امیر تیمور: تاریخِ عالم کا وہ ناقابلِ تسخیر سلطان جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا

 

۔

امیر تیمور بیگ گورکان: وسطی ایشیا کا وہ عظیم اور ناقابلِ شکست فاتح جس نے دنیا کی تاریخ کو ہلا کر رکھ دیا

​مقدمہ: تاریخ کا عظیم ترین اور خوفناک ترین جرنیل

​تاریخِ انسانی نے کئی ایسے فاتحین اور جرنیل دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی تلوار اور جنگی حکمتِ عملی کے زور پر آدھی دنیا کو تاخت و تاراج کر دیا۔ چنگیز خان، الیگزینڈر (سکندرِ اعظم) اور جولیس سیزر جیسے ناموں کی صف میں ایک ایسا نام بھی شامل ہے جس نے وسطی ایشیا کے ریگستانوں سے اٹھ کر دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کے تاج اچھال دیے۔ اس عظیم، نڈر، ناقابلِ شکست لیکن تاریخ کے متنازع ترین حکمران کا نام امیر تیمور (تیمور لنگ) ہے۔

​امیر تیمور تاریخ کا وہ واحد جرنیل ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں درجنوں بڑی جنگیں لڑیں لیکن وہ کسی ایک جنگ میں بھی شکست خوردہ نہیں ہوا۔ اس کی سلطنت مغرب میں ترکی اور مصر سے لے کر مشرق میں ہندوستان کے شہر دہلی تک اور شمال میں روس کے میدانوں سے لے کر جنوب میں بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ ایک ہی وقت میں ایک مٹیار، جنگجو، شاطر سیاست دان، شطرنج کا ماہر اور علم و فن کا دلدادہ حکمران تھا۔ جہاں اس کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے دمشق، بغداد اور دہلی کو ہلا کر رکھ دیا، وہاں اس نے اپنے دارالحکومت سمرقند کو دنیا کا خوبصورت ترین شہر اور علم کا مرکز بنا دیا۔

​اس تفصیلی اور مستند تاریخی مضمون میں ہم امیر تیمور کی پیدائش، اس کے خاندانی پس منظر، اس کے لنگڑے ہونے کا سچ، اس کے عروج کی داستان، اس کی بڑی فتوحات (خاص طور پر فتحِ ہندوستان اور عثمانی سلطان بایزید یلدرم کے خلاف جنگِ انقرہ) اور اس کے کردار کے مختلف پہلوؤں کا 5000 الفاظ پر مشتمل گہرا احاطہ کریں گے تاکہ آپ کے بلاگ پر ایک بہترین علمی دستاویز موجود ہو۔

​باب اول: پیدائش، خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی

​۱. پیدائش اور قبیلہ برلاس

​امیر تیمور ۹ اپریل ۱۳۳۶ عیسوی (۲۵ شعبان ۷۳۶ ہجری) کو موجودہ ازبکستان کے تاریخی شہر کیش (جسے اب شہرِ سبز کہا جاتا ہے) کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام امیر تراغائی تھا، جو چغتائی سلطنت کے ایک معزز، نیک دل اور قبیلہ برلاس کے سردار تھے۔ قبیلہ برلاس اصل میں منگول نسل سے تھا لیکن وسطی ایشیا میں رہنے کی وجہ سے وہ پوری طرح ترک تہذیب اور زبان (چغتائی ترکی) اپنا چکے تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے۔

​تیمور کا اصل نام تیمور تھا، جس کا ترکی زبان میں مطلب "لوہا" ہوتا ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ واقعی لوہے کا انسان تھا جس نے کبھی حالات کے سامنے ہار نہیں مانی۔ اس کے والد امیر تراغائی ایک درویش صفت انسان تھے جو سلطنت کی سیاست سے دور رہتے تھے اور زیادہ تر وقت علماء کی صحبت میں گزارتے تھے۔ انہوں نے تیمور کی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور اسے بچپن ہی سے قرآن، تاریخ اور فنِ سپہ گری کی تعلیم دلائی۔

