے باہر پہنچ گئی۔ جب سلطان کا دربار لگا، جہاں بڑے بڑے وزراء، امراء اور غیر ملکی سفیر موجود تھے، تو اس بوڑھی عورت کو بھی اپنی باری پر اندر جانے کی اجازت ملی۔
اس نے دربار میں کھڑے ہو کر بلند اور پرعزم آواز میں کہا:
"اے سلطان محمود! میں ایک دور دراز خطے سے آئی ہوں، جہاں تیرے کارندوں کی موجودگی کے باوجود ڈاکوؤں نے میرے جوان بیٹے کو بے دردی سے قتل کر دیا اور ہمارا سارا مال لوٹ لیا۔ میں یہاں تجھ سے اپنے بیٹے کے خون کا انصاف مانگنے آئی ہوں!"
باب پنجم: سلطان کا جواب اور بوڑھی عورت کا تاریخی اعتراض
۱. سلطان محمود غزنوی کا عذر
سلطان محمود غزنوی نے اس بوڑھی عورت کی بپتا کو بہت غور اور ہمدردی سے سنا۔ انہیں اس کے بیٹے کے قتل پر دلی افسوس ہوا، لیکن انہوں نے اپنی سلطنت کی وسعت اور جغرافیائی مجبوری کا ذکر کرتے ہوئے اس عورت سے کہا:
"مائی! تمہارا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور مجھے تمہارے بیٹے کے جانے کا بڑا غم ہے۔ لیکن تم دیکھتی ہو کہ میری سلطنت کتنی وسیع ہے؟ میری سرحدیں غزنی سے لے کر ایران اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ علاقہ (رے) جہاں یہ حادثہ پیش آیا، میرے دارالحکومت سے بہت دور ہے اور وہاں ہر وقت فوج کا موجود رہنا یا ڈاکوؤں پر نظر رکھنا میرے لیے ممکن نہیں ہے"۔
سلطان کا مقصد یہ تھا کہ اتنی دور دراز جگہ پر اچانک ہونے والے جرائم کو روکنا کسی بھی بادشاہ کے لیے مکمل طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
۲. بوڑھی عورت کا وہ تاریخی جملہ جس نے سلطان کو ہلا کر رکھ دیا
سلطان کا یہ جواب سن کر اس بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، لیکن وہ ڈری یا جھکی نہیں، بلکہ اس نے ایک ایسا تاریخی، گہرا اور جرات مندانہ جواب دیا جس نے نہ صرف سلطان محمود غزنوی کو بلکہ پورے دربار کو سکتہ میں ڈال دیا۔
بوڑھی عورت نے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
"اے محمود! اگر تو اتنے دور دراز علاقوں کی حفاظت نہیں کر سکتا اور وہاں کے امن و امان کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا، تو پھر تو اتنے ملک فتح ہی کیوں کرتا ہے؟ خدا کی زمین کے ان حصوں پر اپنا قبضہ کیوں جماتا ہے جن کا حق انصاف تو ادا نہیں کر سکتا؟ کل قیامت کے دن تو خدا کو کیا جواب دے گا جب وہ تجھ سے میری رعایا کا پوچھے گا؟"
پورا دربار گونج اٹھا، وزراء حیران رہ گئے کہ ایک معمولی اور غریب عورت نے وقت کے اتنے بڑے اور طاقتور فاتح کو اس طرح سرِعام للکار دیا تھا۔ دربار میں سناٹا چھا گیا اور سب سلطان کے غصے یا حکم کا انتظار کرنے لگے۔
باب ششم: سلطان کا ردِعمل، پشیمانی اور فوری انصاف
۱. سلطان کی آنکھوں میں آنسو اور توبہ
سلطان محمود غزنوی کوئی مغرور یا جابر بادشاہ نہیں تھے، بلکہ ان کے دل میں خدا کا خوف اور شریعت کا احترام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بوڑھی عورت کا یہ جملہ سیدھا ان کے دل پر لگا۔ وہ عیسائیوں اور ہندو راجوں کے سامنے لوہے کی چٹان بن جانے والے سلطان، ایک غریب ماں کے سچے اور کھری بات کے سامنے موم ہو گئے۔
سلطان محمود غزنوی کے سرِ جھک گئے اور ان کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بادشاہ ہونے کے ناطے سلطنت کے ہر ایک کونے کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی اس ذمہ داری میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے دربار میں کھڑے ہو کر کہا:
