معرکہِ یرموک: جب 40 ہزار نے 2 لاکھ کے غرور کو خاک میں ملا دیا
معرکہ یرموک: جب 40 ہزار مجاہدین نے 2 لاکھ کے رومی غرور کو خاک میں ملایا
پارٹ 1: خلافتِ راشدہ کا دور، شام کا محاذ اور سیف اللہ سیدنا خالد بن ولیدؓ کا ظہور
1. گیارہویں ہجری کا عالمی منظرنامہ اور اسلامی فتوحات کا سیلاب
عالمِ اسلام کی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کا دور (خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کا زمانہ) وہ سنہری دور ہے جب کائنات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ جزیرۃ العرب کی بنجر اور ریتلی دھرتی سے اٹھنے والی ایک مٹھی بھر قوم، جس کے پاس نہ تو قیصر و کسریٰ جیسے محلات تھے، نہ کوئی باقاعدہ عسکری اکیڈمیاں اور نہ ہی جدید ترین زرق برق ہتھیار، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس دور کی دو سب سے بڑی سپر پاورز—سلطنتِ فارس (Persian Sassanid Empire) اور بازنطینی رومی سلطنت (Byzantine Empire)—کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ یہ وہ معجزہ تھا جسے دنیا کی مادی تاریخ اور عسکری سائنس آج تک سمجھنے سے قاصر ہے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت کے آغاز میں ہی جب فتنۂ ارتداد اور جھوٹے نبیوں کا قلع قمع کر کے پورے عرب میں امن قائم کر دیا، تو انہوں نے اسلام کی سرحدوں کو بیرونی خطروں سے محفوظ کرنے کے لیے دو بڑے محاذ کھولے۔ ایک محاذ عراق (سلطنتِ فارس) کی طرف تھا اور دوسرا محاذ شام (رومی سلطنت) کی طرف۔ شام اس دور میں بازنطینی رومیوں کا سب سے بڑا گڑھ، عسکری مرکز اور معاشی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا تھا۔ رومی شہنشاہ ہرقل (Emperor Heraclius) دمشق اور یروشلم (بیت المقدس) پر اپنا مضبوط کنٹرول قائم کیے ہوئے تھا اور وہ مسلمانوں کو صحرائے عرب کے اندر ہی دفن کر دینے کے خواب دیکھ رہا تھا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی دور اندیشی نے رومیوں کے اس ارادے کو بھانپ لیا۔ انہوں نے شام کی آزادی اور اعلاءِ کلمتہ اللہ کے لیے اسلام کے چار عظیم ترین جرنیلوں—سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ، سیدنا عمرو بن العاصؓ، سیدنا یزید بن ابی سفیانؓ، اور سیدنا شرجیل بن حسنہؓ—کی قیادت میں چار الگ الگ لشکر روانہ کیے۔ ان غازیوں نے شام کے مختلف شہروں میں داخل ہو کر رومیوں کو پے در پے شکستیں دینا شروع کیں، لیکن رومی سلطنت اتنی جلدی ہار ماننے والی نہیں تھی؛ ان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں باقاعدہ تربیت یافتہ فوج موجود تھی جو مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے لیے ایک آخری اور سب سے بڑے خونی معرکے کی تیاری کر رہی تھی۔
2. رومی شہنشاہ ہرقل کا غصہ اور تاریخ کی سب سے بڑی عسکری تیاری
جب رومی شہنشاہ ہرقل کو قسطنطنیہ اور انطاکیہ کے شاہی محلات میں یہ اطلاعات ملیں کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے دستوں نے شام کے کئی سرحدی قلعے فتح کر لیے ہیں اور رومی فوجیں پسپا ہو رہی ہیں، تو اس کا شاہی جلال اور تکبر بھڑک اٹھا۔ ہرقل ایک عاقل اور جنگی چالوں کا ماہر بادشاہ تھا، وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کو عام جنگوں میں شکست دینا ناممکن ہو رہا ہے کیونکہ ان کا جذبۂ ایمان دنیاوی ہتھیاروں سے بالاتر ہے۔ اس نے اپنے دربار کے تمام پادریوں، جرنیلوں اور امراء کو اکٹھا کیا اور غصے سے گرجتے ہوئے کہا:
"اے رومیوں! کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ عرب کے وہ بدو جو کل تک تمہارے اونٹ چرایا کرتے تھے، آج وہ تمہاری اتنی بڑی سلطنت کی سرحدوں کے اندر داخل ہو کر تمہارے قلعے چھین رہے ہیں؟ اگر ہم نے آج ان کا راستہ نہ روکا، تو ان کا اگلا قدم ہمارے دارالحکومت قسطنطنیہ پر ہوگا۔ میں اس بار مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑوں گا جو تاریخ نے کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور میں زمین سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دوں گا!"
ہرقل نے سنہ 13 ہجری (مطابق 634ء) کے آخری مہینوں میں پوری بازنطینی سلطنت میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ اس نے یورپ، اناطولیہ، آرمینیا اور شام کے عیسائی عرب قبائل (بنو غسان) سے فوجیں اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔ رومی سلطنت نے اپنے خزانے کے منہ کھول دیے اور تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے مہنگا اور سب سے منظم لشکر تیار کیا گیا جس کی تعداد 2 لاکھ سے زائد بکتر بند سپاہیوں پر مشتمل تھی۔
اس فوج کا کمانڈر انچیف ہرقل نے اپنے سگے بھائی تھیوڈور (Theodore) کو بنایا، اور اس کے ساتھ آرمینیا کے سب سے وحشی اور تجربہ کار جرنیل بہان (Vahan) کو فوج کی ہراول دستے کی کمانڈ سونپی۔ اس لشکرِ جرار کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں پادری اپنے ہاتھوں میں سونے اور چاندی کے بڑے بڑے صلیب (Cross) اٹھائے چل رہے تھے، جو سپاہیوں کو یہ باور کرا رہے تھے کہ یہ عیسائیت کی بقا کی آخری اور مقدس جنگ ہے۔ رومیوں کا پلان یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے تمام الگ الگ لشکروں کو شام کے مختلف حصوں میں گھیر کر ایک ہی وقت میں سب کا خاتمہ کر دیں۔
3. شام کے محاذ پر مسلمانوں کا عسکری بحران اور خلیفہ کا تاریخی فیصلہ
رومیوں کی اس ہولناک اور لاکھوں کی فوج کی تیاری کی خبریں جب شام میں موجود مسلم سپہ سالاروں تک پہنچیں، تو وہاں ایک شدید عسکری بحران کھڑا ہو گیا۔ مسلمانوں کے چاروں لشکر شام کے الگ الگ حصوں (دمشق، اردن، فلسطین اور حمص) میں بکھرے ہوئے تھے، اور ان سب کی کل تعداد ملا کر بھی مشکل سے 30 سے 35 ہزار کے قریب بنتی تھی۔ اگر وہ اسی طرح بکھرے رہتے، تو رومیوں کا دو لاکھ کا لشکر باری باری ان چاروں دستوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیتا۔
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے تمام جرنیلوں کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ اس مجلسِ شوریٰ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو اپنے تمام بکھرے ہوئے دستوں کو اکٹھا کر کے شام کے جنوبی خطے کی طرف پسپائی اختیار کرنی چاہیے، جہاں کا کھلا میدان ان کے اونٹوں اور گھوڑوں کے لیے موزوں ہو اور مدینہ منورہ سے آنے والی امداد کا راستہ بھی کھلا رہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے مدینہ منورہ میں خلیفۂ وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ایک ہنگامی قاصد کے ذریعے خط بھیجا، جس میں لکھا تھا: "امیر المؤمنین! رومیوں کا ایک ایسا سمندر ہمارے سامنے آ چکا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ ہماری تعداد ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں فوراً عسکری مدد اور ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اس بحران سے ہمیں نکال سکے۔"
مدینہ منورہ میں جب یہ خط خلیفہ اول کے سامنے پڑھا گیا، تو دربار میں موجود لوگ پریشان ہو گئے- لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے چہرے پر ایمان کا وہی پختہ عزم تھا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے پایا تھا۔ خلیفہ نے مسکرا کر فرمایا: "خدا کی قسم! میں رومیوں کے اس تکبر کو ایک ایسے انسان کے ذریعے خاک میں ملاؤں گا جس کی تلوار کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ میں عیسائیوں کے دلوں کے وسوسوں کو خالد بن ولیدؓ کے ذریعے مٹا دوں گا!"