​۲. بچپن کے حالات اور شجاعت کے قصے

​تیمور بچپن ہی سے عام بچوں سے مختلف تھا۔ اسے کھلونوں سے کھیلنے کی بجائے شہسواری، نیزہ بازی اور تلوار بازی کا شوق تھا۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں کو جمع کر کے جنگی کھیل کھیلا کرتا تھا اور خود ان کا جرنیل بنتا تھا۔ جب وہ صرف ۱۰ سال کا ہوا، تو اس کی شہسواری اور نشانہ بازی کے قصے پورے قبیلے میں مشہور ہو چکے تھے۔

​اس دور میں وسطی ایشیا (چغتائی سلطنت) شدید سیاسی انتشار کا شکار تھی۔ چنگیز خان کی اولاد کمزور ہو چکی تھی اور ہر طرف چھوٹے بڑے امراء اور قبیلے آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس ماحول نے تیمور کو وقت سے پہلے بالغ اور شاطر بنا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس ماحول میں صرف وہی زندہ رہ سکتا ہے جس کے ہاتھ میں تلوار اور دل میں عزم ہو۔

​باب دوم: تیمور کے "لنگڑے" ہونے کا واقعہ اور عزمِ مصمم

​یورپی اور مغربی تاریخ میں امیر تیمور کو عام طور پر Tamerlane کہا جاتا ہے، جو کہ فارسی لفظ "تیمور لنگ" (لنگڑا تیمور) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ تیمور کے لنگڑے ہونے کے پیچھے ایک بہت بڑی اور سچی داستان ہے۔

​۱. سیستان کی مہم اور زخم

​اپنی جوانی کے دنوں میں (جب تیمور ابھی ایک چھوٹا سا جنگجو تھا اور اپنی طاقت بڑھا رہا تھا)، اسے موجودہ افغانستان اور ایران کے سرحدی علاقے سیستان کے حکمران نے اپنے دشمنوں کے خلاف مدد کے لیے بلایا۔ تیمور اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ وہاں گیا۔ ایک شب معرکے کے دوران دشمنوں نے اچانک ان پر تیروں کی بارش کر دی۔

​اس ہولناک لڑائی میں دو تیر تیمور کو لگے۔ ایک تیر اس کے دائیں ہاتھ کے کندھے پر لگا اور دوسرا تیر اس کے دائیں پاؤں کے گھٹنے پر لگا۔ یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اس وقت کے جراح (ڈاکٹر) اس کے پاؤں کی ہڈی کو پوری طرح درست نہ کر سکے۔ اس واقعے کے بعد تیمور عمر بھر اپنے دائیں پاؤں سے تھوڑا لنگڑا کر چلتا تھا اور اس کا دایاں ہاتھ بھی پوری طرح کام نہیں کرتا تھا ہ۔

​۲. جسمانی کمزوری پر عزم کی فتح

​کسی بھی عام انسان کے لیے دایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں ناکارہ ہو جانا اس کے فوجی کیریئر کا خاتمہ ہوتا۔ لیکن تیمور عام انسان نہیں تھا۔ اس نے اس معذوری کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ اس نے بائیں ہاتھ سے تلوار چلانے اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھنے کی اتنی سخت مشق کی کہ وہ تندرست جرنیلوں سے زیادہ تیز رفتار ہو گیا۔ وہ جنگی میدان میں گھوڑے پر بیٹھ کر اس طرح لڑتا تھا کہ دشمن کو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ شخص معذور ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ فتح جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ ذہنی عزم سے حاصل ہوتی ہے۔

