سلطانِ دوجہاں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکِ سبا کا مکمل قصہ

 


عظیم الشان سلطنت کا منظر

​تاریخِ انسانی میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جب زمین کی حکمرانی ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں تھی جن کے حکم کے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا اور ہوا اپنی سمت نہیں بدل سکتی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ ساتھ ایسی عظیم الشان بادشاہت عطا کی تھی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی اور نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ آپ کا دربار صرف انسانوں کا دربار نہ تھا، بلکہ وہاں جنات صف بستہ کھڑے ہوتے، درندے گردنیں جھکائے ہوتے اور پرندوں کے غول کے غول آپ کے سر پر سایہ فگن رہتے۔ آپ پرندوں کی زبان سمجھتے تھے اور چیونٹیوں کی سرگوشیاں بھی سن لیا کرتے تھے۔

لشکر کا معائنہ اور ہدہد کی غیر حاضری

​ایک روز حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے تمام لشکروں کا معائنہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا کہ زمین لرزتی تھی۔ ایک طرف انسانوں کے دستے تھے، دوسری طرف جنات کی ہیبت ناک فوجیں اور اوپر آسمان پر پرندوں کا ایک وسیع چھتر تنا ہوا تھا۔ معائنے کے دوران آپ کی عقابی نظروں نے محسوس کیا کہ پرندوں کی صف میں ایک جگہ خالی ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا: "کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا؟ کیا وہ غائب ہے؟"

​حضرت سلیمان علیہ السلام کا جلال اپنی جگہ تھا، آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کی تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر دوں گا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی، کیونکہ سلیمانی نظام میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی گنجائش نہ تھی۔

ہدہد کی واپسی اور حیرت انگیز انکشاف

​کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہدہد ہانپتا کانپتا دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے ادب سے سر جھکایا اور عرض کیا: "اے اللہ کے نبی! میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جس کا علم ابھی تک آپ کو نہیں ہوا۔ میں ملکِ سبا سے ہو کر آ رہا ہوں اور وہاں میں نے ایک ایسی قوم دیکھی ہے جسے دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ وہاں کی حکمران ایک عورت ہے جس کا نام بلقیس ہے، اسے اللہ نے ہر طرح کی مادی نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے جو سونے، چاندی اور جواہرات سے جڑا ہوا ہے۔"

​ہدہد نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "لیکن اے اللہ کے نبی! سب سے بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ قوم اللہ واحد کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا ہے اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔"

سلطان کا خط اور حق کی دعوت

​حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کی بات سن کر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور فرمایا: "ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہہ رہا ہے یا تیرا شمار جھوٹوں میں ہوتا ہے۔" آپ نے ایک خط تحریر کیا جس کی عبارت مختصر مگر انتہائی پر اثر تھی۔ خط کی ابتدا اللہ کے نام سے تھی: "بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میری طرف سے سرکشی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔"

​آپ نے ہدہد کو حکم دیا کہ یہ خط لے جا کر ملکہ کی گود میں گرا دے اور پھر ایک طرف ہو کر دیکھے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہدہد اڑا اور ملکہ بلقیس کے محل میں پہنچ کر خط اس کی گود میں گرا دیا۔ بلقیس خط کی ہیبت اور اس کے آغاز میں اللہ کا نام دیکھ کر لرز اٹھی۔ اس نے فوراً اپنے درباریوں اور مشیروں کی مجلسِ شوریٰ بلائی۔

ملکہ بلقیس کی عقل مندی اور تحائف

​بلقیس نے اپنے سرداروں سے کہا: "اے میرے قوم کے سردارو! میری طرف ایک نہایت معزز خط بھیجا گیا ہے۔" اس نے خط پڑھ کر سنایا۔ سردار جو اپنی طاقت پر نازاں تھے، کہنے لگے: "ملکہ! ہم طاقتور لوگ ہیں اور جنگ کا فن جانتے ہیں، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ جو حکم دیں گی ہم اس پر عمل کریں گے۔"