4. سیف اللہ سیدنا خالد بن ولیدؓ: عراق سے شام کا وہ طوفانی اور معجزاتی سفر
اس وقت سیدنا خالد بن ولیدؓ (جنہیں رسول اللہ ﷺ نے "سیف من سیوف اللہ" یعنی اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کا ابدی لقب دیا تھا) عراق کے محاذ پر موجود تھے، جہاں انہوں نے ایرانیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور ایک کے بعد ایک صوبہ فتح کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فوراً ایک تیز رفتار گھڑ سوار قاصد عراق بھیجا اور خالد بن ولیدؓ کو شاہی فرمان جاری کیا: "خالد! عراق کا چارج کسی دوسرے جرنیل کے سپرد کرو اور اسی وقت آدھی فوج لے کر شام کے محاذ کی طرف روانہ ہو جاؤ، کیونکہ وہاں تمہارے بھائی رومیوں کے ایک ہولناک سمندر کے سامنے کھڑے ہیں اور مجھے تمہاری عسکری بصیرت پر پورا بھروسا ہے۔"
خالد بن ولیدؓ کو جیسے ہی خلیفہ کا حکم ملا، انہوں نے ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ انہوں نے اپنے 9,000 جانثار مجاہدین کا ایک دستہ تیار کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ عراق سے شام جانے کا جو روایتی اور محفوظ راستہ تھا، وہ بہت طویل تھا اور اس پر رومیوں کے کئی مضبوط قلعے قائم تھے- اگر خالدؓ اس راستے سے جاتے، تو انہیں شام پہنچنے میں کئی ہفتے لگ جاتے، اور تب تک شام کے مسلمانوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔
خالد بن ولیدؓ نے یہاں تاریخِ انسانی کا وہ سب سے خطرناک اور دلیرانہ فیصلہ کیا جو عسکری انجینئرنگ اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ انہوں نے عراق اور شام کے درمیان واقع "صحرائے سماوہ" (The Syrian Desert / Samawa Desert) کے راستے جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ خوفناک اور سنگلاخ صحرا تھا جہاں میلوں تک پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا، جہاں تیز ریت کے طوفان چلتے تھے، اور اس دور کا کوئی بھی قافلہ یا فوج اس صحرا کو عبور کرنے کی جرات نہیں کر سکتی تھی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس راستے کا گائیڈ ایک بدو ماہر تھا جس کا نام رافع بن عمیرہ تھا، اس نے بھی خالدؓ سے کہا: "اے سپہ سالار! خدا کی قسم، اگر آپ اس لشکر کو لے کر اس صحرا میں داخل ہوئے، تو پانی کی کمی سے ایک ایک سپاہی اور گھوڑا تڑپ کر مر جائے گا، یہ سیدھی موت ہے۔"
لیکن خالد بن ولیدؓ نے فرمایا: "رافع! اگر اللہ کا حکم اور خلیفہ کی وصیت یہی ہے، تو ہم اسی صحرا کو چیرتے ہوئے نکلیں گے، اللہ ہماری پیاس بھی بجھائے گا اور ہمیں وقت پر پہنچائے گا!" خالدؓ نے پانی کی کمی کا حل یہ نکالا کہ انہوں نے سفر شروع کرنے سے پہلے بیس بڑے اونٹوں کو بلایا، انہیں کئی دنوں تک پیاسا رکھا اور پھر انہیں جتنا ہو سکے پانی پلایا یہاں تک کہ ان کے پیٹ پانی کے ذخائر بن گئے۔ سفر کے دوران، جب گھوڑوں کے لیے پانی ختم ہو جاتا، تو مجاہدین ایک اونٹ کو ذبح کرتے اور اس کے پیٹ کے اندر محفوظ صاف پانی نکال کر گھوڑوں اور سپاہیوں کو پلاتے۔
پانچ دن تک یہ لشکرِ خدا اس تپتے ہوئے اور خوفناک صحرا کے اندر رات دن مارچ کرتا رہا- پانچویں دن کی صبح، جب مجاہدین کی آنکھیں پیاس اور ریت سے سرخ ہو چکی تھیں اور پانی کا آخری قطرہ بھی ختم ہو چکا تھا، گائیڈ رافع نے کہا: "لوگو! سامنے دیکھو، اگر تمہیں وہاں جھاؤ (ایک خاص صحرائی پودا) کی جھاڑیاں نظر آئیں، تو سمجھو ہم بچ گئے، ورنہ ہم سب موت کے منہ میں ہیں۔" مجاہدین نے دیکھا تو سامنے وہی پودا موجود تھا؛ انہوں نے وہاں زمین کھودی تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔ پورے لشکر نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا- خالد بن ولیدؓ نے صرف پانچ دنوں میں اس ناقابلِ عبور صحرا کو فتح کر کے شام کی سرحد پر رومیوں کے پچھلے حصے (Rear) میں دھماکے دار انٹری ماری۔ رومیوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی فوج اس صحرا سے زندہ نکل سکتی ہے!
5. شام میں آمد اور تمام مسلم لشکروں کا یکجا ہونا
سیدنا خالد بن ولیدؓ جب صحرا سے نکل کر شام کی دھرتی پر پہنچے، تو انہوں نے راستے میں آنے والے رومی قلعوں (بصریٰ اور اراک) کو تاش کے پتے کی طرح اکھاڑ پھینکا۔ ان کی اس طوفانی آمد کی خبر نے شام کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کے حوصلے آسمان پر پہنچا دیے اور رومیوں کے دلوں پر خوف طاری کر دیا۔ خالد بن ولیدؓ سیدھے اس مقام کی طرف بڑھے جہاں مسلم امہ کے چاروں لشکر اکٹھے ہو رہے تھے—اور یہ مقام تھا وادئ یرموک (Yarmouk Valley)۔
یرموک کا یہ خطہ جغرافیائی لحاظ سے بہت منفرد اور تزویراتی تھا۔ یہ موجودہ اردن اور شام کی سرحد پر واقع ایک وسیع میدان تھا، جس کے ایک طرف گہری کھائیاں اور چٹانیں تھیں اور دوسری طرف یرموک دریا بہتا تھا۔ یہ میدان گھڑ سواروں کی نقل و حرکت کے لیے بہترین تھا، لیکن یہاں کی پوزیشن ایسی تھی کہ جو بھی فوج یہاں ہارتی، اس کے لیے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا تھا۔
جب تمام مسلم دستے یرموک میں یکجا ہوئے، تو ان کی کل تعداد تقریباً 40 ہزار ہو چکی تھی۔ ان 40 ہزار مجاہدین میں رسول اللہ ﷺ کے ایک ہزار سے زائد صحابہ کرامؓ شامل تھے، جن میں 100 کے قریب وہ غازی بھی تھے جو غزوۂ بدر میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ لڑ چکے تھے- اس کے علاوہ اس لشکر میں عرب کے نامور قبیلوں کے دلیر ترین جنگجو اور خواتین (جن میں سیدنا ابوسفیان کی بیٹی جویریہؓ اور خولہ بنت الازورؓ شامل تھیں) بھی زخمیوں کی مرہم پٹی اور ضرورت پڑنے پر تلوار اٹھانے کے لیے موجود تھیں۔ مسلمانوں کا یہ لشکر اگرچہ تعداد میں کم تھا، لیکن ان کا ہر سپاہی ایمان کی اس اعلیٰ ترین حد پر تھا جہاں موت ایک تحفہ نظر آتی ہے۔
6. خالد بن ولیدؓ کی عسکری بصیرت اور سپہ سالاری کا نیا نظام
جنگ کی صبح سے پہلے، جب مسلمانوں نے دیکھا کہ رومیوں کا دو لاکھ کا لشکرِ جرار ان کے سامنے خیمہ زن ہو چکا ہے اور ان کے لوہے کے ہتھیاروں سے پورا میدان چمک رہا ہے، تو کچھ عرب قبیلوں کے سپاہیوں کے اندر تعداد کے اس بڑے فرق کی وجہ سے تھوڑی تشویش پیدا ہوئی۔ اس وقت تک مسلمانوں کے لشکر کا نظام یہ تھا کہ چاروں جرنیل اپنے اپنے دستوں کے الگ الگ کمانڈر تھے اور کوئی ایک مرکزی سپہ سالار نہیں تھا جو پوری فوج کو ایک اشارے پر چلا سکے۔
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے اس بڑی خامی کو فوراً بھانپ لیا۔ وہ جانتے تھے کہ دو لاکھ کی منظم فوج کا مقابلہ تب تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ مسلمانوں کا پورا لشکر ایک ہی کمانڈ اور ایک ہی حکمتِ عملی کے تحت کام نہ کرے۔ انہوں نے تمام جلیل القدر صحابہ اور جرنیلوں کو اکٹھا کیا اور انتہائی فصیح اور اثر انگیز انداز میں فرمایا:
"اے اسلام کے جرنیلو! یاد رکھو، آج کا یہ دن تاریخ کا وہ فیصلہ کن دن ہے جس پر اسلام کی بقا کا دارومدار ہے۔ یہ رومی لشکر بہت منظم ہے، اور اگر ہم نے اپنی روایتی الگ الگ کمانڈ کے ساتھ جنگ لڑی، تو ہم بکھر جائیں گے۔ آج کے دن اپنے اندرونی اختلافات، اپنی سرداریوں اور اپنی امارتوں کو بھول جاؤ۔ چلو ایک ایسا نظام بناتے ہیں کہ ہم میں سے ہر جرنیل ایک ایک دن کے لیے پورے لشکر کا امیرِ اعلیٰ (Supreme Commander) بنے، تاکہ دشمن کو یہ نظر آئے کہ مسلمانوں کی پوری فوج ایک ہی مٹھی کی طرح متحد ہے۔ اگر آپ سب کی اجازت ہو، تو جنگ کے اس پہلے اور کٹھن ترین دن کی سپہ سالاری کا شرف یہ خالد اپنے سر لیتا ہے!"
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ، جو کہ امتِ مسلمہ کے امین اور انتہائی مخلص انسان تھے، انہوں نے خالدؓ کا یہ عسکری پلان سن کر فوراً اپنی تلوار میان میں رکھی اور فرمایا: "خالد! خدا کی قسم، تم جنگ کے علوم کو ہم سے بہتر جانتے ہو اور تمہاری تلوار پر اللہ کی برکت ہے۔ میں سب سے پہلے تمہاری اطاعت کا اعلان کرتا ہوں اور تمہارا ادنیٰ سپاہی بن کر لڑنے کے لیے تیار ہوں۔" تمام جرنیلوں نے ایک زبان ہو کر خالد بن ولیدؓ کو پورے 40 ہزار کے لشکر کا سپہ سالارِ اعظم تسلیم کر لیا۔
کمان سنبھالتے ہی خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کی روایتی صف بندی کو تبدیل کر دیا۔ انہوں نے عرب کی تاریخ میں پہلی بار فوج کو "کردوس" (Kardus / Regiment System) یعنی چھوٹے چھوٹے متحرک اور خود مختار دستوں میں تقسیم کیا، جن میں پیادہ فوج، تیر انداز اور تیز رفتار گھڑ سوار شامل تھے- انہوں نے فوج کے دائیں بازو (Right Wing) کی کمانڈ عمرو بن العاصؓ اور شرجیل بن حسنہؓ کو دی، بائیں بازو (Left Wing) کی کمانڈ یزید بن ابی سفیانؓ کو سونپی، اور قلب (Center) کے نگران ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو مقرر کیا۔ خود خالدؓ نے اپنے پاس 4,000 نامور اور کٹر گھڑ سواروں کا ایک ایسا موبائل دستہ (Mobile Guard) رکھا جو میدانِ جنگ میں جہاں بھی کوئی صف کمزور ہوتی، وہاں طوفان کی طرح پہنچ کر رومیوں کا صفایا کر دیتا۔ یہیں سے معرکہ یرموک کے اس لرزہ خیز اور خونریز پہلے دن کی شروعات ہونی تھی جس نے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ کرنا تھا—
پارٹ 2: رومی جرنیل جارج کا اسلام قبول کرنا، معرکہ یرموک کا ہولناک آغاز اور ابتدائی تین دنوں کی جنگ
1. جنگ کی صبح کا حیرت انگیز واقعہ: رومی جرنیل جارج (جرجہ) کا میدان میں آنا
رجب سنہ ۱۵ ہجری (مطابق اگست ۶۳۶ء) کی وہ ایک ایسی صبح تھی جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ وادئ یرموک کے وسیع میدان میں دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھے۔ دو لاکھ رومیوں کا سمندر اپنے لوہے کے بکتروں اور سونے کی صلیبوں کے ساتھ چمک رہا تھا، جبکہ دوسری طرف چالیس ہزار مجاہدینِ اسلام خاموشی اور وقار کے ساتھ کھڑے اللہ کی مدد کے منتظر تھے۔ ابھی جنگ کا باقاعدہ عام حملہ شروع نہیں ہوا تھا کہ رومیوں کی صفوں میں سے ایک بہت ہی عظیم الشان گھڑ سوار آگے بڑھا۔
یہ کوئی عام سپاہی نہیں تھا، بلکہ یہ رومی فوج کے ایک بڑے اور اہم دستے کا کمانڈر انچیف جارج (عربی تاریخ میں جرجہ) تھا。 جارج رومی سلطنت کا ایک نہایت معزز، تجربہ کار اور عاقل جرنیل مانا جاتا تھا۔ اس نے دونوں فوجوں کے درمیان (No Man's Land) میں پہنچ کر بلند آواز میں پکارا: "اے عربوں! تمہارا سپہ سالار خالد کہاں ہے؟ اسے میرے سامنے بلاؤ، میں اس سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں!"