​باب سوم: اقتدار کا آغاز اور سمرقند پر قبضہ

​۱. امیر حسین کے ساتھ اتحاد اور دشمنی

​تیمور نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے بلخ کے حاکم امیر حسین کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان دونوں نے مل کر خانِ کاشغر (تغلق تیمور) کے خلاف جنگیں لڑیں اور ماوراء النہر (وسطی ایشیا کا اہم خطہ) کو آزاد کروایا۔ اس اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے تیمور نے امیر حسین کی بہن سے شادی بھی کی، جن کا نام الجام خاتون تھا۔

​لیکن یہ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ امیر حسین ایک لالچی اور مصلحت پسند انسان تھا، جبکہ تیمور کے عزائم بہت بڑے تھے۔ ۱۳۷۰ عیسوی میں دونوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی، جس میں امیر حسین کو شکست ہوئی اور وہ مارا گیا۔ اب تیمور پورے ماوراء النہر کا بلا شرکتِ غیرے حاکم بن چکا تھا۔

​۲. سمرقند کا تخت اور "امیر" کا لقب

​۱۳۷۰ عیسوی میں ۳۴ سال کی عمر میں تیمور نے باقاعدہ طور پر تخت نشینی کا اعلان کیا۔ چونکہ وہ چنگیز خان کی نسل سے نہیں تھا، اس لیے منگول قانون (یاسا) کے مطابق وہ خود کو "خان" نہیں کہہ سکتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے چنگیز خان کی نسل کے ایک شہزادے (سیورغاتمش) کو برائے نام خان بنایا اور خود "امیر" اور "گورکان" (چنگیز خان کا داماد) کا لقب اختیار کیا۔

​تیمور نے اپنے دادا کے پرانے شہر سمرقند کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ سمرقند کو دنیا کا ایسا شہر بنائے گا کہ بغداد، دمشق اور قاہرہ کی چمک اس کے سامنے پھیکی پڑ جائے۔ اس نے دنیا بھر سے ماہر کاریگروں، معماروں اور سائنسدانوں کو سمرقند لانا شروع کر دیا۔

​باب چہارم: فتوحات کا طوفان — ایران، خراسان اور دشتِ قپچاق

​تخت پر بیٹھتے ہی امیر تیمور نے اپنی سلطنت کو پھیلانے کے لیے مہمات کا آغاز کیا۔ اس کی جنگی حکمتِ عملی اتنی ہولناک ہوتی تھی کہ دشمن لڑنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے تھے۔

​۱. ایران اور خراسان کی فتح

​۱۳۸۱ سے ۱۳۸۷ عیسوی کے دوران تیمور نے ایران، خراسان (موجودہ افغانستان کا حصہ) اور سیستان پر پیاپے حملے کیے۔ ایران اس وقت چھوٹی چھوٹی کمزور حکومتوں میں بٹا ہوا تھا۔ تیمور کی فوج نے ہرات، نیشاپور، اصفہان اور شیراز پر قبضہ کر لیا۔

​اصفہان کی فتح کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تیمور کو تاریخ کا ایک خوفناک جرنیل بنا دیا۔ جب تیمور نے اصفہان فتح کیا، تو اس نے وہاں ایک چھوٹا فوجی دستہ چھوڑا اور خود آگے بڑھ گیا۔ اصفہان کے شہریوں نے رات کے وقت بغاوت کر کے تیمور کے ۳ ہزار فوجیوں کو قتل کر دیا۔ جب تیمور کو اس کا علم ہوا، تو اس کا جلال عروج پر پہنچ گیا۔ اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ شہر کے ہر شہری کا سر قلم کر دیا جائے اور ان کے سروں کے مینار بنائے جائیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس واقعے میں ۷۰ ہزار سے زائد سروں کے مینار بنائے گئے تاکہ پوری دنیا کو عبرت ہو۔

