جلال الدین محمد اکبر اور پانی پت کی دوسری جنگ: وہ ایک تیر جس نے ہندوستان میں مغل سلطنت کا مستقبل بدل دیا
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بہت سی ایسی جنگیں لڑی گئیں جنہوں نے آنے والی کئی صدیوں کا رخ متعین کیا۔ انھی معرکوں میں سے ایک "پانی پت کی دوسری جنگ" (Second Battle of Panipat) ہے، جو 5 نومبر 1556ء کو لڑی گئی۔ یہ جنگ صرف دو فوجوں کا ٹکراؤ نہیں تھی، بلکہ یہ ہندوستان کے تخت پر مغلوں کی بقا اور ان کے مستقل عروج کا فیصلہ تھی۔ اس جنگ کے مرکزی کردار ایک 13 سالہ مغل شہزادے جلال الدین محمد اکبر، ان کے وفادار اتالیق بیرم خان، اور افغان فوج کے ایک انتہائی طاقتور ہندو جنرل ہیمو بقال تھے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسی ہاری ہوئی جنگ کی، جو قدرت کے ایک انوکھے فیصلے اور ایک اتفاقی تیر کی بدولت مغلوں کی تاریخ ساز فتح میں بدل گئی۔
باب اول: پسِ منظر — مغل سلطنت کا بحران اور ہمایوں کی اچانک وفات
مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر نے 1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ جیت کر ہندوستان میں مغل خاندان کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن ان کے بیٹے نصیر الدین ہمایوں کا دورِ حکومت مشکلات کا شکار رہا۔ افغان شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے جلاوطن کر دیا۔ ہمایوں نے 15 سال جلاوطنی میں گزارے اور پھر ایرانی صفوی سلطنت کی مدد سے 1555ء میں دہلی پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
ابھی مغل حکومت اپنے پاؤں جما ہی رہی تھی کہ جنوری 1556ء میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ سلطان ہمایوں اپنے کتب خانے (لائبریری) کی سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہوئے اور چند دن بعد انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کا اکلوتا بیٹا، شہزادہ جلال الدین محمد اکبر، پنجاب کے علاقے کلانور میں افغان باغیوں کے خلاف ایک مہم میں مصروف تھا۔
ہمایوں کی وفات کی خبر سنتے ہی مغل فوج کے سب سے وفادار اور تجربہ کار سپہ سالار بیرم خان نے فوری قدم اٹھایا۔ انہوں نے 14 فروری 1556ء کو پنجاب کے شہر کلانور میں اینٹوں کا ایک عارضی تخت بنا کر محض 13 سالہ اکبر کی تاجپوشی کا اعلان کر دیا۔ اکبر اب مغلوں کے تیسرے بادشاہ بن چکے تھے، لیکن ان کا یہ تاج کانٹوں سے بھرا ہوا تھا کیونکہ دہلی کا تخت ان کے ہاتھ سے نکلنے والا تھا۔
باب دوم: ہیمو بقال کا عروج — ایک عام دکاندار سے شہنشاہِ ہند تک کا سفر
مغلوں کے اس نازک وقت میں ان کا سب سے بڑا دشمن کوئی افغان شہزادہ نہیں، بلکہ ایک ایسا شخص تھا جس نے تاریخ کو حیران کر دیا تھا۔ اس کا نام ہیمو چندر وِکرمادتیہ تھا، جو تاریخ میں "ہیمو بقال" کے نام سے مشہور ہے۔ ہیمو کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور وہ شروع میں ریوڑی (شکر کی مٹھائی) اور نمک بیچنے کا کام کرتا تھا۔
شیر شاہ سوری کے جانشین عادل شاہ سوری نے ہیمو کی ذہانت، عسکری صلاحیتوں اور وفاداری کو بھانپ لیا اور اسے اپنی فوج کا سپہ سالارِ اعظم اور سلطنت کا وزیرِ اعظم بنا دیا۔ ہیمو کوئی عام جنگجو نہیں تھا؛ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس نے مغلوں اور دیگر باغیوں کے خلاف مسلسل 22 جنگیں لڑیں اور وہ ان تمام جنگوں میں ناقابلِ شکست رہا۔
جب ہمایوں کا انتقال ہوا، تو ہیمو نے موقع غنیمت جانا۔ وہ ایک بہت بڑی افغان فوج لے کر بنگال سے روانہ ہوا۔ اس نے راستے میں مغلوں کے کئی قلعوں پر قبضہ کیا۔ جب وہ آگرہ پہنچا، تو وہاں کا مغل گورنر خوف کے مارے قلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہیمو نے دہلی کا رخ کیا اور تغلق آباد کے معرکے میں مغل فوج کو بدترین شکست دی۔ دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد ہیمو نے اپنی تاجپوشی کی، اپنے نام کا سکہ جاری کیا اور صدیوں پرانا "وِکرمادتیہ" کا لقب اختیار کر کے خود کو ہندوستان کا شہنشاہ قرار دے دیا۔