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے جب یہ آواز سنی، تو انہوں نے اپنے گھوڑے کی لگام تھامی اور اپنے سائے کی طرح ساتھ رہنے والے باڈی گارڈز کو وہیں رکنے کا حکم دیا۔ خالدؓ اکیلے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جارج کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ دونوں جرنیل اتنے قریب تھے کہ ان کے گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ جارج نے خالد بن ولیدؓ کی پروقار اور نڈر شخصیت کو غور سے دیکھا اور رومیوں کے روایتی تکبر کے بجائے انتہائی سنجیدہ لہجے میں ایک ایسا سوال پوچھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
2. خالد بن ولیدؓ اور جارج کا تاریخی و رقت آمیز مکالمہ
جارج نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا:
"اے خالد! مجھے سچ سچ بتانا، تم جھوٹ نہیں بولو گے کیونکہ ایک شریف انسان کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ کیا یہ سچ ہے کہ تمہارے اللہ نے تمہارے نبی ﷺ پر آسمان سے ایک ایسی تلوار نازل کی ہے جو انہوں نے تمہیں عطا فرمائی؟ اور تم وہ تلوار جس پر بھی چلاتے ہو، اسے شکست ہو جاتی ہے، اسی لیے تمہیں 'سیف اللہ' (اللہ کی تلوار) کہا جاتا ہے؟"
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے جارج کی معصومانہ جستجو کو دیکھا تو مسکرا کر فرمایا: "نہیں جارج! خدا کی قسم، ایسا بالکل نہیں ہے کہ آسمان سے کوئی لوہے کی تلوار اتری ہو۔" جارج نے حیرت سے پوچھا: "پھر تمہیں یہ لقب کیسے ملا؟" خالد بن ولیدؓ نے بڑی فصاحت سے جواب دیا:
"بات یہ ہے کہ اللہ نے ہمارے درمیان اپنے ایک سچے رسول ﷺ کو بھیجا۔ شروع میں ہم نے ان کی مخالفت کی اور ان سے جنگیں لڑیں۔ پھر اللہ نے ہمارے دلوں کو کھول دیا اور ہم نے ان کا کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ جب میں نے اسلام قبول کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے دین کی خدمت کرتے دیکھ کر فرمایا: 'خالد! تم اللہ کی تلواروں میں سے ایک ایسی تلوار ہو جسے اللہ نے کافروں کے خلاف سونت رکھا ہے'۔ بس اسی دن سے مجھے 'سیف اللہ' کہا جاتا ہے، اور میں جب تک زندہ ہوں، اللہ کے دین کے تحفظ کے لیے لڑتا رہوں گا۔"
جارج اس جواب سے بہت متاثر ہوا، اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر پوچھا: "خالد! مجھے یہ بتاؤ کہ تم لوگ کس چیز کی دعوت دیتے ہو؟" خالدؓ نے فرمایا: "ہم اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے نبی ﷺ لے کر آئے ہیں وہ سراسر حق ہے!"
جارج نے اگلا سوال پوچھا: "اگر کوئی شخص آج کے دن تمہاری اس دعوت کو قبول کر لے، تو اس کا تمہارے درمیان کیا مقام ہوگا؟ کیا وہ بھی تمہارے برابر ہوگا؟" خالد بن ولیدؓ نے فرمایا: "ہاں! خدا کی قسم، جو آج اسلام قبول کرے گا، وہ حقوق اور فرائض میں بالکل ہمارے برابر ہوگا۔ بلکہ اس کا رتبہ اور ثواب ہمارے سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے!" جارج نے حیرت سے کہا: "وہ کیسے؟ تم لوگ تو بہت پہلے اسلام لا چکے ہو، تم نے رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا ہے، ان کے ساتھ جہاد کیا ہے، وہ نیا آنے والا تمہارے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟"
خالد بن ولیدؓ نے ایمان افروز جواب دیا:
"جارج! ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کے معجزات دیکھے، آسمان سے وحی اترتے ہوئے دیکھی، اس لیے ہمارے لیے ایمان لانا آسان تھا۔ لیکن تم لوگ، جنہوں نے نہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، نہ ان کے معجزات دیکھے، اگر تم صرف ہماری باتیں سن کر غائبانہ طور پر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو، تو تمہارا ایمان اور تمہارا اخلاص ہم سے بھی زیادہ قیمتی ہے!"
3. جارج کا قبولِ اسلام اور میدانِ جنگ میں شہادت
خالد بن ولیدؓ کا یہ جواب جارج کے دل کے اندر تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ رومی سلطنت کا وہ سب سے بڑا جرنیل، جو چالیس ہزار مسلمانوں کو مٹانے نکلا تھا، اس کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہو گیا۔ اس نے اپنی ڈھال اور تلوار نیچے کی، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور اس نے تڑپ کر کہا: "اے خالد! مجھے سکھاؤ، میں اسلام کیسے قبول کروں؟"
حضرت خالد بن ولیدؓ اسے اپنے خیمے کی طرف لے گئے۔ وہاں انہوں نے جارج کو غسل کروایا اور اسے کلمۂ شہادت پڑھوایا: "اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ"۔ جارج نے کلمہ پڑھنے کے بعد صرف دو رکعت نمازِ نفل ادا کی، اور یہ اس کی زندگی کی پہلی اور آخری نماز تھی۔
جب رومی فوج نے دیکھا کہ ان کا کمانڈر انچیف جارج مسلمانوں کے ساتھ مل چکا ہے، تو ان کے شاہی خیموں میں کہرام مچ گیا۔ رومی جرنیل بہان نے غصے کے عالم میں اپنی پوری فوج کو عام حملے کا حکم دے دیا۔ جارج عیسائیت کا جرنیل اب اسلام کا غازی بن کر حضرت خالد بن ولیدؓ کے دائیں بازو میں کھڑا ہو کر اپنے ہی پرانے رومی لشکریوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل آیا۔ جنگ کے پہلے ہی دن، جارج نے رومیوں کے کئی بڑے وار اپنے سینے پر روکے اور بڑی دلیری سے لڑتے لڑتے ملازگرد کی دھرتی پر جامِ شہادت نوش کر لیا۔ اس نے زندگی میں صرف دو رکعت نماز پڑھی تھی اور بغیر کوئی روزہ رکھے یا حج کیے، وہ سیدھا جنت الفردوس کا مہمان بن گیا۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے غیبی مدد کی ایک بہت بڑی نشانی ثابت ہوا۔
4. معرکہ یرموک کا پہلا دن: "یومِ رعب" اور رومیوں کا ابتدائی دباؤ
جارج کی شہادت کے بعد، دو لاکھ رومیوں کا لشکر ایک بہت بڑے کالے سیلاب کی طرح مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ رومی فوج کی صف بندی تین میل سے بھی زیادہ طویل تھی، اور ان کے پاس لوہے کے اتنے بڑے بڑے رتھ اور منجنیقیں تھیں جو مسلمانوں پر مسلسل پتھر اور آگ برسا رہی تھیں۔ رومیوں کا پلان یہ تھا کہ وہ اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے دائیں اور بائیں بازو کو دبا کر انہیں وسط (Center) میں لا کر کچل دیں۔
رومیوں کے دائیں بازو نے مسلمانوں کے بائیں بازو پر، جس کے کمانڈر یزید بن ابی سفیانؓ تھے، ایک ہولناک حملہ کیا۔ رومی سپاہی اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے مجاہدین کی صفوں کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ عیسائیوں کے بھاری بکتروں کی وجہ سے مسلمانوں کی تلواریں ان پر اثر تو کر رہی تھیں، لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ایک رومی مرتا، تو اس کی جگہ دس نئے رومی کھڑے ہو جاتے۔ مسلمانوں کو چند قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس نازک وقت میں، سیدنا خالد بن ولیدؓ نے اپنی عسکری بصارت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے پاس محفوظ ۴,000 کٹر گھڑ سواروں کے "موبائل گارڈ" دستے کو اشارہ کیا۔ خالدؓ طوفان کی رفتار سے مسلمانوں کے بائیں بازو کی مدد کو پہنچے۔ انہوں نے رومیوں کے اس دستے پر پیچھے سے ایک ایسا ناگہانی حملہ کیا جس نے رومیوں کے پاؤں اکھڑ دیے- خالدؓ کی تلوار رومیوں کے سروں کو اڑاتی چلی گئی، اور پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک مسلمانوں نے اپنی تمام پوزیشنیں واپس بحال کر لیں اور رومیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنا پڑا۔
5. جنگ کا دوسرا دن: ہاتھیوں کا حملہ اور "یومِ ازواخ"
جنگ کے دوسرے دن رومی شہنشاہ کے بھائی تھیوڈور اور جرنیل بہان نے ایک نئی اور انتہائی خطرناک حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے اپنی فوج کے ہراول دستے کے آگے بڑے بڑے جنگی ہاتھیوں (War Elephants) کی ایک پوری صف کھڑی کر دی۔ ان ہاتھیوں کو لوہے کے بڑے بڑے کٹک اور چادریں پہنائی گئی تھیں، اور ان کے اوپر بنے ہوئے ہودجوں میں رومی تیر انداز بیٹھے تھے جو دور سے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
جب یہ ہاتھی چنگھاڑتے ہوئے مسلمانوں کے دائیں بازو (Right Wing) کی طرف بڑھے، جہاں عمرو بن العاصؓ اور شرجیل بن حسنہؓ کے دستے موجود تھے، تو مسلمانوں کے گھوڑے ان ہاتھیوں کی خوفناک شکل اور بو سونگھ کر ڈر گئے اور انہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ رومی پیادہ فوج نے اس کا فائدہ اٹھایا اور وہ مسلمانوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے ان کے خیموں تک پہنچ گئے۔
یہ معرکہ یرموک کا ایک انتہائی کٹھن اور خطرناک لمحہ تھا۔ رومیوں کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلم مجاہدین کی صفیں بکھرنے لگی تھیں اور وہ پیچھے ہٹ کر اپنے خیموں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لیکن رومی یہ بھول گئے تھے کہ ان خیموں کے اندر اسلام کی وہ شیر دل خواتین موجود تھیں جن کے بھائی اور شوہر میدان میں لڑ رہے تھے!