​۲. توقتمش خان اور دشتِ قپچاق (روس) کی مہم

​تیمور کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنے ہی پالے ہوئے ایک منگول شہزادے توقتمش خان کے خلاف لڑنے میں گزرا۔ توقتمش "گولڈن ہارڈ" (روس کا منگول حصہ) کا شہزادہ تھا، جسے تیمور نے اپنے پاس پناہ دی تھی اور اسے تخت دلانے میں مدد کی تھی۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی توقتمش نے تیمور کے ساتھ غداری کی اور اس کی سلطنت پر حملے شروع کر دیے۔

​تیمور نے توقتمش کو سبق سکھانے کے لیے روس کے برفیلے میدانوں (دشتِ قپچاق) کا رخ کیا۔ یہ ایک انتہائی مشکل مہم تھی جہاں ہزاروں میل تک صرف برف اور ریگستان تھا ہ۔ ۱۳۹۵ عیسوی میں جنگِ تیرک (Battle of the Terek River) میں تیمور نے توقتمش کو ایسی عبرت ناک شکست دی کہ گولڈن ہارڈ کی سلطنت ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گئی اور روس کی تاریخ کا رخ بدل گیا۔ تیمور کی فوج ماسکو (روسی دارالحکومت) کے قریب تک پہنچ گئی تھی۔

​باب پنجم: فتحِ ہندوستان — دہلی کی تباہی اور مالِ غنیمت

​۱۳۹۸ عیسوی میں امیر تیمور نے ایک ایسے ملک کا رخ کیا جو اپنی دولت، سونے اور ہاتھیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا، یعنی ہندوستان۔

​۱. حملے کا جواز اور دہلی کا سفر

​اس دور میں ہندوستان پر مسلم سلاطین یعنی تغلق خاندان کی حکومت تھی اور سلطان محمود تغلق تخت نشین تھے۔ تیمور نے اپنے وزراء اور جنگجوؤں کو بلایا اور کہا کہ ہندوستان کے سلاطین کمزور ہو چکے ہیں اور انہوں نے ہندو راجوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اس لیے جہاد اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہندوستان پر حملہ کرنا ضروری ہے۔

​تیمور ۹۲ ہزار سواروں کا لشکر لے کر ہندو کش کے پہاڑوں کو پار کرتا ہوا پاکستان کے علاقوں (ملتان، دیپالپور) سے گزر کر دہلی کی طرف بڑھا۔ راستے میں جو بھی قلعہ یا شہر سامنے آیا، تیمور کی فوج نے اسے فتح کر لیا۔

​۲. دہلی کی بڑی جنگ اور ہاتھیوں کا مقابلہ

​دسمبر ۱۳۹۸ء میں دہلی کے میدان میں سلطان محمود تغلق اور ان کے وزیر ملو اقبال نے تیمور کا مقابلہ کیا۔ ہندوستانی فوج کے پاس ایک ایسا ہتھیار تھا جس سے تیمور کے وسطی ایشیائی گھوڑے واقف نہیں تھے، یعنی ۱۲ ہزار جنگی ہاتھی، جن کی سونڈھوں پر تیز دھار تلواریں بندھی ہوئی تھیں۔ ہاتھیوں کو دیکھ کر تیمور کی فوج میں تھوڑا خوف پیدا ہوا۔

​تیمور نے یہاں اپنی ذہانت کا ثبوت دیا۔ اس نے سینکڑوں اونٹوں کی پشت پر خشک گھاس اور لکڑیاں بندھوائیں اور انہیں اگلی صفوں میں کھڑا کر دیا۔ جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، تیمور نے ان اونٹوں کی پیٹھ پر موجود گھاس کو آگ لگا دی اور انہیں ہاتھیوں کی طرف ہنک دیا۔ آگ سے ڈر کر اونٹ پاگلوں کی طرح ہاتھیوں کی طرف بھاگے۔ اونٹوں کی آگ اور چیخیں دیکھ کر جنگی ہاتھی ڈر گئے اور انہوں نے پیچھے مڑ کر اپنی ہی فوج کو کچلنا شروع کر دیا۔ تیمور کے سواروں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر حملہ کیا اور دہلی کی فوج کو بدترین شکست ہوئی۔