​مگر بلقیس دور اندیش تھی، اس نے کہا: "جب بادشاہ کسی بستی میں (بطور فاتح) داخل ہوتے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ میں پہلے کچھ قیمتی تحائف بھیج کر دیکھتی ہوں کہ سلیمان (ع) کا ردعمل کیا ہے۔ اگر وہ دنیاوی بادشاہ ہوئے تو تحائف قبول کر لیں گے، اور اگر وہ اللہ کے نبی ہوئے تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔"

تحائف کی واپسی اور سلیمانی جلال

​بلقیس نے سونے، چاندی اور بیش بہا قیمتی جواہرات سے لدے ہوئے اونٹوں کا ایک قافلہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا۔ جب یہ قافلہ آپ کے دربار میں پہنچا، تو آپ نے ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم مال کے ذریعے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے۔ یہ تمہارا مال ہے، تم ہی اس پر خوش ہوتے رہو۔ جاؤ اپنے لوگوں کے پاس، ہم ایسا لشکر لے کر آئیں گے جس کا مقابلہ کرنے کی تم میں تاب نہ ہوگی اور ہم تمہیں وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے۔"

تخت کی منتقلی کا معجزہ

​جب یہ پیغام بلقیس تک پہنچا، تو وہ سمجھ گئی کہ یہ کوئی عام طاقت نہیں ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوگی۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان کی آمد کی اطلاع ملی، تو آپ نے اپنے دربار میں موجود جنات اور انسانوں سے ایک عجیب سوال کیا: "تم میں سے کون ہے جو بلقیس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا وہ عظیم الشان تخت میرے دربار میں حاضر کر دے؟"

​ایک قوی ہیکل جن نے کہا: "اے اللہ کے نبی! میں آپ کے دربار برخاست ہونے سے پہلے وہ تخت لے آؤں گا۔" لیکن ایک انسان، جس کے پاس اللہ کی کتاب کا علم تھا (جن کا نام آصف بن برخیا بتایا جاتا ہے)، انہوں نے عرض کیا: "میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے سامنے حاضر کر دوں گا۔" اور پھر ایک معجزہ ہوا، ابھی آپ کی نظر ہٹی بھی نہ تھی کہ ملکہ بلقیس کا وزنی اور قیمتی تخت آپ کے سامنے موجود تھا۔ سلیمان علیہ السلام نے فوراً سجدہِ شکر ادا کیا اور فرمایا: "یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔"

بلقیس کا امتحان اور شیش محل

​جب بلقیس پہنچی، تو اس سے پوچھا گیا: "کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟" وہ حیران رہ گئی اور کہا: "یہ تو بالکل ویسا ہی ہے!" اس کے بعد اسے ایک ایسے خاص محل میں لے جایا گیا جس کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا اور اس کے نیچے پانی بہ رہا تھا جس میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ بلقیس نے جب فرش کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اوپر کر لیا تاکہ وہ بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا: "یہ پانی نہیں، بلکہ شیشے کا فرش ہے۔"

​یہ سنتے ہی بلقیس کی آنکھیں کھل گئیں۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اب تک جن چیزوں کو معجزہ سمجھتی تھی، وہ سلیمان علیہ السلام کے علم اور اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ اس نے پکار کر کہا: "اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اب میں سلیمان (ع) کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔"

سبق:

  1. اصل طاقت کا سرچشمہ: دنیاوی مال و دولت اور تخت و تاج عارضی ہیں، اصل طاقت اللہ کی دی ہوئی حکمت اور ایمان میں ہے۔
  2. عاجزی کی اہمیت: اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہونے کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام ہر معجزے پر اللہ کا شکر ادا کرتے تھے، جو ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔
  3. حق کی تلاش: انسان کو ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہنا چاہیے، جیسے ملکہ بلقیس نے ضد چھوڑ کر حق کو پہچانا اور اسے قبول کر لیا۔
امید کرتا ہوں کے یہ واقعہ آپ کو بہت پسند آیا ہو گا
اس واقعہ کو ایک لائک  ضرورکرے  اور آگے بھی شئر کرے 
کمنٹس میں ضرور بتائے کے اگلا واقعہ آپ کو کس کے بارے میں پڑھنا ہے ۔شکریہ۔


Comments