6. مسلم خواتین کا تاریخی کردار: جب خیموں کی لکڑیوں سے رومیوں کو بھگایا گیا
جب مسلم مجاہدین پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے خیموں کے پاس پہنچے، تو قبیلہ بنو اسد اور دیگر عرب قبیلوں کی خواتین، جن کی قیادت سیدنا ابوسفیان کی بیٹی جویریہؓ، خولہ بنت الازورؓ، اور عکرمہ بن ابی جہل کی زوجہ امِ حکیمؓ کر رہی تھیں، وہ خیموں سے باہر نکل آئیں۔ ان کے ہاتھوں میں تلواریں، نیزے اور خیموں کی بھاری لکڑیاں (Tent Pegs) تھیں۔
ان خواتین نے پیچھے ہٹتے ہوئے مجاہدین کو دیکھا تو غصے اور غیرت کے عالم میں چیخ کر کہا: "اے عرب کے غیرت مندوں! تم کہاں بھاگ رہے ہو؟ کیا تم ہمیں ان کافر رومیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا رہے ہو؟ خدا کی قسم، اگر تم نے پیٹھ دکھائی، تو تم ہمارے چہرے دیکھنے کے لائق نہیں رہو گے، ہم خود رومیوں سے لڑ کر مر جائیں گے لیکن تمہاری اس بزدلی کو تسلیم نہیں کریں گے!"
خواتین نے پیچھے ہٹنے والے کچھ سپاہیوں کے گھوڑوں کے منہ پکڑ لیے اور ان پر پتھر برسانا شروع کر دیے۔ مسلم مجاہدین نے جب اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی یہ غیرت اور جلال دیکھا، تو ان کا خون کھول اٹھا۔ ان کے دلوں کے اندر کا سویا ہوا شیر جاگ گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: "خدا کی قسم! اگر ہم آج رومیوں کے سامنے ٹک نہ سکے، تو ہمیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔" عمرو بن العاصؓ نے نعرہ لگایا: "اللہ کے بندو! موت کی طرف آگے بڑھو، جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے!"
مجاہدین نے پلٹ کر رومیوں پر ایک ایسا غضب ناک حملہ کیا جس کی رومیوں کو توقّع نہیں تھی۔ اسی وقت حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ ہاتھیوں کے دستے کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا: "ان ہاتھیوں کی سونڈھوں اور آنکھوں کو نشانہ بناؤ!" مجاہدین نے اپنی لمبی برچھیوں اور نیزوں سے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈھوں پر کاری وار کیے۔ زخمی ہاتھی درد کی شدت سے چنگھاڑتے ہوئے الٹے پاؤں مڑے اور انہوں نے مسلمانوں کے بجائے خود اپنی ہی رومی فوج کو اپنے پیروں تلے کچلنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن کا سورج جب غروب ہوا، تو رومیوں کا ہاتھیوں کا یہ غرور بھی مٹی میں مل چکا تھا اور ہزاروں رومی لاشیں میدان میں بکھری پڑی تھیں۔
7. جنگ کا تیسرا دن: "یومِ تعمیہ" اور زہریلے تیر اندازوں کا قہر
تیسرے دن رومیوں نے اپنی پوری طاقت مسلمانوں کے دائیں بازو (Right Wing) کو تباہ کرنے پر لگا دی۔ رومی جرنیل بہان نے محسوس کر لیا تھا کہ اگر دائیں بازو کو توڑ دیا جائے، تو مسلمانوں کی سپلائی لائن کٹ جائے گی۔ اس نے آرمینیا کے چالیس ہزار زہریلے تیر اندازوں (Archers) کو فرنٹ لائن پر کھڑا کر دیا۔ ان تیر اندازوں کے پاس ایسے زہریلے تیر تھے جن کا ایک چھوٹا سا زخم بھی انسان کو تڑپا تڑپا کر مار دیتا تھا۔
دوپہر کے وقت، رومی تیر اندازوں نے مسلمانوں پر ایک ساتھ لاکھوں تیروں کی بارش شروع کر دی- تاریخِ اسلام میں اس دن کو "یومُ الاعماد" (The Day of Blindness) کہا جاتا ہے، کیونکہ اس دن رومیوں کے تیروں کی وجہ سے مسلمانوں کے ۷00 سے زائد صحابہ اور مجاہدین کی آنکھیں ضائع ہو گئیں- ان میں سیدنا ابوسفیانؓ بھی شامل تھے جن کی ایک آنکھ اس دن شہید ہوئی۔
تیروں کی اس ہولناک بوچھاڑ کے باوجود مسلمانوں نے اپنی صفیں نہیں چھوڑیں، لیکن رومی پیادہ فوج نے اس کا فائدہ اٹھا کر ایک بہت بڑا حملہ کر دیا اور مسلمانوں کو ایک بار پھر پیچھے دھکیل دیا۔ دائیں بازو کے سپاہی شدید زخمی حالت میں پیچھے ہٹ رہے تھے، اور رومیوں کو لگ رہا تھا کہ آج وہ مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔
8. حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ کا لازوال تاریخی کارنامہ: "موت کا بیعت نامہ"
اس انتہائی نازک، ہولناک اور مایوس کن لمحے میں، جب مسلمانوں کی شکستِ فاش صاف نظر آ رہی تھی اور رومیوں کا دو لاکھ کا سیلاب دائیں بازو کو بہا لے جانے کے لیے تیار تھا، تاریخِ اسلام کا وہ سب سے بڑا اور جگر سوز واقعہ پیش آیا جس نے معرکہ یرموک کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ تھا سیدنا عکرمہ بن ابی جہلؓ کا میدان میں کھڑے ہو کر موت کا بیعت نامہ تیار کرنا۔
حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ (جو کہ فتحِ مکہ کے دن اسلام لائے تھے اور ان کے والد ابوجہل اسلام کا سب سے بڑا دشمن تھا) اس وقت دائیں بازو کے ایک دستے کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے جب مسلمانوں کو پیچھے ہٹتے اور رومیوں کو مساجد اور خلافت کی طرف بڑھتے دیکھا، تو ان کی ایمانی غیرت جوش میں آ گئی۔ وہ اپنے گھوڑے پر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز میں گرج کر فرمایا:
"اوہ اسلام کے غازیوں! یاد کرو وہ دن جب میں کافر تھا اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہر میدان میں لڑتا تھا- کیا آج جب میں اسلام کا سپاہی بن چکا ہوں، تو میں اس رومی فرعون کے سامنے اپنی جان بچانے کے لیے پیٹھ دکھاؤں گا؟ خدا کی قسم، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا! کون ہے جو آج میرے ساتھ اپنی جان کا سودا اللہ کے حضور کرے گا؟ کون ہے جو آج میرے ہاتھ پر 'موت کی بیعت' (Pact of Death) کرے گا کہ وہ میدان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے اس کے جسم کے ہزار ٹکڑے کیوں نہ ہو جائیں؟"
عکرمہؓ کی اس شیر جیسی آواز کو سن کر ان کے چچا زاد بھائی حضرت حارث بن ہشامؓ اور رسول اللہ ﷺ کے پیارے صحابی حضرت ضرار بن الازورؓ فوراً آگے بڑھے۔ انہوں نے عکرمہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کہا: "عکرمہ! ہم تمہارے ساتھ موت کی بیعت کرتے ہیں، ہماری جانیں اسلام پر قربان ہیں!" ان کو دیکھ کر ۴00 کٹر اور نامور مجاہدین کا ایک ایسا دستہ تیار ہو گیا جنہوں نے اپنے سروں پر موت کی سرخ پٹیاں باندھ لیں۔
حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ اپنے ان ۴00 جانثاروں کو لے کر رومیوں کے چالیس ہزار کے اس سیلاب کے اندر داخل ہو گئے- یہ ۴00 مجاہدین انسان نہیں بلکہ اڑتے ہوئے فولادی تیر بن چکے تھے؛ انہوں نے رومیوں کی صفوں کے اندر گھس کر وہ تباہی مچائی کہ رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ عکرمہؓ کی تلوار بجلی کی طرح چمک رہی تھی، ان کے جسم پر نیزوں اور تیروں کے درجنوں زخم لگ چکے تھے، لیکن وہ زخموں کی پرواہ کیے بغیر رومیوں کے جرنیلوں کو کاٹتے چلے گئے۔ ان ۴00 مجاہدین نے اپنی جانیں قربان کر کے رومیوں کے اس عظیم الشان حملے کو وہیں روک دیا اور مسلمانوں کا دایاں بازو مکمل تباہی سے بچ گیا۔ جنگ کا تیسرا دن جب ختم ہوا، تو رومیوں کے دلوں پر عکرمہ اور ان کے ۴00 غازیوں کا ایسا خوف طاری ہو چکا تھا کہ وہ مسلمانوں کو انسان نہیں بلکہ کوئی غیبی مخلوق سمجھنے لگے تھے۔
پارٹ 3: چوتھے اور پانچویں دن کا ہولناک معرکہ، رومیوں کی صلح کی پیشکش اور خالد بن ولیدؓ کا جوابی ماسٹر پلان
1. چوتھے دن کا پچھلا پہر: حضرت عکرمہؓ کی آخری ہچکی اور مجاہدین کا غم و غصہ
جیسا کہ پارٹ 2 کے آخر میں آپ نے پڑھا کہ چوتھے دن (یومِ تعمیہ) رومیوں کے زہریلے تیر اندازوں نے مسلمانوں کی آنکھوں کو نشانہ بنایا اور حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ نے اپنے 400 جانثاروں کے ساتھ "موت کا بیعت نامہ" تیار کر کے رومیوں کے سیلاب کو روکا تھا۔ چوتھے دن کا سورج جب غروب ہو رہا تھا، تو میدانِ جنگ کا منظر انتہائی رقت آمیز اور دل ہلا دینے والا تھا۔ رومی فوج مسلمانوں کے اس غضب ناک جوابی حملے سے خوفزدہ ہو کر اپنے کیمپوں کی طرف پیچھے ہٹ چکی تھی، لیکن مسلمانوں نے بھی اپنے کئی جلیل القدر پودے گنوا دیے تھے۔
جنگ ختم ہونے کے بعد، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ دوڑتے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں حضرت عکرمہؓ اور ان کے ساتھیوں نے رومیوں کے چالیس ہزار کے دستے کا راستہ روکا تھا۔ وہاں کا منظر دیکھ کر مجاہدین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ۴00 مجاہدین میں سے اکثر خاک اور خون میں لت پت شہید ہو چکے تھے، اور چند ایک شدید زخمی حالت میں آخری سانسیں لے رہے تھے۔ حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ کا سر مبارک ان کے چچا زاد بھائی حضرت حارث بن ہشامؓ کی گود میں تھا، اور خود حارث بھی شدید زخمی تھے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ اس نازک وقت میں پیاس کی شدت سے ان غازیوں کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔ ایک سپاہی پانی کا ایک پیالہ لے کر حضرت عکرمہؓ کے پاس آیا۔ عکرمہؓ نے پانی کے پیالے کو دیکھا، لیکن اپنے برابر میں تڑپتے ہوئے حارث بن ہشامؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "پہلے یہ پانی میرے بھائی حارث کو پلاؤ۔" جب وہ سپاہی پانی لے کر حارثؓ کے پاس گیا، تو حارثؓ نے اپنے دوسرے برابر میں تڑپتے ہوئے عیاش بن ابی ربیعہؓ کی طرف اشارہ کیا کہ "پہلے پانی انہیں دو۔" جب سپاہی عیاشؓ کے پاس پہنچا، تو وہ جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ وہ دوڑ کر واپس حارثؓ کے پاس آیا تو ان کی روح بھی پرواز کر چکی تھی، اور جب وہ عکرمہؓ کے پاس پہنچا، تو اسلام کا یہ عظیم شیر بھی اپنے رب کے حضور سرخرو ہو چکا تھا۔