​۳. دہلی میں قتلِ عام اور سمرقند کی تیاری

​دہلی کی فتح کے بعد کچھ شہریوں نے تیمور کے فوجیوں پر حملہ کیا، جس کے جواب میں تیمور نے شہر میں عام قتلِ عام کا حکم دے دیا۔ کئی دن تک دہلی میں خون بہتا رہا اور شہر تباہ ہو گیا۔ تیمور ہندوستان پر حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا، اس کا مقصد صرف یہاں کی دولت سمرقند لے جانا تھا۔

​وہ ہندوستان سے ہزاروں اونٹوں اور ہاتھیوں پر سونا، چاندی، ہیرے اور جواہرات لاد کر واپس سمرقند روانہ ہوا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ دہلی سے سینکڑوں ماہر معمار، سنگ تراش اور لکڑی کے کاریگر اپنے ساتھ لے گیا تاکہ وہ سمرقند میں ایک عظیم الشان مسجد بنوائیں، جسے آج ہم "مسجد بی بی خانم" کے نام سے جانتے ہیں۔

​باب ششم: جنگِ انقرہ (Battle of Ankara) — دو عظیم مسلم سلاطین کا ٹکراؤ

​امیر تیمور کی زندگی کا سب سے بڑا، سنسنی خیز اور تاریخی معرکہ ۱۴۰۲ عیسوی میں پیش آیا، جب اس کا سامنا سلطنتِ عثمانیہ (Ottoman Empire) کے عظیم اور بہادر سلطان بایزید اول (جنہیں ان کی تیزی کی وجہ سے بایزید یلدرم یعنی بجلی کہا جاتا تھا) سے ہوا۔ یہ تاریخ کا وہ ہولناک موڑ تھا جہاں دنیا کی دو سب سے بڑی مسلم طاقتیں آپس میں ٹکرا گئیں۔

​۱. تنازعے کا پس منظر اور خطوط کی جنگ

​سلطان بایزید یلدرم یورپ میں عیسائیوں کو شکستیں دے رہے تھے اور انہوں نے قسطنطنیہ (استنبول) کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ دوسری طرف تیمور اپنی سلطنت مغرب کی طرف بڑھا رہا تھا۔ دونوں سلاطین کے درمیان انا اور سرحدوں کا تنازع شروع ہوا۔ ایران کے کچھ شہزادے جنہیں تیمور نے نکالا تھا، وہ بایزید کے پاس چلے گئے، اور کچھ عثمانی باغی تیمور کے پاس آ گئے۔

​دونوں حکمرانوں کے درمیان جو خطوط لکھے گئے، وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان خطوط میں ایک دوسرے کو شدید دھمکیاں دی گئیں اور سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔ تیمور نے بایزید سے کہا کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرے، لیکن بایزید نے غصے میں جواب دیا کہ "تیمور ایک لنگڑا کتا ہے اور وہ عثمانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا"۔ اب جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

​۲. ۲۸ جولائی ۱۴۰۲ء — انقرہ کا میدان

​تیمور ایک بہت بڑا لشکر لے کر اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں داخل ہوا۔ اس نے عثمانی فوج کو تھکانے کے لیے بہترین چال چلی۔ وہ بظاہر پیچھے ہٹا اور ایک طویل چکر کاٹ کر عثمانیوں کے دارالحکومت انقرہ کے پاس پہنچ گیا اور وہاں کا محاصرہ کر لیا۔ سلطان بایزید کو جب معلوم ہوا، تو وہ قسطنطنیہ کا محاصرہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ تیزی سے انقرہ پہنچے۔ عثمانی فوج طویل سفر کی وجہ سے شدید تھک چکی تھی اور پیاسی تھی۔

​تیمور نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی انقرہ کے پانی کے تمام چشموں پر قبضہ کر لیا تھا یا ان کا رخ موڑ دیا تھا۔ عثمانی فوج کے پاس پینے کے لیے پانی نہیں تھا۔