باب سوم: مغل خیمے میں خوف اور بیرم خان کا فولادی فیصلہ
جب دہلی اور آگرہ کی شکست کی خبریں پنجاب میں نوجوان اکبر اور بیرم خان تک پہنچیں، تو مغل خیمے میں کہرام مچ گیا۔ مغل امیر اور درباری شدید خوف کا شکار ہو گئے۔ ہیمو کی طاقت اور اس کی مسلسل 22 فتوحات کی کہانیاں سن کر مغلوں کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔
اکبر کے زیادہ تر مشیروں اور درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہیمو کا مقابلہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا:
"ہمارے پاس فوج کم ہے اور دشمن کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ ہمیں یہ جنگ لڑنے کے بجائے واپس افغانستان (کابل) بھاگ جانا چاہیے اور وہاں اپنی طاقت مضبوط کرنی چاہیے۔"
اگر اس وقت مغل پیچھے ہٹ جاتے، تو ہندوستان کی تاریخ سے مغلوں کا نام ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا۔ لیکن ایسے میں بیرم خان ایک چٹان کی طرح کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے تمام بزدلانہ مشوروں کو مسترد کر دیا اور نوجوان اکبر کی طرف دیکھ کر کہا کہ مغل بھاگنے کے لیے نہیں، بلکہ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ بیرم خان نے اعلان کیا کہ ہم کابل واپس نہیں جائیں گے، بلکہ دلی کے تخت کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے۔ 13 سالہ اکبر نے بھی اپنے اتالیق کے فیصلے کی تائید کی، اور مغل فوج نے پانی پت کی طرف مارچ شروع کر دیا۔
باب چہارم: دونوں فوجوں کا موازنہ اور جنگی حکمتِ عملی
جب دونوں فوجیں پانی پت کے تاریخی میدان میں آمنے سامنے آئیں، تو دونوں کی طاقت میں زمین آسمان کا فرق تھا:
- ہیمو کی فوج: ہیمو کے لشکر کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زائد گھڑ سوار اور پیادہ فوجی تھی۔ اس فوج کا سب سے خطرناک اور مضبوط حصہ 1500 جنگی ہاتھی تھے، جنہیں لوہے کی زرہ بکتر (armor) پہنائی گئی تھی اور ان کی سونڈھوں پر تیز دھار چھریاں بندھی ہوئی تھیں۔ یہ ہاتھی اس دور کے ٹینک مانے جاتے تھے۔
- مغل فوج: بیرم خان اور اکبر کے پاس صرف 20 ہزار سے 25 ہزار کے قریب فوجی تھے، لیکن ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا تزویراتی توپ خانہ (Artillery) اور مخلص تیر انداز تھے۔
جنگ سے پہلے مغلوں کا پہلا بڑا وار:
جنگ شروع ہونے سے چند دن پہلے، بیرم خان نے اپنے ایک چالاک جنرل علی قلی خان کی قیادت میں ایک دستہ آگے بھیجا۔ اس دستے نے اچانک رات کے اندھیرے میں ہیمو کے اس قافلے پر حملہ کر دیا جو ہیمو کا اصل توپ خانہ لے کر آ رہا تھا۔ مغلوں نے ہیمو کی توپیں چھین لیں، جس کی وجہ سے ہیمو کے پاس جنگ کے لیے توپیں نہیں بچیں اور وہ صرف اپنے ہاتھیوں پر بھروسا کرنے پر مجبور ہو گیا۔
باب پنجم: معرکۂ پانی پت کا آغاز اور ہیمو کا قہر (5 نومبر 1556ء)
5 نومبر 1556ء کی صبح پانی پت کے میدان میں جنگ کا طبل بجا۔ بیرم خان نے نوجوان اکبر کو میدانِ جنگ سے کچھ فاصلے پر ایک محفوظ جگہ پر رکھا تاکہ بادشاہ کی جان محفوظ رہے، اور خود مغل فوج کی کمان سنبھالی۔
ہیمو خود "ہوائی" نامی ایک دیو ہیکل اور مشہور جنگی ہاتھی پر سوار ہو کر اپنی فوج کے بالکل درمیان میں کھڑا تھا۔ جنگ شروع ہوتے ہی ہیمو نے اپنے 1500 جنگی ہاتھیوں کو مغل فوج پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ منظر انتہائی ہولناک تھا؛ لوہے سے لیس ہاتھی جب زمین کو ہلاتے ہوئے آگے بڑھے، تو مغلوں کے گھوڑے خوف کے مارے پیچھے ہٹنے لگے۔
ہیمو کی فوج نے مغلوں کے دائیں اور بائیں بازو (wings) پر شدید دباؤ ڈالا۔ مغل فوجیوں نے ہاتھیوں کو روکنے کے لیے تیروں اور نیزوں کا استعمال کیا، لیکن ہاتھیوں کی زرہ اتنی مضبوط تھی کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ہیمو کی فوج مغلوں کی صفوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ مغل یہ جنگ بری طرح ہار جائیں گے۔ ہیمو اپنی 23ویں فتح کے بالکل قریب تھا اور مغل سلطنت کا خاتمہ چند منٹوں کی دوری پر تھا۔