ان غازیوں نے پیاسا رہ کر ایثار کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس نے پورے مسلم لشکر کے اندر رومیوں کے خلاف غصے اور جہاد کی ایک نئی آگ بھڑکا دی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے عکرمہؓ کے خون آلود چہرے کو چوما اور رو کر فرمایا: "عکرمہ! خدا کی قسم، تم نے اسلام کا حق ادا کر دیا۔ تمہارا باپ ابوجہل کفر کا فرعون تھا، لیکن تم نے اسلام کے لیے وہ قربانی دی جس پر کائنات ہمیشہ نازل کرے گی۔" اس واقعے نے مسلمانوں کے بکھرے ہوئے حوصلوں کو لوہے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیا، اور اب وہ رومیوں کا آخری حساب برابر کرنے کے لیے بے چین تھے۔
2. جنگ کا پانچواں دن: رومیوں کے حوصلے پست اور صلح کی چال
جب پانچویں دن کی صبح کا سورج طلوع ہوا، تو رومیوں کے کیمپ کے اندر وہ پہلا والا گھمنڈ اور جوش و خروش بالکل ختم ہو چکا تھا۔ رومی شہنشاہ کے بھائی تھیوڈور اور جرنیل بہان نے جب اپنی انٹیلیجنس رپورٹ دیکھی، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے دو لاکھ کے لشکر میں سے تقریباً پچاس ہزار سے زائد سپاہی، نائٹس اور پادری پہلے چار دنوں کی جنگ میں ہی مارے جا چکے تھے، ان کے جنگی ہاتھی ناکام ہو چکے تھے، اور ان کے کرائے کے ترک فوجی مسلمانوں کے ساتھ جا ملے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے پاس صرف ۴00 گھڑ سواروں کے دستے (عکرمہ کے دستے) نے ان کے چالیس ہزار کے لشکر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ رومی سپاہیوں کے دلوں پر مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہو چکا تھا کہ وہ اب خیموں سے باہر نکلنے سے بھی کترانے لگے تھے۔
رومی جرنیل بہان نے سمجھ لیا کہ مادی طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں کو اس میدان میں ہٹانا اب ممکن نہیں رہا۔ اس نے جنگی اسٹریٹجی بدلی اور فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو صلح اور مذاکرات کے بہانے الجھایا جائے، تاکہ قسطنطنیہ سے مزید نئی رومی فوج منگوائی جا سکے اور مسلمانوں کو تھکایا جا سکے۔ پانچویں دن کی دوپہر کو، رومیوں کی طرف سے ایک سفید جھنڈا اٹھائے ہوئے قاصد مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوا اور اس نے پیغام دیا: "ہمارا سپہ سالار بہان آپ کے امیر خالد بن ولید سے تنہائی میں صلح کے معاہدے کے لیے ملاقات کرنا چاہتا ہے، اس لیے آج کے دن جنگ روک دی جائے۔"
سیدنا خالد بن ولیدؓ ایک بیدار مغز اور غیر معمولی سیاسی و عسکری بصیرت کے مالک انسان تھے۔ وہ رومیوں کی اس چال کو ایک ہی سیکنڈ میں سمجھ گئے۔ انہوں نے اپنے جرنیلوں سے فرمایا: "رومی صلح نہیں چاہتے، وہ ہماری تلواروں کے خوف سے وقت مانگ رہے ہیں۔ ان کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں، اور عسکری سائنس کا یہ اصول ہے کہ جب دشمن کمزور پڑ جائے اور وقت مانگے، تو اسے ایک سیکنڈ کی بھی مہلت نہیں دینی چاہیے، بلکہ اس پر اتنا زوردار حملہ کرنا چاہیے کہ وہ دوبارہ کھڑا نہ ہو سکے۔" خالد بن ولیدؓ نے رومی قاصد کی طرف دیکھا اور بڑی دلیری سے فرمایا: "اپنے جرنیل سے جا کر کہہ دو کہ خالد صلح کے خطوط پر دستخط کرنے نہیں، بلکہ رومی سلطنت کا غرور مٹانے آیا ہے۔ صلح اب تبھی ہوگی جب تم یہ دھرتی خالی کر دو گے، یا پھر ہماری تلواریں تمہارا فیصلہ کریں گی!"
3. خالد بن ولیدؓ کا تاریخی ماسٹر پلان: دفاع سے جارحیت کی طرف (The Grand Defensive-to-Offensive Shift)
جنگ کے پہلے چار دنوں تک، مسلمانوں کی حکمتِ عملی خالصتاً دفاعی (Defensive) تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ رومیوں کے حملوں کو روک رہے تھے اور اپنی پوزیشنوں کی حفاظت کر رہے تھے، کیونکہ وہ رومیوں کی طاقت اور ان کی تعداد کو تھکانا چاہتے تھے۔ اب جبکہ پانچویں دن تک رومی فوج بری طرح تھک چکی تھی، ان کے سپاہی نفسیاتی طور پر ہار مان چکے تھے، اور ان کے دلوں پر مسلمانوں کا خوف بیٹھ چکا تھا، خالد بن ولیدؓ نے محسوس کر لیا کہ اب دفاع کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب اسلام کی تلوار کو شدید جارحانہ (Highly Offensive) روپ دھارنا ہوگا۔
خالد بن ولیدؓ نے پانچویں دن کی رات تمام مسلم جرنیلوں اور صحابہ کا ایک انتہائی اہم اور خفیہ اجلاس بلایا۔ اس رات وادئ یرموک کی ہواؤں میں ایک عجیب سی سنسنی تھی- خالدؓ نے شمع کی روشنی میں میدانِ جنگ کا نقشہ سامنے رکھا اور اپنا وہ تاریخی ماسٹر پلان پیش کیا جس نے رومیوں کی تقدیر کا حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ خالدؓ نے فرمایا:
"اے اسلام کے غازیوں! رومیوں نے صلح کی پیشکش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔ اب تک ہم نے ان کے حملوں کو روکا ہے، لیکن کل چھٹے دن کی صبح ہم تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن حملہ خود کریں گے۔ کل ہماری تمام پیادہ فوج (Infantry) اور گھڑ سوار (Cavalry) الگ الگ دستوں میں نہیں لڑیں گے، بلکہ ہم اپنی پوری فوج کو ایک مٹھی کی طرح اکٹھا کر کے رومیوں کے بائیں بازو (Left Wing) پر ایک ایسا زوردار حملہ کریں گے جو انہیں پیچھے دریا کی گہری کھائیوں کی طرف دھکیل دے۔"
خالدؓ کا یہ پلان عسکری تاریخ کا ایک ایسا شاہکار تھا جسے آج بھی دنیا کی بڑی بڑی اکیڈمیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی فوج کی صف بندی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے اپنے پاس موجود تمام گھڑ سوار دستوں کو اکٹھا کر کے ایک بہت بڑا "فولادی عسکری دستہ" (Massed Cavalry Strike Force) تیار کیا، جس کی کل تعداد تقریباً آٹھ ہزار بنتی تھی۔ اس دستے کا مقصد رومیوں کی پیادہ فوج کو ان کے گھڑ سواروں سے الگ کرنا تھا- خالدؓ کا یہ پلان اتنا خفیہ اور اسٹریٹجک تھا کہ رومیوں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں تھی، اور وہ سمجھ رہے تھے کہ کل بھی مسلمان صرف اپنے دفاع کی جنگ لڑیں گے۔
4. وادئ یرموک کا جغرافیہ اور رومیوں کے فرار کا واحد راستہ: "پلِ عین الذکر"
خالد بن ولیدؓ کے اس ماسٹر پلان کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے وادئ یرموک کے اس منفرد اور خطرناک جغرافیے کو سمجھنا بہت ضروری ہے، جس کا ذکر ہم نے پارٹ 1 میں کیا تھا۔ یرموک کا میدان تین طرف سے گہری، سنگلاخ اور خوفناک پہاڑی کھائیوں (Ravines) سے گھرا ہوا تھا، جن کے نیچے تیز بہاؤ والا دریا بہتا تھا۔ ان کھائیوں کی گہرائی سینکڑوں فٹ تھی؛ اگر کوئی انسان یا گھوڑا وہاں سے نیچے گرتا، تو اس کی ہڈیوں کا ملنا بھی ناممکن تھا۔
رومیوں کا جو دو لاکھ کا لشکر میدان میں اترا تھا، ان کے خیمے ان کھائیوں کے بالکل سامنے لگے ہوئے تھے۔ یعنی رومیوں کی پشت پر وہ گہری کھائیاں تھیں، اور ان کے سامنے مسلمان کھڑے تھے۔ رومیوں کے پاس میدان سے پیچھے ہٹنے یا فرار ہونے کا صرف ایک ہی زمینی راستہ موجود تھا، اور وہ راستہ ایک تنگ ندی کے اوپر بنے ہوئے ایک قدیم پتھر کے پل سے ہو کر گزرتا تھا، جسے تاریخ میں "پلِ عین الذکر" (Bridge of Ain al-Dhakkar) کہا جاتا ہے۔
اگر یہ پل کھلا رہتا، تو رومی فوج شکست کی صورت میں اس پل کو عبور کر کے دمشق یا فلسطین کی طرف محفوظ طریقے سے فرار ہو سکتی تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے نقشے پر انگلی رکھتے ہوئے اپنے سب سے نڈر اور تیز رفتار جرنیل حضرت ضرار بن الازورؓ کی طرف دیکھا۔ خالدؓ کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، انہوں نے فرمایا: "ضرار! کل کی فتح کا دارومدار تمہارے اوپر ہے۔ رومیوں کے فرار کا واحد راستہ یہ 'پلِ عین الذکر' ہے۔ اگر کل جنگ کے دوران رومی اس پل کی طرف بھاگے، تو وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر ہم پر حملہ کر سکتے ہیں۔ میں تمہیں پانچ سو کٹر گھڑ سواروں کا دستہ دے رہا ہوں- تمہارا کام یہ ہے کہ تم آج رات کے اندھیرے میں، رومیوں کی نظروں سے بچ کر، پورے میدان کا چکر کاٹ کر اس پل پر قبضہ کر لو! کل صبح جب جنگ شروع ہو، تو رومیوں کے پیچھے ہٹنے کا یہ واحد راستہ بند ہونا چاہیے!"