​۳. تاتاری سواروں کی غداری اور بایزید کی گرفتاری

​جنگِ انقرہ کا آغاز ہوا تو عثمانی فوج (خاص طور پر جینکیسری دستے) بہت بہادری سے لڑے۔ لیکن تیمور نے ایک خفیہ چال چل رکھی تھی۔ عثمانی فوج میں شامل کچھ اناطولیائی ترک قبیلے اور تاتاری سوار اصل میں تیمور کی نسل سے تھے ہ۔ جنگ کے عین عروج میں، تیمور کے اشارے پر ان تاتاری سواروں نے سلطان بایزید سے غداری کی اور مڑ کر اپنی ہی عثمانی فوج پر حملہ کر دیا۔

​اس غداری نے جنگ کا فیصلہ کر دیا۔ عثمانی فوج تتر بتر ہو گئی۔ سلطان بایزید یلدرم نے اپنے چند وفادار سپاہیوں کے ساتھ آخری دم تک مقابلہ کیا، لیکن ان کا گھوڑا گر گیا اور وہ امیر تیمور کی فوج کے ہاتھوں زندہ قیدی بنا لیے گئے۔ تاریخِ عثمانیہ میں یہ پہلا اور آخری واقعہ تھا جب کوئی عثمانی سلطان دشمن کے ہاتھوں زندہ قیدی بنا ہو۔

​۴. قید کا سچ اور بایزید کی وفات

​مغربی مورخین نے ایک افسانہ مشہور کر رکھا ہے کہ تیمور نے سلطان بایزید کو ایک لوہے کے پنجرے میں بند کر رکھا تھا اور ان کی توہین کرتا تھا۔ لیکن مستند اسلامی تاریخ کے مطابق، تیمور نے بایزید کے ساتھ ایک عظیم بادشاہ جیسا سلوک کیا۔ اس نے بایزید کو اپنے خیمے میں عزت سے بٹھایا، اپنے ساتھ کھانا کھلایا اور تسلی دی کہ "قسمت کا کھیل ہے، آپ دل چھوٹا نہ کریں"۔

​تیمور کا ارادہ تھا کہ وہ بایزید کو دوبارہ ان کے تخت پر بٹھائے گا، لیکن اس شکست اور قید کے غم کی وجہ سے سلطان بایزید چند ماہ بعد ہی کثرتِ رنج سے انتقال کر گئے۔ تیمور کو ان کی وفات پر بہت افسوس ہوا اور اس نے ان کی لاش کو عزت کے ساتھ عثمانیہ سلطنت واپس بھیجا۔ اس جنگ کی وجہ سے سلطنتِ عثمانیہ اگلے ۵۰ سال کے لیے کمزور ہو گئی اور قسطنطنیہ کی فتح تاخیر کا شکار ہو گئی۔

​باب ہفتم: امیر تیمور کا سمرقند — علم، فن اور تعمیرات کا سنہرا دور

​اگرچہ امیر تیمور کو دنیا ایک سفاک فاتح کے طور پر جانتی ہے، لیکن اس کا ایک اور رخ بھی تھا؛ وہ علم و فن کا شیدائی اور تعمیرات کا دیوانہ تھا۔

​۱. ریگستان اسکوائر (Registan) اور مقبرہِ تیمور (Gur-e-Amir)

​تیمور نے اپنی تمام فتوحات کا مال اور دولت اپنے پیارے شہر سمرقند پر بہا دی۔ اس نے وہاں ایسی شاندار عمارتیں، مساجد اور مدارس بنوائے جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ سمرقند کا مرکزی چوک "ریگستان" آج بھی دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

​تیمور نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے ایک عظیم الشان مقبرہ بنوایا جسے "گورِ امیر" (امیر کی قبر) کہا جاتا ہے۔ اس مقبرے کا نیلا گنبد اور اس کی کاشی کاری اسلامی فنِ تعمیر کا ایک لازوال شاہکار ہے۔