"اے مائی! خدا کی قسم، تو نے بالکل سچ کہا ہے۔ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی اور میں خدا کے سامنے شرمندہ ہوں۔ میں تیرے اس اعتراض کو تسلیم کرتا ہوں"۔
۲. ڈاکوؤں کے خاتمے کا فوری شاہی حکم
سلطان نے اسی وقت اپنے سپہ سالار کو بلایا اور ایک مضبوط فوجی دستہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تک اس بوڑھی عورت کے بیٹے کے قاتل پکڑے نہیں جاتے اور اس خطے سے ڈاکوؤں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ نہیں ہو جاتا، غزنوی فوج چین سے نہیں بیٹھے گی۔
سلطان کی فوج اس دور دراز علاقے میں پہنچی، ڈاکوؤں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے، اور چند ہی دنوں میں اس پورے گروہ کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے قافلے کو لوٹا تھا۔ ان ڈاکوؤں کو غزنی لایا گیا اور شریعت کے مطابق انہیں عبرت ناک سزائیں دی گئیں اور ان کا سر قلم کر دیا گیا۔
۳. بوڑھی عورت کی کفالت اور مال کی واپسی
ڈاکوؤں کے پاس سے لوٹا ہوا جو بھی مال برآمد ہوا، وہ سلطان نے اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیا۔ اس کے علاوہ، چونکہ اس کا کمانے والا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا، سلطان نے شاہی خزانے (بیت المال) سے اس بوڑھی عورت کے لیے ایک خطیر رقم بطورِ وظیفہ مقرر کر دی تاکہ اسے اپنی بقیہ زندگی میں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور اس کی دلی تسلی ہو سکے۔ بوڑھی عورت نے سلطان کے حق میں دعا کی اور مطمئن ہو کر اپنے وطن واپس لوٹ گئی۔
باب ہفتم: اس واقعے کے تاریخی اثرات اور غزنوی سلطنت کا نظامِ امن
اس واقعے کے بعد سلطان محمود غزنوی نے اپنی پوری سلطنت کے امن و امان کے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دیا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ سرحدوں کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی نئے ملک فتح کرنا۔
۱. شاہراہوں پر قلعوں اور چوکیاں کا قیام
سلطان نے غزنی سے لے کر ایران، وسطی ایشیا اور ہندوستان جانے والے تمام تجارتی راستوں اور شاہراہوں پر ہر چند میل کے فاصلے پر مضبوط فوجی چوکیاں اور چھوٹے قلعے (سراہیں) قائم کیے۔ ان چوکیوں میں چوبیس گھنٹے مسلح سپاہی تعینات رہتے تھے جن کا کام صرف تاجروں، مسافروں اور زائرین کی حفاظت کرنا تھا۔
۲. خفیا ایجنسی (برید) کا نظام
سلطان نے اپنی سلطنت میں "برید" (انٹیلیجنس اور ڈاک کا نظام) کو اتنا تیز کیا کہ دور دراز کے علاقوں میں ہونے والے کسی بھی چھوٹے واقعے کی خبر چند ہی دنوں میں غزنی میں موجود سلطان تک پہنچ جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غزنوی سلطنت میں جرائم کی شرح تقریباً ختم ہو گئی اور تاجر بغیر کسی خوف کے اکیلے بھی ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتے تھے۔
باب ہشتم: عدلِ غزنوی کے دیگر مشہور واقعات
سلطان محمود غزنوی کے انصاف کا یہ واقعہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا۔ تاریخ میں ایسے کئی شواہد موجود ہیں جو ان کے بے لاگ انصاف کو ظاہر کرتے ہیں:
۱. سلطان کے بھانجے کا واقعہ