5. حضرت ضرار بن الازورؓ کا رات کا مہم جوئی اور پل پر قبضہ
حضرت ضرار بن الازورؓ (جنہیں تاریخِ اسلام کا "عریان جنگجو" یا Undressed Warrior کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ جوشِ جہاد میں اکثر اپنا بکتر اور قمیض اتار کر ننگے بدن دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے) نے خالدؓ کا یہ حکم سن کر اپنی تلوار پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا: "سپہ سالار! خدا کی قسم، رومیوں کا کوئی ایک سپاہی بھی اس پل سے زندہ نہیں گزر سکے گا، یہ ضرار کی تلوار کا وعدہ ہے!"
رات کا اندھیرا جب گہرا ہوا اور رومی فوج اپنے خیموں میں صلح کی آس لیے سو رہی تھی، تو حضرت ضرار بن الازورؓ اپنے ۵00 چیدہ چیدہ مجاہدین کے ساتھ خاموشی سے نکلے۔ انہوں نے اپنے گھوڑوں کے کھروں پر کپڑے باندھ رکھے تھے تاکہ ان کی ٹاپوں کی آواز رومی سینٹریوں (پہرہ داروں) تک نہ پہنچ سکے۔ یہ مہم جوئی انتہائی خطرناک تھی، کیونکہ اگر رومیوں کو ان کی موجودگی کا پتہ چل جاتا، تو وہ ان ۵00 مجاہدین کو وہیں گھیر کر ختم کر دیتے۔
ضرار بن الازورؓ رومی کیمپوں کے بالکل پیچھے سے، پہاڑی دروں اور چٹانوں کو عبور کرتے ہوئے، بالآخر اس اسٹریٹجک "پلِ عین الذکر" کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں رومیوں کے دو سو بکتر بند سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ ضرارؓ نے اپنے مجاہدین کو اشارہ کیا؛ انہوں نے رات کے اندھیرے میں رومی پہرہ داروں پر ایسا ناگہانی اور خاموش حملہ کیا کہ رومیوں کو چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ چند ہی منٹوں میں تمام رومی سینٹری مارے گئے اور پل پر مسلمانوں کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا۔ ضرارؓ نے پل کے دونوں طرف اپنے تیر انداز کھڑے کر دیے اور خود تلوار تان کر کھڑے ہو گئے۔ اب رومیوں کے فرار کا وہ واحد راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا، اور وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کی پشت پر موت کا جال بچھا دیا گیا ہے۔
6. چھٹے دن کی رات: امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ کا خط اور مسلمانوں کی بے چینی
اسی پانچویں دن کی آخری رات، جب میدانِ یرموک میں ایک بڑے طوفان کی تیاریاں ہو رہی تھیں، مدینہ منورہ سے ایک تیز رفتار اونٹ سوار قاصد مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوا۔ یہ قاصد امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ کا ایک انتہائی اہم اور شاہی فرمان لے کر آیا تھا۔ (یاد رہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں کے دوران ہی خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہو چکا تھا اور سیدنا عمر فاروقؓ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھال لی تھی، لیکن خالدؓ نے یہ خبر فوج سے چھپا رکھی تھی تاکہ سپاہیوں کے حوصلے کمزور نہ ہوں)۔
سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ خط جب حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے تنہائی میں پڑھا، تو ان کے چہرے پر ایک عجیب و غریب تاثر ابھرا۔ اس خط میں دو بہت بڑے اور تاریخی احکامات درج تھے:
- پہلا حکم: خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کی باقاعدہ تصدیق اور سیدنا عمر فاروقؓ کا نئے خلیفہ کے طور پر بیعت کا حکم۔
- دوسرا حکم: تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا اور حیران کن انتظامی فیصلہ—سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سپہ سالاری کے منصب سے معزول (Dismiss) کر دیا تھا اور ان کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو نیا سپہ سالارِ اعظم مقرر کیا تھا!
سیدنا عمر فاروقؓ کا خالدؓ کو معزول کرنے کا مقصد کوئی ذاتی دشمنی یا ناراضگی نہیں تھا، بلکہ ان کی دور اندیشی کا یہ ماننا تھا کہ "لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ بیٹھتا جا رہا ہے کہ فتوحات صرف خالد کی وجہ سے ہوتی ہیں، میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فتوحات خالد کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کی غیبی مدد سے ہوتی ہیں!"
یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو کسی بھی عام بادشاہ یا جرنیل کی انا کو توڑ کر رکھ دیتا اور وہ جنگ چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا- لیکن یہ رسول اللہ ﷺ کے تیار کردہ صحابہ کرامؓ تھے جن کی نیتیں شیشے کی طرح صاف تھیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے شرمندگی کے عالم میں خالدؓ کی طرف دیکھا اور کہا: "خالد! خدا کی قسم، میں یہ خط تمہیں ابھی نہیں دکھانا چاہتا تھا، کیونکہ کل ایک بہت بڑی جنگ ہونے والی ہے اور میں تمہاری قیادت میں ایک ادنیٰ سپاہی بن کر لڑنے میں خوش ہوں۔"
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے یہ سن کر ایک تاریخی اور لازوال مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی۔ انہوں نے خط کو چوما اور فرمایا:
"اے ابو عبیدہ! اللہ امیر المؤمنین عمر پر رحم فرمائے، ان کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔ خدا کی قسم! خالد مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے شام ابوبکر یا عمر کے لیے لڑنے نہیں نکلا تھا- خالد تو صرف اور صرف اللہ کے دین کے لیے لڑتا ہے۔ اگر عمر خلیفہ ہیں اور آپ سپہ سالار ہیں، تو یہ خالد کل کے میدان میں بھی اسی جوش اور اسی جذبے سے رومیوں کے خلاف لڑے گا جیسے وہ سپہ سالار بن کر لڑتا تھا۔ کل کی جنگ کی کمانڈ میرا یہ ماسٹر پلان ہی کرے گا، اور میں آپ کے تحت ایک عام سپاہی بن کر رومیوں کے پرخچے اڑاؤں گا!"