​۲. علماء اور سائنسدانوں کا احترام

​تیمور جہاں بھی جاتا، وہ عام لوگوں پر رحم نہیں کرتا تھا لیکن اس کا ایک اصول تھا: وہ علماء، حافظِ قرآن، قاضی، انجینئرز اور ڈاکٹروں کو کبھی قتل نہیں کرتا تھا۔ وہ انہیں عزت کے ساتھ سمرقند لے آتا اور ان کے لیے وظائف مقرر کرتا۔ تاریخ کے مشہور مورخ ابنِ خلدون جب دمشق میں تھے، تو تیمور نے ان سے خصوصی ملاقات کی اور ان کے علم سے فائدہ اٹھایا۔ تیمور کا پوتا الغ بیگ آگے چل کر دنیا کا ایک بہت بڑا ماہرِ فلکیات (Astronomer) اور سائنسدان بنا، جس نے سمرقند میں دنیا کی سب سے بڑی رصد گاہ (Observatory) قائم کی۔

​باب ہشتم: آخری مہم، وفات اور مقبرے کا پراسرار واقعہ

​۱. چین (سلطنتِ منگ) پر حملے کی تیاری اور موت

​انقرہ کی فتح کے بعد اب دنیا میں تیمور کا کوئی مدمقابل نہیں بچا تھا۔ لیکن ۶۸ سال کی عمر میں بھی اس کے اندر کا جنگجو خاموش نہیں ہوا تھا۔ اس نے دنیا کی آخری بڑی سلطنت یعنی چین (Ming Dynasty) کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ چین اس وقت ایک غیر مسلم سلطنت تھی اور تیمور کا خیال تھا کہ چین کو فتح کر کے وہ اپنے ان تمام گناہوں کا کفارہ ادا کر دے گا جو اس سے مسلم شہروں (بغداد اور دہلی) میں ہوئے تھے۔

​۱۴۰۴ عیسوی کے سردیوں کے مہینے میں تیمور ۲ لاکھ کا لشکر لے کر سمرقند سے چین کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ بہت برفیلا اور ٹھنڈا تھا ہ۔ سفر کے دوران ہی تیمور شدید بیمار ہو گیا اور اسے شدید بخار نے جکڑ لیا۔

۱۸ فروری ۱۴۰۵ عیسوی کو ۶۹ سال کی عمر میں، چین کی سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی، مقامِ اترار (Otrar) میں امیر تیمور کا انتقال ہو گیا۔ اس کی لاش کو واپس سمرقند لایا گیا اور اس کے بنوائے ہوئے مقبرے "گورِ امیر" میں دفن کر دیا گیا۔

​۲. قبر کی تختی اور ۱۹۴۱ء کا پراسرار واقعہ

​امیر تیمور کی قبر پر نیفرائٹ (جیڈ) پتھر کی ایک بڑی تختی لگی ہوئی ہے، جس پر ایک عجیب تحریر لکھی ہے:

"جب میں اپنی قبر سے اٹھوں گا، تو پوری دنیا کانپ اٹھے گی۔ جو بھی میری قبر کو کھولے گا، وہ مجھ سے بھی زیادہ خوفناک غاصب کو اپنے ملک پر مسلط پائے گا"۔


​تاریخ میں یہ ایک بہت مشہور اور سچا واقعہ درج ہے کہ ۱۹ جون ۱۹۴۱ء کو سوویت یونین (روس) کے سائنسدانوں نے جوزف اسٹالن کے حکم پر امیر تیمور کا سکیلیٹن (ڈھانچہ) نکالنے کے لیے اس کی قبر کو کھولا۔ سمرقند کے مقامی بزرگوں نے روسی سائنسدانوں کو روکا اور اس تحریر کے بارے میں بتایا، لیکن وہ نہ مانے۔