باب ششم: وہ ایک تیر جس نے ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں بدل دیا
جب مغل فوج کے پاؤں اکھڑنے لگے، تو بیرم خان نے اپنی حکمتِ عملی بدلی۔ انہوں نے اپنے سب سے بہترین اور مخلص تیر اندازوں کو بلایا اور حکم دیا:
"ہاتھیوں پر تیر چلانا بند کرو! اپنے تمام تیروں کا رخ سیدھا ہاتھی کے اوپر بیٹھے جنرل ہیمو کی طرف کر دو۔ اگر ہیمو ختم ہو گیا، تو فوج خود ہی بکھر جائے گی۔"
مغل تیر اندازوں نے ہیمو کو چاروں طرف سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ ہیمو اس وقت اپنے ہاتھی کے ہودے میں کھڑا ہو کر اپنی فوج کو آگے بڑھنے کے اشارے کر رہا تھا اور اس نے اپنے دفاع کے لیے لوہے کا ہیلمٹ اور چشم پناہ پہنی ہوئی تھی۔
اچانک قدرت نے ایک انوکھا فیصلہ کیا۔ مغلوں کی طرف سے چلایا گیا ایک اتفاقی تیر ہیمو کی لوہے کی چشم پناہ کے چھوٹے سے سوراخ کو چیرتا ہوا سیدھا اس کی دائیں آنکھ میں جا گھسا۔ تیر آنکھ کو پھاڑتا ہوا دماغ کے قریب تک چلا گیا۔ ہیمو درد کی شدت سے چیخ اٹھا اور اس نے خود اپنے ہاتھ سے تیر کو آنکھ سے باہر کھینچا، لیکن شدید خون بہنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو کر اپنے ہاتھی کے ہودے کے اندر گر گیا۔
جیسے ہی افغان فوجیوں نے دیکھا کہ ان کا ناقابلِ شکست جنرل ہاتھی پر نظر نہیں آ رہا اور اس کا ہودا خالی ہے، ان کے حوصلے سیکنڈوں میں پست ہو گئے۔ افغانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ ہیمو مارا گیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جیتی ہوئی افغان فوج کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مغلوں کی ہاری ہوئی جنگ اچانک ایک عظیم فتح میں تبدیل ہو گئی۔
باب ہفتم: ہیمو کی گرفتاری، خاتمہ اور اکبر اعظم کا نیا عروج
مغل فوج نے ہیمو کے ہاتھی "ہوائی" کو گھیر لیا اور بے ہوش ہیمو کو گرفتار کر کے مغل خیمے میں اکبر اور بیرم خان کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہیمو شدید زخمی تھا اور آخری سانسیں لے رہا تھا۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ بیرم خان نے نوجوان اکبر سے کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے دشمن کا سر قلم کر کے "غازی" کا لقب اختیار کریں، لیکن 13 سالہ اکبر نے ایک زخمی اور مرتے ہوئے قیدی پر تلوار اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اس پر بیرم خان نے خود اپنی تلوار نکالی اور ہیمو کا خاتمہ کر دیا۔
پانی پت کی اس دوسری جنگ کی فتح نے مغلوں کو ایک نیا جیون دیا۔ اکبر کی فوج فاتح بن کر دہلی اور آگرہ میں داخل ہوئی۔ ہیمو کی شکست کے بعد افغانوں کی طاقت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی اور برصغیر میں مغلوں کا کوئی بڑا رقیب باقی نہ رہا۔ اس جنگ کے بعد نوجوان اکبر نے بیرم خان کی سرپرستی میں اپنی سلطنت کو پھیلانا شروع کیا اور اگلے 50 سالوں میں انہوں نے پورے ہندوستان، پاکستان، بنگال اور افغانستان کے کچھ حصوں پر مشتمل ایک ایسی عظیم الشان سلطنت قائم کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، اور اسی وجہ سے انہیں "اکبر اعظم" (Akbar the Great) کہا جاتا ہے۔
باب ہشتم: اگر وہ تیر نہ لگتا تو کیا ہوتا؟ (تاریخی تجزیہ)
تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ پانی پت کی دوسری جنگ کا فیصلہ کسی فوجی طاقت یا زیادہ تعداد کی وجہ سے نہیں، بلکہ صرف ایک "اتفاقی تیر" کی وجہ سے ہوا تھا۔ اگر وہ تیر ہیمو کی آنکھ میں نہ لگتا، تو:
- مغل یہ جنگ بری طرح ہار جاتے اور اکبر اور بیرم خان کو واپس کابل بھاگنا پڑتا یا وہ میدان میں مارے جاتے۔
- ہندوستان میں مغل خاندان کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا اور مغلوں کی جگہ ایک نیا ہندو شاہی خاندان (وِکرمادتیہ خاندان) قائم ہو جاتا۔

Comments
Post a Comment