ان دونوں عظیم انسانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ فوج کے سپاہیوں کو یہ خبر ابھی نہیں دی جائے گی تاکہ ان کی توجہ جنگ سے نہ ہٹے، اور خالدؓ ہی کل کے حملے کی عملی قیادت (Tactical Command) سنبھالیں گے۔ اس ایمانی اخلاص اور اتحاد نے مسلمانوں کی پشت پر ایک ایسی طاقت کھڑی کر دی جس کے سامنے دنیا کا کوئی بھی بادشاہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔
7. وہ فیصلہ کن چھٹے دن کی صبح: کائنات کی سب سے بڑی جنگ کی شروعات
بالآخر، وہ تاریخی، لرزہ خیز اور فیصلہ کن چھٹے دن کی صبح کا سورج طلوع ہو گیا۔ میدانِ یرموک پر ہلکی ہلکی دھند چھائی ہوئی تھی، لیکن دونوں لشکروں کے دلوں کے اندر کا جوش ابل رہا تھا۔ رومیوں کی طرف سے دو لاکھ کی فوج کا وہ بچا کچا حصہ (تقریباً ڈیڑھ لاکھ سپاہی) اپنی آخری پوزیشنیں سنبھالے کھڑا تھا۔ رومی جرنیل بہان نے اپنے سپاہیوں کے سامنے کھڑے ہو کر صلیب کی قسم کھائی کہ "آج یا تو ہم مسلمانوں کو مٹا دیں گے، یا پھر یہیں مر جائیں گے۔" رومیوں نے اپنے سپاہیوں کو دلاسا دینے کے لیے شراب اور نشہ آور مشروبات پلا رکھے تھے تاکہ وہ خوف کے بغیر لڑ سکیں۔
دوسری طرف، چالیس ہزار مسلم مجاہدین اپنے گھوڑوں کی زین پر بالکل الرٹ بیٹھے تھے- ان کے سروں پر شہادت کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، اور ان کی آنکھوں میں عکرمہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا بدلہ لینے کا جذبہ چمک رہا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے سفید گھوڑے پر سوار، اپنے ۸,000 کٹر گھڑ سواروں کے فولادی دستے کے آگے کھڑے تھے- ان کے دائیں طرف حضرت امیر معاویہؓ اور بائیں طرف حضرت قیس بن ہبیرہؓ جیسے نامور جنگجو موجود تھے۔
زوال کا وقت جیسے ہی قریب آیا، حضرت خالد بن ولیدؓ نے آسمان کی طرف دیکھا، اللہ کا نام لیا، اور اپنے خادم کو اشارہ کیا کہ وہ جنگ کا سب سے بڑا طبل (ڈھال اور باجا) بجا دے۔ اس باجے کی آواز جیسے ہی گونجی، خالد بن ولیدؓ نے گرج کر فرمایا: "یا خیل اللہ ارکبی وبالجنۃ ابشری" (اے اللہ کے سوارو! سوار ہو جاؤ اور جنت کی خوشخبری پا لو!)۔ اس نعرے کے ساتھ ہی، خالدؓ نے اپنے ۸,000 گھڑ سواروں کے ساتھ رومیوں کے بائیں بازو پر ایک ایسا طوفانی اور غضب ناک حملہ کیا جس نے میدانِ یرموک کی دھرتی کو ہلا کر رکھ دیا—اور یہی وہ چھٹا دن تھا جس نے رومی سلطنت کی تاریخ کا سب سے عبرت ناک باب لکھنا تھا،
پارٹ 4 (آخری حصہ): چھٹے دن کا حتمی معرکہ، رومیوں کی عبرت ناک شکست اور شام کی مکمل آزادی
1. چھٹے دن کا آغاز اور خالد بن ولیدؓ کا طوفانی حملہ
جیسا کہ پارٹ 3 کے آخر میں آپ نے پڑھا کہ چھٹے دن کی صبح حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے ۸,000 کٹر گھڑ سواروں کے فولادی دستے (Massed Cavalry Strike Force) کے ساتھ رومیوں کے بائیں بازو (Left Wing) پر ایک غضب ناک جارحانہ حملہ کیا تھا。 یہ حملہ تاریخِ عسکری کا وہ طوفان تھا جس نے رومی سلطنت کی تقدیر کا فیصلہ کرنا تھا۔
خالد بن ولیدؓ اپنے سفید گھوڑے پر سوار، اپنی چمکتی ہوئی تلوار فضا میں لہراتے ہوئے رومیوں کی صفوں کو چیرتے چلے گئے۔ ان کے گھڑ سواروں نے رومیوں کے بائیں بازو پر اتنی طاقت اور تیز رفتاری سے وار کیا کہ رومی پیادہ فوج (Infantry) کے پاؤں اکھڑ گئے۔ رومی جرنیل بہان نے مسلمانوں کے اس اچانک اور شدید جارحانہ روپ کو دیکھا، تو اس نے فوراً اپنے بکتر بند نائٹس اور گھڑ سوار دستوں کو بائیں بازو کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔
لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ اسی لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے گھڑ سواروں کو ایک خاص زاویے سے موڑا اور رومیوں کی پیادہ فوج اور ان کے گھڑ سواروں کے درمیان موجود خالی جگہ (Gap) کے اندر داخل ہو گئے۔ اس اسٹریٹجک چال کا نتیجہ یہ ہوا کہ رومی گھڑ سوار اپنی ہی پیادہ فوج سے الگ ہو گئے اور وہ اپنی پیادہ فوج کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ خالدؓ نے رومی گھڑ سواروں کو ایک طرف دھکیل دیا اور ان کا رخ مسلمانوں کے وسط (Center) کی طرف کر دیا، جہاں حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ اپنی پیادہ فوج کے ساتھ ایک لوہے کی دیوار بن کر کھڑے تھے اور رومیوں کے ہر وار کو روک رہے تھے۔
2. رومی گھڑ سواروں کا فرار اور پیادہ فوج کا گھیراؤ
جب رومی گھڑ سوار دستے مسلمانوں کے وسط پر حملہ آور ہوئے، تو وہاں موجود مجاہدین نے اپنی لمبی برچھیوں اور ڈھالوں کے ذریعے ان کا استقبال کیا۔ رومی گھڑ سواروں نے جب دیکھا کہ ان کی پشت پر موجود پیادہ فوج کو خالد بن ولیدؓ کے دستوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور ان کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، تو رومی گھڑ سواروں کے حوصلے پست ہو گئے۔ عسکری تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی فوج کے گھڑ سوار دستے یہ دیکھ لیں کہ جنگ اب ہاری جا چکی ہے، تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ نکلتے ہیں۔
رومیوں کا نامور جرنیل بہان اپنے ہزاروں گھڑ سواروں کو لے کر میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹا اور اس نے اس واحد راستے کی طرف بھاگنے کی کوشش کی جس کا ذکر ہم نے پارٹ 3 میں کیا تھا—یعنی "پلِ عین الذکر" (Bridge of Ain al-Dhakkar)"۔ رومی گھڑ سوار جب بھاگتے ہوئے اس پتھر کے پل کے پاس پہنچے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کے چہرے خوف سے زرد ہو گئے۔
وہاں پہلے سے ہی اسلام کا وہ شیر حضرت ضرار بن الازورؓ اپنے ۵00 مجاہدین کے ساتھ تلوار تان کر کھڑا تھا۔ ضرارؓ نے جب رومی گھڑ سواروں کو آتے دیکھا، تو انہوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور اپنے ۵00 غازیوں کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے۔ رومی گھڑ سواروں کو لگا کہ پل پر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فوج موجود ہے، اس لیے انہوں نے پل عبور کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اور اپنی جانیں بچانے کے لیے شمال کی طرف پہاڑی دروں میں بھاگ گئے۔ اس طرح رومیوں کی لاکھوں کی پیادہ فوج میدانِ یرموک میں بالکل اکیلی اور بے بس رہ گئی، اور ان کی پشت پر صرف اور صرف موت کی گہری کھائیاں موجود تھیں۔
3. وہ ہولناک آندھی اور قدرت کا قہر
دوپہر کا وقت ہو چکا تھا اور میدانِ یرموک میں لڑائی اپنے عروج پر تھی۔ رومی پیادہ فوج، جس کی تعداد اب بھی مسلمانوں سے دگنی تھی، وہ ایک گنجان اور بھاری چٹان کی طرح ایک ہی جگہ اکٹھی ہو چکی تھی اور مسلمانوں کے حملوں کا مقابلہ کر رہی تھی۔ اسی نازک وقت میں، قدرت کا ایک ایسا قہر نازل ہوا جس نے رومیوں کے بچے کچے حوصلے بھی مٹی میں ملا دیے۔
اچانک وادئ یرموک میں مغرب کی طرف سے ایک انتہائی شدید اور ہولناک صحرائی ریت کا طوفان (Sandstorm) اٹھا۔ یہ طوفان مسلمانوں کی پشت کی طرف سے آ رہا تھا اور سیدھا رومیوں کے چہروں پر جا لگ رہا تھا۔ تیز اور گرم ریت کی آندھی نے رومی سپاہیوں کی آنکھوں کو اندھا کر دیا؛ وہ اپنی ڈھالیں اور تلواریں اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہے، اور انہیں دور سے آتے ہوئے مسلمانوں کے دستے نظر آنا بند ہو گئے۔
دوسری طرف، مسلمانوں کے لیے یہ طوفان قدرت کی غیبی مدد کی طرح تھا، کیونکہ ریت ان کی پشت پر تھی اور ان کی آنکھیں بالکل صاف تھیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے تمام دستوں کو عام اور حتمی حملے (All-out Final Assault) کا حکم دیا۔ چالیس ہزار مجاہدین نے ایک ساتھ "اللہ اکبر!" کا ایسا لرزہ خیز نعرہ لگایا کہ رومیوں کے دل خوف سے پھٹ گئے۔ مجاہدینِ اسلام اس اندھے رومی لشکر پر بجلی بن کر ٹوٹ پڑے اور ان کی صفوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا۔
4. زنجیروں میں بندھے سپاہی اور گہری کھائیوں کا عبرت ناک قبرستان
میدانِ یرموک میں اب رومیوں کے لیے وہ سب سے ہولناک اور عبرت ناک منظر شروع ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے حصوں میں بتایا تھا، رومی جرنیلوں نے اپنے سپاہیوں کو میدان سے بھاگنے سے روکنے کے لیے ایک عجیب و غریب اور وحشیانہ طریقہ اپنایا ہوا تھا؛ انہوں نے اپنی پیادہ فوج کے سپاہیوں کو دس دس اور بیس بیس کی تعداد میں لوہے کی بھاری زنجیروں (Chains) کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ باندھ رکھا تھا، تاکہ کوئی سپاہی اپنی صف چھوڑ کر پیچھے نہ بھاگ سکے۔
جب مسلمانوں کے غضب ناک حملے اور ریت کے طوفان کی وجہ سے رومی فوج کے اندر پینک (افری تفری) مچ گئی، تو یہ زنجیروں میں بندھے ہوئے سپاہی اپنی جانیں بچانے کے لیے پیچھے کی طرف بھاگنے لگے۔ لیکن ان کی پشت پر وادئ یرموک کی وہ سینکڑوں فٹ گہری اور خوفناک پہاڑی کھائیاں (Ravines) موجود تھیں جن کے نیچے تیز بہاؤ والا دریا بہتا تھا۔
اندھیرے، ریت کے طوفان اور خوف کے عالم میں، جب زنجیر میں بندھا ہوا پہلا رومی سپاہی اس کھائی کے کنارے سے نیچے گرا، تو وہ اپنے ساتھ زنجیر میں بندھے ہوئے باقی نو سپاہیوں کو بھی نیچے کھینچتا چلا گیا! مورخین لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا ہولناک تھا کہ جیسے تاش کے پتے ایک کے بعد ایک گرتے چلے جاتے ہیں، رومی سپاہیوں کی پوری کی پوری صفیں ایک دوسرے کو کھینچتی ہوئی اس اندھی کھائی کے اندر گرتی چلی گئیں۔ سینکڑوں فٹ کی بلندی سے جب یہ لوہے کے بکتر بند سپاہی نیچے چٹانوں پر گرتے، تو ان کے جسموں کے پرخچے اڑ جاتے تھے۔ وادئ یرموک کی وہ کھائیاں رومی سلطنت کا ایک ایسا عبرت ناک قبرستان بن گئیں جہاں ان کا صدیوں پرانا غرور اور طاقت ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔ مورخین کے مطابق، اس دن تقریباً ۸0,000 سے زائد رومی سپاہی بغیر کسی تلوار کے وار کے، صرف ایک دوسرے کو کھینچتے ہوئے اس کھائی میں گر کر ہلاک ہو گئے۔
5. رومی جرنیلوں کا خاتمہ اور فتحِ مبین
شام کا وقت ہو رہا تھا اور وادئ یرموک کا شور آہستہ آہستہ تھم رہا تھا۔ رومیوں کا وہ دو لاکھ کا لشکرِ جرار اب مکمل طور پر مٹ چکا تھا؛ ان کے خیمے جل رہے تھے، ان کے بڑے بڑے پادری اور جرنیل میدانِ جنگ میں ہلاک ہو چکے تھے۔ رومی فوج کا کمانڈر انچیف اور شہنشاہ کا بھائی تھیوڈور (Theodore) مسلمانوں کے خلاف لڑتے لڑتے مارا جا چکا تھا، اور آرمینیا کا وہ وحشی جرنیل بہان (Vahan) جو مسلمانوں کو صحرا میں دفن کرنے نکلا تھا، اس کی لاش بھی میدانِ جنگ کی مٹی پر پڑی ہوئی ملی۔
مسلمانوں کے چالیس ہزار کے لشکر نے اللہ کی غیبی مدد، ریت کے طوفان، اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی بے مثال عسکری حکمتِ عملی کی بدولت تاریخِ اسلام کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن فتح حاصل کر لی تھی۔ اس عظیم معرکے میں مسلمانوں کے تقریباً ۴,000 کے قریب مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ اور ان کے ۴00 جانثار شامل تھے، لیکن انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے قیامت تک کے لیے شام کی دھرتی پر اسلام کا پرچم ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا تھا۔
6. شہنشاہ ہرقل کا شام کو آخری الوداع: "الوداع اے شام!"