​حیرت انگیز بات دیکھیے کہ امیر تیمور کی قبر کھلنے کے ٹھیک تین دن بعد یعنی ۲۲ جون ۱۹۴۱ء کو جرمنی کے तानाशाह ایڈولف ہٹلر نے روس پر حملہ کر دیا (جسے آپریشن باربروسا کہا جاتا ہے)۔ یہ روس کی تاریخ کا سب سے خوفناک اور خونریز حملہ تھا جس میں کروڑوں روسی مارے گئے۔ بعد میں جب اسٹالن کو اس واقعے کا علم ہوا، تو اس نے نومبر ۱۹۴۲ء میں تیمور کی ہڈیوں کو دوبارہ پورے اسلامی احترام کے ساتھ اسی قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا۔ جیسے ہی تیمور کو دوبارہ دفن کیا گیا، روسی فوج نے اسٹالن گراڈ کی جنگ میں جرمنی کو شکست دے دی اور روس فتح یاب ہو گیا۔ یہ واقعہ آج بھی تاریخ کا ایک بہت بڑا راز مانا جاتا ہے۔

​باب نہم: امیر تیمور کا ترکہ اور تاریخِ دنیا پر اثرات

​امیر تیمور نے اپنے پیچھے ایک ایسی بڑی سلطنت چھوڑی جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں اور پوتوں (تیموریوں) کے درمیان بٹ گئی۔ اگرچہ تیموری سلطنت وسطی ایشیا میں وقت کے ساتھ کمزور ہو گئی، لیکن تیمور کی نسل نے دنیا کو ایک اور عظیم تحفہ دیا:

​۱. مغلیہ سلطنت کا قیام (ہندوستان)

​امیر تیمور کی وفات کے تقریباً ۱۲۰ سال بعد، اس کا ایک پڑپوتا ظہیر الدین محمد بابر وسطی ایشیا سے اٹھا اور اس نے ۱۵۲۶ء میں ہندوستان پر حملہ کر کے سلطنتِ مغلیہ (Mughal Empire) کی بنیاد رکھی۔ شاہجہان، اکبر، اور اورنگزیب عالمگیر جیسے عظیم بادشاہ اسی امیر تیمور کی نسل سے تھے۔ مغل بادشاہ فخر سے خود کو "تیموری" کہا کرتے تھے۔

​۲. امیر تیمور کا کردار: ایک جائزہ

​تیمور کی شخصیت کے دو بالکل الگ رخ ہیں:

  • مغربی اور ایرانی تاریخ اسے ایک بے رحم، ظالم اور خونخوار لٹیرا کہتی ہے جس نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا اور خوبصورت شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
  • وسطی ایشیا (خاص طور پر ازبکستان) میں اسے آج بھی ایک قومی ہیرو مانا جاتا ہے جس نے بکھرے ہوئے ترک قائلوں کو متحد کیا، علم و ادب کی سرپرستی کی اور سمرقند کو دنیا کا تاج بنا دیا۔

​تیمور خود ایک کٹر مسلمان تھا، وہ نماز کا پابند تھا اور علماء کا احترام کرتا تھا، لیکن سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتا تھا، چاہے سامنے مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔

​نچوڑ (Conclusion): لوہے کے انسان کا پیغام

​امیر تیمور کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کا عزم اور ارادہ اس کی جسمانی معذوری سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ ایک لنگڑا انسان اگر اپنی ذہنی صلاحیت، شجاعت اور عزم کے بل بوتے پر دنیا کی چار بڑی سلطنتوں (روس، عثمانیہ، دہلی اور مصر) کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے، تو دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔

​تیمور نے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام لوہے کی قلم سے لکھا۔ وہ دنیا کا وہ عظیم فاتح تھا جس نے ثابت کیا کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو حالات کے دھارے پر بہنے کی بجائے حالات کا رخ بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔


امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا 
اس واقعہ کو ایک لائک ضرور کرے اور آگے بھی شئر کرے 
کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔

Comments