ایک بار غزنی کے ایک غریب شہری نے سلطان کے دربار میں آ کر شکایت کی کہ ایک اوباش شخص رات کے وقت اس کے گھر میں زبردستی داخل ہوتا ہے، اسے مارتا پیٹتا ہے اور اس کے گھر والوں کو ہراساں کرتا ہے۔ اس شخص نے بتایا کہ وہ اوباش کوئی عام آدمی نہیں بلکہ خود سلطان کا قریبی رشتہ دار (بھانجا) ہے۔
سلطان نے اس غریب آدمی کی بات سنی اور کہا: "اگلی بار جب وہ شخص تمہارے گھر آئے، تو تم فوراً میرے پاس آنا اور محافظوں کو میرا یہ خاص نشان دکھا کر مجھے نیند سے بھی جگا دینا"۔ اگلی رات وہ اوباش دوبارہ اس غریب کے گھر میں گھس گیا۔ وہ شخص بھاگتا ہوا سلطان کے پاس پہنچا۔ سلطان رات کے اندھیرے میں اکیلے تلوار لے کر اس غریب کے گھر پہنچے۔
سلطان نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے وہاں موجود شمع (چراغ) کو بجھانے کا حکم دیا تاکہ اندھیرا ہو جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اندھیرے ہی میں اس اوباش شخص کی گردن پر تلوار کا وار کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد سلطان نے چراغ جلانے کو کہا۔ جب روشنی ہوئی، تو سلطان نے مقتول کا چہرہ دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر گئے۔
اس غریب شخص نے حیرت سے پوچھا: "عالی جاہ! آپ نے قتل کرنے سے پہلے چراغ کیوں بجھایا اور اب سجدہ کیوں کیا؟" سلطان محمود غزنوی نے تاریخی جواب دیا:
"میں نے چراغ اس لیے بجھایا تھا کہ کہیں اپنے بھانجے کا چہرہ دیکھ کر میرے دل میں ماموں کی محبت نہ جاگ جائے اور مروت میں میرا ہاتھ انصاف کرنے سے نہ رک جائے۔ اور میں نے سجدہِ شکر اس لیے کیا کیونکہ روشنی میں دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ میرا بھانجا نہیں تھا، بلکہ کوئی اور تھا، اور میں اپنے رشتہ دار کے گناہ سے بچ گیا"۔
نچوڑ (Conclusion): بوڑھی عورت کے واقعے کا عالمی پیغام
سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ سیاست، حکمرانی اور انسانی حقوق کا ایک ایسا عالمی منشور ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اس واقعے سے ہمیں چند اہم ترین اسباق ملتے ہیں:
- حکمرانی ایک بھاری ذمہ داری ہے: اقتدار صرف عیش و عشرت یا فتوحات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ رعایا کے جان و مال کی حفاظت کی ایک بھاری ذمہ داری ہے، جس کا جواب کل قیامت کے دن خدا کے حضور دینا ہوگا۔
- عوامی آواز کی طاقت: ایک سچی اور اصولی بات وقت کے بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسلام نے عوام کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے حاکم کی غلطی پر اس کا احتساب کر سکیں۔
- سچے حکمران کی نشانی: ایک سچا اور عادل حکمران وہ ہوتا ہے جو اپنی غلطی یا کوتاہی کا اعتراف کرنے میں شرم محسوس نہ کرے، بلکہ حق بات سامنے آتے ہی اپنی اصلاح کر لے۔
سلطان محمود غزنوی نے اس بوڑھی عورت کے سامنے جھک کر اور اپنے نظام کو بہتر کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی ایک عظیم مسلم حکمران تھے۔ آج بھی اگر دنیا کے ممالک اپنے نظامِ عدل کو اسی طرح مضبوط اور بے لاگ بنا لیں، تو معاشرے سے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے ہو سکتا ہے۔
سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا انصاف: عدل و انصاف کی وہ لازوال داستان جس نے سلطنتِ غزنویہ کو امر کر دیا
Comments
Post a Comment