جب معرکہ یرموک کی اس ہولناک شکست اور رومی فوج کی مکمل تباہی کی خبر رومی شہنشاہ ہرقل (Emperor Heraclius) تک پہنچی، تو وہ اس وقت انطاکیہ (Antioch) کے شاہی محل میں موجود تھا۔ یہ خبر سنتے ہی ہرقل پر ایک لرزہ طاری ہو گیا اور وہ کئی گھنٹوں تک سکتے کی حالت میں بیٹھا رہا۔ اس کا وہ خواب کہ وہ مسلمانوں کو مٹا دے گا، اب ایک ہولناک حقیقت بن کر اس کے سامنے آ چکا تھا؛ اس کی سلطنت کی پوری معیشت اور عسکری طاقت یرموک کے میدان میں دفن ہو چکی تھی۔
ہرقل نے سمجھ لیا کہ اب شام کے اندر رومیوں کا ٹھہرنا بالکل ناممکن ہے اور مسلمانوں کا اگلا قدم اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر ہوگا۔ اس نے ہنگامی طور پر اپنے محل کا قیمتی سامان اکٹھا کروایا اور اپنے شاہی جہاز پر سوار ہو کر قسطنطنیہ کی طرف فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ جب اس کا جہاز شام کی سرحدوں کو چھوڑ رہا تھا، تو ہرقل جہاز کے ڈیک پر آ کر کھڑا ہوا- اس نے دور مٹتی ہوئی شام کی پہاڑیوں کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس نے تاریخ کا وہ رقت آمیز اور مشہو ر جملہ کہا جو بازنطینی سلطنت کے زوال کا ابدی مرثیہ بن گیا، اس نے کہا:
"الوداع! اے خوبصورت شام، اب تم پر ہمیشہ کے لیے میرا سلام ہو! تم دشمن (مسلمانوں) کے لیے کتنی بہترین اور شاداب دھرتی ثابت ہوئے ہو، اور ہمارے لیے کتنے عبرت ناک ثابت ہوئے ہو۔ اب کوئی رومی سپاہی اس دھرتی پر قدم رکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا!"
ہرقل کا یہ جملہ سچ ثابت ہوا؛ اس جنگ کے بعد رومی سلطنت دوبارہ کبھی شام، فلسطین یا مصر پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کر سکی، اور ان کا یہ زوال صدیوں بعد سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح پر ہی ختم ہوا۔
7. معرکہ یرموک کے عالمی اور تاریخی اثرات اور بیت المقدس کی آزادی
معرکہ یرموک کو عالمی تاریخ کے پانچ سب سے اہم اور اثر انگیز معرکوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس ایک فتح نے دنیا کا نقشہ اور آنے والی صدیوں کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ اس جنگ کے درج ذیل بڑے اور عالمی اثرات مرتب ہوئے:
- پورے مشرقِ وسطیٰ کی آزادی: اس فتح کے بعد شام کے تمام بڑے بڑے شہر—دمشق، حمص، حلب، اور انطاکیہ—بغیر کسی بڑی لڑائی کے مسلمانوں کے سامنے جھک گئے۔ عیسائی عوام نے مسلمانوں کے عدل اور انصاف کو دیکھ کر خود اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیے، کیونکہ رومی سلطنت ان پر بھاری ٹیکس لگاتی تھی جبکہ اسلامی حکومت نے انہیں مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کیا۔
- بیت المقدس (یروشلم) کی آزادی: معرکہ یرموک کی فتح کا سب سے بڑا اور مبارک نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے حوصلے اتنے ٹوٹ چکے تھے کہ جب مسلمانوں نے بیت المقدس کا گھیراؤ کیا، تو وہاں کے سب سے بڑے پادری صافرونیوس (Patriarch Sophronius) نے کہا: "ہم کسی جرنیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، بلکہ تمہاری کتابوں میں جس عادل خلیفہ کی نشانیاں لکھی ہیں، اگر وہ خود مدینہ سے یہاں آئیں، تو ہم بیت المقدس کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں گے۔" اسی واقعے کے بعد امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ نے خود اونٹ پر سوار ہو کر بیت المقدس کا تاریخی سفر کیا اور مسلمانوں کا پہلا قبلۂ اول ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گیا۔
- خالد بن ولیدؓ کی لازوال سپہ سالاری کا اعتراف: دنیا کے بڑے بڑے عسکری ماہرین اور مغربی مورخین آج بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خالد بن ولیدؓ کی یرموک کی حکمتِ عملی (Regiment System اور پسپائی کے راستے بند کرنا) عسکری سائنس کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مثال سکندرِ اعظم یا نپولین کے پاس بھی نہیں ملتی۔ خالدؓ تاریخِ انسانی کے واحد ایسے جرنیل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ۱00 سے زائد بڑی جنگیں لڑیں اور ان میں سے کسی ایک جنگ میں بھی انہیں کبھی شکست نہیں ہوئی۔
8. سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی وفات اور لازوال میراث
معرکہ یرموک کے بعد، جیسا کہ ہم نے پارٹ 3 میں بتایا تھا، حضرت خالد بن ولیدؓ نے سپہ سالاری کا منصب حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے حوالے کر دیا تھا اور وہ ایک عام سپاہی بن کر دین کی خدمت کرتے رہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے بعد میں فرمایا تھا: "خالد پر اللہ رحم کرے، ابوبکر صدیقؓ انسانوں کے بہتر پارکھ تھے کہ انہوں نے خالد کو سپہ سالار بنایا۔"
جنگوں سے بھرپور اس طوفانی زندگی کے بعد، سنہ ۲۱ ہجری (مطابق ۶۴۲ء) میں اسلام کا یہ عظیم سپہ سالار شام کے شہر حمص (Homs) میں اپنے بستر پر وفات پا رہا تھا۔ وفات کے وقت، خالد بن ولیدؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے ان کے ایک وفادار دوست نے پوچھا: "اے سیف اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ تو وہ فاتح ہیں جنہیں خود رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی تلوار کا لقب دیا تھا، آپ کو تو خوش ہونا چاہیے!"
حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے، اپنے بازوؤں اور ٹانگوں سے چادر ہٹائی اور وہ رقت آمیز جملہ فرمایا جو ہر مسلمان کے دل کو ہلا دیتا ہے، انہوں نے فرمایا:
"دیکھو! میرے پورے جسم پر کوئی ایک بالشت برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کسی تلوار کا وار، نیزے کا زخم، یا تیر کا نشان موجود نہ ہو- میں نے زندگی کی ہر رات میدانِ جنگ میں گزاری اور شہادت کی تمنا میں کافروں کے بڑے بڑے لشکروں کے اندر گھس گیا- لیکن افسوس! آج یہ خالد میدانِ جنگ میں شہید ہونے کے بجائے، اپنے بستر پر اس طرح مر رہا ہے جیسے کوئی بوڑھا اونٹ مرتا ہے! میری آنکھیں گواہ رہیں کہ بزدلوں کو دنیا میں کبھی سکون کی نیند نصیب نہ ہو!"
ان کے دوست نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے ایک انتہائی خوبصورت بات کہی، انہوں نے کہا: "اے خالد! آپ غم نہ کریں- آپ کو میدانِ جنگ میں شہادت کیسے مل سکتی تھی؟ آپ تو خود 'سیف اللہ' (اللہ کی تلوار) ہیں، اور اگر میدانِ جنگ میں کوئی کافر آپ کو شہید کر دیتا، تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ کافر نے اللہ کی تلوار کو توڑ دیا—اور اللہ کی تلوار کبھی ٹوٹ نہیں سکتی! اس لیے اللہ نے آپ کو ہر میدان میں فاتح رکھا اور آج آپ کو عزت کی موت دے رہا ہے۔"
خالد بن ولیدؓ کا چہرہ یہ سن کر کھل اٹھا، انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کلمہ پڑھتے ہوئے اپنی روح اپنے خالقِ حقیقی کے سپرد کر دی۔ جب ان کا ترکہ (جائداد) دیکھا گیا، تو تاریخ دنگ رہ گئی؛ دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کو شکست دینے والے اس عظیم جرنیل کے پاس وراثت میں صرف ایک گھوڑا، ایک تلوار، اور ان کا وہ خنجر تھا جو وہ جنگوں میں استعمال کرتے تھے—ان کے پاس کوئی محل، کوئی سونا یا بینک بیلنس نہیں تھا، کیونکہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتے تھے۔ انہیں حمص (شام) میں دفن کیا گیا، جہاں ان کا مزار آج بھی مسلمانوں کے لیے شجاعت اور ایمان کا سب سے بڑا منارِ نور ہے۔

Comments
Post a Comment